As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الحاقة
Al-Haqqah
The Reality · Meccan · 52 ayahs
69:1–8Page 566
ٱلۡحَآقَّةُ ١
The Inevitable Reality -
مَا ٱلۡحَآقَّةُ ٢
What is the Inevitable Reality?
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا ٱلۡحَآقَّةُ ٣
And what can make you know what is the Inevitable Reality?
كَذَّبَتۡ ثَمُودُ وَعَادُۢ بِٱلۡقَارِعَةِ ٤
Thamūd and ʿAad denied the Striking Calamity [i.e., the Resurrection].
فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهۡلِكُواْ بِٱلطَّاغِيَةِ ٥
So as for Thamūd, they were destroyed by the overpowering [blast].
وَأَمَّا عَادٞ فَأُهۡلِكُواْ بِرِيحٖ صَرۡصَرٍ عَاتِيَةٖ ٦
And as for ʿAad, they were destroyed by a screaming,1 violent wind
سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٖ وَثَمَٰنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومٗاۖ فَتَرَى ٱلۡقَوۡمَ فِيهَا صَرۡعَىٰ كَأَنَّهُمۡ أَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٖ ٧
Which He [i.e., Allāh] imposed upon them for seven nights and eight days in succession, so you would see the people therein fallen as if they were hollow trunks of palm trees.
فَهَلۡ تَرَىٰ لَهُم مِّنۢ بَاقِيَةٖ ٨
Then do you see of them any remains?
ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔
69:9–12Page 567
وَجَآءَ فِرۡعَوۡنُ وَمَن قَبۡلَهُۥ وَٱلۡمُؤۡتَفِكَٰتُ بِٱلۡخَاطِئَةِ ٩
And there came Pharaoh and those before him and the overturned cities1 with sin.
فَعَصَوۡاْ رَسُولَ رَبِّهِمۡ فَأَخَذَهُمۡ أَخۡذَةٗ رَّابِيَةً ١٠
And they disobeyed the messenger of their Lord, so He seized them with a seizure exceeding [in severity].
إِنَّا لَمَّا طَغَا ٱلۡمَآءُ حَمَلۡنَٰكُمۡ فِي ٱلۡجَارِيَةِ ١١
Indeed, when the water overflowed, We carried you [i.e., your ancestors] in the sailing ship1
لِنَجۡعَلَهَا لَكُمۡ تَذۡكِرَةٗ وَتَعِيَهَآ أُذُنٞ وَٰعِيَةٞ ١٢
That We might make it for you a reminder and [that] a conscious ear would be conscious of it.
اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12)
[10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔
[12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔
69:13–18Page 567
فَإِذَا نُفِخَ فِي ٱلصُّورِ نَفۡخَةٞ وَٰحِدَةٞ ١٣
Then when the Horn is blown with one blast
وَحُمِلَتِ ٱلۡأَرۡضُ وَٱلۡجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةٗ وَٰحِدَةٗ ١٤
And the earth and the mountains are lifted and leveled with one blow [i.e., stroke] -
فَيَوۡمَئِذٖ وَقَعَتِ ٱلۡوَاقِعَةُ ١٥
Then on that Day, the Occurrence [i.e., Resurrection] will occur,
وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِيَ يَوۡمَئِذٖ وَاهِيَةٞ ١٦
And the heaven will split [open], for that Day it is infirm.1
وَٱلۡمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرۡجَآئِهَاۚ وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَئِذٖ ثَمَٰنِيَةٞ ١٧
And the angels are at its edges. And there will bear the Throne of your Lord above them, that Day, eight [of them].
يَوۡمَئِذٖ تُعۡرَضُونَ لَا تَخۡفَىٰ مِنكُمۡ خَافِيَةٞ ١٨
That Day, you will be exhibited [for judgement]; not hidden among you is anything concealed.1
پس جب پھونکا جائے گا صور میں پھونکنا ایک بار (13) اور اٹھائی جائے گی زمین اور پہاڑ، پس کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے وہ دونوں (مکمل) ریزہ ریزہ کر دیا جانا ایک ہی بار (14) پس اس دن واقع ہو گی واقع ہونے والی (قیامت)(15) اور پھٹ جائے گا آسمان پس وہ ہو گا اس دن کمزور (16) اور فرشتے (ہو ں گے) اس کےکناروں پر اور اٹھائیں گے عرش آپ کے رب کا اپنے اوپر اس دن آٹھ (فرشتے)(17) اس دن تم پیش کیے جاؤ گے (حساب کے لیے) نہیں چھپے گا تمھارے (رازوں) میں سے کوئی راز (18)
[18-13] جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا کیا، انھیں کیسا بدلہ دیا، دنیا کے اندر ہی ان پر عذاب بھیج دیا اور اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کو بچا لیا ۔یہ قیامت کے روز اخروی جزا اور اعمال کے کامل بدلے کا مقدمہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بہت ہولناک واقعات کا ذکر فرمایا ہے جو قیامت سے پہلے وقوع پذیر ہوں گے۔ ان میں سے اولین واقعہ یہ ہو گا کہ اسرافیل ﴿ فِي الصُّوۡرِ﴾ صور پھونکیں گے جب اجساد مکمل ہوجائیں گے﴿نَفۡخَةٌ وَّاحِدَةٌ﴾’’ایک دفعہ پھونک ماری جائے گی۔‘‘ پس روحیں نکل آئیں گی اور ہر روح اپنے جسد میں داخل ہو جائے گی، تب تمام لوگ رب کائنات کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔﴿وَّحُمِلَتِ الۡاَرۡضُ وَالۡؔجِبَالُ فَدُكَّـتَا دَؔكَّةً وَّاحِدَةً﴾یعنی پہاڑ ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، وہ نیست و نابود ہو کر رزق خاک ہو جائیں گے ، یعنی ان کو ڈھا کر زمین میں برابر کر دیا جائے گا، چنانچہ تمام زمین ہموار میدان بن جائے گی، آپ اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں دیکھیں گے۔ یہ تو زمین اور اس پر رہنے والوں کے ساتھ ہو گا۔ رہا وہ معاملہ جو آسمان کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ یہ ہو گا کہ وہ متحرک اور متموج ہو کر پھٹ جائے گا، اس کا رنگ متغیر ہو جائے گا اور آسمان اپنی صلابت اور عظیم قوت کے بعد کمزور ہو جائیں گے، یہ سب کچھ ایک عظیم امر کی بنا پر جو ان کو ہلا کر رکھ دے گا اور بہت بڑے تکلیف دہ اور ہولناک معاملے کے سبب سے ہو گا جو ان کو کمزور کر دے گا۔﴿وَّالۡمَلَكُ﴾ اور مکرم فرشتے ﴿عَلٰۤى اَرۡجَآىِٕهَا﴾ آسمان کی تمام جوانب اور کناروں پر اپنے رب کے سامنے سرافگندہ اور اس کی عظمت کے سامنے فروتن ہوں گے ﴿وَيَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّكَ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ اور تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے جو انتہائی طاقت ور ہوں گے (یہ اس وقت ہو گا) جب رب تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان، اپنے عدل و انصاف اور اپنے فضل و کرم کے ساتھ، فیصلے کرنے کے لیے آئے گا، اس لیے فرمایا:﴿يَوۡمَىِٕذٍ تُعۡرَضُوۡنَ﴾ اس روز تم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیے جاؤ گے۔ ﴿لَا تَخۡفٰى مِنۡكُمۡ خَافِيَةٌ﴾ تمھارے اجساد اور ذوات چھپ سکیں گے نہ تمھارے اعمال اور اوصاف چھپ سکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ غائب اور موجود سب کا علم رکھتا ہے۔ تمام بندے ننگے پاؤ ں، ننگے جسم اور غیر مختون حالت میں، ایک ہموار میدان میں جمع کیے جائیں گے، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ ان سب تک پہنچ سکے گی، اس وقت اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی جزا دے گا اس لیے جزا کی کیفیت کا ذکر کیا۔
69:19–24Page 567
فَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَيَقُولُ هَآؤُمُ ٱقۡرَءُواْ كِتَٰبِيَهۡ ١٩
So as for he who is given his record in his right hand, he will say, "Here, read my record!
إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَٰقٍ حِسَابِيَهۡ ٢٠
Indeed, I was certain that I would be meeting my account."
فَهُوَ فِي عِيشَةٖ رَّاضِيَةٖ ٢١
So he will be in a pleasant life -
فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٖ ٢٢
In an elevated garden,
قُطُوفُهَا دَانِيَةٞ ٢٣
Its [fruit] to be picked hanging near.
كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَآ أَسۡلَفۡتُمۡ فِي ٱلۡأَيَّامِ ٱلۡخَالِيَةِ ٢٤
[They will be told], "Eat and drink in satisfaction for what you put forth1 in the days past."
پس لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، لو پڑھو تم میرا نامۂ اعمال(19) بلاشبہ مجھے یقین تھا کہ بے شک میں ملنے والا ہوں اپنے حساب سے (20) پس وہ ہو گا پسندیدہ زندگی میں (21)(یعنی )بہشت بریں میں (22) اس کے پھل قریب ہوں گے (23)(کہا جائے گا:) کھاؤ اور پیو خوش گوار، بدلے ان (نیک اعمال) کے جو آگے بھیجے تم نے ایام گزشتہ میں (24)
[20,19] یہی لوگ اہل سعادت ہوں گے، ان کو ان کے اعمال نامے، جن میں ان کے نیک اعمال درج ہوں گے، ان کے امتیاز، ان کی شان اور قدر بلند کے لیے، ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ اس وقت ان میں سے کوئی فرحت و سرور، اور اس خواہش کے ساتھ کہ مخلوق پر ظاہر ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کس قدر اکرام و تکریم سے سرفراز کیا ہے تو پکار اٹھے گا:﴿ هَآؤُمُ اقۡرَءُوۡا كِتٰبِيَهۡ﴾ یعنی یہ لو میری کتاب اور اسے پڑھو، یہ کتاب جنتوں، اکرام و تکریم، گناہوں کی مغفرت اور عیوب کو ڈھانپنے کی بشارت دیتی ہے اور جس چیز نے مجھے اس مقام پر پہنچایا وہ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا اور ایسے اعمال کے ذریعے سے قیامت کے دن کے لیے تیاری کی توفیق دی جو امکان اور استطاعت میں ہیں، اسی لیے فرمایا:﴿ اِنِّيۡ ظَنَنۡتُ اَنِّيۡ مُلٰقٍ حِسَابِيَهۡ﴾ ’’ مجھے یقین تھا کہ مجھے میرا حساب ضرور ملے گا۔‘‘ یہاں (ظَنّ) یقین کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔
[24-21]﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ ’’پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‘‘ یعنی جو ان تمام چیزوں پر مشتمل ہو گی جن کی نفس خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی، ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اس زندگی سے راضی ہوں گے اور اس کے بدلے کسی اور چیز کو منتخب نہیں کریں گے۔ ﴿ فِيۡ جَنَّةٍ عَالِيَةٍ﴾ بلند رہائش گاہوں اور بلند محلوں والی جنت میں ہوں گے﴿ قُطُوۡفُهَا دَانِيَةٌ﴾ اس کے پھل اور محتلف انواع کے میوے بہت قریب ہوں گے۔ اہل جنت کے لیے ان کا حاصل کرنا بہت آسان ہو گا۔ اہل جنت، کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہوئے، ہر حالت میں ان کو حاصل کر سکیں گے۔ اکرام و تکریم کے طور پر ان سے کہا جائے گا:﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ ہر قسم کا لذیذ کھانا اور مزیدار مشروب کھاؤ اور پیو۔ ﴿ هَنِيۡٓــًٔۢا﴾ کسی تکدر اور ناخوشگواری کے بغیر کامل طریقے سے کھاؤ اور پیو۔ یہ جزا تمھیں اس سبب سے حاصل ہوئی ہے ﴿ بِمَاۤ اَسۡلَفۡتُمۡ فِي الۡاَيَّامِ الۡخَالِيَةِ﴾ جو تم نے اعمال صالحہ، نماز، روزہ زکاۃ، حج مخلوق کے ساتھ حسن سلوک، اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس کی طرف انابت اور برے اعمال ترک کیے، پس اعمال کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونے کا سبب، اس کی نعمتوں کا مادہ اور اس کی سعادت کی بنیاد بنایا ہے۔
69:25–37Page 567
وَأَمَّا مَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِشِمَالِهِۦ فَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُوتَ كِتَٰبِيَهۡ ٢٥
But as for he who is given his record in his left hand, he will say, "Oh, I wish I had not been given my record
وَلَمۡ أَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ ٢٦
And had not known what is my account.
يَٰلَيۡتَهَا كَانَتِ ٱلۡقَاضِيَةَ ٢٧
I wish it [i.e., my death] had been the decisive one.1
مَآ أَغۡنَىٰ عَنِّي مَالِيَهۡۜ ٢٨
My wealth has not availed me.
هَلَكَ عَنِّي سُلۡطَٰنِيَهۡ ٢٩
Gone from me is my authority."1
خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ٣٠
[Allāh will say], "Seize him and shackle him.
ثُمَّ ٱلۡجَحِيمَ صَلُّوهُ ٣١
Then into Hellfire drive him.
ثُمَّ فِي سِلۡسِلَةٖ ذَرۡعُهَا سَبۡعُونَ ذِرَاعٗا فَٱسۡلُكُوهُ ٣٢
Then into a chain whose length is seventy cubits insert him."
إِنَّهُۥ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ ٱلۡعَظِيمِ ٣٣
Indeed, he did not used to believe in Allāh, the Most Great,
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلۡمِسۡكِينِ ٣٤
Nor did he encourage the feeding of the poor.
فَلَيۡسَ لَهُ ٱلۡيَوۡمَ هَٰهُنَا حَمِيمٞ ٣٥
So there is not for him here this Day any devoted friend
وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنۡ غِسۡلِينٖ ٣٦
Nor any food except from the discharge of wounds;
لَّا يَأۡكُلُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡخَٰطِـُٔونَ ٣٧
None will eat it except the sinners.
اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)
[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences