Yusuf 12:86
Joseph · Juz 13 · Page 245
قَالَ إِنَّمَآ أَشۡكُواْ بَثِّي وَحُزۡنِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٨٦
He said, "I only complain of my suffering and my grief to Allāh, and I know from Allāh that which you do not know.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 12:84–86
اور اس نے منہ پھیرا ان سے اور کہا ہائے افسوس اوپر یوسف کے اور سفید ہو گئیں آنکھیں اس کی غم سے اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا (84)انھوں نے کہا، قسم اللہ کی! تو سدا یاد کرتا رہے گا یوسف کو یہاں تک کہ ہو جائے تو (غم میں ) گھل جانے والا یا ہو جائے تو ہلاک ہونے والوں سے (85)اس نے کہا، میں تو شکایت کرتا ہوں اپنی بے قراری اور اپنے غم کی صرف اللہ کی طرف اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو نہیں جانتے تم(86)
[84] یعنی جب یعقوبu کے بیٹوں نے انھیں یہ خبر سنائی تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا، ان پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دل میں چھپے ہوئے غم اور کرب کی وجہ سے رو رو کر ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں ۔ ﴿ فَهُوَ كَظِيۡمٌ ﴾ ’’سو وہ اپنے آپ کو گھونٹ رہا تھا‘‘ یعنی ان کا دل حزن و غم سے لبریز تھا۔ ﴿ وَقَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوۡسُفَ ﴾ ’’اور کہا، اے افسوس یوسف پر‘‘ یعنی پرانا حزن و غم اور نہ ختم ہونے والا اشتیاق جو حضرت یعقوبu نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا، ظاہر ہوگیا اور اس نئی اور پہلی مصیبت کی نسبت قدرے ہلکی مصیبت نے پہلی مصیبت کی یاد تازہ کر دی۔
[85] یعقوبu کے بیٹوں نے ان کے حال پر تعجب کرتے ہوئے کہا: ﴿تَاللّٰهِ تَفۡتَؤُا تَذۡكُرُ يُوۡسُفَ ﴾ ’’اللہ کی قسم! آپ اسی طرح یوسف کو یاد کرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے تمام احوال میں یوسفu کو یاد کرتے رہیں گے۔ ﴿ حَتّٰى تَكُوۡنَ حَرَضًا ﴾ ’’یہاں تک کہ آپ فنا ہو جائیں گے‘‘ آپ حرکت تک نہیں کر سکیں گے اور آپ میں بولنے کی قدرت نہیں رہے گی۔ ﴿اَوۡ تَكُوۡنَؔ مِنَ الۡهٰؔلِكِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جائیں گے آپ ہلاک‘‘ یعنی آپ یوسفu کو یاد کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے اس کو یاد کرنا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
[86]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّيۡ ﴾ ’’میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب‘‘ یعنی میں جو بات کرتا ہوں ﴿ وَحُزۡنِيۡۤ ﴾ ’’اور اپنا غم‘‘ وہ جو میرے دل میں پوشیدہ ہے ﴿ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے سامنے‘‘ یعنی میں اپنے حزن و غم کا شکوہ تمھارے پاس یا کسی اور کے پاس نہیں کرتا بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس کرتا ہوں ۔ اس لیے تم جو چاہو کہتے رہو۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ضرور انھیں میرے پاس لوٹائے گا اور ان سب کو میرے پاس اکٹھا کر کے میری آنکھیں ٹھنڈی کرے گا۔
Page 245
12:79
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأۡخُذَ إِلَّا مَن وَجَدۡنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّظَٰلِمُونَ ٧٩
He said, "[I seek] the refuge of Allāh [to prevent] that we take except him with whom we found our possession. Indeed, we would then be unjust."
12:80
فَلَمَّا ٱسۡتَيۡـَٔسُواْ مِنۡهُ خَلَصُواْ نَجِيّٗاۖ قَالَ كَبِيرُهُمۡ أَلَمۡ تَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ أَبَاكُمۡ قَدۡ أَخَذَ عَلَيۡكُم مَّوۡثِقٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبۡلُ مَا فَرَّطتُمۡ فِي يُوسُفَۖ فَلَنۡ أَبۡرَحَ ٱلۡأَرۡضَ حَتَّىٰ يَأۡذَنَ لِيٓ أَبِيٓ أَوۡ يَحۡكُمَ ٱللَّهُ لِيۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡحَٰكِمِينَ ٨٠
So when they had despaired of him, they secluded themselves in private consultation. The eldest of them said, "Do you not know that your father has taken upon you an oath by Allāh and [that] before you failed in [your duty to] Joseph? So I will never leave [this] land until my father permits me or Allāh decides for me,1 and He is the best of judges.
1 translator’s note
- i.e., in my favor by bringing about the release of Benjamin. ↩
12:81
ٱرۡجِعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيكُمۡ فَقُولُواْ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبۡنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدۡنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حَٰفِظِينَ ٨١
Return to your father and say, 'O our father, indeed your son has stolen, and we did not testify except to what we knew. And we were not witnesses of the unseen.1
1 translator’s note
- i.e., We could not have known when we gave you the oath that he would steal and be apprehended. ↩
12:82
وَسۡـَٔلِ ٱلۡقَرۡيَةَ ٱلَّتِي كُنَّا فِيهَا وَٱلۡعِيرَ ٱلَّتِيٓ أَقۡبَلۡنَا فِيهَاۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ٨٢
And ask the city in which we were and the caravan in which we came - and indeed, we are truthful.'"
12:83
قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ أَنفُسُكُمۡ أَمۡرٗاۖ فَصَبۡرٞ جَمِيلٌۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَنِي بِهِمۡ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ ٨٣
[Jacob] said, "Rather, your souls have enticed you to something, so patience is most fitting. Perhaps Allāh will bring them to me all together. Indeed, it is He who is the Knowing, the Wise."
12:84
وَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبۡيَضَّتۡ عَيۡنَاهُ مِنَ ٱلۡحُزۡنِ فَهُوَ كَظِيمٞ ٨٤
And he turned away from them and said, "Oh, my sorrow over Joseph," and his eyes became white1 from grief, for he was [of that] a suppressor.2
12:85
قَالُواْ تَٱللَّهِ تَفۡتَؤُاْ تَذۡكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوۡ تَكُونَ مِنَ ٱلۡهَٰلِكِينَ ٨٥
They said, "By Allāh, you will not cease remembering Joseph until you become fatally ill or become of those who perish."
12:86
قَالَ إِنَّمَآ أَشۡكُواْ بَثِّي وَحُزۡنِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٨٦
He said, "I only complain of my suffering and my grief to Allāh, and I know from Allāh that which you do not know.