Taha 20:95
Ta-Ha · Juz 16 · Page 318
قَالَ فَمَا خَطۡبُكَ يَٰسَٰمِرِيُّ ٩٥
[Moses] said, "And what is your case, O Sāmirī?"
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 20:95–97
موسیٰ نے کہا، پس کیامعاملہ ہے تیرا اے سامری؟ (95) اس نے کہا، دیکھا تھا میں نے اس چیز کو کہ نہ دیکھا تھا ان لوگوں نے اسے، پس بھر لی میں نے ایک مٹھی رسول (جبریل) کے نشان قدم سے، پھر پھینکا میں نے اس کواور اسی طرح مزین کیا تھا میرے نفس نے (96) موسیٰ نے کہا،پس جا تو، پس بے شک تیرے لیے ہے زندگی بھر کہ تو کہتا رہے نہ ہاتھ لگانا (مجھے)اور بلاشبہ تیرے لیے وعدہ کا وقت ہے کہ ہرگز نہیں خلاف کیا جائے گا تیرے حق میں اس سے اور دیکھ تو طرف اپنے معبود کی وہ جو ہو گیا تھا تواس کی پرستش کرنے والا، البتہ ضرور جلائیں گے ہم اسے، پھر اڑائیں گے ہم (اس کی راکھ) سمندر میں (مکمل طور پر) اڑانا (97)
[96,95] یعنی یہ جو تو نے سب کچھ کیا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ سامری نے جواب دیا۔ ﴿ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’میں نے وہ چیز دیکھی جو انھوں نے نہیں دیکھی۔‘‘ یعنی وہ جبریلu تھے جن کو سامری نے سمندر سے باہر نکلتے اور فرعون کے اپنے لشکر سمیت ڈوبتے وقت گھوڑی پر سوار دیکھا۔ جیسا کہ مفسرین کی رائے ہے، یعنی میں نے گھوڑی کے سم کے نیچے سے خاک کی ایک مٹھی اٹھائی اور بچھڑے (کے بت) پر ڈال دی۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِيۡ نَفۡسِيۡ ﴾ میرے نفس نے مجھے ایسے ہی سمجھایا تھا کہ میں (جبریل کے نقش پا سے) ایک مٹھی خاک لوں اور اسے اس بچھڑے پر ڈال دوں اور اس طرح وہ کچھ ہو جائے جو ہو گیا۔
[97] پس موسیٰ u نے سامری سے کہا: ﴿ فَاذۡهَبۡ ﴾ مجھ سے دور ہو جا ﴿ فَاِنَّ لَكَ فِي الۡحَيٰؔوةِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ﴾یعنی تجھے زندگی میں ایسی سزا دی جائے گی کہ کوئی شخص تیرے قریب آئے گا نہ تجھے چھوئے گا۔ اگر کوئی شخص تیرے پاس آنا چاہے گا تو خود ہی پکار کر اسے کہہ دے گا ’’مجھے مت چھونا، میرے قریب نہ آنا‘‘ یہ تمھارے اس فعل کی سزا ہو گی… کیونکہ سامری نے اس چیز کو چھوا جسے کسی دوسرے نے نہیں چھوا اس نے وہ کچھ جاری کیا جو کسی اور نے جاری نہیں کیا۔﴿ وَاِنَّ لَكَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَهٗ﴾ ’’اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا۔‘‘ پس اس وقت تجھے تیرے اچھے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ﴿ وَانۡظُرۡ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيۡ ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفًا﴾ ’’اور دیکھ تو اپنے اس معبود کی طرف جس کی تو تعظیم و عبادت کرتا ہے۔‘‘ اس سے مراد بچھڑا ہے ﴿لَنُحَرِّؔقَنَّهٗ۠ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّهٗ فِي الۡيَمِّ نَسۡفًا ﴾ ’’ہم اسے جلا کر، اس کا ریزہ ریزہ اڑا دیں گے۔‘‘ اور موسیٰ u نے ایسا ہی کیا۔ اگر وہ بچھڑا معبود ہوتا تو وہ ایذا دینے والے اور تلف کرنے والے سے بچ سکتا تھا۔ بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی، اس لیے موسیٰ u نے بنی اسرائیل کے سامنے اس کو تلف کرنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ اس کو دوبارہ نہ بنا سکیں … اس کو جلانے اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے سمندر میں بکھیرنے سے حضرت موسیٰu کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح بچھڑا جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا ہے اسی طرح ان کے دلوں سے اس کی محبت بھی زائل ہو جائے، نیز اس کے باقی رکھنے میں نفوس کے لیے فتنے کا امکان تھا کیونکہ نفسوں کے اندر باطل کی طرف بڑا قوی داعیہ ہوتا ہے۔
جب ان کے سامنے اس خود ساختہ خدا کا بطلان واضح ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس ہستی کے متعلق آگاہ فرمایا جو عبادت کی مستحق ہے، جو یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، فرمایا:
Page 318
20:88
فَأَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلٗا جَسَدٗا لَّهُۥ خُوَارٞ فَقَالُواْ هَٰذَآ إِلَٰهُكُمۡ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ ٨٨
And he extracted for them [the statue of] a calf which had a lowing sound, and they said, "This is your god and the god of Moses, but he forgot."
20:89
أَفَلَا يَرَوۡنَ أَلَّا يَرۡجِعُ إِلَيۡهِمۡ قَوۡلٗا وَلَا يَمۡلِكُ لَهُمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗا ٨٩
Did they not see that it could not return to them any speech [i.e., response] and that it did not possess for them any harm or benefit?
20:90
وَلَقَدۡ قَالَ لَهُمۡ هَٰرُونُ مِن قَبۡلُ يَٰقَوۡمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحۡمَٰنُ فَٱتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوٓاْ أَمۡرِي ٩٠
And Aaron had already told them before [the return of Moses], "O my people, you are only being tested by it, and indeed, your Lord is the Most Merciful, so follow me and obey my order."
20:91
قَالُواْ لَن نَّبۡرَحَ عَلَيۡهِ عَٰكِفِينَ حَتَّىٰ يَرۡجِعَ إِلَيۡنَا مُوسَىٰ ٩١
They said, "We will never cease being devoted to it [i.e., the calf] until Moses returns to us."
20:92
قَالَ يَٰهَٰرُونُ مَا مَنَعَكَ إِذۡ رَأَيۡتَهُمۡ ضَلُّوٓاْ ٩٢
[Moses] said, "O Aaron, what prevented you, when you saw them going astray,
20:93
أَلَّا تَتَّبِعَنِۖ أَفَعَصَيۡتَ أَمۡرِي ٩٣
From following me? Then have you disobeyed my order?"
20:94
قَالَ يَبۡنَؤُمَّ لَا تَأۡخُذۡ بِلِحۡيَتِي وَلَا بِرَأۡسِيٓۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِي ٩٤
[Aaron] said, "O son of my mother, do not seize [me] by my beard or by my head. Indeed, I feared that you would say, 'You caused division among the Children of Israel, and you did not observe [or await] my word.'"
20:95
قَالَ فَمَا خَطۡبُكَ يَٰسَٰمِرِيُّ ٩٥
[Moses] said, "And what is your case, O Sāmirī?"
20:96
قَالَ بَصُرۡتُ بِمَا لَمۡ يَبۡصُرُواْ بِهِۦ فَقَبَضۡتُ قَبۡضَةٗ مِّنۡ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذۡتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتۡ لِي نَفۡسِي ٩٦
He said, "I saw what they did not see, so I took a handful [of dust] from the track of the messenger1 and threw it,2 and thus did my soul entice me."
20:97
قَالَ فَٱذۡهَبۡ فَإِنَّ لَكَ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَۖ وَإِنَّ لَكَ مَوۡعِدٗا لَّن تُخۡلَفَهُۥۖ وَٱنظُرۡ إِلَىٰٓ إِلَٰهِكَ ٱلَّذِي ظَلۡتَ عَلَيۡهِ عَاكِفٗاۖ لَّنُحَرِّقَنَّهُۥ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُۥ فِي ٱلۡيَمِّ نَسۡفًا ٩٧
[Moses] said, "Then go. And indeed, it is [decreed] for you in [this] life to say, 'No contact.'1 And indeed, you have an appointment [in the Hereafter] you will not fail to keep. And look at your 'god' to which you remained devoted. We will surely burn it and blow it [i.e., its ashes] into the sea with a blast.
1 translator’s note
- i.e., Do not touch me. As chastisement, he was to be completely shunned by all people. ↩
20:98
إِنَّمَآ إِلَٰهُكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ وَسِعَ كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمٗا ٩٨
Your god is only Allāh, except for whom there is no deity. He has encompassed all things in knowledge."