As-Sa'diYusuf · 12:50–68

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Yusuf 12:50–68

12:50–57Page 241

وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرۡجِعۡ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسۡـَٔلۡهُ مَا بَالُ ٱلنِّسۡوَةِ ٱلَّٰتِي قَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّۚ إِنَّ رَبِّي بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيمٞ ٥٠

And the king said, "Bring him to me." But when the messenger came to him, [Joseph] said, "Return to your master and ask him what is the case of the women who cut their hands. Indeed, my Lord is Knowing of their plan."

قَالَ مَا خَطۡبُكُنَّ إِذۡ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفۡسِهِۦۚ قُلۡنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِن سُوٓءٖۚ قَالَتِ ٱمۡرَأَتُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡـَٰٔنَ حَصۡحَصَ ٱلۡحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفۡسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٥١

Said [the king to the women], "What was your condition when you sought to seduce Joseph?" They said, "Perfect is Allāh!1 We know about him no evil." The wife of al-ʿAzeez said, "Now the truth has become evident. It was I who sought to seduce him, and indeed, he is of the truthful.

ذَٰلِكَ لِيَعۡلَمَ أَنِّي لَمۡ أَخُنۡهُ بِٱلۡغَيۡبِ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي كَيۡدَ ٱلۡخَآئِنِينَ ٥٢

That is so he [i.e., al-ʿAzeez] will know that I did not betray him in [his] absence and that Allāh does not guide the plan of betrayers.

۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفۡسِيٓۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيٓۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٥٣

And I do not acquit myself. Indeed, the soul is a persistent enjoiner of evil, except those upon which my Lord has mercy. Indeed, my Lord is Forgiving and Merciful."1

وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ ٱئۡتُونِي بِهِۦٓ أَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِيۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا مَكِينٌ أَمِينٞ ٥٤

And the king said, "Bring him to me; I will appoint him exclusively for myself." And when he spoke to him, he said, "Indeed, you are today established [in position] and trusted."

قَالَ ٱجۡعَلۡنِي عَلَىٰ خَزَآئِنِ ٱلۡأَرۡضِۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٞ ٥٥

[Joseph] said, "Appoint me over the storehouses of the land. Indeed, I will be a knowing guardian."

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَتَبَوَّأُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُۚ نُصِيبُ بِرَحۡمَتِنَا مَن نَّشَآءُۖ وَلَا نُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٥٦

And thus We established Joseph in the land to settle therein wherever he willed. We touch with Our mercy whom We will, and We do not allow to be lost the reward of those who do good.

وَلَأَجۡرُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ ٥٧

And the reward of the Hereafter is better for those who believed and were fearing Allāh.

اور کہا بادشاہ نے، لے آؤ تم میرے پاس اس کو، پھر جب آیا اس کے پاس قاصد تو کہا یوسف نے، لوٹ جا طرف اپنے مالک اور پوچھ اس سے کہ کیا حال ہے ان عورتوں کا جنھوں نے کاٹ لیے تھے ہاتھ اپنے؟ بے شک میرا رب ان کے مکر کو خوب جاننے والا ہے (50) کہا بادشاہ نے، کیا حال ہے تمھارا جب پھسلایا (ورغلایا) تھا تم نے یوسف کو اس کے نفس سے؟ انھوں نے کہا حاشا للہ، نہیں جانی ہم نے اس کے ذمے کوئی برائی، کہا عزیز (مصر) کی بیوی نے، اب واضح ہو گیا ہے حق ، میں نے ہی ورغلایا تھا اسے اس کے نفس سےاور بلاشبہ وہ البتہ سچوں میں سے ہے(51) یہ اس لیے تاکہ وہ جان لے کہ بے شک میں نے نہیں خیانت کی تھی اس کی پیٹھ پیچھےاور یہ کہ بے شک اللہ نہیں چلنے دیتا مکر خیانت کرنے والوں کا(52) اور نہیں بری کرتا میں اپنے نفس کو، بے شک نفس تو یقینا بہت حکم دینے والا ہے برائی ہی کا مگر جس پررحم کرے میرا رب بے شک میرا رب بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے (53) اور کہا بادشاہ نے، لاؤ تم میرے پاس اس کو ، خالص کروں گا میں اسے واسطے اپنی ذات کے، پھر جب بادشاہ نے بات چیت کی یوسف سے تو کہا، بے شک تو آج ہمارے ہاں مرتبے والا، امین ہے (54) یوسف نے کہا، بنا دے مجھے خزانوں (پیداوار) پر زمین کے (نگران)، بے شک میں نہایت نگہبانی کرنے والا، خوب جاننے والا ہوں (55) اور اسی طرح اقتدار دیا ہم نے یوسف کو زمین (مصر) میں ، جگہ پکڑتا تھا اس (ملک) میں جہاں چاہتا، ہم پہنچاتے ہیں رحمت اپنی جسے چاہیں اور نہیں ضائع کرتے ہم اجر نیکی کرنے والوں کا (56) اور یقینا اجر آخرت کا بہت بہتر ہے واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور رہے وہ ڈرتے (57)

[50] جب قاصد بادشاہ اور لوگوں کے پاس واپس پہنچا اور انھیں یوسفu کی تعبیر کے بارے میں آگاہ کیا تو انھیں تعبیر سن کر تعجب ہوا اور بے حد خوش ہوئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ وَقَالَ الۡمَلِكُ﴾ ’’بادشاہ نے (وہاں موجود لوگوں سے) کہا‘‘ ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِهٖ﴾ ’’اسے میرے پاس لاؤ‘‘یعنی یوسفu کو قید خانے سے نکال کر میرے سامنے حاضر کرو۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوۡلُ ﴾ ’’پس جب بادشاہ کا ایلچی جناب یوسفu کے پاس آیا‘‘ اور اسے بادشاہ کے پاس حاضر ہونے کے لیے کہا تو انھوں نے اس وقت تک قید خانے سے باہر آنے سے انکار کر دیا جب تک کہ ان کی براء ت مکمل طور پر لوگوں کے سامنے عیاں نہیں ہو جاتی۔ یہ چیز ان کے صبر، عقل اور اصابت پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ اس وقت انھوں نے بادشاہ کے ایلچی سے کہا: ﴿ ارۡجِـعۡ اِلٰى رَبِّكَ ﴾ ’’بادشاہ کے پاس واپس جا‘‘ ﴿فَسۡـَٔؔلۡهُ مَا بَالُ النِّسۡوَةِ الّٰتِيۡ قَطَّعۡنَ اَيۡدِيَهُنَّ﴾ ’’بادشاہ سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا قصہ ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔‘‘ کیونکہ ان کا معاملہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ بِكَيۡدِهِنَّ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’میرا رب تو ان کا فریب، سب جانتا ہے۔‘‘

[51] بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے پوچھا ﴿مَا خَطۡبُكُنَّ﴾ ’’تمھارا کیا معاملہ ہے؟‘‘ ﴿ اِذۡ رَاوَدۡتُّنَّ يُوۡسُفَ عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’جب تم نے یوسف کو اس کے نفس سے پھسلانا چاہا تھا؟‘‘ کیا تم نے یوسف میں کوئی برائی دیکھی؟ ان عورتوں نے یوسفu کی براء ت کا اقرار کیا اور کہنے لگیں :﴿ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمۡنَا عَلَيۡهِ مِنۡ سُوۡٓءٍ﴾ ’’حاشا للہ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔‘‘ یعنی تھوڑا یا بہت ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا۔ تب وہ سبب زائل ہوگیا جس پر تہمت کا دارومدار تھا۔ اب کوئی سبب باقی نہ بچا سوائے اس الزام کے جو عزیز مصر کی بیوی نے لگایا تھا۔ ﴿ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ الۡـٰٔنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ﴾ ’’عزیز کی بیوی نے کہا، اب حق واضح ہو گیا ہے‘‘ یعنی حق واضح ہوگیا ہے جبکہ ہم نے یوسف کو برائی اور تہمت میں ملوث کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی جو اس کو محبوس کرنے کا باعث بنا۔ ﴿ اَنَا رَاوَدۡتُّهٗ عَنۡ نَّفۡسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’میں نے ہی اس کو اس کے جی سے پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ یقینا سچا ہے‘‘ یعنی یوسفu اپنے اقوال اور اپنی براء ت کے دعوے میں سچے ہیں ۔

[52]﴿ ذٰلِكَ﴾ یعنی یہ اقرار جس میں ، میں نے تسلیم کیا ہے کہ میں نے ہی یوسف پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ ﴿ لِيَعۡلَمَ اَنِّيۡ لَمۡ اَخُنۡهُ بِالۡغَيۡبِ﴾ ’’تاکہ وہ جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد عورت کا خاوند ہے، یعنی یہ اقرار میں نے اس لیے کیا تاکہ میرا خاوند جان لے کہ میں نے یوسف پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی مگر میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ میں نے مجرد اس کو پھسلانے کی کوشش کی مگر میں نے عزیز مصر کے بستر کو خراب نہیں کیا۔اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد یوسفu ہوں ، یعنی تاکہ یوسفu جان لے کہ وہ سچا ہے اور میں نے ہی اس پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ جب وہ میرے پاس موجود نہیں تھا تو میں نے اس کے ساتھ خیانت نہیں کی۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِيۡ كَيۡدَ الۡخَآىِٕنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور یہ کہ اللہ دغابازوں کا فریب نہیں چلنے دیتا‘‘ یہ لازمی امر ہے کہ ہر خائن کی خیانت اور اس کی سازش کا وبال آخر کار اسی کی طرف پلٹے گا اور حقیقت حال ضرور واضح ہوگی۔

[53] چونکہ اس کلام میں عورت کے اپنے لیے تزکیہ کے دعوے کا شائبہ پایا جاتا ہے اور یہ دعویٰ بھی پایا جاتا ہے کہ یوسفu کے معاملے میں اس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔ اس لیے عورت نے استدراک کے طور پر کہا: ﴿وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِيۡ﴾ ’’اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتی۔‘‘ یعنی میں نے یوسف کو پھسلانے، اس کے ساتھ برائی کے ارادے اور اس کی شدید حرص اور اس کے بارے میں سازش کرنے میں اپنے آپ کو بری قرار نہیں دیتی۔ ﴿اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوۡٓءِ ﴾ ’’کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی ہی سکھاتا رہتا ہے۔‘‘ یعنی نفس انسان کو بہت کثرت سے برائی، یعنی بے حیائی اور دیگر تمام گناہوں کا حکم دیتا ہے۔ نفس شیطان کی سواری ہے اور شیطان نفس کے راستے سے انسان میں داخل ہوتا ہے۔ ﴿اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيۡ﴾ ’’سوائے اس شخص کے جس پر میرا رب رحم کر دے‘‘ اور اسے اس کے نفس امارہ سے نجات دے دے اور اس طرح اس کا نفس امارہ نفس مطمئنہ میں بدل جائے۔ ہلاکت کے داعی کی نافرمانی کر کے ہدایت کے داعی کی آواز پر لبیک کہے۔ اس میں نفس کا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ اللہ کا اپنے بندے پر بے انتہا فضل و کرم اور اس کی بے پایاں رحمت ہے۔ ﴿اِنَّ رَبِّيۡ غَفُوۡرٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا۔‘‘ جب کوئی گناہ اور معاصی کے ارتکاب کی جرأت کرنے کے بعد توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ ﴿رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر کے اور اسے نیک اعمال کی توفیق عطا کر کے اس پر رحم کرتا ہے۔ ان آیات کریمہ کی تفسیر میں قرین صواب یہی ہے کہ یہ عزیز مصر کی بیوی کا قول ہے یوسفu کا نہیں کیونکہ یہ بات عورت کے کلام کے سیاق میں آئی ہے اور یوسفu تو اس وقت قید میں تھے۔

[54] جب بادشاہ اور لوگوں کے پاس یوسفu کی کامل براء ت متحقق ہوگئی تو بادشاہ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِهٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡهُ لِنَفۡسِيۡ﴾ ’’اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔‘‘ یعنی میں اس کو مقربین خاص میں شامل کر لوں گا اسے میرے پاس نہایت عزت و احترام سے لے کر آؤ۔ ﴿فَلَمَّا كَلَّمَهٗ ﴾ ’’پس جب اس نے ان سے گفتگو کی۔‘‘ یعنی جب بادشاہ نے یوسف، سے گفتگو کی تو اسے ان کی باتیں اچھی لگیں اور اس کے ہاں ان کی وقعت اور زیادہ ہوگئی۔ اس نے یوسفu سے کہا:﴿ اِنَّكَ الۡيَوۡمَ لَدَيۡنَا ﴾ ’’بے شک آپ آج ہمارے ہاں ‘‘ ﴿ مَكِيۡنٌ اَمِيۡنٌ ﴾ ’’صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہیں ۔‘‘ یعنی آپ ہمارے ہاں بلند مرتبہ کے مالک اور ہمارے رازوں کے امین ہیں ۔

[55]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے مصلحت عامہ کی خاطر بادشاہ سے مطالبہ کیا۔ ﴿ اجۡعَلۡنِيۡ عَلٰى خَزَآىِٕنِ الۡاَرۡضِ﴾ ’’مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجیے۔‘‘ یعنی مجھے زمین کی پیداوار، اس کے محاصل کا نگران، محافظ اور منتظم مقرر کر دیں ﴿ اِنِّيۡ حَفِيۡظٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف بھی ہوں ۔‘‘ یعنی جس چیز کا آپ مجھے نگران بنائیں گے میں اس کی حفاظت کروں گا اس میں سے کچھ بھی بے محل استعمال ہو کر ضائع نہیں ہوگی، میں ان محاصل کے داخل خارج کو منضبط کر سکتا ہوں میں ان کے انتظام کی کیفیت کا پورا علم رکھتا ہوں ۔ میں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ کسے عطا کرنا ہے کسے محروم رکھنا ہے اور ان میں تصرفات کی پوری طرح دیکھ بھال کر سکتا ہوں ۔ یوسفu کی طرف سے اس عہدے کا مطالبہ، عہدے کی حرص کی وجہ سے نہ تھا بلکہ نفع عام میں رغبت کی وجہ سے تھا۔ یوسفu اپنے بارے میں اپنی کفایت اور حفظ و امانت کے متعلق جو کچھ جانتے تھے وہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ بنابریں یوسفu نے بادشاہ مصر سے مطالبہ کیا کہ وہ انھیں زمین کے محاصل کے خزانوں کے انتظام پر مقرر کر دے، چنانچہ بادشاہ نے انھیں زمین کے محاصل کے خزانوں کا والی اور منتظم مقرر کر دیا۔

[57,56] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ یعنی ان مذکورہ اسباب اور مقدمات کے ذریعے سے ﴿ مَكَّـنَّا لِيُوۡسُفَ فِي الۡاَرۡضِ١ۚ يَتَبَوَّاُ مِنۡهَا حَيۡثُ يَشَآءُ﴾ ’’ہم نے یوسف کو جگہ دی اس ملک میں ، وہ اس میں جہاں چاہتے، جگہ پکڑتے‘‘ وہ نہایت آسودہ زندگی، بے شمار نعمتوں اور بے پناہ جاہ و جلال میں رہنے لگے۔ ﴿ نُصِيۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ ﴾’’ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں ، پہنچا دیتے ہیں ‘‘ یوسفu پر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی جو اس نے ان کے لیے مقدر کر رکھی تھی جو صرف دنیاوی نعمتوں پر ہی مشتمل نہ تھی۔﴿ وَلَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتے‘‘ اور یوسفu کا شمار تو سادات محسنین میں ہوتا ہے۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت میں بھی بھلائی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَاَجۡرُ الۡاٰخِرَةِ خَيۡرٌ ﴾ ’’آخرت کا اجر (دنیا کے اجر سے) بہتر ہے۔‘‘ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَؔكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے‘‘ یعنی جن لوگوں میں تقویٰ اور ایمان جمع ہے۔ پس تقویٰ کے ذریعے سے حرام امور، یعنی کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو ترک کیا جاتا ہے اور ایمان کامل کے ذریعے سے ان امور میں تصدیق قلب حاصل ہوتی ہے جن امور کی تصدیق کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور فرض و مستحب، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، تصدیق قلب کی پیروی کرتے ہیں ۔

جب یوسفu زمین کے محاصل کے ذخیرہ کے منتظم بن گئے تو انھوں نے بہترین طریقے سے ان کا انتظام کیا۔ انھوں نے شادابی کے سالوں میں مصر کی تمام قابل کاشت زمین میں غلہ کاشت کر دیا اور اس غلہ کو ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے بڑے مکانات بنوائے۔ خراج اور لگان میں بہت سا غلہ جمع کیا، اس کی حفاظت کی اور اس کا بہترین انتظام کیا۔ جب قحط سالی شروع ہوئی اور قحط تمام علاقوں میں پھیل گیا حتیٰ کہ فلسطین بھی قحط کی لپیٹ میں آگیا جہاں یعقوب اور ان کے بیٹے رہتے تھے تو حضرت یعقوبu نے اپنے بیٹوں کو اناج کے لیے مصر بھیجا۔

12:58–68Page 242

وَجَآءَ إِخۡوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهُۥ مُنكِرُونَ ٥٨

And the brothers of Joseph came [seeking food], and they entered upon him; and he recognized them, but he was to them unknown.1

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ قَالَ ٱئۡتُونِي بِأَخٖ لَّكُم مِّنۡ أَبِيكُمۡۚ أَلَا تَرَوۡنَ أَنِّيٓ أُوفِي ٱلۡكَيۡلَ وَأَنَا۠ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ ٥٩

And when he had furnished them with their supplies, he said, "Bring me a brother of yours from your father.1 Do you not see that I give full measure and that I am the best of accommodators?

فَإِن لَّمۡ تَأۡتُونِي بِهِۦ فَلَا كَيۡلَ لَكُمۡ عِندِي وَلَا تَقۡرَبُونِ ٦٠

But if you do not bring him to me, no measure will there be [hereafter] for you from me, nor will you approach me."

قَالُواْ سَنُرَٰوِدُ عَنۡهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَٰعِلُونَ ٦١

They said, "We will attempt to dissuade his father from [keeping] him, and indeed, we will do [it]."

وَقَالَ لِفِتۡيَٰنِهِ ٱجۡعَلُواْ بِضَٰعَتَهُمۡ فِي رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُونَهَآ إِذَا ٱنقَلَبُوٓاْ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٦٢

And [Joseph] said to his servants, "Put their merchandise1 into their saddlebags so they might recognize it when they have gone back to their people that perhaps they will [again] return."

فَلَمَّا رَجَعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيهِمۡ قَالُواْ يَٰٓأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا ٱلۡكَيۡلُ فَأَرۡسِلۡ مَعَنَآ أَخَانَا نَكۡتَلۡ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ ٦٣

So when they returned to their father, they said, "O our father, [further] measure has been denied to us, so send with us our brother [that] we will be given measure. And indeed, we will be his guardians."

قَالَ هَلۡ ءَامَنُكُمۡ عَلَيۡهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمۡ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبۡلُ فَٱللَّهُ خَيۡرٌ حَٰفِظٗاۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٦٤

He said, "Should I entrust you with him except [under coercion] as I entrusted you with his brother before? But Allāh is the best guardian, and He is the most merciful of the merciful."

وَلَمَّا فَتَحُواْ مَتَٰعَهُمۡ وَجَدُواْ بِضَٰعَتَهُمۡ رُدَّتۡ إِلَيۡهِمۡۖ قَالُواْ يَٰٓأَبَانَا مَا نَبۡغِيۖ هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتۡ إِلَيۡنَاۖ وَنَمِيرُ أَهۡلَنَا وَنَحۡفَظُ أَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيرٖۖ ذَٰلِكَ كَيۡلٞ يَسِيرٞ ٦٥

And when they opened their baggage, they found their merchandise returned to them. They said, "O our father, what [more] could we desire? This is our merchandise returned to us. And we will obtain supplies [i.e., food] for our family and protect our brother and obtain an increase of a camel's load; that is an easy measurement."1

قَالَ لَنۡ أُرۡسِلَهُۥ مَعَكُمۡ حَتَّىٰ تُؤۡتُونِ مَوۡثِقٗا مِّنَ ٱللَّهِ لَتَأۡتُنَّنِي بِهِۦٓ إِلَّآ أَن يُحَاطَ بِكُمۡۖ فَلَمَّآ ءَاتَوۡهُ مَوۡثِقَهُمۡ قَالَ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٞ ٦٦

[Jacob] said, "Never will I send him with you until you give me a promise [i.e., oath] by Allāh that you will bring him [back] to me, unless you should be surrounded [i.e., overcome by enemies]." And when they had given their promise, he said, "Allāh, over what we say, is Entrusted."1

وَقَالَ يَٰبَنِيَّ لَا تَدۡخُلُواْ مِنۢ بَابٖ وَٰحِدٖ وَٱدۡخُلُواْ مِنۡ أَبۡوَٰبٖ مُّتَفَرِّقَةٖۖ وَمَآ أُغۡنِي عَنكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٍۖ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِۖ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُۖ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ ٦٧

And he said, "O my sons, do not enter from one gate but enter from different gates; and I cannot avail you against [the decree of] Allāh at all. The decision is only for Allāh; upon Him I have relied, and upon Him let those who would rely [indeed] rely."

وَلَمَّا دَخَلُواْ مِنۡ حَيۡثُ أَمَرَهُمۡ أَبُوهُم مَّا كَانَ يُغۡنِي عَنۡهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٍ إِلَّا حَاجَةٗ فِي نَفۡسِ يَعۡقُوبَ قَضَىٰهَاۚ وَإِنَّهُۥ لَذُو عِلۡمٖ لِّمَا عَلَّمۡنَٰهُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٦٨

And when they entered from where their father had ordered them, it did not avail them against Allāh at all except [it was] a need [i.e., concern] within the soul of Jacob, which he satisfied. And indeed, he was a possessor of knowledge because of what We had taught him, but most of the people do not know.

اور آئے بھائی یوسف کے تو وہ داخل ہوئے اس پر، پس اس نے پہچان لیا ان کو جبکہ وہ (بھائی) اسے پہچاننے والے نہ تھے(58)اور جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو کہا، تم لانا میرے پاس بھائی اپنا جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے، کیا نہیں دیکھتے تم کہ بے شک میں پورا دیتا ہوں ماپ؟ اور میں بہترین مہمان نوازی کرنے والا ہوں (59) پس اگر نہ لائے تم میرے پاس اس کو تو نہیں کوئی ماپ (غلہ) تمھارے لیے میرے پاس اور نہ تم قریب آنا میرے (60) انھوں نے کہا ضرور مطالبہ کریں گے ہم اس کا اس کے باپ سےاور بے شک ہم یہ کام ضرور کرنے والے ہیں (61)اور یوسف نے کہا اپنے جوانوں (خادموں ) میں سے، رکھ دو تم پونجی (نقدی) ا ن کی ان کے سامان میں تاکہ وہ پہچان لیں اسے جب وہ لوٹ کر جائیں طرف اپنے گھر والوں کی شاید کہ وہ پھر لوٹ آئیں (62)پس جب لوٹے وہ طرف اپنے باپ کی تو انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! روکا گیا ہے ہم سے (آئندہ) ماپ (غلہ) پس تو بھیج ہمارے ساتھ ہمارا بھائی (بنیا مین تاکہ) غلہ لائیں ہم اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں (63) یعقوب نے کہا، نہیں امین سمجھتا میں تمھیں اس پر مگر جیسا کہ امین سمجھا تھا میں نے تمھیں اوپر اس کے بھائی کے ، اس سے پہلے، پس اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (64)اور جب کھولا انھوں نے سامان اپنا تو پائی انھوں نے پونجی اپنی کہ واپس کر دی گئی ہے طرف ان کی، انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! (اور) کیا چاہتے ہیں ہم؟ یہ ہماری پونجی ہے واپس کردی گئی ہے ہماری طرف اور ہم غلہ لائیں گے اپنے اہل و عیال کے لیےاورحفاظت کریں گے اپنے بھائی کی اور ہم زیادہ لائیں گے ماپ (غلہ) ایک اونٹ کا یہ ماپ (غلہ لانا تو) بہت آسان ہے (65) یعقوب نے کہا، ہرگز نہیں بھیجوں گا میں اسے تمھارے ساتھ یہاں تک کہ تم دو مجھے پختہ وعدہ اللہ کا کہ تم ضرور لاؤ گے میرے پاس اسے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم (سب)، پھر جب انھوں نے دیا اس کو اپنا پختہ وعدہ تو اس نے کہا، اللہ اوپر اس کے جو ہم کہتے ہیں نگہبان ہے (66)اور یعقوب نے کہا، اے میرے بیٹو! مت داخل ہونا تم ایک ہی دروازے سے اورداخل ہونا تم متفرق دروازوں سےاور نہیں کفایت کر سکتا میں تم سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اوپر اسی کے بھروسہ کیا ہے میں نےاور اوپر اسی کے پس چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے (67) اور جب داخل ہوئے وہ جہاں سے حکم دیا تھا انھیں ان کے باپ نے، نہیں تھا وہ (یعقوب) کفایت (دفع) کر سکتا ان سے اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی مگر ایک حاجت (تمنا) تھی دل میں یعقوب کے کہ اس نے پورا کیا اسےاور بے شک وہ ، البتہ صاحب علم تھا بوجہ اس کے جو سکھایا تھا ہم نے اسے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (68)

[58] چنانچہ ﴿ وَجَآءَ اِخۡوَةُ يُوۡسُفَ فَدَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَعَرَفَهُمۡ وَهُمۡ لَهٗ مُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’یوسف کے بھائی آئے اور ان کے دربار میں داخل ہوئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا، جبکہ وہ ان کو نہیں پہچانتے تھے‘‘ یعنی انھوں نے یوسفu کو نہ پہچانا۔

[59]﴿وَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ ﴾ ’’اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے ان کو اناج ناپ کر دے دیا جیسا کہ وہ دوسروں کو ناپ کر دیا کرتے تھے۔ یہ ان کا حسن انتظام تھا کہ وہ کسی کو ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ اناج نہیں دیا کرتے تھے۔ حضرت یوسفu نے ان سے ان کا حال احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ان کا ایک اور بھائی ہے، جو اپنے باپ کے پاس ہے اس کا نام بنیامین ہے۔ ﴿ قَالَ﴾ حضرت یوسفu نے ان سے کہا: ﴿ ائۡتُوۡنِيۡ بِاَخٍ لَّـكُمۡ مِّنۡ اَبِيۡكُمۡ﴾ ’’اپنے بھائی کو میرے پاس لاؤ جو تمھارے باپ کی طرف سے ہے‘‘ پھر آنجناب نے اپنے بھائی کو مصر لانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ﴿اَلَا تَرَوۡنَ اَنِّيۡۤ اُوۡفِي الۡكَيۡلَ وَ اَنَا خَيۡرُ الۡمُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’کیا دیکھتے نہیں ہو کہ میں ماپ بھی پورا دیتا ہوں اور خوب مہمان نواز بھی ہوں ۔‘‘ یعنی مہمان نوازی اور عزت و اکرام کرنے میں سب سے بہتر ہوں ۔

[60] پھر حضرت یوسفu نے ان کو اپنا بھائی ساتھ نہ لانے کی صورت میں ڈراتے ہوئے کہا: ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ تَاۡتُوۡنِيۡ بِهٖ فَلَا كَيۡلَ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ وَلَا تَقۡرَبُوۡنِ ﴾ ’’پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمھارے لیے میرے پاس کوئی ماپ نہیں ہے اور میرے پاس نہ آنا‘‘ یہ بات حضرت یوسفu نے اس لیے کہی کیونکہ انھیں علم تھا کہ وہ مصر ان کے پاس ضرور آئیں گے اور اپنے بھائی کو ساتھ لانے پر مجبور ہوں گے۔

[61]﴿ قَالُوۡا سَنُرَاوِدُ عَنۡهُ اَبَاهُ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ضرور خواہش کریں گے اس کی بابت اس کے باپ سے‘‘ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یعقوبu بنیامین سے بے حد محبت کرتے تھے اور حضرت یوسفu کی جدائی کے بعد بنیامین ہی ان کے لیے تسلی کا باعث تھے۔ اس لیے یوسفu نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بلوانے کے لیے یہ تدبیر اختیار کی ﴿ وَاِنَّا لَفٰعِلُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم (یہ کام) کرکے رہیں گے۔‘‘ یعنی جو کچھ آپ نے کہا ہے ہم اس پر ضرور عمل کریں گے۔

[62]﴿وَقَالَ ﴾ یوسفu نے فرمایا: ﴿ لِفِتۡيٰنِهِ﴾ ’’اپنے خدام سے۔‘‘ یعنی اپنے کارندوں سے جو ان کی خدمت میں موجود تھے۔ ﴿ اجۡعَلُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ ﴾ ’’رکھ دو ان کی پونجی‘‘ یعنی وہ قیمت جس کے بدلے انھوں نے اناج خریدا تھا۔ ﴿ فِيۡ رِحَالِهِمۡ لَعَلَّهُمۡ يَعۡرِفُوۡنَهَاۤ۠ ﴾ ’’ان کے اسباب میں ، شاید وہ اس کو پہچان لیں ‘‘ یعنی جب وہ اپنے مال کو جو انھوں نے قیمت کے طور پر ادا کیا تھا، واپس اپنے اپنے کجاووں میں دیکھیں گے ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَؔ ﴾ ’’شاید یہ پھر یہاں آئیں۔‘‘ یعنی شاید وہ اپنے مال کی واپسی کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے لوٹانے کے لیے مصر واپس آئیں ۔ظاہر ہے یوسفu نے ان کے ساتھ پورے تول کے ذریعے سے نیکی کی تھی، پھر ان کی قیمت بھی ان کو اس طرح واپس لوٹا دی تھی کہ اس کی واپسی کا انھیں پتہ بھی نہ چلا کیونکہ احسان انسان کے لیے واجب ٹھہراتا ہے کہ محسن کے لیے پوری وفاداری کی جائے۔

[63]﴿ فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰۤى اَبِيۡهِمۡ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡكَيۡلُ﴾ ’’پس جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو بولے، ابا جان روک دی گئی ہے ہم سے ماپ‘‘ یعنی اگر آپ ہمارا بھائی ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو ہمیں اناج نہیں ملے گا۔ ﴿ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكۡتَلۡ﴾ ’’پس ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجیں کہ ہم ماپ لے کر آئیں ‘‘ یعنی تاکہ اناج حاصل کرنے میں ہمارا بھائی ہمارے لیے سبب بن سکے، پھر انھوں نے اپنے بھائی کی حفاظت کا ذمہ اٹھاتے ہوئے کہا:﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم اس کے نگہبان ہیں ۔‘‘ یعنی ہم کسی ناخوشگوار صورت حال میں اس کی حفاظت کریں گے۔

[64]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے ان سے کہا: ﴿ هَلۡ اٰمَنُكُمۡ عَلَيۡهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنۡتُكُمۡ عَلٰۤى اَخِيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’کیا میں تمھارا اسی طرح اعتبار کروں جیسے اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں اعتبار کیا تھا؟‘‘ یعنی یوسف کی حفاظت کے بارے میں تم اپنی ذمہ داری کے التزام کا وعدہ اس سے پہلے بھی کر چکے ہو۔ بایں ہمہ تم نے اس کی حفاظت کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا، لہٰذا مجھے تمھارے اس عہد پر کوئی بھروسہ نہیں کہ تم اس کی حفاظت کا التزام کرو گے۔ مجھے تو بس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ ﴿ فَاللّٰهُ خَيۡرٌ حٰفِظًا١۪ وَّهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ﴾ ’’سو اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ میرے حال کو جانتا ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر رحم کرے گا اس کی حفاظت کر کے اسے میرے پاس واپس لائے گا۔ گویا انھوں نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیجنے کے لیے اپنی گفتگو میں نرمی کا مظاہرہ کیا۔

[65]﴿ وَلَمَّا فَتَحُوۡا مَتَاعَهُمۡ وَجَدُوۡا بِضَاعَتَهُمۡ رُدَّتۡ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’اور جب انھوں نے اپنا سامان کھولا تو انھوں نے پایا کہ ان کا مال بھی واپس کر دیا گیا ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انھیں معلوم تھا کہ یوسفu نے یہ مال قصداً واپس کیا تھا اور وہ اس مال کا واپس بھائیوں کو مالک بنانا چاہتے تھے۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ انھوں نے بھائی کو ساتھ بھیجنے کے لیے ترغیب دیتے ہوئے باپ سے کہا : ﴿ يٰۤاَ بَانَا مَا نَبۡغِيۡ﴾ ’’اباجان! ہمیں (اور) کیا چاہیے۔‘‘ یعنی اس بہترین اکرام و تکریم کے بعد ہمیں اور کیا چاہیے جبکہ بادشاہ نے ہمیں اناج پورا دیا ہے اور نہایت خوبصورت طریقے سے ہمارا مال بھی واپس لوٹا دیا ہے اور یہ بات اخلاص اور مکارم اخلاق پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ هٰؔذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتۡ اِلَيۡنَا١ۚ وَنَمِيۡرُ اَهۡلَنَا ﴾ ’’یہ ہے ہماری پونجی جو ہمیں واپس کر دی گئی ہے، اب جائیں تو غلہ لے کر آئیں اپنے گھر والوں کے لیے‘‘ یعنی جب ہم اپنے بھائی کو ساتھ لے کر جائیں گے تو ہم اس کے حصے کا غلہ حاصل کر سکیں گے اور اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لا سکیں گے کیونکہ وہ خوراک کے سخت محتاج ہیں ۔ ﴿ وَنَحۡفَظُ اَخَانَا وَنَزۡدَادُ كَيۡلَ بَعِيۡرٍ﴾ ’’اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کی بھرتی بھی زیادہ لیں گے‘‘ یعنی ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجنے کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ غلہ زیادہ ملے گا کیونکہ ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیا جاتا تھا۔ ﴿ ذٰلِكَ كَيۡلٌ يَّسِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہ بھرتی آسان ہے‘‘ یہ بڑا آسان سا کام ہے اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ یہ کوئی زیادہ لمبی مدت نہیں اور اس میں جو مصلحت ہے وہ بھی آپ کے سامنے واضح ہے۔

[66]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے ان سے کہا: ﴿ لَنۡ اُرۡسِلَهٗ مَعَكُمۡ حَتّٰى تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’میں ہرگز اس کو تمھارے ساتھ نہیں بھیجوں گا، یہاں تک کہ دو تم مجھے عہد اللہ کا‘‘ یعنی جب تک تم اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر پکا عہد نہ کرو۔ ﴿ لَتَاۡتُنَّنِيۡ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ يُّحَاطَ بِكُمۡ﴾ ’’کہ تم ضرور اس کو میرے پاس پہنچا دو گے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب‘‘ یعنی سوائے کسی ایسی صورت حال کے جو تمھیں پیش آجائے جس پر تمھارا کوئی اختیار نہ ہو اور تم اس کو ہٹانے کی قدرت نہ رکھتے ہو۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اٰتَوۡهُ مَوۡثِقَهُمۡ ﴾ ’’پس جب انھوں نے ان سے عہد کرلیا۔‘‘ یعنی جب یعقوبu کی خواہش کے مطابق انھوں نے عہد و پیمان دے دیا۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾ ’’حضرت یعقوب نے کہا، اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی گواہی، اس کی حفاظت اور اس کی کفایت ہمارے لیے کافی ہے۔

[67] پھر جب یعقوبu نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا تو ان کو وصیت کی کہ جب وہ مصر پہنچیں تو ﴿ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۢۡ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ﴾ ’’ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں ‘‘ یعنی وہ ان کے ایک ہی شخص کے بیٹے ہوتے ہوئے ان کی کثرت اور ان کے حسن منظر کی وجہ سے ان کو نظر لگنے سے ڈرتے تھے۔ یہ تو محض سبب ہے جو میں اختیار کر رہا ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے ﴿ وَمَاۤ اُغۡنِيۡ عَنۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں تم کو اللہ کی کسی بات سے نہیں بچا سکتا‘‘ پس جو چیز تقدیر میں لکھی جا چکی ہے وہ ہو کر رہے گی۔ ﴿ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ﴾ ’’حکم تو اللہ ہی کا ہے۔‘‘ یعنی فیصلہ وہی ہے جو اللہ کا فیصلہ ہے اور حکم وہی ہے جو اس کا حکم ہے۔ پس جس چیز کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کر دے وہ ضرور واقع ہوتا ہے۔ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّؔلۡتُ﴾ ’’اسی پر میرا بھروسہ ہے‘‘ یعنی جن اسباب کو اختیار کرنے کی میں نے تمھیں وصیت کی ہے، میں اس پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ ﴿وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَؔكِّلُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے‘‘ کیونکہ توکل ہی کے ذریعے سے ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور توکل ہی کے ذریعے سے ہر خوف کو دور کیا جاتا ہے۔

[68]﴿ وَلَمَّا﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب وہ روانہ ہوگئے۔ ﴿ دَخَلُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَهُمۡ اَبُوۡهُمۡ١ؕ مَا كَانَ يُغۡنِيۡ عَنۡهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ اِلَّا حَاجَةً فِيۡ نَفۡسِ يَعۡقُوۡبَ قَضٰىهَا﴾ ’’(اور) داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے ان کو حکم دیا تھا، (ان کا یہ فعل) ان کو اللہ کی کسی بات سے نہ بچا سکتا تھا مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں ، سو وہ اس نے پوری کر لی۔‘‘ اور وہ تھا اولاد کے لیے شفقت اور محبت کا موجب، ایسا کرنے سے ان کو ایک قسم کا اطمینان حاصل ہوگیا تھا اور ان کے دل میں جو خیال گزرا تھا وہ بھی پورا ہوگیا اور یہ یعقوبu کے علم کی کوتاہی نہیں کیونکہ وہ انبیائے کرام اور علمائے ربانی میں سے تھے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے یعقوبu کی مدافعت کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنَّهٗ لَذُوۡ عِلۡمٍ ﴾ ’’وہ علم عظیم کے مالک تھے۔‘‘ ﴿ لِّمَا عَلَّمۡنٰهُ﴾ ’’کیونکہ ہم نے ان کو تعلیم دی تھی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی قوت و اختیار سے اس کا ادراک نہیں کیا تھا بلکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا عطا کردہ علم کارفرما تھا۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی مگر اکثر لوگ معاملات کے انجام اور اشیاء کی باریکیوں کو نہیں جانتے۔ اسی طرح اہل علم پر بھی علم، احکام اور اس کے لوازم میں سے بہت کچھ مخفی رہ جاتا ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском