As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الطور
At-Tur
The Mount · Meccan · 49 ayahs
52:1–16Page 523
وَٱلطُّورِ ١
By the mount
وَكِتَٰبٖ مَّسۡطُورٖ ٢
And [by] a Book inscribed1
فِي رَقّٖ مَّنشُورٖ ٣
In parchment spread open
وَٱلۡبَيۡتِ ٱلۡمَعۡمُورِ ٤
And [by] the frequented House1
وَٱلسَّقۡفِ ٱلۡمَرۡفُوعِ ٥
And [by] the ceiling [i.e., heaven] raised high
وَٱلۡبَحۡرِ ٱلۡمَسۡجُورِ ٦
And [by] the sea set on fire,1
إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَٰقِعٞ ٧
Indeed, the punishment of your Lord will occur.
مَّا لَهُۥ مِن دَافِعٖ ٨
Of it there is no preventer.
يَوۡمَ تَمُورُ ٱلسَّمَآءُ مَوۡرٗا ٩
On the Day the heaven will sway with circular motion
وَتَسِيرُ ٱلۡجِبَالُ سَيۡرٗا ١٠
And the mountains will pass on, departing1 -
فَوَيۡلٞ يَوۡمَئِذٖ لِّلۡمُكَذِّبِينَ ١١
Then woe, that Day, to the deniers,
ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي خَوۡضٖ يَلۡعَبُونَ ١٢
Who are in [empty] discourse amusing themselves.
يَوۡمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا ١٣
The Day they are thrust toward the fire of Hell with a [violent] thrust, [its angels will say],
هَٰذِهِ ٱلنَّارُ ٱلَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ١٤
"This is the Fire which you used to deny.
أَفَسِحۡرٌ هَٰذَآ أَمۡ أَنتُمۡ لَا تُبۡصِرُونَ ١٥
Then is this magic, or do you not see?
ٱصۡلَوۡهَا فَٱصۡبِرُوٓاْ أَوۡ لَا تَصۡبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡۖ إِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٦
[Enter to] burn therein; then be patient or impatient - it is all the same for you. You are only being recompensed [for] what you used to do."
قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
[2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔
[3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔
[4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔
[5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔
[6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔
[7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
[8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔
[9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔
[10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟
[11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔
[12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔
[13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔
[15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔
[16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘
52:17–20Page 524
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي جَنَّٰتٖ وَنَعِيمٖ ١٧
Indeed, the righteous will be in gardens and pleasure,
فَٰكِهِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ وَوَقَىٰهُمۡ رَبُّهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ ١٨
Enjoying what their Lord has given them, and their Lord protected them from the punishment of Hellfire.
كُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ هَنِيٓـَٔۢا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٩
[They will be told], "Eat and drink in satisfaction for what you used to do."
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ سُرُرٖ مَّصۡفُوفَةٖۖ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ ٢٠
They will be reclining on thrones lined up, and We will marry them to fair women with large, [beautiful] eyes.
بلاشبہ متقی لوگ باغات اور نعمتوں میں ہوں گے (17) لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو دے گا ان کو ان کا رب اور بچا لیا انھیں ان کے رب نے عذاب جہنم سے (18)کھاؤ اور پیو خوب مزے سے بدلے اس کے جو تھے تم عمل کرتے(19) تکیہ لگائے ہوں گے ایسے تختوں پر جو ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں گے اور ہم نکاح کر دیں گے ان کا بڑی آنکھوں والی حوروں سے (20)
[17] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد، اہل تقویٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا کر دے اور دل خوف و رجا کے درمیان رہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ جنھوں نے اپنے رب کے لیے تقویٰ کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کے تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کر کے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ ﴿ فِيۡ جَنّٰتٍ ﴾ وہ باغات میں ہوں گے ، ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہو گا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے ﴿ وَّنَعِيۡمٍ﴾ ’’اور نعمتوں میں ہوں گے‘‘ یہ قلب کی نعمت اور روح و بدن کی نعمت کو شامل ہے۔
[18]﴿ فٰــكِهِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمۡ رَبُّهُمۡ﴾ یعنی ان کا رب ان کو جس نعمت سے نوازے گااس سے خوش ہوتے ہوئے، نہایت فرحت و سرور کے ساتھ اس سے متمتع ہوتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہوں گے۔ ایسی نعمت جس کا وصف ممکن نہیں اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا رکھی ہے۔ پس ان کو ان کی پسندیدہ چیزیں عطا کرے گا اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچائے گا کیونکہ انھوں نے وہ کام کیے جو ان کے رب کو پسند تھے اور ان کاموں سے اجتناب کیا جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔
[19]﴿ كُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا﴾ یعنی ہر قسم کے لذیذ کھانے اور مشروبات جو تمھارا دل چاہتا ہے کھاؤ پیو ﴿هَنِيۡٓـًٔۢا﴾ یعنی مزے سے، بہجت و سرور اور فرحت و مسرت کے ساتھ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ یعنی تمھیں جو کچھ حاصل ہوا ہے ، تمھارے نیک اعمال اور اچھے اقوال کے باعث حاصل ہوا ہے۔
[20]﴿ مُتَّـكِـــِٕيۡنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَةٍ﴾ ’’وہ برابر بچھے ہوئے (شاندار) تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ الاتکاء سے مراد ہے راحت اور قرار کے ساتھ جم کر بیٹھنا۔ اَلسُّرُرُ سے مراد وہ تخت ہیں جو قیمتی پارچات اور خوبصورت بچھونوں سے آراستہ کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا تختوں کا وصف بیان کرنا، کہ وہ صف در صف بچھائے گئے ہوں گے، ان کی کثرت، حسن تنظیم، اہل جنت کے اجتماع، ان کی مسرت، ان کے حسن معاشرت اور باہم ملاطفت پر دلالت کرتا ہے۔ جب ان کے لیے قلب اور بدن و روح کی ایسی ایسی نعمتیں یکجا ہو جائیں گی یعنی لذیذماکولات، مشروبات اور حسین اور دلکش مجالس، جن کا گزر کبھی تصور و خیال میں بھی نہ ہوا ہو گا تو عورتوں کے ساتھ تمتع کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا، جن کے بغیر مسرت کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے اوصاف، تخلیق اور اخلاق کے اعتبار سے کامل ترین عورتیں ہوں گی ۔اس لیے فرمایا:﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ عِيۡنٍ﴾ ’’اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کریں گے۔‘‘ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں، جن میں ظاہری حسن و جمال اور اخلاق فاضلہ جمع ہیں، جو اپنے حسن و جمال سے دیکھنے والوں کو متحیر کر دیتی ہیں اور لوگوں کی عقل سلب کر لیتی ہیں اور دل و صال کی چاہت میں ان کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ اَلْعَیْنُ سے مراد ملیح اور خوبصورت آنکھوں والی عورتیں جن کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی نہایت صاف اور واضح ہو۔
52:21–28Page 524
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ ٢١
And those who believed and whose descendants followed them in faith - We will join with them their descendants, and We will not deprive them of anything of their deeds.1 Every person, for what he earned, is retained.2
وَأَمۡدَدۡنَٰهُم بِفَٰكِهَةٖ وَلَحۡمٖ مِّمَّا يَشۡتَهُونَ ٢٢
And We will provide them with fruit and meat from whatever they desire.
يَتَنَٰزَعُونَ فِيهَا كَأۡسٗا لَّا لَغۡوٞ فِيهَا وَلَا تَأۡثِيمٞ ٢٣
They will exchange with one another a cup [of wine] wherein [results] no ill speech or commission of sin.
۞ وَيَطُوفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٞ لَّهُمۡ كَأَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٞ مَّكۡنُونٞ ٢٤
There will circulate among them [servant] boys [especially] for them, as if they were pearls well-protected.
وَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ ٢٥
And they will approach one another, inquiring of each other.
قَالُوٓاْ إِنَّا كُنَّا قَبۡلُ فِيٓ أَهۡلِنَا مُشۡفِقِينَ ٢٦
They will say, "Indeed, we were previously among our people fearful [of displeasing Allāh].
فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَوَقَىٰنَا عَذَابَ ٱلسَّمُومِ ٢٧
So Allāh conferred favor upon us and protected us from the punishment of the Scorching Fire.
إِنَّا كُنَّا مِن قَبۡلُ نَدۡعُوهُۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡبَرُّ ٱلرَّحِيمُ ٢٨
Indeed, we used to supplicate1 Him before. Indeed, it is He who is the Beneficent, the Merciful."
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور پیروی کی ان کی ان کی اولاد نے ساتھ ایمان کے تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو(جنت میں)، اور نہیں کم کریں گے ہم ان کے لیے ان کے عمل سے کچھ بھی ہر شخص ساتھ اس کے جو اس نے کمایا گروی ہے (21) اور ہم خوب دیں گے ان کو لذیذ میوے اور گوشت اس سے جو وہ چاہیں گے (22) ایک دوسرے سے جھپٹیں گے ایسا جام شراب کہ نہ لغو(بکواس)ہو گی اس میں اور نہ کوئی گنا ہ (23) اور پھر رہے ہوں گے ان پر نو عمر لڑکے ان (کی خدمت) کے لیے گویا کہ وہ موتی ہیں پردے میں چھپائے ہوئے (24) اور متوجہ ہوں گے بعض ان کے بعض پر، ایک دوسرے سے(حال) پوچھتے ہوئے (25) وہ کہیں گے، بلاشبہ تھے ہم پہلے (اس سے) اپنے اہل (و عیال) میں ڈرنے والے (26) پس احسان کیا اللہ نے ہم پر اور اس نے بچایا ہمیں لو (گرم ہوا) کے عذاب سے (27) بلاشبہ تھے ہم پہلے ہی اس(اللہ) کو پکارتے بے شک وہی ہے خوب احسان کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا (28)
[21] یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا :﴿ كُلُّ امۡرِئٍۭؔ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔
[22]﴿وَاَمۡدَدۡنٰهُمۡ ﴾ یعنی ہم اپنے بے پایاں فضل وکرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام میں سے بہرہ مند کریں گے۔ ﴿بِفَاكِهَةٍ﴾ یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ میووں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے ﴿ وَّلَحۡمٍ مِّؔمَّا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کا دل چاہے گا۔
[23]﴿ يَتَنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا ﴾ رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان (خدمت کے لیے) گھوم رہے ہوں گے۔ ﴿ لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ ﴾ یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہو گی، وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہو گی ۔ اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہو گئی تو اس سے تیسری چیز کا اثبات ہو گیا ، یعنی ان کا کلام (لغو امور سے) سلامت، اور طیب و طاہر ہو گا جو نفوس کو مسرت اور دلوں کو فرحت بخشے گا، وہ بہترین طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کی دوستی پاکیزہ ترین دوستی ہو گی، انھیں اپنے رب کی طرف سے صرف وہی باتیں سننے کو ملیں گی، جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں گی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے ان پر راضی ہونے اور ان سے محبت پر دلالت کرتی ہے۔
[24]﴿ وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ غِلۡمَانٌ لَّهُمۡ ﴾ یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ ﴿ كَاَنَّهُمۡ لُؤۡلُؤٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ اپنے حسن اور خو ب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں، ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آ جا رہے ہوں گے۔ یہ چیز ان کے لیے بے پایاں نعمتوں اور ان کے لیے کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔
[25]﴿ وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے۔‘‘ یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں۔
[26]﴿ قَالُوۡۤا ﴾ یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انھیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے، کہیں گے:﴿ اِنَّا كُنَّا قَبۡلُ﴾ ’’بلاشبہ اس سے پہلے ہم۔‘‘ یعنی دنیا کے گھر میں ﴿ فِيۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ ﴾ ’’اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتےتھے۔‘‘ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کر لیا۔
[27]﴿ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت اور توفیق سے سرفراز فرمایا اور ہم پر احسان فرمایا۔ ﴿ وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴾ اور گرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سخت ہو گی، ہمیں بچایا۔
[28]﴿ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ ﴾ ’’بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔‘‘ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے ۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡـبَرُّ الرَّحِيۡمُ﴾ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences