YusufJuz 13 · Page 242

Yusuf 12:63

Joseph · Juz 13 · Page 242

فَلَمَّا رَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيهِمۡ قَالُواْ يَٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلۡكَيۡلُ فَأَرۡسِلۡ مَعَنَآ أَخَانَا نَكۡتَلۡ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ٦٣

So when they returned to their father, they said, "O our father, [further] measure has been denied to us, so send with us our brother [that] we will be given measure. And indeed, we will be his guardians."

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 12:58–68

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’کیا دیکھتے نہیں ہو کہ میں ماپ بھی پورا دیتا ہوں اور خوب مہمان نواز بھی ہوں ۔‘‘ یعنی مہمان نوازی اور عزت و اکرام کرنے میں سب سے بہتر ہوں ۔

[60] پھر حضرت یوسفu نے ان کو اپنا بھائی ساتھ نہ لانے کی صورت میں ڈراتے ہوئے کہا: ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِيۡ بِهٖ فَلَا كَيۡلَ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ وَلَا تَقۡرَبُوۡنِ ﴾ ’’پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمھارے لیے میرے پاس کوئی ماپ نہیں ہے اور میرے پاس نہ آنا‘‘ یہ بات حضرت یوسفu نے اس لیے کہی کیونکہ انھیں علم تھا کہ وہ مصر ان کے پاس ضرور آئیں گے اور اپنے بھائی کو ساتھ لانے پر مجبور ہوں گے۔

[61]﴿ قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡهُ اَبَاهُ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ضرور خواہش کریں گے اس کی بابت اس کے باپ سے‘‘ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یعقوبu بنیامین سے بے حد محبت کرتے تھے اور حضرت یوسفu کی جدائی کے بعد بنیامین ہی ان کے لیے تسلی کا باعث تھے۔ اس لیے یوسفu نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بلوانے کے لیے یہ تدبیر اختیار کی ﴿ وَاِنَّا لَفٰعِلُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے۔‘‘ یعنی جو کچھ آپ نے کہا ہے ہم اس پر ضرور عمل کریں گے۔

[62]﴿وَقَالَ ﴾ یوسفu نے فرمایا: ﴿ لِفِتۡيٰنِهِ﴾ ’’اپنے خدام سے۔‘‘ یعنی اپنے کارندوں سے جو ان کی خدمت میں موجود تھے۔ ﴿ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ ﴾ ’’رکھ دو ان کی پونجی‘‘ یعنی وہ قیمت جس کے بدلے انھوں نے اناج خریدا تھا۔ ﴿ فِيۡ رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُوۡنَهَاۤ۠ ﴾ ’’ان کے اسباب میں ، شاید وہ اس کو پہچان لیں ‘‘ یعنی جب وہ اپنے مال کو جو انھوں نے قیمت کے طور پر ادا کیا تھا، واپس اپنے اپنے کجاووں میں دیکھیں گے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَؔ ﴾ ’’شاید یہ پھر یہاں آئیں۔‘‘ یعنی شاید وہ اپنے مال کی واپسی کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے لوٹانے کے لیے مصر واپس آئیں ۔ظاہر ہے یوسفu نے ان کے ساتھ پورے تول کے ذریعے سے نیکی کی تھی، پھر ان کی قیمت بھی ان کو اس طرح واپس لوٹا دی تھی کہ اس کی واپسی کا انھیں پتہ بھی نہ چلا کیونکہ احسان انسان کے لیے واجب ٹھہراتا ہے کہ محسن کے لیے پوری وفاداری کی جائے۔

[63]﴿ فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَبِيۡهِمۡ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡكَيۡلُ﴾ ’’پس جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو بولے، ابا جان روک دی گئی ہے ہم سے ماپ‘‘ یعنی اگر آپ ہمارا بھائی ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو ہمیں اناج نہیں ملے گا۔ ﴿ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكۡتَلۡ﴾ ’’پس ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجیں کہ ہم ماپ لے کر آئیں ‘‘ یعنی تاکہ اناج حاصل کرنے میں ہمارا بھائی ہمارے لیے سبب بن سکے، پھر انھوں نے اپنے بھائی کی حفاظت کا ذمہ اٹھاتے ہوئے کہا:﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے نگہبان ہیں ۔‘‘ یعنی ہم کسی ناخوشگوار صورت حال میں اس کی حفاظت کریں گے۔

[64]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اٰمَنُكُمۡ عَلَيۡهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنۡتُكُمۡ عَلٰۤى اَخِيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’کیا میں تمھارا اسی طرح اعتبار کروں جیسے اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں اعتبار کیا تھا؟‘‘ یعنی یوسف کی حفاظت کے بارے میں تم اپنی ذمہ داری کے التزام کا وعدہ اس سے پہلے بھی کر چکے ہو۔ بایں ہمہ تم نے اس کی حفاظت کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا، لہٰذا مجھے تمھارے اس عہد پر کوئی بھروسہ نہیں کہ تم اس کی حفاظت کا التزام کرو گے۔ مجھے تو بس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ ﴿ فَاللّٰهُ خَيۡرٌ حٰفِظًا١۪ وَّهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’سو اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ میرے حال کو جانتا ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر رحم کرے گا اس کی حفاظت کر کے اسے میرے پاس واپس لائے گا۔ گویا انھوں نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیجنے کے لیے اپنی گفتگو میں نرمی کا مظاہرہ کیا۔

[65]﴿ وَلَمَّا فَتَحُوۡا مَتَاعَهُمۡ وَجَدُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ رُدَّتۡ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’اور جب انھوں نے اپنا سامان کھولا تو انھوں نے پایا کہ ان کا مال بھی واپس کر دیا گیا ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انھیں معلوم تھا کہ یوسفu نے یہ مال قصداً واپس کیا تھا اور وہ اس مال کا واپس بھائیوں کو مالک بنانا چاہتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ انھوں نے بھائی کو ساتھ بھیجنے کے لیے ترغیب دیتے ہوئے باپ سے کہا : ﴿ يٰۤاَ بَانَا مَا نَبۡغِيۡ﴾ ’’اباجان! ہمیں (اور) کیا چاہیے۔‘‘ یعنی اس بہترین اکرام و تکریم کے بعد ہمیں اور کیا چاہیے جبکہ بادشاہ نے ہمیں اناج پورا دیا ہے اور نہایت خوبصورت طریقے سے ہمارا مال بھی واپس لوٹا دیا ہے اور یہ بات اخلاص اور مکارم اخلاق پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ هٰؔذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتۡ اِلَيۡنَا١ۚ وَنَمِيۡرُ اَهۡلَنَا ﴾ ’’یہ ہے ہماری پونجی جو ہمیں واپس کر دی گئی ہے، اب جائیں تو غلہ لے کر آئیں اپنے گھر والوں کے لیے‘‘ یعنی جب ہم اپنے بھائی کو ساتھ لے کر جائیں گے تو ہم اس کے حصے کا غلہ حاصل کر سکیں گے اور اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لا سکیں گے کیونکہ وہ خوراک کے سخت محتاج ہیں ۔ ﴿ وَنَحۡفَظُ اَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيۡرٍ﴾ ’’اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کی بھرتی بھی زیادہ لیں گے‘‘ یعنی ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجنے کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ غلہ زیادہ ملے گا کیونکہ ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیا جاتا تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ كَيۡلٌ يَّسِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہ بھرتی آسان ہے‘‘ یہ بڑا آسان سا کام ہے اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ یہ کوئی زیادہ لمبی مدت نہیں اور اس میں جو مصلحت ہے وہ بھی آپ کے سامنے واضح ہے۔

[66]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے ان سے کہا: ﴿ لَنۡ اُرۡسِلَهٗ مَعَكُمۡ حَتّٰى تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’میں ہرگز اس کو تمھارے ساتھ نہیں بھیجوں گا، یہاں تک کہ دو تم مجھے عہد اللہ کا‘‘ یعنی جب تک تم اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر پکا عہد نہ کرو۔ ﴿ لَتَاۡتُنَّنِيۡ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّحَاطَ بِكُمۡ﴾ ’’کہ تم ضرور اس کو میرے پاس پہنچا دو گے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب‘‘ یعنی سوائے کسی ایسی صورت حال کے جو تمھیں پیش آجائے جس پر تمھارا کوئی اختیار نہ ہو اور تم اس کو ہٹانے کی قدرت نہ رکھتے ہو۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اٰتَوۡهُ مَوۡثِقَهُمۡ ﴾ ’’پس جب انھوں نے ان سے عہد کرلیا۔‘‘ یعنی جب یعقوبu کی خواہش کے مطابق انھوں نے عہد و پیمان دے دیا۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’حضرت یعقوب نے کہا، اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی گواہی، اس کی حفاظت اور اس کی کفایت ہمارے لیے کافی ہے۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 242

YusufJuz 13 · Page 242

12:53

۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفۡسِيٓۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيٓۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٥٣

And I do not acquit myself. Indeed, the soul is a persistent enjoiner of evil, except those upon which my Lord has mercy. Indeed, my Lord is Forgiving and Merciful."1

1 translator’s note
  1. Although Ibn Katheer attributes the words of verses 52-53 to the wife of al-ʿAzeez, others have concluded that they were spoken by Joseph, thereby justifying his request for an inquiry and acknowledging Allāh's mercy to him. ↩

12:54

وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦٓ أَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِيۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا مَكِينٌ أَمِينٞ ٥٤

And the king said, "Bring him to me; I will appoint him exclusively for myself." And when he spoke to him, he said, "Indeed, you are today established [in position] and trusted."

12:55

قَالَ ٱجۡعَلۡنِي عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلۡأَرۡضِۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٞ ٥٥

[Joseph] said, "Appoint me over the storehouses of the land. Indeed, I will be a knowing guardian."

12:56

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَتَبَوَّأُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُۚ نُصِيبُ بِرَحۡمَتِنَا مَن نَّشَآءُۖ وَلَا نُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٥٦

And thus We established Joseph in the land to settle therein wherever he willed. We touch with Our mercy whom We will, and We do not allow to be lost the reward of those who do good.

12:57

وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ ٥٧

And the reward of the Hereafter is better for those who believed and were fearing Allāh.

12:58

وَجَآءَ إِخۡوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٥٨

And the brothers of Joseph came [seeking food], and they entered upon him; and he recognized them, but he was to them unknown.1

1 translator’s note
  1. Due to the change in his appearance over the years. ↩

12:59

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ قَالَ ٱئۡتُونِي بِأَخٖ لَّكُم مِّنۡ أَبِيكُمۡۚ أَلَا تَرَوۡنَ أَنِّيٓ أُوفِي ٱلۡكَيۡلَ وَأَنَا۠ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ ٥٩

And when he had furnished them with their supplies, he said, "Bring me a brother of yours from your father.1 Do you not see that I give full measure and that I am the best of accommodators?

1 translator’s note
  1. i.e., Benjamin, who had been kept at home by his father Jacob. ↩

12:60

فَإِن لَّمۡ تَأۡتُونِي بِهِۦ فَلَا كَيۡلَ لَكُمۡ عِندِي وَلَا تَقۡرَبُونِ ٦٠

But if you do not bring him to me, no measure will there be [hereafter] for you from me, nor will you approach me."

12:61

قَالُواْ سَنُرَٰوِدُ عَنۡهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ ٦١

They said, "We will attempt to dissuade his father from [keeping] him, and indeed, we will do [it]."

12:62

وَقَالَ لِفِتۡيَٰنِهِ ٱجۡعَلُواْ بِضَٰعَتَهُمۡ فِي رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٦٢

And [Joseph] said to his servants, "Put their merchandise1 into their saddlebags so they might recognize it when they have gone back to their people that perhaps they will [again] return."

1 translator’s note
  1. The goods which they had brought to trade for food supplies. ↩

12:63

فَلَمَّا رَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيهِمۡ قَالُواْ يَٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلۡكَيۡلُ فَأَرۡسِلۡ مَعَنَآ أَخَانَا نَكۡتَلۡ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ٦٣

So when they returned to their father, they said, "O our father, [further] measure has been denied to us, so send with us our brother [that] we will be given measure. And indeed, we will be his guardians."

As-Sa'diTafsir · 12:63

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском