As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الشمس
Ash-Shams
The Sun · Meccan · 15 ayahs
91:1–15Page 595
وَٱلشَّمۡسِ وَضُحَىٰهَا ١
By the sun and its brightness
وَٱلۡقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا ٢
And [by] the moon when it follows it
وَٱلنَّهَارِ إِذَا جَلَّىٰهَا ٣
And [by] the day when it displays it1
وَٱلَّيۡلِ إِذَا يَغۡشَىٰهَا ٤
And [by] the night when it covers [i.e., conceals] it
وَٱلسَّمَآءِ وَمَا بَنَىٰهَا ٥
And [by] the sky and He who constructed it
وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا طَحَىٰهَا ٦
And [by] the earth and He who spread it
وَنَفۡسٖ وَمَا سَوَّىٰهَا ٧
And [by] the soul and He who proportioned it1
فَأَلۡهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقۡوَىٰهَا ٨
And inspired it [with discernment of] its wickedness and its righteousness,
قَدۡ أَفۡلَحَ مَن زَكَّىٰهَا ٩
He has succeeded who purifies it,
وَقَدۡ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا ١٠
And he has failed who instills it [with corruption].
كَذَّبَتۡ ثَمُودُ بِطَغۡوَىٰهَآ ١١
Thamūd denied [their prophet] by reason of their transgression,
إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشۡقَىٰهَا ١٢
When the most wretched of them was sent forth.1
فَقَالَ لَهُمۡ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقۡيَٰهَا ١٣
And the messenger of Allāh [i.e., Ṣāliḥ] said to them, "[Do not harm] the she-camel of Allāh or [prevent her from] her drink."
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمۡ فَسَوَّىٰهَا ١٤
But they denied him and hamstrung1 her. So their Lord brought down upon them destruction for their sin and made it equal [upon all of them].
وَلَا يَخَافُ عُقۡبَٰهَا ١٥
And He does not fear the consequence thereof.1
قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی(1) اور چاند کی جب وہ اس کےپیچھے آتا ہے(2) اور دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے(3) اور رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے اس کو(4) اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا(5) اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا(6) اور (انسانی) نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک ٹھاک کیا(7) پھر القا کیا اسے اس کی بدکرداری اور اس کی پرہیز گاری کا(8) یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا(9) یقیناً ناکام ہوا وہ جس نے نفس کو دبا دیا (10) جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (11) جب اٹھ کھڑا ہوا بڑا بدبخت اس قوم کا (12) پس کہا ان سے اللہ کے رسول نے، (حفاظت کرو تم) اللہ کی اونٹنی کی اور اس کو پانی پلانے کی (13) پس انھوں نے جھٹلایا اس کو ، پھر انھوں نے مار ڈالااس( اونٹنی) کو پس تباہی ڈال دی ان پر ان کے رب نے بوجہ ان کے گناہ کے، پھر برابر (ملیا میٹ) کر دیا ان کو (14) اور نہیں ڈرتا وہ اس(اپنے کام) کے انجام سے (15)
[6-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق و فاجر نفوس پر قسم کھائی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿وَالشَّمۡسِ وَضُحٰؔىهَا﴾ یعنی سورج ، اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم ﴿وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ’’اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔‘‘ یعنی جب چاند منازل اور روشنی میں سورج کے پیچھے چلے۔ ﴿وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ’’اور دن کی جب اسے چمکادے۔‘‘ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کر دے۔ ﴿وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىهَا﴾ ’’اور رات کی جب اسے چھپالے۔‘‘ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہو جائے۔اس عالم میں اندھیرے اور اجالے، سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے، وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔ ﴿وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰىهَا﴾ ’’اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔‘‘اس میں احتمال ہے کہ مَا موصولہ ہو، تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مَا مصدریہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی، مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت و انتہا ہے۔ اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:﴿وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰؔىهَا﴾ ’’اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔‘‘ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
[7، 8]﴿وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا﴾ ’’اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں۔دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے، کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے۔ منتقل ہونے، حرکت، تغیر و تبدل، تاثر اور انفعالات نفسیہ، مثلاً: ہم و غم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس ہیئت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے، اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
[9، 10]﴿قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَؔكّٰىهَا﴾ یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا، عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا، وہ کامیاب ہوا۔ ﴿وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىهَا﴾ ’’اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔‘‘ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کورذائل کے میل کچیل کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کر کے جو اس کی تکمیل اور نشوونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بد صورت بناتے اور بگاڑتے ہیں، چھپایا وہ ناکام رہا۔
[15-11]﴿كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىهَاۤ﴾ ثمود نے اپنی سرکشی، حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے تکذیب کی۔ ﴿اِذِ انۢۡبَعَثَ اَشۡقٰىهَا﴾ جب قبیلے کا بدبخت ترین شخص قدار بن سالف اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس (جرم) اتفاق پر کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔ ﴿فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ تو اللہ کے رسول ، یعنی صالحu نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا:﴿نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے، اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔ پس انھوں نے اپنے نبی حضرت صالحu کو جھٹلایا:﴿فَعَقَرُوۡهَا١۪ۙ ۬ فَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۢۡبِهِمۡ ﴾ ’’ پس اس نے اس کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔‘‘ یعنی ان کو برباد کر دیا اور سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھاڑ اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گا نہ جواب دینے والا ﴿ فَسَوّٰىهَا﴾ ان پر اس بستی کو برابر کر دیا یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا۔ ﴿ وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا﴾ ’’اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔‘‘ یعنی اس کے تاوان سے، وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جبکہ وہ قہر والا ہے ۔ اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں، اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا، وہ اس میں حکمت والا ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences