As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Yusuf 12:36–49
12:36–41Page 239
وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجۡنَ فَتَيَانِۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّيٓ أَرَىٰنِيٓ أَعۡصِرُ خَمۡرٗاۖ وَقَالَ ٱلۡأٓخَرُ إِنِّيٓ أَرَىٰنِيٓ أَحۡمِلُ فَوۡقَ رَأۡسِي خُبۡزٗا تَأۡكُلُ ٱلطَّيۡرُ مِنۡهُۖ نَبِّئۡنَا بِتَأۡوِيلِهِۦٓۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٣٦
And there entered the prison with him two young men. One of them said, "Indeed, I have seen myself [in a dream] pressing [grapes for] wine." The other said, "Indeed, I have seen myself carrying upon my head [some] bread, from which the birds were eating. Inform us of its interpretation; indeed, we see you to be of those who do good."
قَالَ لَا يَأۡتِيكُمَا طَعَامٞ تُرۡزَقَانِهِۦٓ إِلَّا نَبَّأۡتُكُمَا بِتَأۡوِيلِهِۦ قَبۡلَ أَن يَأۡتِيَكُمَاۚ ذَٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّيٓۚ إِنِّي تَرَكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٖ لَّا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ ٣٧
He said, "You will not receive food that is provided to you except that I will inform you of its interpretation before it comes to you. That is from what my Lord has taught me. Indeed, I have left the religion of a people who do not believe in Allāh, and they, in the Hereafter, are disbelievers.
وَٱتَّبَعۡتُ مِلَّةَ ءَابَآءِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۚ مَا كَانَ لَنَآ أَن نُّشۡرِكَ بِٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۚ ذَٰلِكَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ ٣٨
And I have followed the religion of my fathers, Abraham, Isaac and Jacob. And it was not for us to associate anything with Allāh. That is from the favor of Allāh upon us and upon the people, but most of the people are not grateful.
يَٰصَٰحِبَيِ ٱلسِّجۡنِ ءَأَرۡبَابٞ مُّتَفَرِّقُونَ خَيۡرٌ أَمِ ٱللَّهُ ٱلۡوَٰحِدُ ٱلۡقَهَّارُ ٣٩
O [my] two companions of prison, are separate lords better or Allāh, the One,1 the Prevailing?2
مَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ أَسۡمَآءٗ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٍۚ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٤٠
You worship not besides Him except [mere] names you have named them,1 you and your fathers, for which Allāh has sent down no evidence. Legislation is not but for Allāh. He has commanded that you worship not except Him. That is the correct religion, but most of the people do not know.
يَٰصَٰحِبَيِ ٱلسِّجۡنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسۡقِي رَبَّهُۥ خَمۡرٗاۖ وَأَمَّا ٱلۡأٓخَرُ فَيُصۡلَبُ فَتَأۡكُلُ ٱلطَّيۡرُ مِن رَّأۡسِهِۦۚ قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ ٱلَّذِي فِيهِ تَسۡتَفۡتِيَانِ ٤١
O two companions of prison, as for one of you, he will give drink to his master of wine; but as for the other, he will be crucified, and the birds will eat from his head. The matter has been decreed about which you both inquire."
اور داخل ہوئے اس کے ساتھ قید خانے میں دو جوان، ان میں سے ایک نے کہا، بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو کہ نچوڑ رہا ہوں میں شراب،اورکہا دوسرے نے بے شک میں دیکھتا ہوں اپنے آپ کو اٹھا رہا ہوں میں اوپر اپنے سر کے روٹی، کھا رہے ہیں پرندے اس میں سے ، بتلا تو ہمیں تعبیر اس کی، بے شک ہم دیکھتے ہیں تجھے احسان کرنے والوں میں سے (36) یوسف نے کہا، نہیں آئے گا تم دونوں کے پاس کھانا جو دیے جاتے ہو تم وہ مگر بتلا دوں گا میں تمھیں تعبیر اس کی پہلے اس سے کہ وہ آئے تمھارے پاس، یہ ان چیزوں میں سے ہے جو سکھائیں مجھے میرے رب نے، یقینا میں نے چھوڑ دیا دین ان لوگوں کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ کے ساتھ اور وہ ساتھ آخرت کے بھی کفر کرنے والے ہیں (37) اور میں نے پیروی کی دین کی اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کے، نہیں جائز واسطے ہمارے یہ کہ شریک ٹھہرائیں ہم ساتھ اللہ کے کسی چیز کو، یہ ہے فضل سے اللہ کے اوپر ہمارے اور اوپر تمام لوگوں کے لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (38) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! کیا معبود متفرق بہتر ہیں یا اللہ ایک نہایت غالب؟(39) نہیں عبادت کرتے تم سوائے اس کے مگر چند ناموں کی جو نام رکھے ہیں خود ہی تم نے وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادا نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا، اس نے حکم دیا یہ کہ نہ عبادت کروتم مگر صرف اسی کی، یہی ہے دین سیدھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (40) اے میرے دونوں ساتھیو قید خانے کے! لیکن ایک تو تم دونوں میں سے پس وہ پلائے گا اپنے مالک کو شراب اور لیکن دوسرا، سو وہ سولی دیا جائے گا اورکھائیں گے پرندے اس کے سر میں سے، فیصلہ کیا گیا ہے اس معاملے کا، وہ جس کی بابت تم مجھ سے پوچھتے تھے (41)
[36]﴿ وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجۡنَ فَتَيٰنِ﴾ ’’اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔‘‘ جب یوسفu قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کیے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انھوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسفu کو سنایا ﴿ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا١ۚ وَقَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّيۡۤ اَرٰىنِيۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِيۡ خُبۡزًا﴾ ’’ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں ‘‘ اور یہ روٹی ﴿ تَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡهُ﴾ ’’پرندے کھا رہے ہیں ۔‘‘ ﴿ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ﴾ ’’ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجیے۔‘‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا: ﴿ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں ۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انھوں نے یوسفu کے احسان کو وسیلہ بنایا۔
[37]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا يَاۡتِيۡكُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُكُمَا بِتَاۡوِيۡلِهٖ قَبۡلَ اَنۡ يَّاۡتِيَكُمَا﴾ ’’جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔‘‘ یعنی تمھیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمھارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔شاید یوسفu یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں ، جبکہ ان قیدیوں نے حضرت یوسفu کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لیے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو، پھر یوسفu سے فرمایا:﴿ذٰلِكُمَا﴾ یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں کو بتاؤں گا ﴿ مِمَّا عَلَّمَنِيۡ رَبِّيۡ﴾ ’’یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیا ہے۔‘‘ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا اور وہ احسان یہ ہے ﴿اِنِّيۡ تَرَؔكۡتُ مِلَّةَ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَؔ بِاللّٰهِ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ﴾ ’’میں نے اس قوم کا دین چھوڑا جو اللہ پر یقین نہیں رکھتی اور وہ آخرت کے منکر ہیں ‘‘ (ترک) کا اطلاق جس طرح اس داخل ہونے والے پر ہوتا ہے جو داخل ہونے کے بعد وہاں سے منتقل ہو جاتا ہے اسی طرح اس شخص پر بھی ہوتا ہے جو اصلاً اس میں داخل ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اس سے پہلے یوسفu ملت ابراہیمu کے علاوہ کسی اور ملت پر تھے۔
[38]﴿ وَاتَّبَعۡتُ مِلَّةَ اٰبَآءِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ﴾ ’’اور میں نے پیروی کی اپنے باپ دادا کی ملت کی، ابراہیم، اسحٰق اور یعقوب کی‘‘ اس کے بعد یوسفu نے ملت ابراہیمu کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِكَ بِاللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’ہمارے لائق نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں ‘‘ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں اور اسی کے لیے دین اور عبودیت کو خالص کرتے ہیں ۔ ﴿ ذٰلِكَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ عَلَيۡنَا وَعَلَى النَّاسِ ﴾ ’’یہ ہم پر اللہ کی بہترین نوازش اور اس کا فضل و احسان ہے۔‘‘ یہ احسان ان لوگوں پر بھی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرح راہ ہدایت پر گامزن کیا ہے کیونکہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی اس نوازش اور عنایت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں کہ وہ ان کو اسلام اور دین قویم سے نواز دے۔پس جو کوئی اسے قبول کر لیتا ہے اور اس کی اطاعت کرتا ہے تو یہ اس کی خوش نصیبی ہے وہ سب سے بڑی نعمت اور جلیل ترین فضیلت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے‘‘ اسی لیے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی نوازشیں اور احسانات آتے ہیں مگر وہ انھیں قبول نہیں کرتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے کسی حق کو قائم کرتے ہیں ۔یہ بات مخفی نہیں کہ اس میں اس راستے کی اتباع کی ترغیب ہے جس پر خود جناب یوسفu گامزن تھے۔ یوسفu نے چونکہ ان نوجوانوں کے بارے میں یہ چیز محسوس کر لی تھی کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتے ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ یوسفu ایک اچھے اور تعلیم دینے والے شخص ہیں … اس لیے جناب یوسفu نے ان دونوں کو بتایا کہ میری یہ حالت، جس پر میں اس وقت ہوں ، یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا کہ میں شرک سے بچ گیا اور میں نے اپنے آباء و اجداد کی ملت کی اتباع کی اور میں اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تم مجھے دیکھ رہے ہو تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم بھی اس راستے پر چلو جس پر میں چل رہا ہوں ۔
[39] پھر یوسفu نے نہایت صراحت کے ساتھ ان دونوں کو توحید کی دعوت دی۔ فرمایا: ﴿ يٰصَاحِبَيِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ۠ؔ خَيۡرٌ اَمِ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُ﴾ ’’اے قید کے ساتھیو! کیا متفرق معبود بہتر ہیں یا ایک غالب اللہ‘‘ یعنی عاجز اور کمزور معبود جو کسی کو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کر سکتے ہیں نہ محروم کر سکتے ہیں یہ معبود شجر و حجر، فرشتوں ، مردہ ہستیوں اور دیگر مختلف قسم کے معبودوں میں بکھرے ہوئے اور منقسم ہیں جن کو ان مشرکین نے معبود بنا رکھا ہے کیا یہ معبودان اچھے ہیں ﴿ اَمِ اللّٰهُ ﴾ ’’یااللہ‘‘ جو صفات کمال کا مالک ہے ﴿ الۡوَاحِدُ ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا ہے۔ ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ الۡقَهَّارُ ﴾ اس کے قہر اور تسلط کے سامنے تمام کائنات سرافگندہ ہے وہ جو چیز چاہتا ہے ہو جاتی ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتی۔ ﴿ مَؔا مِنۡ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا ﴾(ھود: 11؍56) ’’جو بھی چلنے پھرنے والا جاندار ہے اس کی پیشانی اس کے قبضۂ اختیار میں ہے۔‘‘
[40] یہ بات معلوم ہے کہ جس ہستی کی یہ شان اور یہ وصف ہو وہ ان متفرق معبودوں سے بہتر ہے جو محض گھڑے ہوئے نام ہیں جو کسی کمال اور فعل سے عاری ہیں ۔بنابریں یوسفu نے فرمایا: ﴿ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو، وہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں ‘‘ یعنی تم نے ان کو معبود کا نام دے دیا ہے حالانکہ یہ کچھ بھی نہیں اور نہ ان میں الوہیت کی صفات میں سے کوئی صفت ہے۔ ﴿ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾’’اللہ نے ان پر کوئی دلیل نازل نہیں کی‘‘ بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کی ممانعت نازل کر کے ان کا باطل ہونا واضح کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان معبودان باطل کے حق میں کوئی دلیل نازل نہیں کی اس لیے کوئی طریقہ، کوئی وسیلہ اور کوئی دلیل ایسی نہیں جس سے ان کا استحقاق عبودیت ثابت ہوتا ہو۔﴿ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ﴾ ’’اللہ اکیلے کے سوا کسی کا حکم نہیں۔‘‘ وہی ہے جو حکم دیتا ہے اور منع کرتا ہے، وہی ہے جو تمام شرائع اور احکام کو مشروع کرتا ہے اور وہی ہے ﴿ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ﴾ ’’اس نے حکم دیا کہ عبادت صرف اسی کی کرو، یہی سیدھا مضبوط دین ہے‘‘ یعنی یہی صراط مستقیم ہے جو ہر بھلائی کی منزل تک پہنچاتا ہے، دیگر تمام ادیان سیدھی راہ سے محروم ہیں بلکہ یہ ٹیڑھے راستے ہیں اور ہر برائی تک پہنچاتے ہیں ۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ مگر اکثر لوگ اشیاء کے حقائق کو نہیں جانتے۔ ورنہ اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت اور اس کے ساتھ شرک میں فرق سب سے زیادہ واضح اور نمایاں چیز ہے۔ مگر اکثر لوگ علم سے محروم ہونے کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔
[41] پس یوسفu نے قید کے دونوں ساتھیوں کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت اور اخلاص کی طرف دعوت دی تو یہ احتمال بھی ہے کہ ان دونوں ساتھیوں نے یوسفu کی دعوت قبول اور آپ کی اطاعت اختیار کر لی ہو اور اللہ کی نعمت کا ان پر اتمام ہو گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے شرک پر جمے رہے ہوں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہو، پھر یوسفu نے ان دونوں کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کے مطابق ان کے خوابوں کی تعبیر بتانا شروع کی۔ فرمایا:﴿يٰصَاحِبَيِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا ﴾ ’’میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک ۔‘‘ یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب نکال رہا ہے۔ اس کے بارے میں یوسفu نے بتایا کہ وہ قید سے آزاد ہوگا ﴿فَيَسۡقِيۡ رَبَّهٗ خَمۡرًا﴾ ’’پس وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔‘‘ یعنی وہ اپنے آقا کو جس کی وہ خدمت کیا کرتا تھا شراب پلائے گا اور یہ تعبیر اس کے قید سے نکلنے کو مستلزم تھی۔ ﴿وَاَمَّا الۡاٰخَرُ ﴾ ’’رہا دوسرا قیدی‘‘ جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہے اور پرندے روٹیاں کھا رہے ہیں ﴿فَيُصۡلَبُ فَتَاۡكُلُ الطَّيۡرُ مِنۡ رَّاۡسِهٖ﴾ ’’وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھاجائیں گے۔‘‘ یوسفu نے روٹیاں سر پر اٹھانے کی جن کو پرندے کھا رہے ہوں ، یہ تعبیر بتلائی کہ اس کا سر قلم کیا جائے گا۔ اس کے سر کا گوشت، چربی اور مغز جدا کیے جائیں گے، اس کو دفن نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے پرندوں سے بچایا جائے گا بلکہ اسے ایسی جگہ صلیب پر لٹکایا جائے گا جہاں پرندے اس کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ جناب یوسفu نے آگاہ فرمایا کہ خواب کی یہ تعبیر جو انھوں نے ان کو بتائی ہے، پوری ہو کر رہے گی۔ فرمایا ﴿قُضِيَ الۡاَمۡرُ الَّذِيۡ فِيۡهِ تَسۡتَفۡتِيٰنِ﴾ ’’جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے، اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔‘‘ یعنی جس معاملے کی تعبیر و تفسیر کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے اس کا فیصلہ ہو چکا۔
12:42Page 240
وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُۥ نَاجٖ مِّنۡهُمَا ٱذۡكُرۡنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَىٰهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهِۦ فَلَبِثَ فِي ٱلسِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِينَ ٤٢
And he said to the one whom he knew would go free, "Mention me before your master." But Satan made him forget the mention [to] his master, and he [i.e., Joseph] remained in prison several years.
اور کہا اسے کہ گمان کیا تھا (اس کو) کہ وہ نجات پانے والا ہے ان دونوں میں سے تو ذکر کرنا میر ااپنے مالک کے ہاں ، پس بھلوا دیا اسے شیطان نے ذکر کرنا اپنے مالک کے پاس ، سو ٹھہرا رہا یوسف قید خانے میں کئی سال (42)
[42]﴿وَقَالَ ﴾ یعنی یوسفu نے فرمایا: ﴿ لِلَّذِيۡ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّؔنۡهُمَا ﴾ ’’اس شخص سے جس کی بابت انھوں نے گمان کیا تھا کہ وہ بچے گا‘‘ یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب پلارہا ہے۔ ﴿ اذۡكُرۡنِيۡ عِنۡدَ رَبِّكَ﴾ ’’اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا‘‘ یعنی اس کے پاس میرے قصے اور میرے معاملے کاذکر کرنا شاید وہ نرم پڑ جائے اور مجھے اس قید خانے سے نکال دے۔ ﴿ فَاَنۡسٰىهُ الشَّيۡطٰنُ ذِكۡرَ رَبِّهٖ﴾ ’’لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا۔‘‘ یعنی قید سے نجات پانے والے اس شخص کو شیطان نے اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔[( فاضل مصنف کے برعکس اکثر مفسرین نے (ذکر ربہ) میں رب سے آقا، یعنی بادشاہ وقت مراد لیا ہے، یعنی نجات پانے والے کو شیطان نے بھلا دیا اور اس نے حضرت یوسفu کی خواہش کے مطابق بادشاہ سے آکر ان کے جیل میں محبوس رہنے کا ذکر نہیں کیا۔ (ص ۔ ی)] اور نیز ہر اس چیز کو فراموش کرا دیا جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا باعث تھی اور انھی چیزوں میں یوسفu کا تذکرہ بھی تھا جو اس چیز کے مستحق تھے کہ بہترین اور کامل ترین بھلائی کے ساتھ ان کو بدلہ دیا جاتا۔ یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کا حکم پورا ہو۔ ﴿ فَلَبِثَ فِي السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِيۡنَ ﴾ ’’پس ٹھہرے رہے یوسفu جیل میں کئی سال‘‘ (بضع) کا اطلاق تین سے لے کر نو تک کے عدد پر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سات برس تک قید میں رہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے چاہا کہ اس کا حکم پورا ہو اور یوسفu کو قید سے نکالنے کا اذن دے تو اس نے یوسفu کو قید سے نکالنے، ان کی شان بلند کرنے اور ان کی قدر و منزلت نمایاں کرنے کے لیے ایک سبب مقدر کر دیا… وہ تھا بادشاہ کا خواب دیکھنا۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یوسفu کو قید خانے سے نکالنا چاہا تو بادشاہ کو ایک عجیب و غریب خواب دکھایا۔ جس کی تعبیر تمام قوم کو متاثر کرتی تھی… تاکہ یوسفu اس خواب کی تعبیر بتائیں اور یوں ان کا علم و فضل ظاہر ہو اور دین و دنیا میں ان کو رفعت حاصل ہو۔ اس میں تقدیر کی مناسبت یہ ہے کہ بادشاہ نے… جو رعایا کے تمام امور کا ذمہ دار ہوتا ہے… یہ خواب دیکھا کیونکہ قوم کے مصالح کا تعلق بادشاہ سے ہوتا ہے۔ اس بادشاہ نے ایک خواب دیکھا جس نے بادشاہ کو خوف زدہ کر دیا۔ اس نے اپنی قوم کے اہل علم اور اصحاب الرائے کو اکٹھا کیا اور ان سے کہا:
12:43–49Page 240
وَقَالَ ٱلۡمَلِكُ إِنِّيٓ أَرَىٰ سَبۡعَ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ وَسَبۡعَ سُنۢبُلَٰتٍ خُضۡرٖ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٖۖ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَأُ أَفۡتُونِي فِي رُءۡيَٰيَ إِن كُنتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُونَ ٤٣
And [subsequently] the king said, "Indeed, I have seen [in a dream] seven fat cows being eaten by seven [that were] lean, and seven green spikes [of grain] and others [that were] dry. O eminent ones, explain to me my vision, if you should interpret visions."
قَالُوٓاْ أَضۡغَٰثُ أَحۡلَٰمٖۖ وَمَا نَحۡنُ بِتَأۡوِيلِ ٱلۡأَحۡلَٰمِ بِعَٰلِمِينَ ٤٤
They said, "[It is but] a mixture of false dreams, and we are not learned in the interpretation of dreams."
وَقَالَ ٱلَّذِي نَجَا مِنۡهُمَا وَٱدَّكَرَ بَعۡدَ أُمَّةٍ أَنَا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأۡوِيلِهِۦ فَأَرۡسِلُونِ ٤٥
But the one who was freed and remembered after a time said, "I will inform you of its interpretation, so send me forth."
يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفۡتِنَا فِي سَبۡعِ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ وَسَبۡعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضۡرٖ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٖ لَّعَلِّيٓ أَرۡجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُونَ ٤٦
[He said], "Joseph, O man of truth, explain to us about seven fat cows eaten by seven [that were] lean, and seven green spikes [of grain] and others [that were] dry - that I may return to the people [i.e., the king and his court]; perhaps they will know [about you]."
قَالَ تَزۡرَعُونَ سَبۡعَ سِنِينَ دَأَبٗا فَمَا حَصَدتُّمۡ فَذَرُوهُ فِي سُنۢبُلِهِۦٓ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تَأۡكُلُونَ ٤٧
[Joseph] said, "You will plant for seven years consecutively; and what you harvest leave in its spikes, except a little from which you will eat.
ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ سَبۡعٞ شِدَادٞ يَأۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ إِلَّا قَلِيلٗا مِّمَّا تُحۡصِنُونَ ٤٨
Then will come after that seven difficult [years] which will consume what you advanced [i.e., saved] for them, except a little from which you will store.
ثُمَّ يَأۡتِي مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ عَامٞ فِيهِ يُغَاثُ ٱلنَّاسُ وَفِيهِ يَعۡصِرُونَ ٤٩
Then will come after that a year in which the people will be given rain and in which they will press [olives and grapes]."
اور کہا بادشاہ نے، بے شک میں دیکھتا ہوں (خواب میں ) ساتھ گائیں موٹی کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اور دوسری خشک، اے درباریو! تعبیر بتلاؤ تم مجھے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر کر سکتے (43) انھوں نے کہا، (یہ ہیں ) پریشان خواب اورنہیں ہیں ہم تعبیر ایسے خوابوں کی جاننے والے (44) اور کہا اس شخص نے جس نے نجات پائی تھی ان دونوں میں سےاور یاد آیا اسے بعد مدت کے، میں خبر دوں گا تمھیں اس کی تعبیر کے پس تم بھیجو مجھے (45)(اس نے جا کر کہا) اے یوسف! اے بہت ہی سچے! تعبیر بتلا ہمیں سات گائیوں کی بابت جو موٹی ہیں کہ کھا رہی ہیں انھیں سات دبلی اور ساتھ بالیاں سبز اوردوسری خشک تاکہ میں لوٹوں طرف لوگوں کی (اور) تاکہ وہ جان لیں (46) یوسف نے کہا، کاشت کرو گے تم سات سال لگاتار، پس جو کاٹو تم تو چھوڑ دو اسے اس کی بالی ہی میں مگر تھوڑا سا اس میں سے جو کھاؤ تم (47) پھر آئیں گے اس کے بعد سات سال سخت، وہ کھا جائیں گے اسے جو پہلے (ذخیرہ) کیا تم نے واسطے ان کے مگر تھوڑا سا اس (ذخیرے) میں سے جو محفوظ رکھو گے تم (بیج کے لیے)(48) پھر آئے گا اس (قحط سالی) کے بعد ایسا سال کہ اس میں بارش دیے جائیں گے لوگ اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے (49)
[43]﴿ اِنِّيۡۤ اَرٰى سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ﴾ ’’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ، ان کو کھاتی ہیں سات کمزور اور لاغر گائیں ۔‘‘ یہ عجیب بات ہے کہ لاغر اور کمزور گائیں ، جن میں قوت ختم ہو چکی ہے وہ ایسی سات موٹی گایوں کو کھا جائیں جو انتہائی طاقتور ہوں ۔ ﴿وَ﴾ اور میں نے دیکھا ہے ﴿ سَبۡعَ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ﴾ ’’سات خوشے سبز ہیں اور سات خشک۔‘‘ یعنی ان سات ہری بالیوں کو سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں ۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِيۡ فِيۡ رُءۡيَايَ ﴾ ’’اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ‘‘ کیونکہ سب کی تعبیر ایک تھی اس خواب کی تاویل بھی ایک ہی چیز تھی۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ لِلرُّءۡيَا تَعۡبُرُوۡنَؔ ﴾ ’’اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرنے والے۔‘‘
[44] پس وہ سخت حیران ہوئے اور اس خواب کی کوئی تعبیر نہ کر سکے۔ کہنے لگے: ﴿اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ﴾ ’’یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔‘‘ یعنی یہ ایسا پریشان خواب ہے جس کا کوئی حاصل ہے نہ اس کی کوئی تعبیر۔ یہ ان کی اس بارے میں حتمی رائے تھی جس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے اور انھوں نے ایسی چیز کو عذر بنایا جو درحقیقت عذر ہی نہیں ، پھر انھوں نے کہا:﴿ وَمَا نَحۡنُ بِتَاۡوِيۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ہم تو صرف خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں ۔ رہے پریشان خواب جو شیطانی وسوسوں اور نفس کی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں تو ہم ان کی تفسیر نہیں جانتے۔پس انھوں نے جہالت، حتمی رائے کہ یہ پریشان خواب ہیں اور خود پسندی کو ایک جگہ کر دیا کیونکہ انھوں نے یہ نہ کہا کہ ہم اس خواب کی تعبیر نہیں جانتے اور یہ ایسا رویہ ہے جو اہل دین اور عقل مندوں کو زیب نہیں دیتا… نیز یہ یوسفu پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم بھی ہے کیونکہ اگر شروع ہی سے، بادشاہ کے اعیان سلطنت اور ان کے علماء کے سامنے یہ خواب پیش ہونے اور ان کے اس کی تعبیر بتانے سے عاجز ہوئے بغیر، جناب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتائی ہوتی تو ان کی تعبیر کی اتنی وقعت نہ ہوتی۔ مگر جب بادشاہ نے یہ خواب علماء اور اعیان سلطنت کے سامنے پیش کیا اور وہ اس کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور بادشاہ کو خواب نے بہت زیادہ فکر میں ڈال دیا تھا، پس جب یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتا دی تو ان کے ہاں یوسفu کی قدر اور وقعت بہت بڑھ گئی۔ یہ اس واقعہ کی نظیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے ذریعے سے جناب آدمu کی فضیلت ظاہر کی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے سوال کیا، وہ جواب نہ دے سکے، پھر آدمu سے سوال کیا انھوں نے فرشتوں کو ہر چیز کا نام بتا دیا اور اس طرح فرشتوں پر آدمu کی فضیلت ثابت ہوگئی۔اسی طرح قیامت کے روز، اللہ کی مخلوق میں بہترین ہستی، جناب محمد مصطفیﷺ کی فضیلت ظاہر ہوگی، اللہ مخلوق کو الہام کرے گا اور تمام مخلوق جناب آدم، پھر جناب نوح، پھر جناب ابراہیم، پھر جناب موسیٰ اور پھر جناب عیسیٰ ( علیہ السلام ) سے شفاعت کی درخواست کرے گی مگر وہ معذرت کر دیں گے، پھر تمام مخلوق نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کی استدعا کرے گی جسے قبول کرتے ہوئے رسول اللہﷺ فرمائیں گے ’’ہاں میں شفاعت کروں گا‘‘ ’’میں اس کا مستحق ہوں ‘‘… اور یوں آپ تمام مخلوق کی شفاعت کریں گے اور اس طرح وہ اس مقام محمود پر فائز ہوں گے جس پر اولین و آخرین رشک کریں گے۔ پاک ہے وہ ذات جس کا لطف و کرم مخفی ہے اور وہ اپنے اولیاء و اصفیاء اور اپنے خاص بندوں کو نہایت دقیق طریقے سے اپنے فضل و احسان سے نوازتی ہے۔
[45]﴿ وَقَالَ الَّذِيۡ نَجَا مِنۡهُمَا ﴾ ’’ان دو نوجوانوں میں سے جو بچ گیا تھا، اس نے کہا‘‘ اور یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب نچوڑ رہا ہے جس سے یوسفu نے کہا تھا کہ وہ اپنے آقا کے پاس ان کا ذکر کرے ﴿ وَادَّؔكَرَ بَعۡدَ اُمَّؔةٍ ﴾ ’’اور جسے مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی۔‘‘ یعنی کئی سال کی مدت کے بعد اسے یوسفu اور ان کا ان دونوں قیدیوں کے خواب کی تعبیر بتانا اور یوسفu کا وصیت کرنا یاد آیا اور اسے معلوم تھا کہ اس خواب کی تعبیر صرف یوسفu ہی بتا سکتے ہیں ۔ اس لیے وہ کہنے لگا: ﴿ اَنَا اُنَبِّئُكُمۡ بِتَاۡوِيۡلِهٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ ﴾ ’’میں بتاؤں تم کو اس کی تعبیر، پس تم مجھے بھیجو‘‘ یعنی مجھے یوسفu کے پاس بھیجو تاکہ میں ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھ سکوں ۔
[46] انھوں نے اسے بھیج دیا وہ یوسفu کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یوسفu نے اس کے فراموش کر دینے پر اس پر عتاب نہیں فرمایا بلکہ اس نے جو کچھ پوچھا یوسفu نے اسے نہایت غور سے سنا اور اس کے سوال کا جواب دیا۔ اس شخص نے کہا تھا: ﴿يُوۡسُفُ اَيُّهَا الصِّدِّيۡقُ﴾ ’’اے یوسف، اے سچے! ‘‘ یعنی اپنے اقوال و افعال میں بہت ہی سچے شخص۔ ﴿ اَفۡتِنَا فِيۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّسَبۡعِ سُنۢۡبـُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّاُخَرَ يٰـبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّيۡۤ اَرۡجِـعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلاؤ، کہ سات موٹی گائیں ، ان کو سات کمزور گائیں کھا جاتی ہیں اور سات ہری بالیاں ، دوسری خشک بالیوں کو تاکہ میں لوگوں کی طرف واپس جاؤں شاید ان کو معلوم ہو‘‘ کیونکہ اس خواب نے ان لوگوں کو سخت پریشان کر رکھا ہے اور وہ اس خواب کی تعبیر جاننے کے لیے سخت بے تاب ہیں ۔
[47] یوسفu نے اس خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے کہا کہ سات موٹی تازی گایوں اور سات ہری بالیوں سے سات آئندہ سالوں کی سرسبزی و شادابی کی طرف اشارہ ہے اور سات لاغر اور کمزور گایوں اور سات سوکھی بالیوں سے شادابی کے بعد آنے والی خشک سالی اور قحط کے سات سالوں کی طرف اشارہ ہے۔ اس تعبیر کا پہلو غالباً یہ ہے… اللہ اعلم… چونکہ کھیتی کا دارومدار شادابی اور خشک سالی پر ہے، جب شادابی آتی ہے تو کھیتیوں اور فصلوں کو طاقت ملتی ہے، وہ خوشنما نظر آتی ہیں ، غلے کی بہتات ہوتی ہے، قحط سالی میں کھیتیوں کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ گیہوں کی بالیاں سب سے اچھی اور سب سے بڑی خوراک لیے ہوئے ہوتی ہیں ، وجود مناسبت کی بنا پر یوسفu نے تعبیر بیان کی۔اس خواب کی تعبیر بتانے کے ساتھ ساتھ جناب یوسفu نے اس طرف بھی اشارہ کر دیا کہ انھیں کیا کرنا چاہیے۔ شادابی کے سالوں کے دوران قحط سالی کا مقابلہ کرنے کے لیے انھیں کیسے تیاری کرنی چاہیے اور کیا کیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ تَزۡرَعُوۡنَؔ سَبۡعَ سِنِيۡنَ دَاَبًا﴾ ’’تم لگاتار سات سال تک (شادابی کی وجہ سے) کھیتی باڑی کرتے رہو گے‘‘ ﴿ فَمَا حَصَدۡتُّمۡ ﴾ ’’پس جو فصلیں تم کاٹو‘‘ ﴿ فَذَرُوۡهُ﴾ ’’تو اس (فصل) کو چھوڑ دو۔‘‘ ﴿ فِيۡ سُنۢۡبُلِهٖۤ ﴾ ’’اس کے خوشوں میں ‘‘ کیونکہ اس سے غلہ زیادہ عرصہ تک باقی رہ سکتا ہے اور تلف ہونے کا امکان بعید تر ہوتا ہے ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔمَّا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ ’’تھوڑے غلے کے سوا جو تم کھاتے ہو۔‘‘ یعنی شادابی کے ان دنوں میں اپنی خوراک کا اس طرح انتظام کرو کہ کم سے کم خوراک استعمال کرو تاکہ زیادہ سے زیادہ خوراک کا ذخیرہ کر سکو۔ جس کا فائدہ اور وقعت زیادہ ہوگی۔
[48]﴿ ثُمَّ يَاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس کے بعد آئیں گے۔‘‘ یعنی شادابی کے ان سات سالوں کے بعد ﴿ سَبۡعٌ شِدَادٌ ﴾ ’’خشک سالی اور سخت قحط کے سات سال آئیں گے۔‘‘ ﴿ يَّاۡكُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَهُنَّ ﴾ ’’ (یعنی قحط کے یہ سات سال) وہ سب کچھ کھا جائیں گے جو کچھ تم نے ذخیرہ کیا ہوگا‘‘ خواہ کتنا ہی زیادہ ذخیرہ کیوں نہ کیا ہو۔ ﴿ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔمَّا تُحۡصِنُوۡنَؔ﴾ ’’مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے تم بیج کے واسطے‘‘ یعنی جنھیں تم اصلی فصل کی تیاری کے لیے روک کر رکھو گے۔
[49]﴿ ثُمَّ يَاۡتِيۡ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر اس کے بعد آئے گا۔‘‘ یعنی سخت قحط سالی کے ان سات سالوں کے بعد ﴿ عَامٌ فِيۡهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَفِيۡهِ يَعۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’ایک سال، اس میں لوگوں پر بارش ہو گی اور اس میں وہ رس نچوڑیں گے‘‘ یعنی اس سال بہت کثرت سے بارشیں ہوں گی، بہت زیادہ سیلاب آئیں گے۔ کثرت سے غلہ پیدا ہوگا جو ان کی خوراک کی ضروریات سے زیادہ ہوگا، حتیٰ کہ وہ انگوروں کا رس نچوڑیں گے جو ان کے کھانے سے زیادہ ہوں گے۔شاید اس شادابی اور سرسبز سال پر استدلال اس لیے کیا… حالانکہ بادشاہ کے خواب میں اس سال کی صراحت نہیں تھی… کہ یوسفu نے سات سالہ قحط کی تعبیر سے سمجھا کہ ان کے بعد آنے والے سال میں قحط کی شدت زائل ہو جائے گی۔ کیونکہ یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ سات سال کا لگاتار قحط بکثرت شادابی کے ذریعے ہی سے ختم ہو سکتا ہے ورنہ اندازے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences