As-Sa'diAd‑Dukhan · 44:1–37

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

الدخان

Ad-Dukhan

The Smoke · Meccan · 59 ayahs

44:1–16Page 496

حمٓ ١

Ḥā, Meem.1

وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡمُبِينِ ٢

By the clear Book,

إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ ٣

Indeed, We sent it down during a blessed night.1 Indeed, We were to warn [mankind].

فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ ٤

Therein [i.e., on that night] is made distinct1 every precise matter -

أَمۡرٗا مِّنۡ عِندِنَآۚ إِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ ٥

[Every] matter [proceeding] from Us. Indeed, We were to send [a messenger]

رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٦

As mercy from your Lord. Indeed, He is the Hearing, the Knowing,

رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَآۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ٧

Lord of the heavens and the earth and that between them, if you would be certain.

لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ رَبُّكُمۡ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٨

There is no deity except Him; He gives life and causes death. [He is] your Lord and the Lord of your first forefathers.

بَلۡ هُمۡ فِي شَكّٖ يَلۡعَبُونَ ٩

But they are in doubt, amusing themselves.

فَٱرۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَأۡتِي ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٖ مُّبِينٖ ١٠

Then watch for the Day when the sky will bring a visible smoke

يَغۡشَى ٱلنَّاسَۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٞ ١١

Covering the people; this is a painful torment.

رَّبَّنَا ٱكۡشِفۡ عَنَّا ٱلۡعَذَابَ إِنَّا مُؤۡمِنُونَ ١٢

[They will say], "Our Lord, remove from us the torment; indeed, we are believers."

أَنَّىٰ لَهُمُ ٱلذِّكۡرَىٰ وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُولٞ مُّبِينٞ ١٣

How will there be for them a reminder [at that time]? And there had come to them a clear Messenger.

ثُمَّ تَوَلَّوۡاْ عَنۡهُ وَقَالُواْ مُعَلَّمٞ مَّجۡنُونٌ ١٤

Then they turned away from him and said, "[He was] taught [and is] a madman."

إِنَّا كَاشِفُواْ ٱلۡعَذَابِ قَلِيلًاۚ إِنَّكُمۡ عَآئِدُونَ ١٥

Indeed, We will remove the torment for a little. Indeed, you [disbelievers] will return [to disbelief].

يَوۡمَ نَبۡطِشُ ٱلۡبَطۡشَةَ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ إِنَّا مُنتَقِمُونَ ١٦

The Day We will strike with the greatest assault, indeed, We will take retribution.

حٰمٓ(1) قسم ہے کتاب واضح کی(2) بلاشبہ نازل کیا ہم نے اس کو ایک بابرکت رات میں، بے شک ہم ہیں ڈرانے والے(3) اس (رات) میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر معاملے حکمت والے کا (4) بطور حکم ہماری طرف سے، بے شک ہم ہیں (رسول) بھیجنے والے(5) رحمت(مہربانی)سے آپ کے رب کی طرف سے، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے(6) رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور (ان کا) جو ان کے درمیان میں ہے، اگر ہو تم یقین کرنے والے(7) نہیں کوئی معبود برحق مگر وہی، وہ زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، رب ہے تمھارا اور رب ہےتمھارے پہلے باپ دادا کا(8)بلکہ وہ شک میں کھیل رہے ہیں(9) پس انتظار کیجیے! اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں ظاہر (10) ڈھانپ لے گا وہ لوگوں کو، یہ ہے عذاب درد ناک (11) اے ہمارے رب! دور کر دے ہم سےیہ عذاب، بلاشبہ ہم ایمان لانے والے ہیں (12) کیوں کر ہو گی ان کے لیے نصیحت؟ جبکہ آ چکا ان کے پاس ایک رسول بیان کرنے والا (13) پھر منہ موڑ لیا انھوں نے اس سے اور کہا، وہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے (14) بے شک ہم دور کرنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے، بلاشبہ تم دوبارہ وہی کرنے والے ہو (15) جس دن ہم پکڑیں گے پکڑنا بڑا (سخت) بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں (16)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[3-1] یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لیے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بے شک وہ اتاری گئی ہے: ﴿فِيۡ لَيۡلَةٍ مُّبٰرَؔكَةٍ ﴾ یعنی خیرکثیر اور برکت والی رات میں۔ اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو، بہترین رات، بہترین دن میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززینِ اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنھیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے، پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انھیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہو گی۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا كُنَّا مُنۡذِرِيۡنَ ۰۰فِيۡهَا﴾ ’’بے شک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

[4] اس (فضیلت والی) رات میں۔‘‘ جس میں قرآن نازل ہوا ﴿يُفۡرَقُ كُلُّ اَمۡرٍ حَكِيۡمٍ﴾ ’’ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کونی و قدری اور شرعی حکم کو، جس کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے، لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتابت اور تفریق و امتیاز جو لیلۃ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کر دیتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کر دیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔

[5]﴿اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم، ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے ﴿اِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ﴾ ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔

[6]﴿رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے، ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انھیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ﴾ یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمدوستائش اور احسان کا مالک ہے۔

[7، 8]﴿رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔‘‘ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے اور ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ ﴿اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ ﴾ اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ﴿يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمھارے مرنے کے بعد تمھیں اکٹھا کرے گا اور تمھارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہو گی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی۔ ﴿رَبُّكُمۡ وَرَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے سختیوں کو دور کرنے والا ہے۔

[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد، جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبیین کے باوجود ﴿فِيۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ ﴾ یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لیے انھیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہوولعب میں مشغول ہیں جو انھیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔

[16-10]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آن پہنچا ہے ﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔‘‘ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔ اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھویں سے کیا مراد ہے، چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیر کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انھیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے۔ نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا:﴿اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔‘‘ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے، چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انھوں نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بدعا فرمائی: ’اَللّٰھُمَّ أَعِنِّی عَلَیْھِمْ بِسِنِینَ کَسِنِی یُوسُفُ‘ ’’اے اللہ! ان کے مقابلے میں ان قحط کے سالوں کے ذریعے سے میری مدد فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے‘‘(صحیح البخاري، الأدب، باب تسمیۃ الولید، حدیث: 6200، و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث: 2798) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ انھیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ ﴾ سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہو گا۔ وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہو گا، ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے ۔پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔ تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَ﴾ ’’ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ٹال دیتے ہیں، مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔‘‘ میں اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے۔ نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انھیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے، مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھویں کی طرح تکلیف دے گا۔ پہلا قول، صحیح تفسیر ہے۔ آیات کریمہ:﴿فَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ۰۰ يَّغۡشَى النَّاسَ١ؕ هٰؔذَا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ۰۰ رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ﴾ میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہو گا اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی: ﴿اِنَّا كَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِيۡلًا اِنَّـكُمۡ عَآىِٕدُوۡنَۘ۰۰ يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡرٰى ١ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴾ تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ اس کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ واللّٰہ اعلم۔

44:17–33Page 496

۞ وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَجَآءَهُمۡ رَسُولٞ كَرِيمٌ ١٧

And We had already tried before them the people of Pharaoh, and there came to them a noble messenger [i.e., Moses],

أَنۡ أَدُّوٓاْ إِلَيَّ عِبَادَ ٱللَّهِۖ إِنِّي لَكُمۡ رَسُولٌ أَمِينٞ ١٨

[Saying], "Render to me the servants of Allāh.1 Indeed, I am to you a trustworthy messenger,"

وَأَن لَّا تَعۡلُواْ عَلَى ٱللَّهِۖ إِنِّيٓ ءَاتِيكُم بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ١٩

And [saying], "Be not haughty with Allāh. Indeed, I have come to you with clear evidence.

وَإِنِّي عُذۡتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمۡ أَن تَرۡجُمُونِ ٢٠

And indeed, I have sought refuge in my Lord and your Lord, lest you stone me.1

وَإِن لَّمۡ تُؤۡمِنُواْ لِي فَٱعۡتَزِلُونِ ٢١

But if you do not believe me, then leave me alone."

فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَٰٓؤُلَآءِ قَوۡمٞ مُّجۡرِمُونَ ٢٢

And [finally] he called to his Lord that these were a criminal people.

فَأَسۡرِ بِعِبَادِي لَيۡلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ٢٣

[Allāh said], "Then set out with My servants by night. Indeed, you are to be pursued.

وَٱتۡرُكِ ٱلۡبَحۡرَ رَهۡوًاۖ إِنَّهُمۡ جُندٞ مُّغۡرَقُونَ ٢٤

And leave the sea in stillness.1 Indeed, they are an army to be drowned."

كَمۡ تَرَكُواْ مِن جَنَّٰتٖ وَعُيُونٖ ٢٥

How much they left behind of gardens and springs

وَزُرُوعٖ وَمَقَامٖ كَرِيمٖ ٢٦

And crops and noble sites

وَنَعۡمَةٖ كَانُواْ فِيهَا فَٰكِهِينَ ٢٧

And comfort wherein they were amused.

كَذَٰلِكَۖ وَأَوۡرَثۡنَٰهَا قَوۡمًا ءَاخَرِينَ ٢٨

Thus. And We caused to inherit it another people.

فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَا كَانُواْ مُنظَرِينَ ٢٩

And the heaven and earth wept not for them, nor were they reprieved.

وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ ٣٠

And We certainly saved the Children of Israel from the humiliating torment -

مِن فِرۡعَوۡنَۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيٗا مِّنَ ٱلۡمُسۡرِفِينَ ٣١

From Pharaoh. Indeed, he was a haughty one among the transgressors.

وَلَقَدِ ٱخۡتَرۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ عِلۡمٍ عَلَى ٱلۡعَٰلَمِينَ ٣٢

And We certainly chose them by knowledge over [all] the worlds.

وَءَاتَيۡنَٰهُم مِّنَ ٱلۡأٓيَٰتِ مَا فِيهِ بَلَٰٓؤٞاْ مُّبِينٌ ٣٣

And We gave them of signs that in which there was a clear trial.

اور البتہ تحقیق آزمایا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو اور آیا(تھا)ان کے پاس رسول معزز (17)(اس نے فرعون سے کہا )یہ کہ حوالے کر دو میرے اللہ کے بندوں کو، بے شک میں تمھارے لیے رسول ہوں امانت دار (18) اور یہ کہ نہ سرکشی کرو تم مقابل اللہ کے، بلاشبہ میں لاتا ہوں تمھارے پاس دلیل واضح(19) اور بے شک پناہ لی ہے میں نے اپنے رب اور تمھارے رب کی اس بات سے کہ تم سنگسار کر دو مجھے (20) اور اگر نہیں ایمان لاتے تم میری بات پر تو الگ ہو جاؤ تم مجھ سے (21) پس پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ یہ لوگ تو مجرم ہیں (22)(حکم ہوا) پس لے چل میرے بندوں کو رات کے وقت، بے شک تم پیچھا کیے جاؤ گے (23) اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا، بلاشبہ وہ لشکر ہیں کہ غرق کیے جائیں گے وہ (اس میں)(24) کتنے ہی چھوڑ گئے وہ باغات اور چشمے (25) اور کھیتیاں اور محل عمدہ (26) اور سامان راحت کہ تھے وہ ان میں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے (27) اسی طرح ہوا، اور وارث کر دیا ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو (28) پس نہ روئے ان پر آسمان اور زمین اور نہ تھے وہ مہلت دیے گئے(29) اور البتہ تحقیق نجات دی ہم نے بنی اسرائیل کو عذاب رسوا کن سے (30)(یعنی ) فرعون سے، بلاشبہ تھا وہ ایک سرکش، حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے (31) اور تحقیق پسند کیا ہم نے ان کو، اپنے علم پر، اوپر جہانوں کے (32) اور دی (تھیں) ہم نے ان کو نشانیاںوہ کہ ان میں تھی آزمائش صریح (33)

[17] رسول مصطفی جناب محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰu کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَهُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمرانu کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔

[18]﴿اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَيَّ عِبَادَ اللّٰهِ ﴾ یعنی موسیٰu نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا: ’’اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو‘‘ اس سے حضرت موسیٰu کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دواور اپنے بدترین عذاب سے انھیں رہائی دے دو، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہوا ہے۔ پس ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِيۡنٌ﴾ میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔

[19]﴿وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ﴾ ’’اور الله كے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔‘‘ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ ۔ ﴿اِنِّيۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’بے شک میں تمھارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں‘‘ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو موسیٰu لے کر تشریف لائے۔

[20] پس انھوں نے موسیٰuکی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰu نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا: ﴿وَاِنِّيۡ عُذۡتُ بِرَبِّيۡ وَرَبِّكُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ﴾ یعنی میں اس بات سے اپنے اور تمھارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔

[21]﴿وَاِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِيۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴾ ’’اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔‘‘ یعنی تمھارے لیے تین راستے ہیں: ۱۔ مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔ ۲۔ اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔ ۳۔ پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی موسیٰu کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔

[22]﴿فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔‘‘ انھوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبانِ مقال سے زیادہ بلیغ ہے ، جیسا کہ خود اپنے لیے (زبانِ مقال سے) یہ دعا کی تھی: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ ﴾(القصص: 28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘

[23] پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتا دیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔

[24]﴿وَاتۡرُكِ الۡبَحۡرَ رَهۡوًا ﴾ ’’سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے ۔‘‘ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، پس انھوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر کا پانی ان راستوں کے مابین پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا۔ حضرت موسیٰu اور ان کی قوم سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اس طرح اپنے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہو جائیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق کر دیا جائے گا۔‘‘ جب حضرت موسیٰu کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ پس وہ آخری آدمی تک سب غرق ہو گئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنا دیا، جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔

[28-25] بنابریں فرمایا: ﴿كَمۡ تَرَؔكُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۰۰وَّزُرُوۡعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيۡمٍۙ۰۰ وَّنَعۡمَةٍ كَانُوۡا فِيۡهَا فٰكِهِيۡنَۙ ۰۰كَذٰلِكَ١۫ وَاَوۡرَثۡنٰهَا ﴾ ’’وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنایا۔‘‘ یعنی اس مذکورہ نعمت کا ﴿قَوۡمًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ دوسرے لوگوں کو ۔ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے: ﴿كَذٰلِكَ١ؕ وَاَوۡرَثۡنٰهَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾(الشعراء: 26؍59) ’’اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنا دیا۔‘‘

[29]﴿فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ ﴾ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین یعنی ان کے لیے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتیٰ کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے اپنے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ ﴾ یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کر دیا گیا۔

[30، 31] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ نَجَّيۡنَا بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُهِيۡنِ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔‘‘ جس میں وہ مبتلا تھے۔ ﴿مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ﴾ ’’فرعون سے‘‘ کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ ﴿اِنَّهٗ كَانَ عَالِيًا ﴾ بلاشبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ ﴿مِّنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔

[32]﴿وَلَقَدِ اخۡتَرۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے انھیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ ﴿عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لیے ان کے استحقاق کی بنا پر ﴿عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ qکو برپا کیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لیے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کیے جو دوسرے پر نہ کیے۔

[33]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ ﴾ اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کیے۔ ﴿مِّنَ الۡاٰيٰتِ ﴾ بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں﴿مَا فِيۡهِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔‘‘ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے نبی موسیٰu جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں، اس پر ایک دلیل ہے۔

44:34–37Page 497

إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ ٣٤

Indeed, these [disbelievers] are saying,

إِنۡ هِيَ إِلَّا مَوۡتَتُنَا ٱلۡأُولَىٰ وَمَا نَحۡنُ بِمُنشَرِينَ ٣٥

"There is not but our first death, and we will not be resurrected.

فَأۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٣٦

Then bring [back] our forefathers, if you should be truthful."

أَهُمۡ خَيۡرٌ أَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٖ وَٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ أَهۡلَكۡنَٰهُمۡۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ مُجۡرِمِينَ ٣٧

Are they better or the people of Tubbaʿ1 and those before them? We destroyed them, [for] indeed, they were criminals.

بلاشبہ یہ لوگ البتہ کہتے ہیں (34) نہیں ہے یہ مگر مرنا ہمارا پہلا ہی، اور نہیں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے (35) پس لے آؤ تم ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (36) کیا وہ بہتر ہیں یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے؟ ہلاک کر دیا ہم نے ان کو، بلاشبہ تھے وہ مجرم لوگ (37)

[34، 35] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے: ﴿اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ بے شک یہ جھٹلانے والے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِيۡنَ ﴾ ’’یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔‘‘ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔

[36] پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا: ﴿فَاۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ ’’پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرلاؤ ۔‘‘ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا، جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بھلا! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء و واجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لانے میں کون سا تلازم ہے؟ آپ کی دعوت کی صداقت پر، آیات و دلائل، ہر لحاظ سے نہایت تواتر سے دلالت کرتے ہیں۔

[37] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَهُمۡ خَيۡرٌ ﴾ ’’کیا یہ بہتر ہیں؟‘‘ یعنی یہ مخاطبین ﴿اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ؕ اَهۡلَكۡنٰهُمۡ١ٞ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ﴾ ’’یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انھیں ہلاک کردیا بے شک وہ مجرم تھے۔‘‘ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلاکت کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском