Al-BaqarahJuz 2 · Page 36

Al-Baqarah 2:229

The Cow · Juz 2 · Page 36

ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٢٩

Divorce is twice. Then [after that], either keep [her] in an acceptable manner or release [her] with good treatment. And it is not lawful for you to take anything of what you have given them unless both fear that they will not be able to keep [within] the limits of Allāh.1 But if you fear that they will not keep [within] the limits of Allāh, then there is no blame upon either of them concerning that by which she ransoms herself. These are the limits of Allāh, so do not transgress them. And whoever transgresses the limits of Allāh - it is those who are the wrongdoers [i.e., the unjust].

1 translator’s note
  1. i.e., deal fairly with each other. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 2:229

طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر روک رکھنا ہے موافق دستور کے یا چھوڑ دینا ہے ساتھ بھلائی کے،اور نہیں حلال تمھارے لیے یہ کہ لو تم اس (مہر) میں سے جو دیا تم نے ان کو، کچھ بھی مگر یہ کہ وہ دونوں ڈریں اس بات سے کہ نہ قائم رکھ سکیں گے وہ اللہ کی حدوں کو، پس (اے مومنو!) اگر تم خوف کھا ؤ اس بات سے کہ وہ دونوں نہ قائم رکھ سکیں گے اللہ کی حدوں کو تو نہیں گناہ ان پر اس (مال) میں جو (خلع کے) فدیے میں دے عورت وہ مال، یہ حدیں ہیں اللہ کی، سو نہ تجاوز کرو تم ان سےاور جو کوئی تجاوز کرے اللہ کی حدوں سے تو وہی ہیں ظالم(229)

[229] جاہلیت اور اسلام کے ابتدائی دور میں مرد اپنی بیوی کو طلاق دیتا تھا تو اس کی عدت کی کوئی انتہا نہیں تھی ۔۔۔ لہٰذا مرد جب اپنی بیوی کو نقصان پہنچانا چاہتا تو اسے طلاق دے دیتا اور عدت پوری ہونے سے پہلے رجوع کر لیتا۔ پھر اسے طلاق دے دیتا اور پھر اختتام عدت سے پہلے رجوع کر لیتا اور ہمیشہ اس طرح کرتا رہتا۔ اس طرح عورت کو جس ضرر اور نقصان کا سامنا کرنا پڑتا وہ اللہ ہی جانتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا :﴿ اَلطَّلَاقُ﴾ یعنی وہ طلاق جس میں خاوند کو رجعت کا حق حاصل ہے۔ ﴿ مَرَّتٰنِ ﴾ ’’صرف دو مرتبہ ہے‘‘ تاکہ اگر خاوند اپنی بیوی کو ضرر پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا تو اس مدت کے دوران میں طلاق دینے کے فیصلے سے رجوع کر سکتا ہے۔ رہا اس سے زیادہ مرتبہ طلاق دینا تو یہ طلاق کا محل نہیں۔ کیونکہ جو کوئی دو مرتبہ سے زیادہ طلاق دیتا ہے وہ یا تو حرام فعل کے ارتکاب کی جرأت کرتا ہے یا اسے اپنی بیوی کو رکھنے میں رغبت نہیں ہوتی، بلکہ وہ اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خاوند کو حکم دیا ہے کہ یا تو وہ بھلے طریقے سے اپنی بیوی کو رکھ لے ﴿ بِمَعۡرُوۡفٍ ﴾ ’’بطریق شائستہ‘‘ یعنی اچھے رہن سہن اور اچھے سلوک کے ساتھ اور اس کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اس جیسے دوسرے لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ کرتے ہیں اور یہی زیادہ راجح بات ہے، یا اس کو آزاد کر دے اور اس سے جدا ہو جائے ﴿ بِـاِحۡسَانٍ ﴾ یعنی بھلے طریقے سے۔ احسان یعنی بھلائی یہ ہے کہ اس نے بیوی کو جو مال وغیرہ دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لے، اس لیے کہ یہ ظلم ہے اور یہ کچھ دیے بغیر مال لینے کے زمرے میں آئے گا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّؔاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ شَيۡـًٔا ﴾ ’’تمھارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم نے ان عورتوں کو جو کچھ دیا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس لو‘‘ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ دونوں اس بات سے ڈریں کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے‘‘ اس میں معروف کے ساتھ خلع کرنے کا بیان ہے (جس میں خاوند کو معاوضہ لے کر طلاق دینے کی اجازت ہے۔) اس کی صورت یہ ہے کہ اگر عورت اپنے شوہر کو اس کی عادات یا جسمانی بدصورتی کی وجہ سے ناپسند کرتی ہو اور ڈرتی ہو کہ وہ خاوند (کے حقوق) کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کر سکے گی۔ (تو وہ خلع کے ذریعے سے طلاق حاصل کر سکتی ہے۔)﴿ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا يُقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَاجُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيۡمَا افۡتَدَتۡ بِهٖ ﴾ ’’پس اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو عورت جو معاوضہ دے گی تو ان پر کوئی گناہ نہیں‘‘ اس لیے کہ یہ اس جدائی اور علیحدگی کا عوض ہے جو وہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے جب یہ حکمت پائی جائے تب خلع مشروع ہے۔ ﴿ تِلۡكَ ﴾ یعنی وہ تمام احکام جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے ﴿ حُدُوۡدُ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی حدود ہیں۔‘‘ یعنی وہ احکام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے مشروع فرمایا اور حکم دیا کہ ان پر عمل کیا جائے ﴿وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے، پس وہی لوگ ظالم ہیں‘‘ اس سے بڑا اور کون سا ظلم ہے کہ حلال سے تجاوز کر کے حرام کی حدود میں داخل ہوا جائے؟ کیا جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال ٹھہرائی ہے، وہ اس کے لیے کافی نہیں؟ ظلم کی تین اقسام ہیں:(۱) بندے کا ان معاملات میں ظلم کا ارتکاب کرنا جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین ہیں۔ (۲) بندے کا ظلم اکبر یعنی شرک کا ارتکاب۔ (۳) بندے کا ان معاملات میں ظلم کا ارتکاب، جو اس کے اور لوگوں کے درمیان ہیں۔ اللہ تعالیٰ شرک کو توبہ کے بغیر نہیں بخشتا اور حقوق العباد کو اللہ تعالیٰ بالکل نہیں چھوڑے گا (بلکہ ایک دوسرے کو بدلہ دلوایا جائے گا) اور وہ ظلم جو بندے اور اس کے مابین ہے اور شرک سے کم تر ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر منحصر ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 36

Al-BaqarahJuz 2 · Page 36

2:225

لَّا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوبُكُمۡۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٞ ٢٢٥

Allāh does not impose blame upon you for what is unintentional in your oaths, but He imposes blame upon you for what your hearts have earned. And Allāh is Forgiving and Forbearing.1

1 translator’s note
  1. Overlooking many violations, postponing penalty and granting opportunities for repentance and rectification despite having the power to punish immediately. ↩

2:226

لِّلَّذِينَ يُؤۡلُونَ مِن نِّسَآئِهِمۡ تَرَبُّصُ أَرۡبَعَةِ أَشۡهُرٖۖ فَإِن فَآءُو فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢٢٦

For those who swear not to have sexual relations with their wives1 is a waiting time of four months, but if they return [to normal relations] - then indeed, Allāh is Forgiving and Merciful.

1 translator’s note
  1. Without divorcing them. By such an oath the woman is deprived of her right in marriage but is not free to marry another. She may not be kept in such a condition beyond the four-month limit. ↩

2:227

وَإِنۡ عَزَمُواْ ٱلطَّلَٰقَ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ٢٢٧

And if they decide on divorce - then indeed, Allāh is Hearing and Knowing.

2:228

وَٱلۡمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٖۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِيٓ أَرۡحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤۡمِنَّ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنۡ أَرَادُوٓاْ إِصۡلَٰحٗاۚ وَلَهُنَّ مِثۡلُ ٱلَّذِي عَلَيۡهِنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيۡهِنَّ دَرَجَةٞۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ٢٢٨

Divorced women remain in waiting [i.e., do not remarry] for three periods,1 and it is not lawful for them to conceal what Allāh has created in their wombs if they believe in Allāh and the Last Day. And their husbands have more right to take them back in this [period] if they want reconciliation.2 And due to them [i.e., the wives] is similar to what is expected of them, according to what is reasonable.3 But the men [i.e., husbands] have a degree over them [in responsibility and authority]. And Allāh is Exalted in Might and Wise.

3 translator’s notes
  1. Either menstrual periods or periods of purity between menstruation. See also 65:1-7.

    [87] The husband may return her to himself during the ʿiddah period of a first and second divorce without a new marriage contract.

    [88] The wife has specific rights upon her husband, just as the husband has rights upon her.

    ↩
  2. ↩
  3. ↩

2:229

ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٢٩

Divorce is twice. Then [after that], either keep [her] in an acceptable manner or release [her] with good treatment. And it is not lawful for you to take anything of what you have given them unless both fear that they will not be able to keep [within] the limits of Allāh.1 But if you fear that they will not keep [within] the limits of Allāh, then there is no blame upon either of them concerning that by which she ransoms herself. These are the limits of Allāh, so do not transgress them. And whoever transgresses the limits of Allāh - it is those who are the wrongdoers [i.e., the unjust].

1 translator’s note
  1. i.e., deal fairly with each other. ↩

2:230

فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٢٣٠

And if he has divorced her [for the third time], then she is not lawful to him afterward until [after] she marries a husband other than him.1 And if he [i.e., the latter husband] divorces her [or dies], there is no blame upon them [i.e., the woman and her former husband] for returning to each other if they think that they can keep [within] the limits of Allāh. These are the limits of Allāh, which He makes clear to a people who know [i.e.,understand].

1 translator’s note
  1. With the intention of permanence, not merely in order to return to the previous husband. ↩
As-Sa'diTafsir · 2:229

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском