As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
النجم
An-Najm
The Star · Meccan · 62 ayahs
53:1–18Page 526
وَٱلنَّجۡمِ إِذَا هَوَىٰ ١
By the star when it descends,
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوَىٰ ٢
Your companion [i.e., Muḥammad] has not strayed, nor has he erred,
وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ ٣
Nor does he speak from [his own] inclination.
إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ ٤
It is not but a revelation revealed,
عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلۡقُوَىٰ ٥
Taught to him by one intense in strength [i.e., Gabriel] -
ذُو مِرَّةٖ فَٱسۡتَوَىٰ ٦
One of soundness.1 And he rose to [his] true form2
وَهُوَ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡأَعۡلَىٰ ٧
While he was in the higher [part of the] horizon.1
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ٨
Then he approached and descended
فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ أَوۡ أَدۡنَىٰ ٩
And was at a distance of two bow lengths or nearer.
فَأَوۡحَىٰٓ إِلَىٰ عَبۡدِهِۦ مَآ أَوۡحَىٰ ١٠
And he revealed to His Servant1 what he revealed [i.e., conveyed].
مَا كَذَبَ ٱلۡفُؤَادُ مَا رَأَىٰٓ ١١
The heart1 did not lie [about] what it saw.
أَفَتُمَٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ ١٢
So will you dispute with him over what he saw?
وَلَقَدۡ رَءَاهُ نَزۡلَةً أُخۡرَىٰ ١٣
And he certainly saw him in another descent1
عِندَ سِدۡرَةِ ٱلۡمُنتَهَىٰ ١٤
At the Lote Tree of the Utmost Boundary -
عِندَهَا جَنَّةُ ٱلۡمَأۡوَىٰٓ ١٥
Near it is the Garden of Refuge [i.e., Paradise] -
إِذۡ يَغۡشَى ٱلسِّدۡرَةَ مَا يَغۡشَىٰ ١٦
When there covered the Lote Tree that which covered [it].1
مَا زَاغَ ٱلۡبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ١٧
The sight [of the Prophet (ﷺ)] did not swerve, nor did it transgress [its limit].
لَقَدۡ رَأَىٰ مِنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ ١٨
He certainly saw of the greatest signs of his Lord.
قسم ہے ستارے کی جب وہ گرتا ہے(1) نہیں بہکا تمھارا ساتھی اور نہ وہ بھٹکا(2) اور نہیں بولتا وہ (اپنی) خواہش سے(3) نہیں ہے وہ مگر وحی کہ بھیجی جاتی ہے(اس کی طرف)(4) سکھایا اس کو مضبوط قوتوں والے(جبریل) نے(5) جو نہایت طاقتور ہے ، پھر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا(6) ا ور وہ (آسمان کے) بلند کنارے پر تھا(7) پھر وہ قریب ہوا، پس اتر آیا(8) تو ہو گیا وہ بقدر دو کمانوں کےبلکہ اس سے بھی زیادہ قریب(9) پھر اس نے وحی پہنچائی اللہ کے بندے کو جو وحی پہنچائی (10) نہیں جھوٹ بولا دل نے جو کچھ اس نے دیکھا (11) کیا پس تم جھگڑتے ہو اس سے اس پر جو اس نے دیکھا؟ (12) اور البتہ تحقیق اس (رسول) نے دیکھا اس (جبریل) کو ایک بار اور بھی (13) نزدیک سدرۃ المنتٰہی کے (14) نزدیک ہی ہے اس کےجنت الماویٰ (15) جب ڈھانپ رہا تھا سدرہ کو جو کچھ ڈھانپ رہا تھا (16) نہ بہکی نگاہ اور نہ وہ حد سے بڑھی (17) یقیناً اس (رسول) نے دیکھیں بعض نشانیاں اپنے رب کی بڑی (بڑی)(18)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ ستارے کے ٹوٹنے کی، یعنی رات کے آخری حصے میں، جب رات کے جانے اور دن کے آنے کا وقت ہوتا ہے، اس وقت افق میں ستارے کے گرنے کی قسم کھاتا ہے کیونکہ اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر کی موجب ہیں کہ اس کی قسم کھائی جائے۔ اور صحیح یہ ہے کہ (النجم) ستارہ اسم جنس ہے جو تمام ستاروں کو شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ جو وحی الٰہی لے کر آئے ہیں، اس کی صحت پر اللہ تعالیٰ نے ستاروں کی قسم کھائی ہے کیونکہ وحی الٰہی اور ستاروں کے مابین ایک عجیب مناسبت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ستاروں کو آسمان کی زینت بنایا، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے وحی اور اس کے آثار کو زمین کے لیے زینت بنایا پس اگر انبیاء کرام علیہ السلام کی طرف سے موروث علم نہ ہوتا تو لوگ (گمراہی کے)تیرہ و تار اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے جو شبِ تاریک کے اندھیروں سے بھی گہرے ہوتے ہیں۔
[2] جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے رسول اللہ ﷺ کا اپنے علم میں ضلالت سے اور اپنے قصد میں گمراہی سے منزہ اور پاک ہونا۔ اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ اپنے علم میں راست رو، راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے، حسن قصد رکھنے والے اور مخلوق کی خیر خواہی کرنے والے ہیں۔ اس کے برعکس فساد علم اور سوء قصد کا راستہ وہ ہے، جس پر گمراہ لوگ گامزن ہیں۔ اور فرمایا:﴿ صَاحِبُكُمۡ﴾ ’’ تمھارا ساتھی‘‘ تاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمھارے ساتھی کے ان اوصاف کی طرف اشارہ کرے جن کا وہ آپ کے اندر موجود ہونے کا اعتراف کرتے ہیں ، مثلاً: صدق اور ہدایت، نیز یہ کہ آپ کا معاملہ ان پر مخفی نہیں ہے۔
[3، 4]﴿ وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰى﴾ یعنی آپ کا کلام، خواہش نفس سے صادر نہیں ہوتا ﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡيٌ يُّوۡحٰؔى ﴾ یعنی آپ صرف اس چیز کی پیروی کرتے ہیں، جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے، یعنی ہدایت اور اپنے اور دیگر لوگوں کے بارے میں تقویٰ۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ سنت بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجی ہوئی وحی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَاَنۡزَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ﴾(النساء: 4؍113) ’’اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی۔‘‘ نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ اور اس کی شریعت کے بارے میں خبر دینے میں معصوم ہیں، کیونکہ آپ کا کلام کسی خواہش نفس سے صادر نہیں ہوتا یہ تو وحی سے صادر ہوتا ہے جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے معلم کا ذکر فرمایا اور وہ ہیں جبریلu، جو مکرم فرشتوں میں سب سے افضل، سب سے قوی اور سب سے کامل ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿ عَلَّمَهٗ شَدِيۡدُ الۡقُوٰى ﴾ یعنی جبریلu جو نہایت طاقتور ظاہری اور باطنی قویٰ کے مالک ہیں، اس وحی کو لے کر رسول مصطفیﷺ پر نازل ہوئے۔ حضرت جبریل اس حکم کو نافذ کرنے میں، جس کو نافذ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا، بہت طاقتور ہیں۔ اس وحی کو رسول اللہﷺ تک پہنچانے اور اس کو شیاطین کے اچک لینے سے بچانے اور اس کے اندر ان کی دخل اندازی سے حفاظت کرنے میں یہ قوی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی وحی کی حفاظت ہے کہ اس نے اس وحی کو ایسے پیغامبر فرشتے کے ساتھ بھیجا جو نہایت طاقتور اور امانت دار ہے۔
[6]﴿ ذُوۡ مِرَّةٍ﴾ یعنی وہ قوت، خلق حسن، ظاہری اور باطنی جمال کا حامل ہے ﴿ فَاسۡتَوٰى﴾ ’’ پھر وہ (اپنی اصلی صورت میں) سیدھے کھڑے ہوگئے‘‘ یعنی جبریلu ۔
[7]﴿وَهُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰى﴾ ’’جبکہ وہ اونچے کنارے پر تھے۔‘‘ یعنی آسمان کے افق پر جو زمین سے بلند تر ہوتا ہے، اس کا شمار ان ارواح علویہ میں ہوتا ہے جنھیں شیاطین حاصل کر سکتے ہیں نہ ان تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
[8]﴿ ثُمَّ دَنَا﴾ پھر جبریلuوحی پہنچانے کے لیے نبی ٔاکرمﷺ کے قریب ہوئے ﴿فَتَدَلّٰى﴾ ’’اور اتر آئے‘‘ افق اعلیٰ سے آپ کے قریب۔
[9]﴿ فَكَانَ﴾ ہوگیا جبریلu کا آپ سے قرب ﴿ قَابَ قَوۡسَيۡنِ﴾ دو کمانوں کے فاصلے پر ﴿ اَوۡ اَدۡنٰى﴾ یا دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب تر۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت جبریلu پیغام لے کر کامل طور پر رسول اللہ ﷺ سے بالمشافہ ملے، نیز اس پر بھی دلیل ہے کہ آپ کے اور جبریلu کے درمیان کوئی واسطہ نہ تھا۔
[10]﴿ فَاَوۡحٰۤى﴾ پس اللہ تعالیٰ نے جبریلu کے توسط سے وحی کی ﴿ اِلٰى عَبۡدِهٖ﴾ ’’اپنے بندے حضرت محمدﷺ کی طرف ﴿مَاۤ اَوۡحٰى﴾’’جو وہی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف عظیم شریعت اور درست خبریں وحی کیں۔
[11، 12]﴿ مَا كَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰى ﴾ ’’اس (رسول) نے جو کچھ دیکھا، اس کے دل نے (اس کے متعلق) جھوٹ نہیں بولا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جو بھیجی، اس پر آپ کا قلب مبارک اور آپ کی رؤ یت، آپ کی سماعت اور آپ کی بصارت متفق تھے۔ یہ اس وحی کے کامل ہونے کی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بھیجی، نیز یہ اس بات کی دليل ہے کہ آپ نے وحی کو اس طرح حاصل کیا کہ اس میں کوئی شک شبہ نہ تھا۔ آپ کی آنکھ مبارک نے جو کچھ دیکھا، آپ کے قلب مقدس نے اس کو نہیں جھٹلایا اور نہ اس میں کوئی شک ہی کیا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ بڑی بڑی آیات الٰہی ہوں جو اس رات آپ کو دکھائی گئیں جس رات آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا، آپ کو اپنے قلب مبارک اور رؤ یت کے ساتھ، اس کے حق ہونے کا یقین تھا، آیت کریمہ کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد معراج کی رات رسول اللہ ﷺ کا اپنے رب کا دیدار اور اس کے ساتھ ہم کلام ہونا ہے، اسے بہت سے علمائے کرام نے اختیار کیا ہے، پھر وہ اسی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کے لیے دنیا میں دیدار الٰہی کو ثابت کرتے ہیں۔ مگر پہلا قول صحیح ہے کہ اس سے مراد جبریلu ہیں جیسا کہ آیات کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے۔ نیز یہ اس امر کی بھی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل uکو اپنی اصلی شکل میں دو مرتبہ دیکھا۔ ایک مرتبہ آسمان دنیا کے نیچے افق اعلیٰ میں جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے اور دوسری دفعہ ساتویں آسمان کے اوپر جس رات آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔
[13، 14]﴿ وَلَقَدۡ رَاٰهُ نَزۡلَةً اُخۡرٰؔى﴾ یعنی رسول اللہ ﷺ نے جبریل uکو دوسری دفعہ اپنی طرف اترتے ہوئے دیکھا ﴿ عِنۡدَ سِدۡرَةِ الۡمُنۡتَهٰى﴾ ’’سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔‘‘ سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان پر بیری کا بہت بڑا درخت ہے اور اسے سدرۃ المنتہیٰ اس لیے کہا جاتا ہے کہ زمین سے جو چیز اوپر کی طرف عروج کرتی ہے، اس کے پاس آ کر رک جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی وغیرہ نازل ہوتی ہے یہاں آ کر ٹھہر جاتی ہے۔ یا اس بنا پر اسے سدرۃ المنتہیٰ کہا جاتا ہے کہ یہ مخلوقات کے علم کی انتہائی حد ہے۔ نیز اس نام سے موسوم کیے جانے کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے اوپر واقع ہے اور سدرۃ المنتہیٰ اس کی بلندی کی انتہا ہے، اس کے علاوہ بھی کوئی سبب ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔چنانچہ اس مقام پر جو پاک، خوبصورت اور بلند مرتبہ ارواح کا مقام ہے، جہاں شیطان اور دیگر ارواح خبیثہ نہیں ٹھہر سکتیں، حضرت محمد ﷺ نے جبریلu کو دیکھا۔
[15]﴿عِنۡدَهَا﴾ یعنی اس درخت کے پاس ہی ﴿ جَنَّةُ الۡمَاۡوٰى﴾ ’’ جنت الماوٰی ہے۔‘‘ یعنی وہ جنت جس میں ہر نعمت جمع ہے۔ یہ ایسا مقام ہے، جو منتہائے آرزو ہے جس کی طرف ارادے راغب رہتے ہیں، جہاں چاہتیں جا کر ٹھہرتی ہے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جنت بلند ترین مقام ہے اور ساتویں آسمان پر واقع ہے۔
[16]﴿ اِذۡ يَغۡشَى السِّدۡرَةَ مَا يَغۡشٰى﴾ ’’ اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا۔‘‘ یعنی امر الٰہی سے ایک عظیم چیز نے اسے ڈھانپ رکھا تھا جس کا وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
[17]﴿ مَا زَاغَ الۡبَصَرُ﴾ یعنی نگاہ اپنے مقصود سے ہٹ کر دائیں بائیں نہیں ہوئی۔ ﴿ وَمَا طَغٰى﴾ اور نہ نگاہ ہی نے اپنے مقصود سے تجاوز ہی کیا ، یہ رسول اللہ ﷺ کا کمال ادب ہے کہ آپ اس مقام پر کھڑے رہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا، آپ اس مقام سے پیچھے ہٹے نہ اس سے تجاوز کیا اور نہ ادھر ادھر ہی انحراف کیا۔ یہ کامل ترین ادب ہے جس میں آپ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ مندرجہ ذیل امور میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے کمال ادب میں خلل واقع ہوتا ہے:| بندہ ان امور پر قائم نہ رہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔| اس میں کوتاہی کرے۔| اس میں افراط سے کام لے۔| اس سے قائم رہتے ہوئے دائیں بائیں التفات کرے۔ مذکورہ تمام امور میں سے ایک بھی نبی ٔاکرم ﷺ کے اندر موجود نہ تھا۔
[18]﴿ لَقَدۡ رَاٰى مِنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِ الۡكُبۡرٰى ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب کی کچھ بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔‘‘ یعنی جنت، جہنم اور دیگر آیات الٰہی جن کا آپ نے معراج کی رات مشاہدہ کیا۔
53:19–25Page 526
أَفَرَءَيۡتُمُ ٱللَّٰتَ وَٱلۡعُزَّىٰ ١٩
So have you considered al-Lāt and al-ʿUzzā?
وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلۡأُخۡرَىٰٓ ٢٠
And Manāt, the third - the other one?1
أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلۡأُنثَىٰ ٢١
Is the male for you and for Him the female?
تِلۡكَ إِذٗا قِسۡمَةٞ ضِيزَىٰٓ ٢٢
That, then, is an unjust division.1
إِنۡ هِيَ إِلَّآ أَسۡمَآءٞ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٍۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهۡوَى ٱلۡأَنفُسُۖ وَلَقَدۡ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ ٱلۡهُدَىٰٓ ٢٣
They are not but [mere] names you have named them - you and your forefathers - for which Allāh has sent down no authority. They follow not except assumption and what [their] souls desire, and there has already come to them from their Lord guidance.
أَمۡ لِلۡإِنسَٰنِ مَا تَمَنَّىٰ ٢٤
Or is there for man whatever he wishes?
فَلِلَّهِ ٱلۡأٓخِرَةُ وَٱلۡأُولَىٰ ٢٥
Rather, to Allāh belongs the Hereafter and the first [life].
خبر دو تم مجھے لَات اور عُزّٰی کی(19) اور مَنَات تیسرے کی جو گھٹیا ہے (20) کیا تمھارے لیے لڑکے ہیں اور اس (اللہ) کے لیے لڑکیاں؟ (21) یہ تو اس وقت تقسیم ہے ظالمانہ (22) نہیں ہیں یہ (بت کچھ بھی)مگر چند نام ہی کہ نام رکھے ہیں وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادوں نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل، نہیں پیروی کرتے وہ (لوگ) مگر گمان کی اور اس چیز کی جو چاہتے ہیں (ان کے) نفس (دل)، حالانکہ یقیناً آچکی ہے ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت (23) کیا (میسر) ہے انسان کے لیے جو وہ تمنا کرے؟ (24) پس اللہ ہی کے لیے ہے پچھلا جہان اور پہلا جہان (25)
[19، 20] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ہدایت اور دین حق جس کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تھے، نیز عبادت الٰہی اور توحید الٰہی کا ذکر کرنے کے بعد اس مسلک کے بطلان کا ذکر فرمایا جس پر مشرکین گامزن تھے، یعنی ایسی ہستیوں کی عبادت، جو اوصاف کمال سے محروم ہیں، جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، یہ معانی سے خالی محض نام ہیں جن کو مشرکین اور ان کے جاہل اور گمراہ آباء و اجداد نے گھڑ لیا ہے، انھوں نے ان کے لیے اسمائے باطلہ ایجاد کیے، جن کی وہ مستحق نہ تھیں، پس انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دیگر گمراہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کیا۔جن معبودوں کا یہ حال ہو وہ عبادت کا ذرہ بھر استحقاق نہیں رکھتے۔ یہ خود ساختہ ہمسر جن کو انھوں نے ان ناموں سے موسوم کیا ہے اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ یہ نام ان اوصاف سے مشتق ہیں، جن سے یہ متصف ہیں۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد اور شرک کی جسارت کرتے ہوئے لات کو الٰہ سے مشتق کر کے موسوم کیا جو عبادت کا مستحق ہے، عزیز سے عزّٰی اورمنان سے منات کو مشتق کیا۔ یہ تمام نام معانی سے خالی ہیں، چنانچہ ہر وہ شخص جو ادنیٰ سی عقل سے بہرہ مند ہے وہ ان نام نہادمعبودوں کے اندر ان اوصاف کے بطلان کا علم رکھتا ہے۔
[21]﴿ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الۡاُنۡثٰى ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے لیے بزعم خود بیٹیاں قرار دیتے ہو اور اپنے لیے بیٹے؟
[22]﴿ تِلۡكَ اِذًا قِسۡمَةٌ ضِيۡزٰى ﴾ تب تو یہ بہت ہی ظالمانہ تقسیم ہے۔ اس تقسیم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہو سکتا ہے جو خالق پر بندۂ مخلوق کی فضیلت کو مقتضی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند ہے۔
[23]﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾ ’’یہ تو صرف نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں۔ اللہ نے تو ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔‘‘ یعنی تمھارے مذہب کے صحیح ہونے پر تمھارے پاس کوئی دلیل و برہان نہیں۔ ہر وہ امر جس پر اللہ تعالیٰ نے دلیل نازل نہ کی ہو، باطل اور فاسد ہوتا ہے، اسے دین نہیں بنایا جا سکتا۔ درحقیقت وہ کسی دلیل و برہان کی پیروی نہیں کرتے کہ انھیں اپنے مذہب کے صحیح ہونے کا یقین ہو۔ محض گمان فاسد، جہالت، خواہشات نفس پر مبنی مشرکانہ عقائد اور خواہشات نفس کے موافق بدعات ان کے نظریات کی دلیل ہیں، حالانکہ علم و ہدایت کے فقدان کی وجہ سے، وہم و گمان کے سوا کوئی ایسا موجب نہیں جو اس کا تقاضا کرتا ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمُ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور البتہ یقیناً ان کے رب کی طرف سے، ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔‘‘ جو توحید و نبوت اور ان تمام امور میں ان کی راہ نمائی کرتی ہے، بندے جن کے محتاج ہیں، پس ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین، واضح ترین اور مضبوط ترین دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے اس پر دلائل و براہین قائم کیے ہیں جو ان کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے اتباع کے موجب ہیں۔ اس بیان و برہان کے بعد کسی کے لیے کوئی حجت اور عذر باقی نہیں رہا۔جب ان کے مذہب کی غرض و غایت محض ظن و گمان کی پیروی، اس کی انتہا شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی ہے، تو (ان کا) اس حال پر باقی رہنا سب سے بڑی سفاہت اور سب سے بڑا ظلم ہے۔
[24، 25] بایں ہمہ وہ اپنی آرزوؤ ں میں گم اور خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات کا انکار کیا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی آرزوئیں پوری ہوں گی حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰى ٞۖ۰۰ فَلِلّٰهِ الۡاٰخِرَةُ وَالۡاُوۡلٰى﴾ ’’کیا انسان جس چیز کی آرزو کرتا ہے۔ وہ اسے ضرور ملتی ہے؟ آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ پس وہ جس کو چاہتا عطا کرتا اور جس کو چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے۔ لہذا امر الٰہی ان کی آرزوؤ ں کے تابع ہے نہ ان کی خواہشات کے موافق۔
53:26Page 526
۞ وَكَم مِّن مَّلَكٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغۡنِي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ أَن يَأۡذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرۡضَىٰٓ ٢٦
And how many angels there are in the heavens whose intercession will not avail at all except [only] after Allāh has permitted [it] to whom He wills and approves.
اور کتنے فرشتے ہیں آسمانوں میں کہ نہیں فائدہ دے گی ان کی سفارش کچھ بھی مگر بعد اس کے کہ اجازت دے گا اللہ جس کے لیے وہ چاہے گا اور پسند کرے گا (26)
[26] جو لوگ فرشتوں اور دیگر ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ یہ ہستیاں قیامت کے روز ان کی شفاعت کریں گی، اللہ تعالیٰ ان پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ وَؔكَمۡ مِّنۡ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ﴾ یعنی آسمانوں میں کتنے ہی اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مکرم فرشتے ہیں ﴿ لَا تُغۡنِيۡ شَفَاعَتُهُمۡ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’جن کی شفاعت کچھ کام نہ آئے گی۔‘‘ یعنی جو کوئی اس شفاعت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے امید وابستہ کرتا ہے یہ شفاعت اس کے کسی کام نہیں آئے گی۔ ﴿اِلَّا مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ يَّاۡذَنَ اللّٰهُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَرۡضٰى ﴾’’مگر بعد ازاں کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور پسند کرے۔‘‘ شفاعت کے لیے دو شرائط کا مجتمع ہونا ضروری ہے:(۱)شفاعت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی اجازت ہے۔(۲) جس کی شفاعت جا ری رہی ہو، اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا ہونا۔ یہ امر متحقق ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور صاحب شریعت(u)کے طریقے کے موافق ہو۔ چنانچہ مشرکین شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے بہرہ مند نہیں ہو سکیں گے کیونکہ انھوں نے خود ہی اپنے اوپر، سب سے رحیم ہستی کی رحمت کے دروازے بند کر لیے ہیں۔
53:27–30Page 527
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ تَسۡمِيَةَ ٱلۡأُنثَىٰ ٢٧
Indeed, those who do not believe in the Hereafter name the angels female names,
وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡـٔٗا ٢٨
And they have thereof no knowledge. They follow not except assumption, and indeed, assumption avails not against the truth at all.
فَأَعۡرِضۡ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكۡرِنَا وَلَمۡ يُرِدۡ إِلَّا ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا ٢٩
So turn away from whoever turns his back on Our message and desires not except the worldly life.
ذَٰلِكَ مَبۡلَغُهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱهۡتَدَىٰ ٣٠
That is their sum of knowledge. Indeed, your Lord is most knowing of who strays from His way, and He is most knowing of who is guided.
بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے آخرت پر، البتہ وہ نام رکھتے ہیں فرشتوں کے نام زنانے (27) حالانکہ نہیں ہے ان کو اس کا کوئی علم، نہیں پیروی کرتے وہ مگر گمان کی، اور بلاشبہ گمان نہیں فائدہ دیتا حق کے مقابلے میں کچھ بھی (28) پس آپ اعراض کریں اس سے جو رو گردانی کرے ہمارے ذکر سے، اور نہیں ارادہ کیا اس نے مگر صرف حیاتِ دنیا کا(29) یہی انتہا ہے ان کی علم (کے لحاظ) سے بلاشبہ آپ کا رب، وہی خوب جانتا ہے اس شخص کو جو گمراہ ہوا اس کے راستے سے اور وہی خوب جانتا ہے اس شخص کو جس نے ہدایت پائی (30)
[27] اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے، انبیاء و مرسلین کو جھٹلانے والے جو اللہ تعالیٰ پر عدم ایمان کے سبب سے آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایسے اقوال و افعال کی جسارت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دشمنی پر مبنی ہیں، مثلاً: وہ کہتے ہیں ’’فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کو ولادت سے منزہ قرار دیا نہ انھوں نے فرشتوں کا اکرام کیا اور نہ انھوں نے ان کو مؤنث سے بالاتر سمجھا، حالانکہ انھیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم حاصل ہے نہ اس کے رسول کی طرف سے اور نہ عقل اور فطرت ہی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ بلکہ علم تو ان کے قول کے تناقض پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد اور بیوی سے منزہ ہے۔ کیونکہ وہ اکیلا اور یکتا، متفرد اور بے نیاز ہے۔ اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ وہ جنم دیا گیا ہے اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہی ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مکرم بندے ہیں جو اس کی خدمت پر قائم ہیں ﴿ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ﴾(التحریم: 66؍6) ’’اللہ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘
[28] مشرکین اس بارے میں بدترین قول کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ ہے محض ظن و گمان جو حق کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ حق کے لیے ایسے یقین کا وجود ضروری ہے جو نہایت روشن دلائل و براہین سے مستفاد ہو۔
[29] چونکہ ان مشرکین کی عادت یہ ہے کہ انھیں اتباعِ حق سے کوئی غرض نہیں، ان کی غرض و غایت اور ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی کرنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ اس شخص سے منہ موڑ لیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، جو کہ حکمت سے لبریز ہے، اور قرآن عظیم سے اعراض کرتا ہے، پس اس نے گویا علوم نافعہ سے منہ موڑا۔ وہ دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ پس یہ اس کے ارادے کی انتہا ہے۔یہ چیز معلوم اور متحقق ہے کہ بندہ صرف اسی چیز کے لیے عمل کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔ پس ان لوگوں کی کوشش اور دوڑ دھوپ، دنیا اور اس کی لذات و شہوات تک محدود ہے۔ یہ لذات و شہوات جیسے بھی حاصل ہوتی ہے یہ انھیں حاصل کرتے ہیں اور جس کے راستے سے بھی ان کا حصول آسان ہو یہ اس کی طرف لپکتے ہیں۔
[30]﴿ ذٰلِكَ مَبۡلَغُهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾ یہ ان کے علم کی غایت اور انتہا ہے۔ رہے آخرت پر ایمان رکھنے اور اس کی تصدیق کرنے والے عقل مند اور خرد مند لوگ تو ان کی ہمت اور ارادہ آخرت پر مرتکز رہتاہے۔ ان کے علوم سب سے افضل اور سب سے جلیل القدر علوم ہیں، یہ علوم کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ سے ماخوذ ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کون ہدایت کا مستحق ہے، پس وہ اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور کون ہدایت کا مستحق نہیں ہے، اسے اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے اور اس سے الگ ہو جاتا ہے، پس وہ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ١ۙ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ ’’بے شک آپ کا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جواس کے راستے سے بھٹک گیا، اور وہی اس شخص سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا۔‘‘ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس محل و مقام پر رکھتا ہے جو اس کے لائق ہے۔
53:31–32Page 527
وَلِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِ لِيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ أَحۡسَنُواْ بِٱلۡحُسۡنَى ٣١
And to Allāh belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth - that He may recompense those who do evil with [the penalty of] what they have done and recompense those who do good with the best [reward] -
ٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلۡمَغۡفِرَةِۚ هُوَ أَعۡلَمُ بِكُمۡ إِذۡ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ وَإِذۡ أَنتُمۡ أَجِنَّةٞ فِي بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡۖ فَلَا تُزَكُّوٓاْ أَنفُسَكُمۡۖ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ ٣٢
Those who avoid the major sins and immoralities, only [committing] slight ones. Indeed, your Lord is vast in forgiveness. He was most knowing of you when He produced you from the earth and when you were fetuses in the wombs of your mothers. So do not claim yourselves to be pure; He is most knowing of who fears Him.
اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تاکہ وہ سزا دے ان لوگوں کو جنھوں نے برائیاں کیں بہ سبب اس کےجو انھوں نے عمل کیے، اور جزا دے ان لوگوں کو جنھوں نے اچھائیاں کیں بدلے اچھائی کے (31) وہ لوگ جو بچتے ہیں کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے سوائے صغیرہ گناہوں کے ،بلاشبہ آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے، وہ خوب جانتا ہے تمھیں جب اس نے پیدا کیا تمھیں زمین (مٹی) سے، اور جب تم بچے تھے پیٹوں میں اپنی ماؤ ں کے، سو نہ پاکیزگی بیان کرو تم اپنے آپ کی وہ خوب جانتا ہے اس کو جس نے پرہیز گاری اختیار کی (32)
[31]اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اقتدار کا مالک ہے، دنیا و آخرت اسی اکیلے کی ملکیت ہے، دنیا و آخرت میں جو کچھ ہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ ان میں اس طرح تصرف کرتا ہے جیسے عظیم بادشاہ اپنے غلاموں میں تصرف کرتا ہے، وہ ان پر اپنی قضا و قدر نافذ کرتا ہے، ان پر شرعی احکام جاری کرتا ہے، انھیں حکم دیتا ہے، انھیں منع کرتا ہے، اپنے اوامر و نواہی پر انھیں جزا و سزا دیتا ہے، پس اطاعت گزار کو ثواب عطا کرتا ہے اور نافرمان کو عذاب دیتا ہے۔﴿ لِيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا﴾ تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے کفر اور اس سے کم تر گناہوں اور ان اعمالِ شر کا ارتکاب کیا، جزا کے طور پر بدترین سزا دے ﴿ وَيَجۡزِيَ الَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا﴾ اور ان کو جزا سے سرفراز فرمائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں احسان سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو مختلف فوائد پہنچا کر اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا ﴿ بِالۡحُسۡنٰى﴾ اچھائی کے ساتھ ان کو دنیا و آخرت میں، اچھی جزا سے سرفراز فرمائے۔ سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر جزا ان کے رب کی رضا، جنت اور اس کی نعمتوں سے فوز یابی ہے۔
[32] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان محسنین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓىِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ﴾ ’’جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ ان واجبات پر عمل کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے جن کا ترک کرنا کبائر میں شمار ہوتا ہے، وہ بڑے بڑے محرمات کو ترک کرتے ہیں ، مثلاً: زنا، شراب نوشی، سود خوری، قتل ناحق اور دیگر بڑے بڑے گناہ۔ ﴿ اِلَّا اللَّمَمَ﴾ ’’الا یہ کہ کوئی صغیرہ گناہ (سرزد) ہو۔‘‘ اس سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن پر بندہ مصر نہیں ہوتا یا بار بار ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتا، ان صغیرہ گناہوں کا مجرد ارتکاب بندے کو محسنین کے زمرے سے نہیں نکالتا۔ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ، واجبات پر عمل کرنے، اور محرمات کو چھوڑنے سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے تحت داخل ہو جاتے ہیں، جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے ۔اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الۡمَغۡفِرَةِ﴾ ’’بے شک آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے۔‘‘ پس اگر اللہ تعالیٰ کی مغفرت نہ ہوتی تو تمام روئے زمین اور بندے تباہ ہو جاتے، اگر اس کا عفو و حلم نہ ہوتا توآسمان زمین پر آگرتا اور روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔ بنابریں نبی ٔاکرم ﷺ نے فرمایا: ’’پانچوں نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک، ان کے درمیان ہونے والے تمام (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہیں، اگر کبائر سے اجتناب کیا جائے۔‘‘ (صحیح مسلم، الطہارۃ، باب الصلوات الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ ......، حدیث: 233)﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِكُمۡ اِذۡ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَاِذۡ اَنۡتُمۡ اَجِنَّةٌ فِيۡ بُطُوۡنِ اُمَّهٰتِكُمۡ﴾ ’’وہ تمھیں (اس وقت سے) بخوبی جانتا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمھارے احوال، تمھاری جبلتوں کو جو اس نے پیدا کی ہیں، خوب جانتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے تمھیں جو حکم دیا ہے ان میں سے بہت سے احکام کی تعمیل میں تمھاری کمزوری اور سستی کو، محرمات کے ارتکاب پر آمادہ کرنے والے دواعی کی کثرت کو، ان محرمات کی طرف راغب کرنے والے جذبات کو، اور محرمات کے ارتکاب کی راہ میں حائل ہونے والے موانع کے عدم وجود کو زیادہ جانتا ہے۔تمھارے اندر کمزوری موجود ہے جس کا مشاہدہ اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے تمھیں جس زمین سے نکالا اور جب تم اپنی ماؤ ں کے پیٹوں میں تھے اور یہ کمزوری تمھارے اندر ہمیشہ موجود رہی۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک چیز کا حکم دیا اگرچہ اس کی تعمیل کے لیے اس نے تمھارے اندر قوت رکھی مگر پھر بھی کمزوری تمھارے اندر موجود رہی۔پس اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ان احوال کا علم رکھتا ہے، حکمت الٰہی اور جُودِ ربّانی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنی رحمت و مغفرت، اپنے عفو و درگزر اور اپنے احسان سے ڈھانپ لے اور تم سے تمام جرائم اور گناہوں کو دور کر دے۔ خاص طور پر جبکہ ہر وقت بندے کا مقصد اپنے رب کی رضا کا حصول، ہر آن ایسے اعمال میں کوشش جو اس کے قریب کرتے ہیں اور ایسے گناہوں سے فرار جو اس کے آقا کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں ، پھر اس سے لغزش صادر ہوجائے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کریم اور سب سے بڑا جواد ہے وہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔پس اس قسم کے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کی مغفرت کے قریب رہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام احوال میں اس کی دعائیں قبول کرے۔ بنابریں فرمایا :﴿ فَلَا تُزَؔكُّـوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ﴾ ’’لہٰذا تم اپنے آپ کی پاکیزگی بیان نہ کرو۔‘‘ یعنی مدح کے حصول کی خواہش کی بنا پر لوگوں کو اپنے نفس کی طہارت کی خبر نہ دیتے پھرو ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى﴾ ’’وہ اسے (بھی) خوب جانتا ہے جس نے تقویٰ اختیا رکیا۔‘‘ تقویٰ کا مقام دل ہے، اللہ تعالیٰ اس سے مطلع ہے ۔دل کے اندر جو نیکی، بدی یا تقویٰ موجود ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جزا دے گا، رہے لوگ تو وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمھارے کام نہیں آ سکتے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences