As-Sa'diAdh-Dhariyat · 51:1–37

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

الذاريات

Adh-Dhariyat

The Winnowing Winds · Meccan · 60 ayahs

51:1–6Page 520

وَٱلذَّٰرِيَٰتِ ذَرۡوٗا ١

By the [winds] scattering [dust], dispersing [it]

فَٱلۡحَٰمِلَٰتِ وِقۡرٗا ٢

And the [clouds] carrying a load [of water]

فَٱلۡجَٰرِيَٰتِ يُسۡرٗا ٣

And the ships sailing with ease

فَٱلۡمُقَسِّمَٰتِ أَمۡرًا ٤

And the [angels] apportioning [each] matter,

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٞ ٥

Indeed, what you are promised is true.

وَإِنَّ ٱلدِّينَ لَوَٰقِعٞ ٦

And indeed, the recompense is to occur.

قسم ہے ہواؤ ں کی جو (گرد) بکھیرنے والی ہیں اڑا کر(1) پھر بادلوں کی جو اٹھانے والے ہیں بوجھ (پانی کا)(2) پھر کشتیوں کی جو چلنے والی ہیں آسانی سے(3) پھر( قسم ہے) ان فرشتوں کی جو تقسیم کرنے والے ہیں کام کو(4) بلاشبہ جو وعدہ دیے جاتے ہو تم (وہ) البتہ سچا ہے(5) اور بلاشبہ جزا ا لبتہ واقع ہونے والی ہے(6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[6-1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جو اپنے قول میں سچا ہے، ان عظیم مخلوقات کی قسم ہے، جن کے اندر اس نے بہت مصالح اور منافع مقرر کر رکھے ہیں جن کو اس امر کی دلیل بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے، نیز یہ کہ قیامت کا دن، جزا و سزا اور اعمال کے محاسبے کا دن ہے، جو لا محالہ آنے والا ہے، جسے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پس جب ایک عظیم سچی ہستی اس کی خبر دے، اس پر قسم کھائے اور اس پر دلائل و براہین قائم کرے تو جھٹلانے والے اسے جھٹلا سکتے ہیں نہ عمل کرنے والے اس سے روگردانی کر سکتے ہیں۔ ﴿ وَ الذّٰرِيٰتِ ﴾یہ وہ ہوائیں ہیں جو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں ﴿ ذَرۡوًا﴾اپنی نرمی، اپنے لطف، اپنی قوت اور زور سے چلتی ہے۔﴿ فَالۡحٰؔمِلٰتِ وِقۡرًا﴾ اس سے مراد بادل ہے جو بہت زیادہ پانی لیے ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور زمین کو فائدہ عطا کرتا ہے۔ ﴿فَالۡجٰرِيٰؔتِ يُسۡرًا﴾ وہ ستارے جو نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، جن سے آسمان مزین ہوتے ہیں، جن کی مدد سے بحر و بر کی تاریکیوں میں راہ تلاش کی جاتی ہے اور ان کے ذریعے سے فائدے اٹھائے جاتے ہیں۔ ﴿ فَالۡمُقَسِّمٰتِ۠ اَمۡرًا﴾ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے اوامر و تدبیر کو نافذ کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کے امور میں سے کسی امر کی تدبیر پر مقرر کر رکھا ہے اس لیے جو حدود مقرر کر دی گئی ہیں، وہ ان سے تجاوز کر سکتا ہے نہ ان میں کچھ کمی کر سکتا ہے۔

51:7–9Page 521

وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلۡحُبُكِ ٧

By the heaven containing pathways,1

إِنَّكُمۡ لَفِي قَوۡلٖ مُّخۡتَلِفٖ ٨

Indeed, you are in differing speech.1

يُؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ أُفِكَ ٩

Deluded away from it [i.e., the Qur’ān] is he who is deluded.

قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے(7) بلاشبہ تم (باہم) البتہ مختلف بات میں (پڑے) ہو (8) پھیرا جاتا ہے اس (ایمان) سے جو شخص پھیرا گیا (بھلائی سے)(9)

[7] خوبصورت راستوں والے آسمان کی قسم! یہ راستے ریگزاروں کے راستوں اور چشموں کے پانی سے، جب ان کو نسیمِ سحر نے چھیڑا ہو، مشابہت رکھتے ہیں۔

[8]﴿ اِنَّـكُمۡ﴾ محمد کریمﷺ کو جھٹلانے والو! تم ﴿ لَفِيۡ قَوۡلٍ مُّخۡتَلِفٍ﴾ ’’مختلف قول میں ہو۔‘‘ یعنی تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ یہ جادوگر ہے، کوئی کہتا ہے کہ یہ کاہن ہے اور کوئی کہتا ہے کہ یہ مجنون ہے اور دیگر مختلف قسم کے اقوال جو ان کی حیرت اور شک نیز اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ ان کا موقف باطل ہے۔

[9]﴿ يُّؤۡفَكُ عَنۡهُ مَنۡ اُفِكَ﴾ پس اس سے وہی پھرتا ہے جو ایمان سے پھرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یقینی دلائل و براہین سے منہ موڑتا ہے۔ ان کے قول میں اختلاف اس کے فاسد اور باطل ہونے پر دلالت کرتا ہے جس طرح حق، جسے رسول مصطفی محمدﷺ لے کر آئے ہیں، متفق علیہ ہے، اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے، اس میں کوئی تناقض ہے نہ کسی قسم کا اختلاف۔ اور یہ چیز اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء:4؍82) ’’اور اگر یہ قرآن غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے۔‘‘

51:10–14Page 521

قُتِلَ ٱلۡخَرَّٰصُونَ ١٠

Destroyed are the misinformers1

ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي غَمۡرَةٖ سَاهُونَ ١١

Who are within a flood [of confusion] and heedless.

يَسۡـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوۡمُ ٱلدِّينِ ١٢

They ask, "When is the Day of Recompense?"

يَوۡمَ هُمۡ عَلَى ٱلنَّارِ يُفۡتَنُونَ ١٣

[It is] the Day they will be tormented over the Fire

ذُوقُواْ فِتۡنَتَكُمۡ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَسۡتَعۡجِلُونَ ١٤

[And will be told], "Taste your torment. This is that for which you were impatient."

مارے گئے اٹکل پچو کرنے والے (10) وہ لوگ کہ وہ غفلت میں بھولے پڑے ہیں (11) وہ پوچھتے ہیں کب ہو گا دن جزا کا ؟ (12) جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے (13)(کہا جائے گا:) چکھو تم عذاب اپنا ، یہ وہ (عذاب) ہے کہ تھے تم اسے جلدی طلب کرتے (14)

[10] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔

[11]﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ غَمۡرَةٍ﴾ ’’جو بے خبری میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ﴿ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اور بھولے ہوئے ہیں۔‘‘

[12]﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَ﴾ وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں:ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا؟ انھوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔

[14،13] ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے میں مت پوچھ ﴿ يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے۔‘‘ یعنی جس دن انھیں ان کے خبث باطن اور خبث ظاہر کے سبب سے ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَكُمۡ﴾ آگ اور عذاب کا مزا چکھو یہ اس فتنے کے اثرات ہیں جس میں وہ مبتلا ہوئے، جس نے انھیں کفر اور گمراہی میں دھکیل دیا تھا۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یہ عذاب جس میں تم ڈال دیے گئے ہو ﴿ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠﴾ ’’وہی ہے جس کے لیے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ پس اب مختلف انواع کی عقوبتوں، سزاؤ ں، زنجیروں، بیڑیوں، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا مزہ چکھو۔

51:15–19Page 521

إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّٰتٖ وَعُيُونٍ ١٥

Indeed, the righteous will be among gardens and springs,

ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَبۡلَ ذَٰلِكَ مُحۡسِنِينَ ١٦

Accepting what their Lord has given them. Indeed, they were before that doers of good.

كَانُواْ قَلِيلٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُونَ ١٧

They used to sleep but little of the night,1

وَبِٱلۡأَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ ١٨

And in the hours before dawn they would ask forgiveness,

وَفِيٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ حَقّٞ لِّلسَّآئِلِ وَٱلۡمَحۡرُومِ ١٩

And from their properties was [given] the right of the [needy] petitioner and the deprived.

بلاشبہ متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے (15) لینے والے ہوں گے اس کو جو دے گا، انھیں ان کا رب، بلاشبہ وہ تھے پہلے اس سے نیکو کار (16) تھے وہ بہت ہی تھوڑا رات کو سوتے (17) اور سحری کے وقت وہ مغفرت طلب کرتے (18) اور ان کے مالوں میں حق (ہوتا) تھا واسطے سائل اور محروم کے(19)

[15] اللہ تبارک و تعالیٰ متقین کے ثواب اور ان کے ان اعمال کا ذکر فرماتا ہے جن کے باعث انھیں یہ ثواب حاصل ہوا۔ ﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا شعار تقویٰ اور ان کا اوڑھنا بچھونا اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ﴾ ان باغات میں ہوں گے جو مختلف انواع کے درختوں اور میووں پر مشتمل ہو گی، جن کی نظیر اس دنیا میں ملتی ہے اور ایسے بھی ہوں گے جن کی نظیر اس دنیا میں نہیں ملتی۔ ان جیسا میوہ آنکھوں نے کبھی دیکھا ہو گا نہ کانوں نے سنا ہوگا اور نہ بندوں کے تصور میں کبھی آیا ہو گا۔ ﴿ وَّعُيُوۡنٍ﴾ وہ بہتے ہوئے چشموں میں ہوں گے، ان چشموں سے ان باغات کو سیراب کیا جائے گا، اور اللہ کے بندے ان چشموں سے پانی پئیں گے اور ان سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکالیں گے۔

[16]﴿ اٰخِذِيۡنَ مَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ ’’ان کا رب انھیں جو کچھ دے گا وہ اسے لے لیں گے۔‘‘ اس میں اس معنیٰ کا احتمال ہے کہ اہل جنت کا آقا، ان کی نعمتوں کے بارے میں تمام آرزوئیں پوری کرے گا اور وہ اپنے آقا سے راضی ہو کر یہ نعمتیں قبول کریں گے، اس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ان کے نفوس خوش ہوں گے، وہ ان کو بدلنا چاہیں گے نہ اس سے منتقل ہونے کی خواہش کریں گے۔ (جنت میں) ہر شخص کو اتنی نعمتیں عطا ہوں گی کہ وہ اس سے زیادہ طلب نہیں کرے گا۔اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ متقین کا یہ وصف دنیا کے اندر ہو ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا کے اندر جو اوامر و نواہی ان کو عطا کرتا ہے وہ نہایت خوش دلی، انشراح صدر کے ساتھ، اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور بہترین طریقے سے ان پر عمل کرتے ہوئے انھیں قبول کرتے ہیں اور جن امور سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا ہے وہ اس سے پوری طرح رک جاتے ہیں۔ پس جن کو اللہ تعالیٰ نے اوامر و نواہی عطا کیے ہیں، یہ سب سے بڑا عطیہ ہے اور اس کا حق یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے، اطاعت کے جذبے کے ساتھ قبول کیا جائے۔ پہلا معنی سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (آگے چل کر) ان الفاظ میں دنیاکے اندر ان کے وصف اور ان کے اعمال کا ذکر کیا ہے۔ ﴿ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی اس وقت سے پہلے، جب انھیں جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی ﴿ مُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’وہ نیکوکار تھے۔‘‘یہ ان کی اپنے رب کی عبادت میں ’’احسان‘‘ کو شامل ہے یعنی وہ اپنے رب کی عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر وہ اسے دیکھنے کی کیفیت پیدا نہ کر سکتے تو یہ کیفیت لیے ہوئے ہوتے تھے کہ ان کا رب انھیں دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر بھی احسان کو شامل ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اپنے مال، علم، جاہ، خیر خواہی، امر بالمعروف، نہی عن المنکر ، نیکی اور بھلائی کے مختلف طریقوں سے فائدہ پہنچانا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ حتیٰ کہ اس میں نرم کلام ، غلاموں، بہائم، مملوکہ اور غیر مملوکہ کے ساتھ حسن سلوک بھی داخل ہے۔

[17] خالق کی عبادت میں احسان کی بہترین نوع، تہجد کی نماز ہے جو اخلاص اور قلب و لسان کی موافقت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿ كَانُوۡا﴾ یعنی نیکوکار ﴿ قَلِيۡلًا مِّنَ الَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُوۡنَ﴾ ان کی راتوں کی نیند بہت کم ہوتی تھی۔ رات کے اکثر حصے میں نماز قراء ت، دعا، اور آہ و زاری کے ذریعے سے اپنے رب کے حضور جھکے رہتے تھے۔

[18]﴿ وَبِالۡاَسۡحَارِ﴾ طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے ﴿ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠﴾ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ وہ اپنی نماز کو طلوع سحر کے وقت تک لمبا کرتے ہیں، پھر قیام لیل کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ سحر کے وقت استغفار میں ایسی فضیلت اور خاصیت ہے جو کسی اور وقت استغفار کرنے میں نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان و اطاعت کے وصف میں فرمایا:﴿ وَالۡمُسۡتَغۡفِرِيۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ﴾(آل عمران:3؍17) ’’اوقات ِسحر میں استغفار کرنے والے۔‘‘

[19]﴿ وَفِيۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ﴾ ان کے اموال میں حق واجب اور حق مستحب ہے ﴿ لِّلسَّآىِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ﴾ یعنی ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال کرتے ہیں اور ان محتاجوں کے لیے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتے۔

51:20–23Page 521

وَفِي ٱلۡأَرۡضِ ءَايَٰتٞ لِّلۡمُوقِنِينَ ٢٠

And on the earth are signs for the certain [in faith]

وَفِيٓ أَنفُسِكُمۡۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ ٢١

And in yourselves. Then will you not see?

وَفِي ٱلسَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ وَمَا تُوعَدُونَ ٢٢

And in the heaven is your provision and whatever you are promised.

فَوَرَبِّ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ إِنَّهُۥ لَحَقّٞ مِّثۡلَ مَآ أَنَّكُمۡ تَنطِقُونَ ٢٣

Then by the Lord of the heaven and earth, indeed, it is truth - just as [sure as] it is that you are speaking.

اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے (20) اور (خود) تمھارے نفسوں میں بھی، کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (21) اور آسمان میں ہے تمھارا رزق اور وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو(22) پس قسم ہے پروردگار کی آسمان اور زمین کے! بلاشبہ وہ (مذکورہ باتیں) البتہ حق ہیں مثل اس کے جو تم بولتے ہو (23)

[20] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ اٰيٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِيۡنَ﴾ ’’اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے ، مثلاً: پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔

[21] اور اسی طرح خود بندے کی ذات میں بے شمار عبرتیں ، حکمتیں اور رحمتیں پنہاں ہیں جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک اور بے نیاز ہے، اس نے مخلوق کو بے کار اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔

[22]﴿ وَفِي السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ﴾ ’’اور آسمانوں میں تمھارا رزق ہے۔‘‘ یعنی تمھارے رزق کا مادہ ، مثلاً: بارش، رزق دینی اور رزق دنیاوی کی مختلف مقدار ﴿ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ﴾ یعنی دنیا و آخرت میں جزا و سزا کا جو وعدہ کیا گیا ہے، یہ جزا و سزا دیگر تقدیروں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔

[23] جب اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی کو بیان کر کے ان پر اس طرح متنبہ فرمایا جس سے عقل مند اور ذہین شخص تنبہ حاصل کرتا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ اس کا وعدہ اور اس کی جزا و سزا حق ہیں۔ تب ظاہر اور واضح ترین چیز سے اس کو تشبیہ دی اور وہ نطق ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّـكُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ﴾ ’’پس آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم! یہ اسی طرح حق ہے جس طرح تمھیں اپنے نطق لسان میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمھیں قیامت اور جزا و سزا میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔

51:24–37Page 521

هَلۡ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ضَيۡفِ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ ٢٤

Has there reached you the story of the honored guests of Abraham?1 -

إِذۡ دَخَلُواْ عَلَيۡهِ فَقَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ ٢٥

When they entered upon him and said, "[We greet you with] peace." He answered, "[And upon you] peace; [you are] a people unknown."

فَرَاغَ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ فَجَآءَ بِعِجۡلٖ سَمِينٖ ٢٦

Then he went to his family and came with a fat [roasted] calf.

فَقَرَّبَهُۥٓ إِلَيۡهِمۡ قَالَ أَلَا تَأۡكُلُونَ ٢٧

And placed it near them; he said, "Will you not eat?"

فَأَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيفَةٗۖ قَالُواْ لَا تَخَفۡۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٖ ٢٨

And he felt from them apprehension.1 They said, "Fear not," and gave him good tidings of a learned boy.

فَأَقۡبَلَتِ ٱمۡرَأَتُهُۥ فِي صَرَّةٖ فَصَكَّتۡ وَجۡهَهَا وَقَالَتۡ عَجُوزٌ عَقِيمٞ ٢٩

And his wife approached with a cry [of alarm] and struck her face and said, "[I am] a barren old woman!"

قَالُواْ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡعَلِيمُ ٣٠

They said, "Thus has said your Lord; indeed, He is the Wise, the Knowing."

۞ قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ أَيُّهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ ٣١

[Abraham] said, "Then what is your business [here], O messengers?"

قَالُوٓاْ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمٖ مُّجۡرِمِينَ ٣٢

They said, "Indeed, we have been sent to a people of criminals1

لِنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةٗ مِّن طِينٖ ٣٣

To send down upon them stones of clay,

مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِينَ ٣٤

Marked in the presence of your Lord for the transgressors."

فَأَخۡرَجۡنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٣٥

So We brought out whoever was in them [i.e., the cities] of the believers.

فَمَا وَجَدۡنَا فِيهَا غَيۡرَ بَيۡتٖ مِّنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ٣٦

And We found not within them other than a [single] house of Muslims.1

وَتَرَكۡنَا فِيهَآ ءَايَةٗ لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ ٣٧

And We left therein a sign for those who fear the painful punishment.

کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر ابراہیم کے مہمانوں کی جو معزز تھے؟ (24) جب وہ داخل ہوئے اس پر تو انھوں نے کہا سلام (کرتے ہیں ہم)، ابراہیم نے کہا، سلام ( تم پر) ، (یہ) لوگ تو اجنبی ہیں(25) پھر چپکے سے گیا اپنے اہل کی طرف، پس لے آیا(بھون کر)ایک بچھڑا موٹا تازہ (26) پھر قریب کیا اسے ان کی طرف، کہا: کیا نہیں کھاتے تم؟ (27) پس اس نے (دل میں) محسوس کیا ان سے خوف انھوں نے کہا: نہ ڈر تو، اور انھوں نے بشارت دی اس کوایک لڑکے بڑے علم والے کی (28) پس سامنے آئی عورت ابراہیم کی حیرت میں پس (تعجب سے) ہاتھ مارا اپنے منہ پر اور کہا: (میں) بڑھیا ہوں بانجھ (اولاد کیسے؟)(29) انھوں نے کہا: اسی طرح کہا ہے تیرے رب نے، بلاشبہ وہی خوب حکمت والا خوب علم والا ہے (30) اُس (ابراہیم) نے کہا پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے(فرشتو)؟ (31) انھوں نے کہا، بلاشبہ بھیجے گئے ہیں ہم ایک مجرم قوم کی طرف (32) تاکہ ہم بھیجیں (برسائیں) ان پر پتھر مٹی کے (33) نشان زدہ آپ کے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے (34) پس نکال لیا ہم نے اس شخص کو کہ تھا وہ اس (بستی) میں مومنوں میں سے (35) سو نہ پایا ہم نے اس میں سوائے ایک گھر کے مسلمانوں میں سے (36) اور چھوڑی ہم نے اس میں ایک نشانی ان لوگوں کے لیے جو خوف کھاتے ہیں عذاب درد ناک سے (37)

[24] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿ هَلۡ اَتٰىكَ﴾ کیا آپ کے پاس نہیں پہنچی ﴿ حَدِيۡثُ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ﴾ ’’ابراہیم کے معزز مہمانوں کی بات۔‘‘ اور ان کی عجیب و غریب خبر، یہ ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوطu کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا تھا اور انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہو کر جائیں ، چنانچہ وہ مہمانوں کی شکل میں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

[25]﴿ اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ١ؕ قَالَ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا تو انھوں نے کہا:‘‘ حضرت ابراہیمu نے ان کو سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا: ﴿ سَلٰمٌ﴾ یعنی تم پر بھی سلام ہو ﴿ قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾ تم اجنبی لوگ ہو، میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنا تعارف کراؤ ،آپ کو ان کا تعارف اس کے بعد ہی ہوا۔

[26] اسی لیے وہ چپکے چپکے جلدی سے گھر گئے تاکہ ان کی خدمت میں ضیافت کا سامان پیش کریں ﴿ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِيۡنٍ﴾ اور خوب موٹا (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے۔

[27]﴿ فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيۡهِمۡ﴾ اور ان کے سامنے کھانے کے لیے پیش کیا ﴿ قَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ حضرت ابراہیم نے کہا تم کیوں نہیں کھاتے؟

[28]﴿ فَاَوۡجَسَ مِنۡهُمۡ خِيۡفَةً﴾جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ ﴿ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ﴾ ’’انھوں نے کہا: خوف نہ کیجیے۔‘‘ وہ جس مقصد کے ساتھ آئے تھے انھوں نے حضرت ابراہیم کو اس سے آگاہ کیا ﴿ وَبَشَّرُوۡهُ بِغُلٰمٍ عَلِيۡمٍ﴾ ’’اور انھیں ایک دانش مند لڑکے کی خوش خبری دی۔‘‘ اس سے مراد اسحاقu ہیں۔

[29] پس حضرت ابراہیم کی بیوی (حضرت سارہ) نے یہ خوشخبری سنی ﴿ فَاَقۡبَلَتِ﴾ تو وہ فرحاں و شاداں (ان کی طرف) متوجہ ہوئیں ﴿ فِيۡ صَرَّةٍ﴾ چیخ مار کر ﴿فَصَكَّؔتۡ وَجۡهَهَا﴾ ’’اور انھوں نے (تعجب سے) اپنا چہرے پرہاتھ مارا۔‘‘ یہ اس نوع کی کیفیت ہے جو خوشی اور مسرت کے ایسے اقوال و افعال کے وقت طاری ہو جایا کرتی ہے جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہوا کرتے ہیں ﴿ وَقَالَتۡ عَجُوۡزٌ عَقِيۡمٌ﴾ اور کہا مجھے بیٹا کیوں کر ہو سکتا ہے، میں تو ایک بڑھیا ہوں اور ایسی عمر کو پہنچ گئی ہوں جس عمر میں عورتیں بچوں کو جنم نہیں دیتیں، مزید برآں میں تو بانجھ بھی ہوں اور میرا رحم بچوں کو جنم دینے کے قابل نہیں۔ پس یہاں دو اسباب ہیں، دونوں ہی بچے کی ولادت سے مانع ہیں۔ سورۂ ہود میں حضرت سارہ [ نے ایک تیسرے مانع کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَّ هٰؔذَا بَعۡلِيۡ شَيۡخًا١ؕ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾(ہود:11؍72) ’’میرا یہ شوہر بھی بہت بوڑھا ہے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘

[30]﴿ قَالُوۡا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ﴾ ’’فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔

[31]﴿ قَالَ﴾ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔

[32]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّـاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ﴾’’انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔‘‘ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔

[33، 34]﴿لِـنُرۡسِلَ عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ طِيۡنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنۡدَ رَبِّكَ لِلۡمُسۡرِفِيۡنَ۠﴾ ’’تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔‘‘ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم u، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے ، چنانچہ ان سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ﴾(ہود:11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔‘‘

[35، 36]﴿ فَاَخۡرَجۡنَا مَنۡ كَانَ فِيۡهَا مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۚ۰۰ فَمَا وَجَدۡنَا فِيۡهَا غَيۡرَ بَيۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے انھیں نکال لیا۔ اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔‘‘ یہ حضرت لوط u کے گھرانے کے لوگ تھے، سوائے ان کی بیوی کے، وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل تھی۔

[37]﴿وَتَرَؔكۡنَا فِيۡهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ الۡعَذَابَ الۡاَلِيۡمَ﴾ ’’اور ہم نے ان کے بارے میں ان لوگوں کے لیے نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔‘‘ اس سے وہ عبرت حاصل کرتے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والاہے اور اس کے رسول سچے ہیں جن کی تصدیق کی گئی ہے۔

اس قصے سے حاصل شدہ بعض فوائد(۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنے بندوں کے سامنے نیک اور بد لوگوں کے واقعات بیان کرنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ بندے ان سے عبرت حاصل کریں اور تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان کے احوال نے انھیں کہا ں پہنچا دیا۔ (۲) اس قصے میں ابراہیم خلیل اللہu کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu سے قصے کی ابتدا کی جو اس قصے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی خصوصی توجہ کا اظہار ہوتا ہے۔ (۳)یہ قصہ ضیافت کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمانوں کی خاطر تواضع کرنا ابراہیمu کی عادت تھی، اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیﷺ اور آپ کی امت کو حکم دیا ہے کہ وہ ملت ابراہیم کی اتباع کریں اور اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس قصے کو مدح و ثنا کے سیاق میں بیان کیا ہے۔(۴)اس واقعہ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قول و فعل اور اکرام و تکریم کے مختلف طریقوں سے مہمان کی عزت و تکریم کی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا یہ وصف بیان فرمایا کہ وہ قابل تکریم ہیں ،یعنی حضرت ابراہیم نے ان کی عزت و تکریم کی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیمu نے قول و فعل سے کس طرح ان کی مہمان نوازی کی، نیز یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مہمان اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اکرام و تکریم سے بہرہ مند تھے۔(۵) اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابراہیم u کا گھر، رات کے وقت آنے والے مسافروں اور مہمانوں کا ٹھکانا تھا۔ کیونکہ وہ اجازت طلب کیے بغیر حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے اور سلام میں پہل کرنے میں ادب کا طریقہ استعمال کیا اور حضرت ابراہیمu نے بھی کامل ترین سلام کے ساتھ ان کو جواب دیا کیونکہ جملہ اسمیہ ثبات اور استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ (۶)یہ قصہ دلالت کرتا ہے کہ انسان کے پاس جو کوئی آتا ہے یا اسے ملتا ہے، تو اس سے تعارف حاصل کرنا مشروع ہے کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔(۷) یہ واقعہ بات چیت میں حضرت ابراہیم uکے آداب اور آپ کے لطف و کرم پر دلالت کرتا ہے۔ آپ نے (اپنے مہمانوں سے ) فرمایا تھا : ﴿قَوۡمٌ مُّنۡؔكَرُوۡنَ﴾(الذاریات: 25/51) ’’تم اجنبی لوگ ہو۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا کہ (انکرتکم )’’میں تمھیں نہیں پہچانتا‘‘ اور دونوں جملوں میں جو فرق ہے وہ مخفی نہیں۔(۸)یہ واقعہ مہمان نوازی میں جلدی کرنے پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ بہترین نیکی وہ ہے جس پر جلدی سے عمل کیا جائے، اس لیے ابراہیم u نے مہمانوں کے سامنے ضیافت پیش کرنے میں عجلت کی۔(۹) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا ذبیحہ (یا کھانا)جو کسی اور کے لیے تیار کیا گیا ہو، اسے مہمان کی خدمت میں پیش کرنے میں، اس کی ذرہ بھر اہانت نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیمu نے کیا تھا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے مکرم مہمان تھے۔(۱۰)اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ابراہیمu کو بکثرت رزق سے نواز رکھا تھا، اور یہ رزق ان کے پاس گھر میں ہر وقت تیار اور موجود رہتا تھا، انھیں بازار سے لانے کی ضرورت ہوتی تھی نہ پڑوسیوں سے مانگنے کی۔(۱۱)اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم u نے خود بنفس نفیس مہمانوں کی خدمت کی حالانکہ آپ اللہ تعالیٰ کے خلیل اور مہمان نوازوں کے سردار تھے۔(۱۲)اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم u نے مہمانوں کو اسی جگہ ضیافت پیش کی جہاں وہ موجود تھے۔ کسی اور جگہ ضیافت کے لیے انھیں نہیں بلایا کہ آئیے تشریف لائیے کیونکہ مہمان کو اپنی جگہ کھانا پیش کرنے میں مہمان کے لیے زیادہ آسانی اور بہتر ہے۔(۱۳) اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ مہمان کے ساتھ نرم کلامی اور ملاطفت سے پیش آنا چاہیے، خاص طور پر کھانا پیش کرتے وقت۔ کیونکہ حضرت ابراہیم نے نہایت نرمی سے اپنے مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا تھا۔ اور کہا تھا ﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اور یہ نہیں کہا تھا: کُلُوا ’’کھانا کھا لو‘‘ بلکہ آپ نے اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے جن میں ’’درخواست اور التماس‘‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے ، چنانچہ فرمایا :﴿اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ﴾(الذاریات: 27/51)’’آپ کھانا تناول کیوں نہیں کرتے؟‘‘ چنانچہ حضرت ابراہیم u کی پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بہترین الفاظ استعمال کرے جو مہمان کے لیے مناسب اور لائق حال ہوں، مثلاً:آپ کا مہمانوں سے کہنا ’’کیا آپ کھانا تناول نہیں کریں گے؟‘‘ ’’ہمیں شرف بخشیے اور ہم پر عنایت کیجیے‘‘ اور اس قسم کے دیگر الفاظ۔(۱۴) اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص، کسی بھی سبب کی بنا پر کسی سے خوفزدہ ہو جائے تو خوفزدہ کرنے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کے خوف کو زائل کرنے کی کوشش کرے اور اس کے سامنے ایسی باتوں کا ذکر کرے جس سے اس کا خوف دور ہو اور وہ پرسکون ہو جائے۔ جیسا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم u سے کہا تھا: جب وہ ان سے خوفزدہ ہو گئے تھے: ﴿ لَا تَخَفۡ﴾’’ڈریے مت‘‘! اور انھوں نے حضرت ابراہیمu کو وہ خوش کن خبر سنائی۔(۱۵)یہ قصہ حضرت ابراہیم u کی زوجۂ محترمہ کی بے انتہا مسرت و فرحت پر دلالت کرتا ہے حتیٰ کہ انھوں نے خوشی میں چلا کر بے ساختگی سے اپنا چہرہ پیٹ ڈالا۔(۱۶) نیز اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور آپ کی زوجہ محترمہ کو ایک علم رکھنے والے بیٹے کی بشارت سے نوازا۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском