TahaJuz 16 · Page 313

Taha 20:37

Ta-Ha · Juz 16 · Page 313

وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً أُخۡرَىٰٓ ٣٧

And We had already conferred favor upon you another time,

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 20:37–41

اور البتہ تحقیق احسان کر چکے ہیں ہم تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی (37)جب الہام کیا تھا ہم نے تیری ماں کی طرف، وہ جو (اب) وحی کی جاتی ہے (38) یہ کہ ڈال دے تو اس (موسیٰ) کو صندوق میں ، پھر ڈال دے اس (صندوق) کو دریا میں ، پس لا ڈالے گا اس کو دریا ساحل پر، کہ پکڑے اس کو دشمن میرا اور دشمن اس کااور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سےاور تو پرورش کیا جائے میری آنکھوں کے سامنے (39)جب چلتی تھی تیری بہن، پس کہتی تھی وہ، کیا رہنمائی کروں میں تمھاری اس شخص پر جو کفالت کرے اس کی؟ پھر لوٹایا ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف تاکہ ٹھنڈی ہو آنکھ اس کی اور نہ غم کھائے وہ، اور قتل کیا تھا تو نے ایک نفس کو، پس نجات دی ہم نے تجھے غم سےاورآزمایا ہم نے تجھے (خوب آزمانا)، پس ٹھہرا رہا تو کئی سال اہل مدین میں ، پھر آیا تو اوپر تقدیر (الٰہی) کے، اے موسی! (40) اور خاص کر لیا میں نے تجھے اپنے کام کے لیے (41)

[39-37] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو دین، وحی،رسالت اور قبولیت دعا سے نوازا… اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰu کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چنانچہ فرمایا:﴿وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً اُخۡرٰۤى ﴾ ’’اور ہم نے تجھ پر احسان کیا دوسری مرتبہ‘‘ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ u کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انھیں حضرت موسیٰu کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چنانچہ انھوں نے آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا یعنی دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰu کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔اسی لیے فرمایا:﴿ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَبَّةً مِّنِّيۡ﴾ ’’اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ ﴿وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِيۡ ﴾ یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہو سکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پس موسیٰ u ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا ۔

[40] اور یہ اللہ تعالیٰ کی حسن تدبیر ہی تھی کہ جب موسیٰ u دشمن کے قبضے میں چلے گئے تو ان کی والدہ سخت بے چین ہو گئیں اور ان کا دل رنجیدہ ہو گیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ حضرت موسیٰu کا بھید کھول دیتیں ۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ u پر تمام دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کر دیا۔ انھوں نے کسی عورت کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تاکہ معاملہ آخرکار ماں تک پہنچے اور ماں ان کو دودھ پلائے، بچہ ماں کے پاس رہے اور ماں مطمئن اور پرسکون ہو اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں ۔ فرعون کے کارندے دودھ پلانے والیوں کو ایک ایک کر کے بچے کے پاس لائے مگر اس نے کسی کی چھاتی کو قبول نہ کیا۔ موسیٰ u کی بہن آئی اور فرعون اور اسکے کارندوں سے کہنے لگی۔ ﴿ هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰۤى اَهۡلِ بَيۡتٍ يَّكۡفُلُوۡنَهٗ لَكُمۡ وَهُمۡ لَهٗ نٰصِحُوۡنَ ﴾(القصص:28؍12)’’کیا میں تمھیں ایسے گھرانے کے متعلق نہ بتاؤں جو اسکی کفالت کریں اور اس کی خیر خواہی بھی کریں ؟‘‘ چنانچہ اس طرح ہم نے موسیٰu کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔﴿ فَرَجَعۡنٰكَ اِلٰۤى اُمِّؔكَ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ١ؕ۬ وَقَتَلۡتَ نَفۡسًا ﴾ ’’پھر ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹایا تاکہ اسکی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کر دیا۔‘‘ وہ مقتول قبطی تھا۔ ایک روز موسیٰu ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ دو شخص آپس میں لڑ رہے ہیں ان میں ایک موسیٰ u کی قوم کا آدمی تھا اور دوسرا ان کی دشمن قوم یعنی قبطیوں سے تعلق رکھتا تھا۔ ﴿ فَاسۡتَغَاثَهُ الَّذِيۡ مِنۡ شِيۡعَتِهٖ عَلَى الَّذِيۡ مِنۡ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَؔكَزَهٗ مُوۡسٰؔى فَقَضٰى عَلَيۡهِ ﴾(القصص:28؍15)’’جو شخص ان کی قوم سے تھا اس شخص کے خلاف موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا جو اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا، موسیٰ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔‘‘ اس پر موسیٰ u نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ حضرت موسیٰu کو معلوم ہوا کہ دربار کے لوگ ان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان کو قتل کر دیا جائے تو وہ وہاں سے فرار ہو گئے۔﴿ فَنَجَّيۡنٰكَ مِنَ الۡغَمِّ ﴾ ’’پس ہم نے تجھ کو نجات دی غم سے‘‘ یعنی گناہ کی سزا اور قتل سے۔ ﴿ وَفَتَنّٰكَ فُتُوۡنًا ﴾ یعنی ہم نے تجھ کو آزمایا اور تجھ کو اپنے تمام احوال میں راست رو پایا یا ہم تجھ کو مختلف احوال و اطوار میں منتقل کرتے رہے یہاں تک کہ تو اپنے اس مقام کو پہنچ گیا جہاں تجھے پہنچنا تھا۔ ﴿فَلَبِثۡتَ سِنِيۡنَ فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ﴾ ’’پس تو اہل مدین میں کئی سال رہا۔‘‘ یعنی جب حضرت موسیٰu کو فرعون اور اس کے درباریوں نے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو موسیٰu وہاں سے فرار ہو کر مدین پہنچ گئے اور وہاں انھوں نے نکاح کر لیا اور مدین میں آٹھ یا دس سال رہے۔ ﴿ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوۡسٰؔى ﴾ ’’پھر تو آیا تقدیر کے مطابق اے موسیٰ!‘‘ یعنی تو اس مقام پر اتفاقاً، بغیر قصدو ارادہ اور بغیر ہماری تدبیر کے نہیں پہنچا بلکہ ہمارے لطف و کرم اور اندازے سے یہاں پہنچا ہے۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ موسیٰ کلیم اللہ u پر اللہ تعالیٰ کی کامل نظر عنایت تھی۔

[41] بنا بریں فرمایا: ﴿ وَاصۡطَنَعۡتُكَ لِنَفۡسِيۡ﴾ ’’اور میں نے تجھ کو پسند کر لیا اپنی ذات کے لیے۔‘‘ یعنی میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کا فیضان کیا اور تجھ کو اپنی خصوصی توجہ اور تربیت سے نوازا تاکہ تو میرا خاص محبوب بندہ بن جائے اور ایسے مقام پر فائز ہو جائے جہاں تک کوئی شاذو نادر شخص ہی پہنچتا ہے۔ مخلوق میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا دوست اپنے کمال مطلوب میں بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو وہ اس کو اس مقام پہ پہنچانے کے لیے انتہائی کوشش اور جدوجہد کرتا ہے… جب مخلوق کا یہ حال ہے تو آپ کا رب قادر و کریم کے بارے میں کیا خیال ہے، کہ وہ مخلوق میں سے جس کو اپنا محبوب اور دوست بنانے کے لیے چن لے اس کے ساتھ کیا کرے گا؟

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 313

TahaJuz 16 · Page 313

20:13

وَأَنَا ٱخۡتَرۡتُكَ فَٱسۡتَمِعۡ لِمَا يُوحَىٰٓ ١٣

And I have chosen you, so listen to what is revealed [to you].

20:14

إِنَّنِيٓ أَنَا ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱعۡبُدۡنِي وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكۡرِيٓ ١٤

Indeed, I am Allāh. There is no deity except Me, so worship Me and establish prayer for My remembrance.

20:15

إِنَّ ٱلسَّاعَةَ ءَاتِيَةٌ أَكَادُ أُخۡفِيهَا لِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا تَسۡعَىٰ ١٥

Indeed, the Hour is coming - I almost conceal it1 - so that every soul may be recompensed according to that for which it strives.

1 translator’s note
  1. Meaning that Allāh (subḥānahu wa taʿālā) keeps knowledge of the Hour hidden from everyone except Himself. ↩

20:16

فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنۡهَا مَن لَّا يُؤۡمِنُ بِهَا وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ فَتَرۡدَىٰ ١٦

So do not let one avert you from it1 who does not believe in it and follows his desire, for you [then] would perish.

1 translator’s note
  1. From preparation for the Hour or for the Hereafter. ↩

20:17

وَمَا تِلۡكَ بِيَمِينِكَ يَٰمُوسَىٰ ١٧

And what is that in your right hand, O Moses?"

20:18

قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّؤُاْ عَلَيۡهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَـَٔارِبُ أُخۡرَىٰ ١٨

He said, "It is my staff; I lean upon it, and I bring down leaves for my sheep and I have therein other uses."

20:19

قَالَ أَلۡقِهَا يَٰمُوسَىٰ ١٩

[Allāh] said, "Throw it down, O Moses."

20:20

فَأَلۡقَىٰهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٞ تَسۡعَىٰ ٢٠

So he threw it down, and thereupon it was a snake, moving swiftly.

20:21

قَالَ خُذۡهَا وَلَا تَخَفۡۖ سَنُعِيدُهَا سِيرَتَهَا ٱلۡأُولَىٰ ٢١

[Allāh] said, "Seize it and fear not; We will return it to its former condition.

20:22

وَٱضۡمُمۡ يَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٍ ءَايَةً أُخۡرَىٰ ٢٢

And draw in your hand to your side; it will come out white without disease - another sign,

20:23

لِنُرِيَكَ مِنۡ ءَايَٰتِنَا ٱلۡكُبۡرَى ٢٣

That We may show you [some] of Our greater signs.

20:24

ٱذۡهَبۡ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ٢٤

Go to Pharaoh. Indeed, he has transgressed [i.e., tyrannized]."

20:25

قَالَ رَبِّ ٱشۡرَحۡ لِي صَدۡرِي ٢٥

[Moses] said, "My Lord, expand [i.e., relax] for me my breast [with assurance]

20:26

وَيَسِّرۡ لِيٓ أَمۡرِي ٢٦

And ease for me my task

20:27

وَٱحۡلُلۡ عُقۡدَةٗ مِّن لِّسَانِي ٢٧

And untie the knot from my tongue

20:28

يَفۡقَهُواْ قَوۡلِي ٢٨

That they may understand my speech.

20:29

وَٱجۡعَل لِّي وَزِيرٗا مِّنۡ أَهۡلِي ٢٩

And appoint for me a minister [i.e., assistant] from my family -

20:30

هَٰرُونَ أَخِي ٣٠

Aaron, my brother.

20:31

ٱشۡدُدۡ بِهِۦٓ أَزۡرِي ٣١

Increase through him my strength

20:32

وَأَشۡرِكۡهُ فِيٓ أَمۡرِي ٣٢

And let him share my task

20:33

كَيۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيرٗا ٣٣

That we may exalt You much

20:34

وَنَذۡكُرَكَ كَثِيرًا ٣٤

And remember You much.

20:35

إِنَّكَ كُنتَ بِنَا بَصِيرٗا ٣٥

Indeed, You are of us ever Seeing."

20:36

قَالَ قَدۡ أُوتِيتَ سُؤۡلَكَ يَٰمُوسَىٰ ٣٦

[Allāh] said, "You have been granted your request, O Moses.

20:37

وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً أُخۡرَىٰٓ ٣٧

And We had already conferred favor upon you another time,

As-Sa'diTafsir · 20:37

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском