As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الحشر
Al-Hashr
The Exile · Medinan · 24 ayahs
59:1–17Page 545
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ١
Whatever is in the heavens and whatever is on the earth exalts Allāh,1 and He is the Exalted in Might, the Wise.
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مِن دِيَٰرِهِمۡ لِأَوَّلِ ٱلۡحَشۡرِۚ مَا ظَنَنتُمۡ أَن يَخۡرُجُواْۖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمۡ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُواْۖ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعۡبَۚ يُخۡرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيۡدِيهِمۡ وَأَيۡدِي ٱلۡمُؤۡمِنِينَ فَٱعۡتَبِرُواْ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ ٢
It is He who expelled the ones who disbelieved among the People of the Scripture1 from their homes at the first gathering.2 You did not think they would leave, and they thought that their fortresses would protect them from Allāh; but [the decree of] Allāh came upon them from where they had not expected, and He cast terror into their hearts [so] they destroyed their houses by their [own] hands and the hands of the believers. So take warning, O people of vision.
وَلَوۡلَآ أَن كَتَبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابُ ٱلنَّارِ ٣
And if not that Allāh had decreed for them evacuation, He would have punished them in [this] world, and for them in the Hereafter is the punishment of the Fire.
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ شَآقُّواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۖ وَمَن يُشَآقِّ ٱللَّهَ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٤
That is because they opposed Allāh and His Messenger. And whoever opposes Allāh - then indeed, Allāh is severe in penalty.
مَا قَطَعۡتُم مِّن لِّينَةٍ أَوۡ تَرَكۡتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذۡنِ ٱللَّهِ وَلِيُخۡزِيَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٥
Whatever you have cut down of [their] palm trees or left standing on their trunks - it was by permission of Allāh and so He would disgrace the defiantly disobedient.
وَمَآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنۡهُمۡ فَمَآ أَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٖ وَلَا رِكَابٖ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٦
And what Allāh restored [of property] to His Messenger from them - you did not spur for it [in an expedition] any horses or camels,1 but Allāh gives His messengers power over whom He wills, and Allāh is over all things competent.
مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ كَيۡ لَا يَكُونَ دُولَةَۢ بَيۡنَ ٱلۡأَغۡنِيَآءِ مِنكُمۡۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٧
And what Allāh restored to His Messenger from the people of the towns - it is for Allāh and for the Messenger and for [his] near relatives1 and orphans and the needy and the [stranded] traveler2 - so that it will not be a perpetual distribution among the rich from among you. And whatever the Messenger has given you - take; and what he has forbidden you - refrain from. And fear Allāh; indeed, Allāh is severe in penalty.
لِلۡفُقَرَآءِ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ ٱلَّذِينَ أُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَأَمۡوَٰلِهِمۡ يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٗا وَيَنصُرُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّٰدِقُونَ ٨
For the poor emigrants who were expelled from their homes and their properties, seeking bounty from Allāh and [His] approval and supporting [the cause of] Allāh and His Messenger, [there is also a share]. Those are the truthful.
وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلۡإِيمَٰنَ مِن قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّونَ مَنۡ هَاجَرَ إِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمۡ حَاجَةٗ مِّمَّآ أُوتُواْ وَيُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٞۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٩
And [also for] those who were settled in the Home [i.e.,al-Madīnah] and [adopted] the faith before them.1 They love those who emigrated to them and find not any want in their breasts of what they [i.e., the emigrants] were given but give [them] preference over themselves, even though they are in privation. And whoever is protected from the stinginess of his soul - it is those who will be the successful.
وَٱلَّذِينَ جَآءُو مِنۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا وَلِإِخۡوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِي قُلُوبِنَا غِلّٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٞ رَّحِيمٌ ١٠
And [there is a share for] those who come after them, saying, "Our Lord, forgive us and our brothers who preceded us in faith and put not in our hearts [any] resentment toward those who have believed. Our Lord, indeed You are Kind and Merciful."
۞ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نَافَقُواْ يَقُولُونَ لِإِخۡوَٰنِهِمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ لَئِنۡ أُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمۡ أَحَدًا أَبَدٗا وَإِن قُوتِلۡتُمۡ لَنَنصُرَنَّكُمۡ وَٱللَّهُ يَشۡهَدُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ١١
Have you not considered those who practice hypocrisy, saying to their brothers [i.e., associates] who have disbelieved among the People of the Scripture, "If you are expelled, we will surely leave with you, and we will not obey, in regard to you, anyone - ever; and if you are fought, we will surely aid you." But Allāh testifies that they are liars.
لَئِنۡ أُخۡرِجُواْ لَا يَخۡرُجُونَ مَعَهُمۡ وَلَئِن قُوتِلُواْ لَا يَنصُرُونَهُمۡ وَلَئِن نَّصَرُوهُمۡ لَيُوَلُّنَّ ٱلۡأَدۡبَٰرَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ ١٢
If they are expelled, they will not leave with them, and if they are fought, they will not aid them. And [even] if they should aid them, they will surely turn their backs; then [thereafter] they will not be aided.
لَأَنتُمۡ أَشَدُّ رَهۡبَةٗ فِي صُدُورِهِم مِّنَ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَفۡقَهُونَ ١٣
You [believers] are more fearful within their breasts than Allāh. That is because they are a people who do not understand.
لَا يُقَٰتِلُونَكُمۡ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرٗى مُّحَصَّنَةٍ أَوۡ مِن وَرَآءِ جُدُرِۭۚ بَأۡسُهُم بَيۡنَهُمۡ شَدِيدٞۚ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيعٗا وَقُلُوبُهُمۡ شَتَّىٰۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَوۡمٞ لَّا يَعۡقِلُونَ ١٤
They will not fight you all except within fortified cities or from behind walls. Their violence [i.e., enmity] among themselves is severe. You think they are together, but their hearts are diverse. That is because they are a people who do not reason.
كَمَثَلِ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ قَرِيبٗاۖ ذَاقُواْ وَبَالَ أَمۡرِهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ١٥
[Theirs is] like the example of those shortly before them: they tasted the bad consequence of their affair, and they will have a painful punishment.
كَمَثَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ إِذۡ قَالَ لِلۡإِنسَٰنِ ٱكۡفُرۡ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّنكَ إِنِّيٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ١٦
[The hypocrites are] like the example of Satan when he says to man, "Disbelieve." But when he disbelieves, he says, "Indeed, I am disassociated from you. Indeed, I fear Allāh, Lord of the worlds."
فَكَانَ عَٰقِبَتَهُمَآ أَنَّهُمَا فِي ٱلنَّارِ خَٰلِدَيۡنِ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُاْ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٧
So the outcome for both of them is that they will be in the Fire, abiding eternally therein. And that is the recompense of the wrongdoers.
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست ، خوب حکمت والا ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، ان کے گھروں سے، وقت پہلی جلا وطنی کے نہیں گمان کیا تھا تم نے (کبھی بھی) یہ کہ وہ نکلیں گے اور انھوں نے سمجھا تھا کہ بے شک وہ، بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے اللہ (کے عذاب) سے پس آیا ان پر اللہ (کا عذاب) جہاں سے نہیں گمان کیا تھا انھوں نے، اور اس نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اجاڑتے تھے وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی،پس تم عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!(2) اور اگرنہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا ہی میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے آگ کا(3) یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کےرسول کی، اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ کی تو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(4) جو کاٹا تم نے کوئی کھجور کا درخت یا چھوڑ دیا تم نے اسے قائم اس کی جڑوں پر، تو (یہ سب) اللہ کے حکم سے ہے، اور تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو(5) اور جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے ان (کے مال) سے، پس نہیں دوڑائے تم نے اس پر کوئی گھوڑے اور نہ اونٹ، اور لیکن اللہ غالب کرتا ہے اپنے رسولوں کو اوپر جس کے وہ چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(6) جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے بستیوں والوں (کے مال) سے تو (وہ) اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ نہ ہو وہ (مال) گردش کرنے والا درمیان دولت مندوں ہی کے تم میں سے، اور جو کچھ دے تمھیں رسول تو تم لے لو اس کو اور جو کچھ کہ وہ روک دے تمھیں اس سے تو تم رک جاؤ اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(7)(مال فَے) فقراء مہاجرین کے لیے ہے وہ جو نکالے گئے اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے اس حال میں کہ وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضا مندی، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ تو سچے ہیں(8) اور (ان کے لیے ہے) جنھوں نے بنا لیا تھا (مدینہ کو) گھر اور (قبول کر لیا تھا) ایمان ان (کی ہجرت) سے پہلے، وہ (انصار) محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کرے ان کی طرف اور نہیں پاتے وہ اپنے سینوں میں کوئی حاجت (حسد) اس سے جو دیے جائیں وہ (مہاجرین) اور وہ ترجیح دیتے ہیں (ان کو) اوپر اپنے نفسوں کے، اگرچہ ہو خود ان کو سخت حاجت اور جو کوئی بچا لیا گیا بخیلی سے اپنے نفس کی پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(9) اور (ان کے لیے ہے) جو آئے ان کے بعد، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جنھوں نے پہل کی ہم سے ایمان (لانے) میں اور نہ رکھ تو ہمارے دلوں میں کینہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (10) کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے منافقت کی، وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، البتہ اگر نکالے گئے تم تو ہم ضرور نکلیں گے تمھارے ساتھ اور نہیں اطاعت کریں گے ہم تمھارے معاملے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر لڑائی کیے گئے تم تو ہم ضرور مدد کریں گے تمھاری اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (11) البتہ اگر نکالے گئے وہ تو نہیں نکلیں گے یہ ان کے ساتھ اور اگر لڑائی کیے گئے وہ تو نہیں مدد کریں گے وہ ان کی، اور البتہ اگر وہ مدد کریں گے بھی ان کی تو ضرور پھیر جائیں گے وہ پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ (12) البتہ تم (اے مسلمانو!) زیادہ ہو باعتبار ہیبت کے ان کے دلوں میں بنسبت اللہ کے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں سمجھتے (13) نہیں لڑیں گے وہ تم سے سب مل کر بھی مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی(عداوت) آپس میں بہت سخت ہے آپ گمان کرتے ہیں ان کو اکٹھے جبکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، یہ بوجہ اس کےکہ بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں عقل رکھتے (14) مانند صفت ان لوگوں کے جو ان سے پہلے ہوئے قریب ہی، چکھ لیا انھوں نے وبال اپنے کام (کفر) کا اور ان کے لیے ہے عذاب درد ناک (15)(ان کی مثال) مانند حالت شیطان کے ہے جب وہ کہتا ہے انسان کو کہ تو کفر کر، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے بلاشبہ میں تو بری ہوں تجھ سے بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے (16) پھر ہوتا ہے ان دونوں کا انجام کہ بلاشبہ وہ دونوں ہی آگ میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور یہی ہے جزا (سزا) ظالموں کی (17)
تفسیر سورۂ حشر
اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۂ بنی نضیر‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ بنو نضیر یہودیوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا جو نبی ٔاکرمﷺ کی بعثت کے وقت مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ جب نبی ٔاکرمﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انھوں نے جملہ یہود کے ساتھ آپ کی نبوت کا انکار کر دیا، نبی ٔاکرم ﷺ نے یہود کے ان قبائل کے ساتھ معاہدہ کیا جو مدینہ منورہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ غروۂ بدر کے تقریباً چھ ماہ بعد نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کی کہ (معاہدے کے مطابق) وہ ان کلابیوں کی دیت کے بارے میں آپ کی مدد کریں، جن کو عمرو بن امیہ ضمری نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’اے ابوالقاسم! ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں بیٹھیے، یہاں تک کہ ہم آپ کے لیے دیت اکٹھی کردیں، چنانچہ وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملے اور شیطان نے ان کے لیے اس بدبختی کو آسان بنا دیا جو ان کے لیے لکھ دی گئی تھی، چنانچہ انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی اور آپ کے بارے میں کہنے لگے ’’تم میں سے کون ہے جو اس چکی کو اٹھائے چھت پر چڑھ کر آپ کے سر پر دے مارے اور اس سے آپ کا سر کچل ڈالے؟‘‘ان میں سے بدبخت ترین شخص عمرو بن جحاش نے کہا: ’’یہ کام میں کروں گا‘‘ سَلَام بِن مِشْکَمْ نے ان سے کہا ’’یہ کام نہ کرواللہ کی قسم! تمھارے ارادے سے اسے ضرور آگاہ کر دیا جائے گا، اور یہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے جو سازش کی تھی اس کے بارے میں آپ پر فوراً وحی نازل ہو گئی، آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ گئے اور مدینہ کا رخ کیا اور آپ کے صحابہ بھی (جو ساتھ گئے تھے) آپ سے مل گئے اور عرض کیا ’’آپ وہاں سے اٹھ آئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘‘ آپ نے انھیں اس سازش کے بارے میں آگاہ فرمایا جو یہودیوں نے آپ کے خلاف کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ’’مدینہ سے نکل جاؤ اور اس میں مت رہو، میں تمھیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد میں نے جس کسی کو مدینہ میں پایا، اس کی گردن مار دوں گا۔‘‘ بنونضیر مدینہ منورہ میں کچھ دن ٹھہرے اور (وہاں سے نکلنے کی) تیاری کرتے رہے، عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق نے ان کو پیغام بھجوایا ’’اپنے گھروں سے مت نکلو، میرے ساتھ دو ہزار آدمی ہیں جو تمھارے ساتھ تمھارے قلعے میں داخل ہوں گے اور تمھاری خاطر اپنی جان دیں گے، بنوقریظہ اور بنوغطفان میں سے تمھارے حلیف بھی تمھاری مدد کریں گے۔‘‘ بنونضیر کا سردار حُیَي بن اخطب، عبداللّٰہ بن اُبَّی کے کہنے میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا ’’ہم اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے، جو چاہو کر لو‘‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہود کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیt نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ یہودی اپنے قلعوں میں مقیم ہو کر پتھر اور تیر پھینکنے لگے، بنوقریظہ ان سے الگ ہو گئے، عبداللہ بن ابی اور بنو غطفان میں سے ان کے حلیفوں نے بھی ان سے خیانت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا، ان کے کھجوروں کے باغات کاٹ کر نذر آتش کر دیے، بنونضیر نے پیغام بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکل جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کو لے کر نکل جائیں اور اسلحہ کے سوا وہ سب کچھ لے جائیں جو ان کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال اور اسلحہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔بنونضیر کے اموال خالص رسول اللہ ﷺ کی مہمات اور مسلمانوں کے مصالح کے لیے تھے، آپ نے اس مال میں سے خمس نکالا، کیونکہ یہ مال اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلوایا تھا، مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ ان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا، ان میں ان کا سردار حُیَيبن اخطب بھی شامل تھا اور ان کی اراضی اور گھروں پر قبضہ کر لیا۔ نیز ان کے اسلحہ کو بھی قبضہ میں لے لیا، اسلحہ میں پچاس زر ہیں، پچاس خود اور تین سو چالیس تلواریں ہاتھ لگیں۔ یہ ہے بنونضیر کے قصے کا ماحصل جیسا کہ اسے اہل سیرت نے بیان کیا ہے۔
[1] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں ،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔
[2] یہ اس کی حکمت ہے کہ جب اہل کتاب میں سے بنونضیر نے اس کے رسول کے ساتھ بدعہدی کی تو اس نے ان کے مقابلے میں اپنے رسول ﷺ کی مدد کی پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گھروں اور وطن سے نکال دیا، جن سے وہ محبت کرتے تھے، ان کا اپنے گھروں اور وطن سے نکالا جانا اولین جلا وطنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں خیبر کی طرف مقدر ٹھہرائی۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس جلا وطنی کے علاوہ بھی ان کو جلا وطنی کا سامنا کرنا پڑا اور یہ وہ جلا وطنی ہے جو خیبر سے رسول اللہﷺ کے ہاتھوں واقع ہوئی، پھر حضرت عمرt نے (اپنے عہد خلافت میں)بقیہ تمام یہودیوں کو خیبر سے نکال دیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ مَا ظَنَنۡتُمۡ﴾ اے مسلمانو! تمھارے خیال میں بھی نہ تھا ﴿ اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا﴾ کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے، کیونکہ ان کے گھر محفوظ اور مصئو ن تھے اور ان میں عزت اور غلبے کے ساتھ رہتے تھے ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مَّؔانِعَتُهُمۡ حُصُوۡنُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور وہ گمان کر رہے تھے کہ ان کے قلعے انھیں اللہ سے بچالیں گے۔‘‘ انھیں ان قلعوں پر بہت غرور تھا، ان قلعوں نے ان کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ان قلعوں کی وجہ سے ان تک پہنچا جا سکتا ہے نہ ان پر کوئی قابو پا سکتا ہے۔ اس کے ماوراء اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا امر مقدر کر دیا، جس سے انھیں ان کی محفوظ پناہ گاہیں بچاسکیں نہ قلعے، اور نہ قوت اور مدافعت ہی کام آسکی۔اس لیے فرمایا:﴿ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُوۡا﴾ ’’پس اللہ نے انھیں وہاں سے آلیا جہاں سے انھیں گمان بھی نہیں تھا۔‘‘ یعنی اس طریقے اور اس راستے سے جس کے بارے میں انھیں وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہاں سے ان کو آ لیا جائے گا۔ اور وہ یہ بات تھی ﴿ وَقَذَفَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ﴾ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، اس سے مراد شدید خوف ہے جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی سپاہ ہے، جس کے سامنے تعداد اور ساز و سامان کوئی فائدہ دیتا ہے نہ طاقت اور بہادری کوئی کام آتی ہے۔وہ معاملہ جس کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی خلل داخل ہوا تو اس راستے سے داخل ہو گااور وہ ان کے قلعے تھے جہاں داخل ہو کر وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے اور ان قلعوں پر ان کے دل مطمئن تھے۔ جو کوئی غیر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو کوئی غیر اللہ کا سہارا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ پس ان کے پاس ایک آسمانی معاملہ آیا اور ان کے دلوں میں نازل ہوا، جو صبر و ثبات اور بز دلی و کمزوری کا محل و مقام ہوتے ہیں، چنانچہ اس نے ان کی قوت اور بہادری کو زائل کر دیا اور اس کی جگہ کمزوری اور بز دلی دے دی جس کو دور کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی حیلہ نہ تھا اور یہ چیز ان کے خلاف (مسلمانوں کی)مددگار بن گئی۔ بنابریں فرمایا :﴿ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ اور وہ یہ کہ انھوں نے رسول اللہﷺ سے اس شرط پر مصالحت کی کہ ان کے اونٹ جو کچھ اٹھائیں سب ان کا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کی چھتوں کو اکھاڑ ڈالا جو انھیں بہت اچھی لگتی تھیں اور اپنی سر کشی کی بنا پر اپنے گھروں کے برباد کرنے اور اپنے قلعوں کے منہدم کرنے پر مسلمانوں کو مسلط کر دیاتو یہ وہی ہیں جنھوں نے خود اپنے خلاف جرم کیا اور ان قلعوں اور گھروں کو برباد کرنے میں مددگار بنے۔ ﴿ فَاعۡتَبِرُوۡا يٰۤاُولِي الۡاَبۡصَارِ﴾ پس اے اہل بصیرت عبرت یعنی معاملات کی گہرائی میں اتر جانے والی بصیرت اور کامل عقل والو! عبرت حاصل کرو کیونکہ اس واقعہ میں عبرت ہے، اس سے ان معاندین حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سلوک کی معرفت حاصل ہوتی ہے، جو اپنی خواہشات نفس کے پیچھے چلتے ہیں، جن کی عزت نے انھیں کوئی فائدہ دیا نہ طاقت انھیں بچا سکی، جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا اور ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب آ پہنچا، تو ان کے قلعے ان کی حفاظت نہ کر سکے، لہٰذا اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے نہ کہ اسباب کے خصوص کا، چنانچہ یہ آیت کریمہ عبرت حاصل کرنے کے حکم پر دلالت کرتی ہے اور وہ ہے نظیر کے ذریعے سے اس کے نظیر سے عبرت حاصل کرنا اور کسی چیز کو اس چیز پر قیاس کرنا جو اس سے مشابہت رکھتی ہے، اسی عبرت سے عقل کی تکمیل اور بصیرت روشن ہوتی ہے، ایمان میں اضافہ اور حقیقی فہم حاصل ہوتا ہے۔
[3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ ان یہودیوں کو وہ پوری سزا نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں تخفیف کر دی ہے۔ فرمایا:﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمُ الۡجَلَآءَؔ﴾ اور اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھی ہوتی جس کا انھیں سامنا کرنا پڑا جس کا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایسی قضا و قدر کے ذریعے سے فیصلہ کیا جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا تو دنیا کے اندر ان کی سزا اور عذاب کا معاملہ اور ہوتا۔ اگرچہ وہ دنیا کے اندر سخت عذاب سے بچ گئے، تاہم آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہےجس کی سختی کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، لہٰذا کبھی ان کے خواب و خیال میں یہ بات نہ آئے کہ ان کی سزا پوری ہو گئی، انھوں نے بھگت لی اور اس سزا میں سے کچھ باقی نہیں بچا۔ پس وہ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں تیار کر رکھا ہے، زیادہ بڑا اور زیادہ مصیبت کا حامل ہے۔
[4]﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺکی مخالفت کی، ان کے ساتھ دشمنی کی، ان کے خلاف جنگ کی اور ان کی نافرمانی میں بھاگ دوڑ کی۔(ان سے جو کچھ ہوا ہے)یہ ان لوگوں کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ يُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘
[5] جب بنونضیر نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو کھجوروں کے درخت اور دیگر درخت کاٹنے پر ملامت کی اور اس زعم کا اظہار کیا کہ یہ فساد ہے اور اس بنا پر انھوں نے مسلمانوں کو نشانہ طعن بنایا،تب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اگر مسلمانوں نے کھجور کے درخت کاٹے ہیں، تو ان کو کاٹنا اور اگر ان کو باقی رکھا ہے، تو ان کو باقی رکھنا ﴿ فَبِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن اور حکم سے ہے ﴿ وَلِيُخۡزِيَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کے کھجوروں کے باغات کاٹنے اور جلانے کا تمھیں اختیار دیا تاکہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا اور دنیا کے اندر ان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہو جس سے ان کی پوری بے بسی ظاہر ہو، جس کی وجہ سے وہ کھجوروں کے باغات بھی نہ بچا سکے، جو ان کی قوت اور طاقت کا سبب تھے۔(اَللِّینَةُ) صحیح اور راجح ترین احتمال کے مطابق ہر قسم کے کھجور کے درختوں کو شامل ہے۔یہ ہے بنونضیر کا حال، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کے اندر کیسے سزا دی؟
[6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی طرف بنونضیر کا مال و متاع منتقل ہوا ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ﴾ ’’او رجو مال اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلایا۔‘‘ یعنی اس بستی کے لوگوں میں سے، اس سے مراد بنونضیر کے لوگ ہیں ﴿ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ﴾ یعنی تم نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ لشکر اکٹھے کیے ہیں، یعنی تمھیں لشکر جمع کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑی اور نہ تمھارے مویشیوں ہی کو مشقت کا سامنا کرناپڑا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان (یہودیوں) کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ تمھارے سامنے درگزر اور عفو کی درخواست کرتے ہوئے حاضر ہوئے۔اس لیے فرمایا: ﴿ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اور اس کی قدرت کاملہ یہ ہے کہ کوئی بچنے والا اس سے بچ سکتا ہے نہ قوت والا اس کے مقابلے میں غالب آ سکتا ہے۔
[7] فقہاء کی اصطلاح میں فَے سے مراد وہ مال ہے جو حق کے ساتھ کفار سے کسی جنگ کے بغیر حاصل کیا جائے، مثلاً: ’’وہی مال جسے کفار مسلمانوں کے خوف کی بنا پر چھوڑکر فرار ہو گئے۔ اس کو فَے اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کفار کی طرف سے جو اس مال کے مستحق نہ تھے، مسلمانوں کی طرف لوٹا ہے جو اس پر بہت زیادہ حق رکھتے تھے۔مالِ فَے کا حکم : فَے کا حکم یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا : ﴿ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى﴾ ’’جو مال اللہ نے بستی والوں سے اپنے رسول کو دلوایا ہے۔‘‘ عمومی طور پر، خواہ رسول اللہ ﷺ کا زمانہ ہو یا آپ کے بعد آپ کی امت میں سے اس شخص کا زمانہ ہو جو امارت کے منصب پر فائز ہو ﴿ فَلِلّٰهِ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِـذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ اللہ کے لیے، اللہ کے رسول کے لیے، اور (رسول کے) رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اس آیت کریمہ کی نظیر ہے جو سورۂ انفال میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:﴿وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوۡلِ وَلِذِي الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ﴾(الانفال:8؍41) ’’اور جان رکھو! جو چیز تم غنیمت کے طور پر کفار سے حاصل کرو، اس میں سے پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور رسول کے لیے اور قرابت داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔‘‘ فَے کا مال پانچ اصناف میں تقسیم ہوتا ہے:(۱)پانچ حصوں میں سے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جو مسلمانوں کے مصالح عامہ میں صرف ہوتا ہے۔(۲) دوسرا حصہ، ذوی القربٰی (رسول اللہﷺ کے رشتہ داروں) کے لیے ہے اور ذوی القربٰی سے مراد بنوہاشم اور بنو مطلب ہیں، جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے مردوں اور عورتوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔ بنومطلب خمس وغیرہ کے پانچویں حصے میں بنوہاشم کے ساتھ شریک ہوں گے، بقیہ بنوعبد مناف شریک نہیں ہوں گے کیونکہ جب قریش نے بنوہاشم سے مقاطعت اور عداوت کا معاہدہ کیا تو بنو مطلب بنو ہاشم کے ساتھ شریک تھے اور دوسروں کے برعکس انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مدد کی۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بنو مطلب کے بارے میں فرمایا: ’’وہ جاہلیت اور اسلام میں کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوئے۔‘‘ (مسند أحمد: 81/4 و اصله في صحيح البخاري، فرض الخمس، باب و من الدليل على ان الخمس للإمام، حديث: 3140)(۳)تيسرا حصہ محتاج یتیموں کے لیے ہے۔ یتیم وہ ہے جس کے باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا ہو۔(۴)چوتھا حصہ مساکین کے لیے ہے۔(۵) اور پانچواں (آخری) حصہ مسافروں کے لیے ہے۔ اس سے مراد وہ غریب الوطن لوگ ہیں جو اپنے وطن سے کٹ کر رہ گئے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ حصے اس لیے مقرر فرمائے اور فَے کو صرف انھی معین لوگوں میں محصور کر دیا ﴿ كَيۡ لَا يَكُوۡنَ دُوۡلَةًۢ بَيۡنَ الۡاَغۡنِيَآءِ مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تاکہ (مال) تم میں سے دولت مند لوگوں کے ہاتھوں ہی میں گردش نہ کرتا رہے ۔‘‘ اور ان کے سوا عاجز اور بے بس لوگوں کو کچھ حاصل نہ ہو۔ اس میں اس قدر فساد ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی شریعت کی اتباع میں اتنی زیادہ مصلحتیں ہیں جو شمار سے باہر ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قاعدہ کلیہ اور ایک عام اصول مقرر فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡهُ١ۗ وَمَا نَهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ فَانۡتَهُوۡا ﴾ ’’رسول تمھیں جو دے، وہ لے لو اور جس سے وہ تمھیں روک دے، اس سے رک جاؤ۔‘‘ یہ آیت کریمہ دین کے اصول و فروع اور اس کے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے، نیز یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں، اس سے تمسک کرنا اور اس کی اتباع کرنا بندوں پر فرض ہے اور اس کی مخالفت کرنا جائز نہیں۔ نیز اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کے حکم پر رسول اللہ ﷺ کی نص، اللہ تعالیٰ کی نص کی مانند ہے اور اس کو ترک کرنے میں کسی کے لیے کوئی رخصت اور عذر نہیں اور کسی کے قول کو آپ کے قول پر مقدم رکھنا جائز نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے تقویٰ کا حکم دیا جس سے دنیا و آخرت میں قلب و روح معمور ہوتی ہے، تقویٰ ہی میں دائمی سعادت اور فوز عظیم ہے۔ تقویٰ کو ضائع کرنے میں ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی تقویٰ کو ترک کر کے، خواہشات نفس کی پیروی کو ترجیح دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دینے والا ہے۔
[9,8] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نےفَے کے مال کو جن لوگوں کے لیے مقرر فرمایا، اس کے موجب اور اس میں حکمت کا ذکر فرمایا، نیز بیان فرمایا کہ یہی لوگ اعانت کے مستحق ہیں اور اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے فَے میں حصہ مقرر کیا جائےاور یہ ان مہاجرین کے مابین ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ میں رغبت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی خاطر، اپنے محبوب و مالوف گھر بار، وطن، دوستوں اور احباب کو چھوڑ دیا۔ یہی لوگ سچے ہیں، جنھوں نے اپنے ایمان کے تقاضے کے مطابق عمل کیا، اعمال صالحہ اور مشقت آمیز عبادت کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی بخلاف ان لوگوں کے جنھوں نے ایمان کا دعویٰ کیا مگر ہجرت اور جہاد وغیرہ عبادات کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق نہ کی، نیز انصار یعنی اوس اور خزرج کے مابین ہیں جو اپنی خوشی، محبت اور اختیار سے ایمان لائے۔ جب عرب کے تمام شہر دارالحرب، شرک اور شر کا گڑھ تھے تب انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو پناہ دی، سرخ و سیاہ سے آپ کی حفاظت کی، دار ہجرت و ایمان میں اقامت کی یہاں تک کہ دار ہجرت ایک ایسا مرجع بن گیا جس کی طرف مومنین رخ کرتے تھے، جہاں مہاجرین پناہ لیتے اور اس کی چراگاہوں میں مسلمان سکونت اختیار کرتے۔ پس دین کی مدد کرنے والے انصار کے پاس پناہ لیتے رہے، یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا، اس نے طاقت پکڑ لی اور اس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا، حتیٰ کہ مسلمانوں نے علم و ایمان اور قرآن کے ذریعے سے دلوں کو اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے شہروں کو فتح کر لیا جن کے جملہ اوصاف جمیلہ یہ ہیں:﴿يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں، اس کے احباب سے محبت کرتے ہیں اور ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ﴿وَلَا يَجِدُوۡنَ فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّؔمَّاۤ اُوۡتُوۡا﴾’’اور و ہ اپنے دلوں میں اس (مال) کی کوئی حاجت نہیں پاتے جو ا ن (مہاجرین) کو دیا جائے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا ہے اور ان کو جن فضائل و مناقب سے مختص کیا جن کے وہ اہل ہیں، وہ ان پر حسد نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ ان کے سینے کی سلامتی، ان میں بغض، کینہ اور حسد کے عدم وجود پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مہاجرین، انصار سے افضل ہیں ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو مقدم رکھا ہے۔نیز آگاہ فرمایا کہ مہاجرین کو جو کچھ عطا کیا گیا انصار اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی حسد محسوس نہیں کرتے۔ یہ آیت کریمہ یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کو وہ فضائل عطا کیے جو انصار اور دیگر لوگوں کو عطا نہیں کیے کیونکہ انھوں نے نصرت دین اور ہجرت کو جمع کیا۔ ﴿وَيُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ﴾ ’’اور اپنی ذات پر (ان کو)ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود انھیں سخت ضرورت ہو۔‘‘ یعنی انصار کے اوصاف میں سے ایک وصف ایثار ہے، جس کی بنا پر وہ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان سے ممتاز ہیں، اور یہ کامل ترین جود و سخا ہے اور نفس کے محبوب اموال وغیرہ میں ایثار کرنا اور ان اموال کے خود حاجت مند بلکہ ضرورت مند اور بھوکے ہونے کے باوجود دوسرے پر خرچ کرنا، یہ وصف اخلاق زکیہ، اللہ تعالیٰ سے محبت، پھر شہوات نفس اور اس کی لذات پر اس کی محبت کو مقدم رکھنے ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔جملہ واقعات میں اس انصاری کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے جس کے سبب سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے جب اس نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے کھانے میں اپنے مہمان کو ترجیح دی اور تمام گھر والوں اور بچوں نے رات بھوکے بسر کی۔(اِیثَارٌ) ’’ترجیح دینا‘‘ (اَثْرَۃٌ ) ’’خود غرضی‘‘ کی ضد ہے۔ ایثار قابل تعریف وصف ہے اور خود غرضی مذموم ہے کیونکہ یہ بخل اور حرص کے خصائل کے زمرے میں آتی ہے ، اور جسے ایثار عطا کیا گیا اسے نفس کے بخل و حرص سے بچا لیا گیا۔ ﴿وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح یاب ہیں۔‘‘ اور نفس کے حرص سے بچنے میں ان تمام امور میں حرص سے بچنا شامل ہے جن کا حکم دیا گیا ہے، جب بندہ نفس کی حرص سے بچ گیا، تو اس کے نفس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام آسان لگتے ہیں وہ خوشی سے سر تسلیم خم کرتے ہوئے انشراح صدر کے ساتھ ان کی تعمیل کرتا ہے، اور نفس کے لیے ان تمام امور کو ترک کرنا سہل ہو جاتا ہے، جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، خواہ یہ نفس کے محبوب امور ہی کیوں نہ ہوں اور نفس ان کی طرف بلاتا اور ان کی طرف رغبت کیوں نہ دلاتا ہو۔ اس شخص کے نفس کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا آسان ہو جاتا ہے، اور اسی سے فوز و فلاح حاصل ہوتی ہے، برعکس اس شخص کے جو نفس کے بخل و حرص سے بچا ہوا نہیں بلکہ بھلائی کے بارے میں حرص کی بیماری میں مبتلا ہے، اور یہ حرص شر کی جڑ اور اس کی بنیاد ہے۔پس اہل ایمان کی یہ دو فضیلت والی، پاک اصناف ہیں اور وہ صحابہ کرام اور ائمہ اعلام ہیں جنھوں نے سابقیت کے اوصاف، فضائل اور مناقب کو جمع کر لیا ان کے بعد کسی نے ان سے سبقت نہیں کی۔ صحابہ کرام y نے بھلائی میں پہلے لوگوں کو جا لیا اور اس طرح وہ مومنوں کے سربراہ، مسلمانوں کے سردار اور اہل تقویٰ کے قائد بن گئے۔ ان کے بعد آنے والوں کے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں اور ان کے طریق کو راہ نما بنائیں۔ اس لیے بعد میں آنے والوں میں سے جو کوئی ان کو راہ نما بناتا ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences