Al-BaqarahJuz 2 · Page 36

Al-Baqarah 2:228

The Cow · Juz 2 · Page 36

وَٱلۡمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٖۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِيٓ أَرۡحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤۡمِنَّ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنۡ أَرَادُوٓاْ إِصۡلَٰحٗاۚ وَلَهُنَّ مِثۡلُ ٱلَّذِي عَلَيۡهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٞۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ٢٢٨

Divorced women remain in waiting [i.e., do not remarry] for three periods,1 and it is not lawful for them to conceal what Allāh has created in their wombs if they believe in Allāh and the Last Day. And their husbands have more right to take them back in this [period] if they want reconciliation.2 And due to them [i.e., the wives] is similar to what is expected of them, according to what is reasonable.3 But the men [i.e., husbands] have a degree over them [in responsibility and authority]. And Allāh is Exalted in Might and Wise.

3 translator’s notes
  1. Either menstrual periods or periods of purity between menstruation. See also 65:1-7.

    [87] The husband may return her to himself during the ʿiddah period of a first and second divorce without a new marriage contract.

    [88] The wife has specific rights upon her husband, just as the husband has rights upon her.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:228

اور مطلقہ عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو تین حیض تک اور نہیں حلال ان کے لیے یہ کہ چھپائیں وہ اس کو جو پیدا کیا اللہ نے ان کے رحموں میں اگر ہیں وہ ایمان رکھتیں ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے ،اور خاوند ان کے زیادہ حق دار ہیں ان کو لوٹا لینے کے اس (مدت) میں، اگر ارادہ رکھیں وہ اصلاح کا،اور (ان) عورتوں کا (حق ہے مردوں پر) مانند اس کے جو ہے ان (عورتوں) پر، مطابق دستور کے،اور مردوں کو ان پر ایک فضیلت ہے اور اللہ غالب، خوب حکمت والا ہے(228)

[228] یعنی وہ عورتیں جن کو ان کے شوہروں نے طلاق دے دی ہے ﴿ يَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ﴾ ’’اپنے تئیں روکے رکھیں ‘‘ یعنی وہ انتظار کریں اور عدت پوری کریں ﴿ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ ﴾ ’’تین حیض‘‘ قرء کے معنی میں اختلاف ہے، بعض کے نزدیک اس کے معنی حیض اور بعض کے نزدیک طہر کے ہیں۔ تاہم صحیح مسلک یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں اور اس عدت کی متعددحکمتیں ہیں، مثلاً جب مطلقہ عورت کو بتکرار تین حیض آجاتے ہیں تو براء ت رحم ہو جاتی ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے پیٹ میں حمل نہیں اور اس طرح نسب میں اختلاط کا کوئی خدشہ نہیں رہتا۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے مطلقہ عورتوں پر واجب کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو کچھ تخلیق کیا ہے اس کے بارے میں آگاہ کریں۔ اور حمل یا حیض کا چھپانا ان پر حرام ٹھہرایا ہے کیونکہ ان کا حیض یا حمل چھپانا بہت سے مفاسد کا باعث بنتا ہے۔ حمل کو چھپانا اس بات کا موجب بنتا ہے کہ عورت اپنے حمل کے نسب کو کسی ایسے شخص کے ساتھ ملحق کر دے جس میں اسے رغبت ہے یا محض عدت کے پورا ہو جانے میں جلد بازی کے لیے حیض آنے کا اعلان کر دے۔ پس جب یہ عورت اپنے حمل کو اس کے باپ کے سوا کسی اور کے ساتھ ملحق کر دیتی ہے، تو یہ چیز قطع رحمی اور میراث سے محروم کرنے کا باعث بنتی ہے، اس کے لیے اس کے محرموں اور اقارب سے پردے کا موجب بنتی ہے اور بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ اس الحاق سے محارم کے درمیان نکاح کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں باپ کے سوا کسی اور شخص سے اس حمل کا الحاق ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اس کے تمام توابع، مثلاً میراث وغیرہ کا اثبات ہوتا ہے اور جس شخص کے ساتھ اس حمل کا الحاق کیا گیا ہوتا ہے، اس کے تمام اقارب کو اس بچے کے اقارب بنا دیتا ہے اور اس میں بہت بڑا شر اور فساد ہے جسے بندوں کے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اگر اس میں مذکورہ باتیں نہ بھی ہوں، تب بھی مطلقہ کا ایسے شخص سے نکاح کر لینا، جس سے اس کا نکاح جائز ہی نہیں تھا، تو اس کا یہ ایک نتیجہ ہی اس فعل کی برائی کے لیے کافی ہے، کیونکہ یہ نکاح، نکاح نہیں، زنا ہو گا، جو کبیرہ گناہ اور اس پر اصرار ہے۔ رہا حیض کو چھپانا تو اس نے عجلت سے کام لے کر جھوٹ بولتے ہوئے حیض آنے کی خبر دی ہے تو اس میں پہلے خاوند کی حق تلفی اور اپنے آپ کو دوسرے کے لیے مباح قرار دینا ہے، نیز اس سے دیگر برائیاں متفرع ہوتی ہیں جیسا کہ گزشتہ سطور میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اگر وہ حیض کے عدم وجود کی جھوٹی اطلاع دیتی ہے تاکہ عدت لمبی ہو جائے اور اس طرح وہ نان و نفقہ حاصل کر سکے جو شوہر پر واجب نہ تھا تو یہ دو پہلوؤں سے اس پر حرام ہے۔ (۱) اب وہ اس کی مستحق نہیں رہی۔ (۲) اس کو شریعت کی طرف منسوب کرنا حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔ اس صورت میں بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ عدت کے ختم ہو جانے کے بعد خاوند رجوع کر لیتا ہے (یعنی خاوند مطلقہ کی اطلاع کے مطابق سمجھتا ہے کہ ابھی عدت ختم نہیں ہوئی) یہ رجوع درحقیقت زنا ہے۔ کیونکہ یہ عورت اب اس کے لیے اجنبی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنۡ يَّكۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِيۡۤ اَرۡحَامِهِنَّ اِنۡ كُنَّ يُؤۡمِنَّ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’ان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس چیز کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے، اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتی ہیں‘‘ حیض یا حمل کو چھپانا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتیں۔ اگر ان کا اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان ہوتا اور انھیں علم ہوتا کہ انھیں ان کے اعمال کی جزا ملے گی تو ان سے کبھی یہ فعل صادر نہ ہوتا۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت اپنے معاملات کے بارے میں جن کی اطلاع اس کے سوا کسی اور کو نہیں ہوتی، مثلاً حیض اور حمل وغیرہ۔۔۔ کوئی خبر دیتی ہے، تو وہ قابل قبول ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ وَبُعُوۡلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’اور ان کے خاوند ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ یعنی جب تک بیویاں عدت کے اندر عدت پوری ہونے کی منتظر ہیں اس وقت تک ان کے شوہر ان سے رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں ﴿ اِنۡ اَرَادُوۡۤا اِصۡلَاحًا ﴾ ’’اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہے‘‘ یعنی اگر شوہر رغبت، الفت اور مودت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر رجوع کرنے سے ان کا مقصد اصلاح نہیں تو وہ انھیں واپس لانے کا حق نہیں رکھتے، کیونکہ بیوی کو نقصان پہنچانے اور عدت کو طول دینے کی غرض سے رجوع کرنا جائز نہیں۔ کیا خاوند اس قسم کا مقصد و ارادہ رکھتے ہوئے رجوع کرنے کا اختیار رکھتا ہے؟ فقہاء اس بارے میں دو آراء رکھتے ہیں۔جمہور فقہاء کہتے ہیں کہ تحریم کے باوجود خاوند یہ اختیار رکھتا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ اگر شوہر اصلاح کا ارادہ نہیں رکھتا تو رجوع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ جیسا کہ آیت کریمہ کے ظاہری الفاظ دلالت کرتے ہیں۔اور اس انتظار میں یہ دوسری حکمت ہے۔ وہ اس طرح کہ بسا اوقات شوہر بیوی کو طلاق دے کر نادم ہوتا ہے تو اس کے لیے یہ مدت رکھ دی گئی ہے تاکہ وہ دوبارہ اپنے فیصلہ طلاق پر غور کر لے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے درمیان الفت چاہتا ہے ان کے درمیان جدائی اسے پسند نہیں۔ جیسا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:’اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللہِ الطَّلَاقُ‘ ’’حلال چیزوں میں سے جو سب سے زیادہ اللہ کو ناپسند ہے، وہ طلاق ہے۔‘‘(سنن أبي داود، الطلاق، باب في کراھیۃ الطلاق، حديث:2178) رجوع کا یہ حق طلاق رجعی کے ساتھ مخصوص ہے۔ رہی طلاق بائن تو اس میں خاوند کو رجوع کا حق نہیں۔ البتہ اگر میاں بیوی دونوں رجوع پر راضی ہوں، تو نکاح کی پوری شرائط کے ساتھ نیا نکاح ضروری ہے۔ ﴿ وَلَهُنَّ مِثۡلُ الَّذِيۡ عَلَيۡهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’اور عورتوں کا حق ویسا ہی ہے جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔‘‘ یعنی عورتوں کے اپنے شوہروں پر وہی حقوق ہیں جو شوہروں کے اپنی بیویوں پر ہیں۔ میاں بیوی کے ایک دوسرے پر حقوق کے بارے میں اصل مرجع ’’معروف‘‘ ہے، یہاں معروف سے مراد اس زمانے اور اس شہر میں عورتوں مردوں کے بارے میں جاری عادت ہے۔ زمان و مکان، احوال و اشخاص اور عادات میں تغیر و تبدل کے ساتھ معروف میں تبدیلی ہو جائے گی۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ نان و نفقہ، لباس، معاشرتی تعلق، گھر، اسی طرح میاں بیوی کے درمیان خاص تعلق، ان سب کا مرجع ’’معروف‘‘ ہے۔ یہ عقد مطلق کی صورت میں ہے، یعنی نکاح کے وقت کوئی شرط طے نہ کی گئی ہو۔ لیکن جو نکاح مطلق نہیں، مقید یعنی شرطوں کے ساتھ ہو گا، تو وہاں ان شرطوں کا ایفاء ضروری ہو گا۔ البتہ کوئی ایسی شرط نہ ہو جو حرام کو حلال اور کسی حلال کو حرام ٹھہرا دے۔ ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٌ ﴾ ’’اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلرِّؔجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ ﴾(النساء:4؍34) ’’مرد عورتوں پر حاکم و قوام ہیں کیونکہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے نیز اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ منصب نبوت، منصب قضا، امامت صغری، امامت کبری اور دیگر تمام شعبوں کی سربراہی مردوں سے مخصوص ہے۔ میراث وغیرہ جیسے بہت سے معاملات میں بھی مرد کو عورت کے مقابلے میں دوگنا حیثیت حاصل ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ غالب صاحب حکمت ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ عزت اور غلبہ اور بہت بڑے تسلط اور اختیارات کا مالک ہے۔ تمام کائنات اس کے سامنے سرافگندہ ہے مگر وہ اپنے غلبہ اور اختیارات کے باوجود اپنے تصرفات میں نہایت حکمت سے کام لیتا ہے۔ اس آیت کریمہ کے عموم سے مندرجہ ذیل صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ (۱) اگر مطلقہ حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ (۲) اگر مطلقہ غیر مدخولہ ہو یعنی اس کے ساتھ خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو، تو اس پر کوئی عدت نہیں۔ (۳) لونڈیوں کی عدت دو حیض ہے۔ جیسا کہ صحابہ کرامyکا قول ہے۔ آیات کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے کہ آیت میں مذکورہ عورت سے مراد آزاد عورت ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 36

Al-BaqarahJuz 2 · Page 36

2:225

لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوبُكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٞ ٢٢٥

Allāh does not impose blame upon you for what is unintentional in your oaths, but He imposes blame upon you for what your hearts have earned. And Allāh is Forgiving and Forbearing.1

1 translator’s note
  1. Overlooking many violations, postponing penalty and granting opportunities for repentance and rectification despite having the power to punish immediately. ↩

2:226

لِّلَّذِينَ يُؤۡلُونَ مِن نِّسَآئِهِمۡ تَرَبُّصُ أَرۡبَعَةِ أَشۡهُرٖۖ فَإِن فَآءُو فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢٢٦

For those who swear not to have sexual relations with their wives1 is a waiting time of four months, but if they return [to normal relations] - then indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

1 translator’s note
  1. Without divorcing them. By such an oath the woman is deprived of her right in marriage but is not free to marry another. She may not be kept in such a condition beyond the four-month limit. ↩

2:227

وَإِنۡ عَزَمُواْ ٱلطَّلَٰقَ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٢٢٧

And if they decide on divorce - then indeed, Allāh is Hearing and Knowing.

2:228

وَٱلۡمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٖۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِيٓ أَرۡحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤۡمِنَّ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنۡ أَرَادُوٓاْ إِصۡلَٰحٗاۚ وَلَهُنَّ مِثۡلُ ٱلَّذِي عَلَيۡهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٞۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ٢٢٨

Divorced women remain in waiting [i.e., do not remarry] for three periods,1 and it is not lawful for them to conceal what Allāh has created in their wombs if they believe in Allāh and the Last Day. And their husbands have more right to take them back in this [period] if they want reconciliation.2 And due to them [i.e., the wives] is similar to what is expected of them, according to what is reasonable.3 But the men [i.e., husbands] have a degree over them [in responsibility and authority]. And Allāh is Exalted in Might and Wise.

3 translator’s notes
  1. Either menstrual periods or periods of purity between menstruation. See also 65:1-7.

    [87] The husband may return her to himself during the ʿiddah period of a first and second divorce without a new marriage contract.

    [88] The wife has specific rights upon her husband, just as the husband has rights upon her.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩

2:229

ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٢٩

Divorce is twice. Then [after that], either keep [her] in an acceptable manner or release [her] with good treatment. And it is not lawful for you to take anything of what you have given them unless both fear that they will not be able to keep [within] the limits of Allāh.1 But if you fear that they will not keep [within] the limits of Allāh, then there is no blame upon either of them concerning that by which she ransoms herself. These are the limits of Allāh, so do not transgress them. And whoever transgresses the limits of Allāh - it is those who are the wrongdoers [i.e., the unjust].

1 translator’s note
  1. i.e., deal fairly with each other. ↩

2:230

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٢٣٠

And if he has divorced her [for the third time], then she is not lawful to him afterward until [after] she marries a husband other than him.1 And if he [i.e., the latter husband] divorces her [or dies], there is no blame upon them [i.e., the woman and her former husband] for returning to each other if they think that they can keep [within] the limits of Allāh. These are the limits of Allāh, which He makes clear to a people who know [i.e.,understand].

1 translator’s note
  1. With the intention of permanence, not merely in order to return to the previous husband. ↩
As-Sa'diTafsir · 2:228

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском