As-Sa'diAr‑Ra'd · 13:1–13

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

الرعد

Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

13:1Page 249

الٓمٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِۗ وَٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ ٱلۡحَقُّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يُؤۡمِنُونَ ١

Alif, Lām, Meem, Rā.1 These are the verses of the Book; and what has been revealed to you from your Lord is the truth, but most of the people do not believe.

الٓـمّٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب کی اور وہ جو نازل کیا گیا آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے (1)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، کتاب اللہ کی آیات ہیں جو دین کے اصول و فروع میں ہر اس چیز کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس کے بندے محتاج ہیں اور یہ قرآن جو رسول اللہﷺ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا وہ واضح حق ہے کیونکہ اس کی خبریں صدق پر مبنی اور اس کے اوامر و نواہی سراسر عدل ہیں اور قطعی دلائل و براہین ان کی تائید کرتے ہیں ۔ جو کوئی اس کے علم کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہی حقیقی اہل علم میں شمار ہوتا ہے اور اس کا علم اس کے لیے عمل کا موجب بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یعنی اکثر لوگ یا تو اپنی جہالت، اس سے روگردانی اور اس کی طرف عدم توجہ کی بناء پر یا محض عناد اور ظلم کی و جہ سے، اس قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بنا بریں اکثر لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے، اس کی و جہ اس سبب کا معدوم ہونا ہے جو فائدہ اٹھانے کا موجب ہے۔

13:2–4Page 249

ٱللَّهُ ٱلَّذِي رَفَعَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيۡرِ عَمَدٖ تَرَوۡنَهَاۖ ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰ عَلَى ٱلۡعَرۡشِۖ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِي لِأَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ يُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوقِنُونَ ٢

It is Allāh who erected the heavens without pillars that you [can] see; then He established Himself above the Throne1 and made subject2 the sun and the moon, each running [its course] for a specified term. He arranges [each] matter; He details the signs that you may, of the meeting with your Lord, be certain.

وَهُوَ ٱلَّذِي مَدَّ ٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۡهَٰرٗاۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٣

And it is He who spread the earth and placed therein firmly set mountains and rivers; and from all of the fruits He made therein two mates; He causes the night to cover the day. Indeed in that are signs for a people who give thought.

وَفِي ٱلۡأَرۡضِ قِطَعٞ مُّتَجَٰوِرَٰتٞ وَجَنَّٰتٞ مِّنۡ أَعۡنَٰبٖ وَزَرۡعٞ وَنَخِيلٞ صِنۡوَانٞ وَغَيۡرُ صِنۡوَانٖ يُسۡقَىٰ بِمَآءٖ وَٰحِدٖ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلَىٰ بَعۡضٖ فِي ٱلۡأُكُلِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٤

And within the land are neighboring plots and gardens of grapevines and crops and palm trees, [growing] several from a root or otherwise,1 watered with one water; but We make some of them exceed others in [quality of] fruit. Indeed in that are signs for a people who reason.

اللہ وہ ذات ہے جس نے بلند کیے آسمان بغیر ستونوں کے، تم دیکھتے ہو ان کو، پھر مستوی ہوا وہ اوپرعرش کےاور کام میں لگا دیا سورج اورچاند کو، ہر ایک چل رہا ہے واسطے وقت مقرر کے، وہ تدبیر کرتا ہے کام کی ، تفصیل سے بیان کرتا ہے نشانیاں (اپنی) تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو (2) اور وہی ہے (اللہ) جس نے بچھائی زمین اور بنائے اس میں پہاڑ اورنہریں اور ہر قسم کے پھلوں سے بنائے اس میں جوڑے، دو دو، ڈھانپتا ہے رات سے دن کو، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو غورو فکر کرتے ہیں (3) اور زمین میں ٹکڑے ہیں ایک دوسرے کے قریب قریب اور (اسی طرح) باغات ہیں انگوروں کے اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں جڑ سے ملی ہوئی اور جدا جدا، سیراب کی جاتی ہیں ساتھ ایک ہی پانی کےاور ہم فضیلت دیتے ہیں بعض کو بعض پھلوں (کے ذائقے) میں ، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو عقل رکھتے ہیں (4)

[2] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تخلیق و تدبیر اور عظمت و سلطان میں منفرد ہے اس کی یہ وحدانیت دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرنی چاہیے، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ ﴾ ’’اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا۔‘‘ آسمانوں کے بہت بڑے اور بہت وسیع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند کر رکھا ہے۔ ﴿ بِغَيۡرِ عَمَدٍ تَرَوۡنَهَا ﴾ ’’ستونوں کے بغیر جیسا کہ تم دیکھتے ہو۔‘‘ یعنی آسمانوں کو سہارا دینے کے لیے ان کے نیچے کوئی ستون نہیں اور ان کو ستون نے سہارا دیا ہوتا تو وہ تمھیں ضرور دکھائی دیتے۔ ﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’وہ عرش پر مستوی ہوا۔‘‘ وہ عرش عظیم جو اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔ استواء کی کیفیت وہ ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کے کمال کے مناسب ہے۔ ﴿ وَسَخَّرَ الشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ﴾ ’’اور سورج اور چاند کو مسخر کردیا۔‘‘ بندوں کے مصالح نیز ان کے مویشیوں ، باغات اور کھیتیوں کے مصالح کی خاطر۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک‘‘ یعنی چاند اور سورج ﴿ يَّجۡرِيۡ ﴾ ’’چل رہا ہے۔‘‘ یعنی غالب اور علم والی ہستی کے مقرر کردہ اندازے پر چل رہا ہے۔ ﴿لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾’’ایک وقت مقرر تک‘‘ دونوں ایک منظم رفتار سے چل رہے ہیں جس میں کوئی فرق آتا ہے نہ ان کی رفتار میں کوئی سستی آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت مقرر آ جائے گا اور اللہ اس جہان آب و گل کی بساط لپیٹ دے گا اور بندوں کو دارآخرت میں منتقل کر دے گا۔ جو ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔ تب اس وقت اللہ تعالیٰ ان آسمانوں کو لپیٹ دے گا اور ان کو اور ہی آسمانوں سے بدل دے گا اور اسی طرح اس زمین کو دوسری زمین سے بدل دے گا۔ سورج اور چاند بے نور کر دیے جائیں گے اور ان کو اکٹھا کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ تاکہ ان کی عبادت کرنے والے دیکھ لیں کہ وہ عبادت کے مستحق نہ تھے تاکہ وہ سخت حسرت زدہ ہوں اور کفار کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔﴿ يُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’تدبیر کرتا ہے کام کی، وہ کھول کر بیان کرتا ہے آیتوں کو‘‘ یہاں خلق و امر کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے یعنی اللہ عظمت والا تخت اقتدار پر مستوی ہے اور وہ عالم علوی اور عالم سفلی کی تدبیر کر رہا ہے، پس وہی پیدا کرتا ہے اور رزق عطا کرتا ہے، وہی غنی کرتا اور محتاج کرتا ہے، وہ کچھ قوموں کو سربلند کرتا ہے اور کچھ قوموں کو قعر مذلت میں گرا دیتا ہے، وہی عزت عطا کرتا ہے وہی ذلت سے ہمکنار کرتا ہے، وہی گراتا ہے اور وہی رفعتیں عطا کرتا ہے، وہی لغزشوں پر عذر قبول کرتا ہے، وہی مصیبتوں اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے، وہی تقدیر کو اس کے وقت مقرر پر نافذ کرتا ہے، جو اس کے احاطۂ علم میں ہے اور جس پر اس کا علم جاری ہو چکا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان فرشتوں کو تدبیر کائنات کے لیے بھیجتا ہے جن کو اس تدبیر کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔وہ کتب الٰہی کو اپنے رسولوں پر نازل فرماتا ہے، احکام شریعت اور اوامر و نواہی کو جن کے بندے سخت محتاج ہیں ، کھول کھول کر بیان کرتا ہے توضیح، تبیین اور تمییز کے ذریعے سے ان کی تفصیل بیان کرتا ہے ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’شاید کہ تم‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اس نے تمھیں آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں اور تم پر آیات قرآنیہ نازل فرمائیں ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّكُمۡ تُوۡقِنُوۡنَؔ ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو‘‘ کیونکہ دلائل کی کثرت اور ان کی توضیح و تبیین تمام امور الٰہیہ میں ، خاص طور پر بڑے بڑے عقائد ، مثلاً: زندگی بعد موت اور قبروں سے نکلنے میں یقین کے حصول کا سبب بنتی ہے۔ نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ﴿حَكِيۡمٌ﴾ ’’حکمت والا‘‘ ہے وہ مخلوق کو بے فائدہ پیدا نہیں کرتا نہ وہ ان کو عبث چھوڑے گا۔ پس جیسے اس نے انبیاء و مرسلین مبعوث کیے اور بندوں کے لیے اوامر و نواہی کی خاطر کتابیں نازل فرمائیں ۔ تب یہ ضروری ٹھہرا کہ وہ بندوں کو ایک ایسے جہاں میں منتقل کرے جہاں انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے۔ نیکوکاروں کو بہترین بدلہ اور بدکاروں کو ان کی بدی کا بدلہ۔

[3]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ ﴾ ’’وہی ہے جس نے پھیلائی زمین‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لیے تخلیق کیا، اس کو وسعت بخشی، اس میں برکت عطا کی، اپنے بندوں کے لیے اس کو پھیلایا اور اس کے اندران کے لیے فوائد و مصالح ودیعت کیے۔ ﴿ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِيَ ﴾ ’’اور رکھے اس میں پہاڑ‘‘ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ اس لیے اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنے رہنے والوں کے ساتھ ایک طرف جھک جاتی کیونکہ زمین پانی کی سطح پر تیر رہی ہے جس کو ثبات و استقرار نہیں ۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں توازن پیدا کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے میخیں بنایا ہے۔ ﴿ وَاَنۡهٰرًا﴾ ’’اور دریا‘‘ یعنی زمین کے اندر دریا بنائے جو انسانوں ، ان کے مویشیوں اور ان کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ پس ان دریاؤں کے ذریعے سے درخت، کھیتیاں اور باغات اگائے اور ان کے ذریعے سے خیر کثیر برآمد کیا۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَمِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيۡهَا زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ ﴾ ’’اور ہر پھل کے رکھے اس میں جوڑے، دو دو قسم‘‘ یعنی ان میں دو اصناف پیدا کیں جن کے بندے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ يُغۡشِي الَّيۡلَ النَّهَارَ ﴾ ’’ڈھانکتا ہے دن پر رات کو‘‘ وہ دن پر رات کو طاری کر دیتا ہے جس سے تمام آفاق پر اندھیرا چھا جاتا ہے اور ہر جاندار اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر دن بھر کی مشقت اور تھکن کو دور کرنے کے لیے آرام کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نیند پوری کر لیتے ہیں تو دن رات پر چھا جاتا ہے تو لوگ دن کے وقت پھیل کر اپنے مصالح کے حصول اور اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنۡ رَّحۡمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾(القصص: 28؍73)’’اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر گزار بنو۔‘‘﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ ﴾ ’’اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں مطالب الہیہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّرُوۡنَؔ۠ ﴾ ’’غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان آیات و دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں ، انھیں عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اس ہستی کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تدبیر کی اور ان میں تصرف کیا۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ وہ غائب اور موجود ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے، اپنے خلق و امر میں قابل تعریف، نہایت بابرکت اور بہت بلند ہستی ہے۔

[4]﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰؔوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ ﴾ ’’اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے اور باغات۔‘‘ اس کے کمال قدرت اور انوکھی صنعت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین میں الگ الگ مگر ایک دوسرے سے متصل خطے پائے جاتے ہیں اور اس کے اندر باغات ہیں جن میں انواع و اقسام کے درخت ہیں ﴿ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّزَرۡعٌ وَّنَخِيۡلٌ ﴾ ’’انگور کے باغ، کھیتیاں اور کھجور کے باغ ہیں ‘‘ اور دیگر پھل اور کھجور کے باغات جن میں سے بعض ﴿ صِنۡوَانٌ ﴾ ’’ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی‘‘ یعنی متعدد درخت ایک ہی جڑ سے پھوٹے ہیں ﴿ وَّغَيۡرُ صِنۡوَانٍ يُّسۡقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ﴾ ’’اور بعض بن ملی، ان کو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے‘‘ یعنی تمام درخت ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور ایک ہی زمین میں اگے ہوئے ہیں ۔ ﴿ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلٰى بَعۡضٍ فِي الۡاُكُلِ﴾’’اور فضیلت دی ہم نے بعض کو بعض پر میووں میں ‘‘ یعنی رنگ، ذائقہ، فوائد اور لذت میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔پس یہ اچھی اور زرخیز زمین ہے جس میں بکثرت سرسبز گھاس، بیل بوٹے، درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ملی ہوئی زمین کی ایک قسم وہ ہے جس میں گھاس اگتی ہے نہ وہ پانی کو روک کر اس کا ذخیرہ کر سکتی ہے۔ زمین کی ایک قسم وہ ہے جو پانی کو روک کر ذخیرہ کرتی ہے مگر اس میں ہریالی نہیں اگتی، ایک زمین وہ ہے جس میں درخت اور کھیتیاں اگتی ہیں مگر گھاس نہیں ہوتی۔ کوئی پھل شیریں ہے، کوئی تلخ اور کسی کا ذائقہ ان کے بین بین ہے۔کیا یہ تنوع ان کا ذاتی اور طبعی ہے یا غالب اور رحم کرنے والی ہستی کی مقرر کردہ تقدیر ہے؟﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایسی عقل سے بہرہ ور ہیں جو ان کی ان امور کی طرف راہنمائی کرتی ہے جو ان کے لیے مفید ہیں یہ عقل ان امور کی طرف لے چلتی ہے جن کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے اوامر و نواہی کو سمجھتے ہیں ۔رہے روگرداں اور بلیدالذہن لوگ تو وہ اپنے نظریات کے اندھیروں میں حیران و سرگرداں اور اپنی گمراہی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔ اپنے رب کی طرف انھیں کوئی راہ سجھائی دیتی ہے نہ اس کی بات کو یاد رکھتے ہیں ۔

13:5Page 249

۞ وَإِن تَعۡجَبۡ فَعَجَبٞ قَوۡلُهُمۡ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِي خَلۡقٖ جَدِيدٍۗ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ ٱلۡأَغۡلَٰلُ فِيٓ أَعۡنَاقِهِمۡۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٥

And if you are astonished,1 [O Muḥammad] - then astonishing is their saying, "When we are dust, will we indeed be [brought] into a new creation?" Those are the ones who have disbelieved in their Lord, and those will have shackles2 upon their necks, and those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.

او ر اگر تعجب کریں آپ تو عجیب ہے بات ان کی کہ کیا جب ہو جائیں گے ہم مٹی تو کیا ہم ، البتہ نئی پیدائش میں ہوں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا ساتھ اپنے رب کےاور یہی لوگ ہیں کہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور یہی لوگ دوزخی ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (5)

[5] اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنۡ تَعۡجَبۡ ﴾ ’’اور اگر آپ تعجب کریں ‘‘ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے دلائل کی کثرت پر تعجب ہو۔ اس لیے کہ اس کے باوجود جھٹلانے والوں کا انکار اور ان کا روز قیامت کی تکذیب کرنا عجیب بات ہے۔ کہتے ہیں : ﴿ فَعَجَبٌ قَوۡلُهُمۡ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍ﴾ ’’کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے، کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے؟‘‘ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق یہ بہت بعید اور ممتنع ہے کہ جب وہ مٹی میں رل مل جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کرے۔ انھوں نے بربنائے جہالت خالق کی قدرت کو مخلوق کی قدرت پر قیاس کر لیا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ یہ مخلوق کی قدرت سے باہر ہے تو انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ خالق کے لیے بھی ممتنع ہے۔ حالانکہ وہ فراموش کر بیٹھے کہ ان کو پہلی بار اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھے۔آیت کریمہ میں اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے اگر آپ ان کی بات اور ان کی ان کے مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیب پر تعجب کرتے ہیں تو واقعی ان کی یہ بات عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ شخص جس کے سامنے آیات الٰہی بیان کی جائیں ، جو زندگی بعد موت پر ایسے قطعی دلائل دیکھتا ہو جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اس کے بعد وہ انکار کر دے تو یہ عجیب بات ہے۔ مگر ان کی یہ بات کوئی انوکھی چیز نہیں ہے ﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ﴾’’یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا‘‘ اور اس کی وحدانیت کو جھٹلایا حالانکہ توحید سب سے زیادہ واضح اور سب سے زیادہ روشن چیز ہے۔﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ الۡاَغۡلٰلُ ﴾ ’’اور وہی لوگ، طوق ہیں ‘‘ جو ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں ﴿ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ﴾ ’’ان کی گردنوں میں ‘‘ کیونکہ انھیں ایمان کی طرف بلایا گیا مگر وہ ایمان نہ لائے، ان کے سامنے ہدایت پیش کی گئی مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا۔ لہذا سزا کے طور پر ان کے دل پلٹ دیے گئے کیونکہ یہ لوگ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ یعنی وہ جہنم سے کبھی نہیں نکلیں گے۔

13:6Page 250

وَيَسۡتَعۡجِلُونَكَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِ وَقَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِمُ ٱلۡمَثُلَٰتُۗ وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغۡفِرَةٖ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلۡمِهِمۡۖ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٦

They impatiently urge you to bring about evil before good,1 while there has already occurred before them similar punishments [to what they demand]. And indeed, your Lord is the possessor of forgiveness for the people despite their wrongdoing, and indeed, your Lord is severe in penalty.

اور وہ جلدی طلب کرتے ہیں آپ سے برائی (عذاب) پہلے بھلائی (رحمت) سےاور تحقیق گزر چکی ہیں پہلے ان سے مثالیں (عذاب کی)اور بلاشبہ آپ کا رب ، البتہ مغفرت والا ہے واسطے لوگوں کے باوجود ان کے ظلم کےاور بے شک آپ کا رب ، البتہ سخت سزا والا ہے (6)

[6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو جھٹلانے والے مشرکین کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جن کو نصیحت کی گئی مگر انھوں نے نصیحت حاصل نہ کی۔ ان پر دلائل قائم کیے گئے مگر انھوں نے ان دلائل کو نہ مانا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے کھلم کھلا انکار کیا انھوں نے اللہ واحد و قہار کے حلم اور ان کے گناہوں پر فوری طور پر گرفت نہ ہونے کی و جہ سے استدلال کیا کہ وہ حق پر ہیں ۔ انھوں نے رسول اللہﷺ سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ جلدی سے عذاب لے آئیں اور ان میں سے بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾(الانفال: 8؍32)’’اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔‘‘﴿ وَقَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِمُ الۡمَثُلٰتُ﴾ ’’اور گزر چکی ہیں ان سے پہلے مثالیں ‘‘ اور حال یہ ہے کہ جھٹلانے والی قوموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے کے واقعات گزر چکے ہیں کیا وہ اپنے حال پر غور و فکر کر کے اپنی جہالت کو چھوڑ نہیں سکتے؟ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوۡ مَغۡفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلۡمِهِمۡ﴾ ’’اور آپ کا رب لوگوں کو ان کے ظلم کے باوجود معاف کرنے والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی بھلائی، اس کا احسان، اس کا کرم اور اس کا عفوودرگزر اس کے بندوں پر ہمیشہ نازل ہوتا رہتا ہے اور بندوں کی طرف سے ان کا شرک و عصیان اس کی طرف بلند ہوتا ہے، اس کے بندے اس کی نافرمانی کرتے ہیں وہ ان کو اپنے دروازے کی طرف بلاتا ہے، وہ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں مگر وہ انھیں اپنے فضل و احسان سے محروم نہیں کرتا۔ پس اگر وہ توبہ کر لیں تو وہ ان کا دوست ہے کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کریں تو وہ ان کا طبیب ہے، وہ ان کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ ان کو گناہوں سے پاک کردے۔ وہ کہتا ہے:﴿قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’کہہ دیجیے! اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’بے شک آپ کا رب سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ ان لوگوں کو جو اپنے گناہوں پر مصر رہتے ہیں ، جو اللہ غالب اور بخشنے والے کے پاس توبہ، استغفار اور التجا کرنے سے انکار کر دیتے ہیں ۔ پس بندوں کو اللہ تعالیٰ کی ان سزاؤں سے ڈرنا چاہیے جو وہ اہل جرائم کو دیتا ہے، اس کی پکڑ نہایت سخت اور دردناک ہے۔

13:7Page 250

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦٓۗ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرٞۖ وَلِكُلِّ قَوۡمٍ هَادٍ ٧

And those who disbelieved say, "Why has a sign not been sent down to him from his Lord?" You are only a warner, and for every people is a guide.

اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی اوپر اس (رسول) کے کوئی نشانی (معجزہ) اس کے رب کی طرف سے؟ (اے پیغمبر!) آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور واسطے ہر قوم کے ایک راہ دکھانے والاہوتا ہے (7)

[7] یعنی کفار آپﷺ سے بغیر سوچے سمجھے اور اپنی خواہشات کے مطابق معین آیات و معجزات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہیں اتاری گئی آپ پر کوئی نشانی، آپ کے رب کی طرف سے‘‘ معجزات کے مطالبے کا جواب نہ ملنے پر رسول اللہﷺ کے سامنے عذر پیش کرتے ہوئے یہ بات کہتے ہیں ۔ حالانکہ رسول اللہﷺ تو محض ڈرانے والے ہیں آپ کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آیات و معجزات نازل فرماتا ہے۔ اس نے ایسے واضح دلائل کے ساتھ رسول کی تائید فرمائی جو عقل مندوں پر مخفی نہیں ہیں اور طالب حق ان دلائل کے ذریعے سے راہ راست پا سکتا ہے۔ رہا منکر حق، جو اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے آیات و معجزات کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ مطالبہ باطل جھوٹ اور بہتان طرازی ہے کیونکہ اس کے پاس جو بھی معجزہ اور نشانی آئے گی وہ اس پر ایمان لائے گا نہ اس کی اطاعت کرے گا کیونکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کی صحت پر دلائل نہیں بلکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ صرف خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی ہے۔ ﴿ وَّلِكُلِّ قَوۡمٍ هَادٍ ﴾ ’’اور ہر قوم کے لیے ایک راہنما ہوا کرتا ہے۔‘‘ یعنی ہر قوم کے پاس انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین میں سے ایک داعی آتا ہے جو انھیں ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ ان کے پاس دلائل و براہین ہوتے ہیں جو اس ہدایت کی صحت پر دلالت کرتے ہیں ۔

13:8–11Page 250

ٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ ٱلۡأَرۡحَامُ وَمَا تَزۡدَادُۚ وَكُلُّ شَيۡءٍ عِندَهُۥ بِمِقۡدَارٍ ٨

Allāh knows what every female carries1 and what the wombs lose [prematurely] or exceed.2 And everything with Him is by due measure.

عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلۡكَبِيرُ ٱلۡمُتَعَالِ ٩

[He is] Knower of the unseen and the witnessed, the Grand, the Exalted.

سَوَآءٞ مِّنكُم مَّنۡ أَسَرَّ ٱلۡقَوۡلَ وَمَن جَهَرَ بِهِۦ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفِۭ بِٱلَّيۡلِ وَسَارِبُۢ بِٱلنَّهَارِ ١٠

It is the same [to Him] concerning you whether one conceals [his] speech or publicizes it and whether one is hidden by night or conspicuous [among others] by day.

لَهُۥ مُعَقِّبَٰتٞ مِّنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهِۦ يَحۡفَظُونَهُۥ مِنۡ أَمۡرِ ٱللَّهِۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوۡمٖ سُوٓءٗا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ ١١

For him [i.e., each one] are successive [angels]1 before and behind him who protect him by the decree of Allāh.2 Indeed, Allāh will not change the condition of a people until they change what is in themselves. And when Allāh intends for a people ill,3 there is no repelling it. And there is not for them besides Him any patron.

اللہ جانتا ہے جو کچھ اٹھاتی ہے (پیٹ میں ) ہر ایک مادہ،اور جو کچھ کم کرتے ہیں رحم اور جو کچھ زیادہ کرتے ہیں اورہر ایک چیز اس کے ہاں ساتھ ایک اندازے کے ہے(8) وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا، بہت بڑا، نہایت بلند (9) برابر ہے (اللہ کے علم میں ) تم میں سے جو کوئی آہستہ کہے بات کو یا بلندآواز سے کہے اسےاورجو شخص کہ وہ چھپنے والا ہے رات (کے اندھیرے) میں اور جو چلنے والا ہے دن (کی روشنی) میں (10) واسطے اس (انسان) کے باری بار ی آنے والے فرشتے ہیں اس کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، وہ حفاظت کرتے ہیں اس کی اللہ کے حکم سے، بے شک اللہ نہیں بدلتا اس نعمت کو جو کسی قوم کے پاس ہے یہاں تک کہ وہ (خود) بدل لیں اپنی اس کیفیت کو جو ان کے دلوں میں ہےاور جب ارادہ کرتا ہے اللہ ساتھ کسی قوم کے برائی (عذاب) کا تو نہیں کوئی پھیرنے والا اس کواور نہیں واسطے ان (لوگوں ) کے سوائے اللہ کے کوئی کار سا ز(11)

[9,8] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کا علم سب کو شامل، اس کی اطلاع بہت وسیع اور اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، چنانچہ فرماتا ہے:﴿ اَللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ كُلُّ اُنۡثٰى﴾ ’’اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ‘‘ یعنی انسان اورجانوروں میں سے ﴿ وَمَا تَغِيۡضُ الۡاَرۡحَامُ ﴾ ’’اور جو کم کرتے ہیں پیٹ‘‘ یعنی رحم میں موجود حمل میں جو کمی ہوتی ہے یا وہ ہلاک ہوجاتے ہیں یا وہ سکڑ کر مضمحل ہو جاتے ہیں ﴿ وَمَا تَزۡدَادُ﴾ ’’اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں ‘‘ اور ان میں موجود بچے بڑے ہوجاتے ہیں ۔ ﴿ وَكُلُّ شَيۡءٍ عِنۡدَهٗ بِمِقۡدَارٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کا اس کے ہاں اندازہ ہے‘‘ کوئی چیز اس مقدار سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ اس مقدار سے زیادہ ہو سکتی نہ کم مگر جس کا تقاضا اس کی حکمت اور علم کرے۔ ﴿ عٰؔلِمُ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ الۡكَبِيۡرُ ﴾ ’’وہ نہاں اور آشکار کا جاننے والا اور بڑا ہے۔‘‘ یعنی وہ عالم غیب اور عالم ظاہر کا علم رکھتا ہے وہ اپنی ذات اور اپنے اسماء و صفات میں بڑا ہے۔ ﴿ الۡمُتَعَالِ ﴾ ’’عالی رتبہ ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ذات، قدرت اور غلبہ کے اعتبار سے تمام مخلوق پر بلند ہے۔

[10]﴿ سَوَؔآءٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾ ’’برابر ہے تم میں سے‘‘ یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں ﴿ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَمَنۡ جَهَرَ بِهٖ وَمَنۡ هُوَ مُسۡتَخۡفٍۭؔ بِالَّيۡلِ ﴾ ’’جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں ‘‘ یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے ﴿ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ﴾ ’’اور جو دن میں چلنے والا ہے‘‘ یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (اَلسَّرَب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وغیرہ ہو۔

[11]﴿لَهٗ ﴾ ’’اس کے لیے۔‘‘ یعنی انسان کے لیے ﴿مُعَقِّبٰؔتٌ ﴾ ’’پہرے دار ہیں ‘‘ یعنی فرشتے جو شب و روز ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں ﴿ مِّنۢۡ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَمِنۡ خَلۡفِهٖ يَحۡفَظُوۡنَهٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ﴾’’بندے کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں ‘‘ یعنی یہ فرشتے اس کے جسم و روح کی ہر اس چیز سے حفاظت کرتے ہیں جو اس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، وہ اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں ۔ پس جیسے اللہ تعالیٰ کے علم نے انسان کا احاطہ کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے یہ فرشتے بھیج رکھے ہیں جبکہ انسان کے اعمال اور احوال اللہ تعالیٰ سے اوجھل ہیں نہ وہ ان میں سے کچھ بھولتا ہے۔﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ ﴾ ’’بے شک اللہ، وہ نہیں بدلتا جو لوگوں کو حاصل ہے‘‘ یعنی نعمت، احسان اور اسباب زیست کی فراوانی ﴿ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’جب تک وہ خود اس چیز کو نہ بدل دیں ‘‘ یعنی جب تک کہ وہ ایمان سے کفر، اطاعت سے نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر سے ناشکری کی طرف منتقل نہیں ہوتے، تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمتیں سلب کر لیتا ہے اور اسی طرح جب بندے اپنی حالت کو بدل لیتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اطاعت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں تو پھر ان کی بدبختی کی حالت کو بھلائی، مسرت، خوشی اور رحمت کی حالت میں بدل دیتا ہے۔ ﴿ وَاِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوۡمٍ سُوۡٓءًا﴾ ’’اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کے لیے کسی عذاب، سختی یا کسی ایسے امر کا ارادہ کرتا ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں تو اس کا ارادہ ان پر ضرور نافذ ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَا مَرَدَّ لَهٗ﴾ اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، یعنی اس سے انھیں کوئی بچا نہیں سکتا۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّالٍ ﴾ ’’اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ‘‘ یعنی جو ان کے معاملات کی سرپرستی کر کے ان کے لیے ان کی محبوب و مرغوب اشیاء مہیا کرے اور ناپسندیدہ چیزوں کو ان سے دور کرے۔ پس لوگ ان امور پر قائم رہنے سے بچیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں مباداکہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو مجرموں پر سے ہٹایا نہیں جاتا۔

13:12–13Page 250

هُوَ ٱلَّذِي يُرِيكُمُ ٱلۡبَرۡقَ خَوۡفٗا وَطَمَعٗا وَيُنشِئُ ٱلسَّحَابَ ٱلثِّقَالَ ١٢

It is He who shows you lightning, [causing] fear and aspiration, and generates the heavy clouds.

وَيُسَبِّحُ ٱلرَّعۡدُ بِحَمۡدِهِۦ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ مِنۡ خِيفَتِهِۦ وَيُرۡسِلُ ٱلصَّوَٰعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَن يَشَآءُ وَهُمۡ يُجَٰدِلُونَ فِي ٱللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ ٱلۡمِحَالِ ١٣

And the thunder exalts [Allāh] with praise of Him - and the angels [as well] from fear of Him - and He sends thunderbolts and strikes therewith whom He wills while they dispute about Allāh; and He is severe in assault.

وہی ہے (اللہ) جو دکھاتا ہے تمھیں بجلی ڈرانے اور امید دلانے کے لیےاور وہی پیدا کرتا ہے بادل بھاری (12)اور تسبیح بیان کرتی ہے گرج ساتھ اس کی حمد کےاور فرشتے بھی اس کے خوف سےاور وہ بھیجتا ہے کڑکتی بجلیاں ، پھر پہنچاتا (گراتا) ہے وہ بجلیاں جس پر چاہتا ہےاور وہ (کافر) جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی بابت اور وہ شدید قوت والا ہے (13)

[12]﴿ هُوَ الَّذِيۡ يُرِيۡكُمُ الۡـبَرۡقَ خَوۡفًا وَّطَمَعًا ﴾ ’’وہی ہے جو دکھاتا ہے تم کو بجلی، ڈرانے کے لیے اور امید دلانے کے لیے‘‘ یعنی اس بجلی (کے گرنے) کی وجہ سے کڑک اور عمارتوں کے منہدم ہونے کا نیز باغات اور کھیتیوں کے پھلوں پر مختلف اقسام کے ضرر رساں اثرات کا خدشہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں بھلائی اور فائدے کی امید بھی ہوتی ہے۔ ﴿ وَّيُنۡشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ ﴾ ’’اور وہ بارش سے لدے ہوئے بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے۔‘‘ یہ بارش بندوں کو اور زمین کو فائدہ دیتی ہے

[13]﴿ وَيُسَبِّحُ الرَّعۡدُ بِحَمۡدِهٖ ﴾ ’’اور تسبیح بیان کرتا ہے گرجنے والا، اس کی خوبیوں کی‘‘ (اَلرَّعْد) سے مراد بجلی کی کڑک کی آواز ہے جو بادلوں سے سنائی دیتی ہے اور بندوں کو ڈرا دیتی ہے۔ یہ کڑک اپنے رب کے سامنے جھکی ہوئی، اس کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرتی ہے۔ ﴿ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ مِنۡ خِيۡفَتِهٖ﴾ ’’اور سب فرشتے اس کے ڈر سے‘‘ یعنی اپنے رب کے سامنے فروتنی کے ساتھ اور اس کی سطوت سے ڈرتے ہوئے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ﴿وَيُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ﴾ ’’اور بھیجتا ہے وہ کڑکتی بجلیاں ‘‘ اس سے مراد وہ آگ ہے، جو بادلوں سے نکلتی ہے ﴿ فَيُصِيۡبُ بِهَا مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’پھر ڈالتا ہے ان کو جس پر چاہے‘‘ وہ یہ کڑکتی ہوئی بجلیاں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور جتنی چاہتا ہے اور جب ارادہ کرتا ہے گرا دیتا ہے ﴿ وَهُمۡ يُجَادِلُوۡنَ فِي اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ شَدِيۡدُ الۡمِحَالِ ﴾ ’’اور وہ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں اور اس کی گرفت سخت ہے‘‘ وہ بہت زیادہ قوت و اختیار کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے کوئی اس کے سامنے دم مار سکتا ہے نہ بھاگ کر بچ سکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ اکیلا ہی، بندوں کے لیے بادل اور بارش لاتا ہے جس کے اندر ان کے رزق کا مادہ ہے، وہی ہے جو تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، بڑی سے بڑی مخلوق اس کے خوف سے نہایت عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے سرافگندہ ہے، بندے اس کے خوف سے لرزاں ہیں اور وہ بہت بڑی قوت کا مالک ہے… تب وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском