Al-Anbya 21:22
The Prophets · Juz 17 · Page 323
لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ ٢٢
Had there been within them [i.e., the heavens and earth] gods besides Allāh, they both would have been ruined. So exalted is Allāh, Lord of the Throne, above what they describe.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 21:21–25
کیا بنا لیے ہیں انھوں نے معبود زمین میں سے کہ وہ زندہ کر دیں گے (مردوں کو)؟ (21) اگر ہوتے ان (آسمانوں و زمین) میں کئی معبود سوائے اللہ کے تو البتہ بگڑ جاتے وہ دونوں پس پاک ہے اللہ، جو رب ہے عرش کا، ان سے جو وہ بیان کرتے ہیں (22) نہیں پوچھا جاسکتا اس سے اس چیز کی بات جو وہ کرتا ہے، جبکہ وہ (لوگ) پوچھے جائیں گے(23) کیا بنا لیے ہیں انھوں نے سوائے اس کے اور معبود؟ کہہ دیجیے! لاؤ تم دلیل اپنی، یہ (توحید ہی) ذکر ہے ان لوگوں کا جو میرے ساتھ ہیں اور ذکر ہے ان لوگوں کا جو مجھ سے پہلے تھےبلکہ اکثر ان کے نہیں جانتے حق کو، پس وہ اعراض کرنے والے ہیں (24)اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول مگر وحی کرتے تھے ہم اس کی طرف (یہ بات) کہ بلاشبہ نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم عبادت کرو میری ہی (25)
[21] اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اقتدار اور اپنی عظمت کا ذکر کرنے اور اس حقیقت کو بیان کرنے کے بعد کہ ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہے، مشرکین پر نکیر کی جنھوں نے اللہ کے سوا زمین سے معبود بنا لیے ہیں جو انتہائی عاجز اور قدرت سے محروم ہیں ۔ ﴿ هُمۡ يُنۡشِرُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکیں گے؟‘‘ یہ استفہام نفی کے معنٰی میں ہے، یعنی وہ ان کے حشرونشر پر قادر نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتا ہے۔ ﴿وَاتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخۡلُقُوۡنَ شَيۡـًٔؔا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ وَلَا يَمۡلِكُوۡنَ لِاَنۡفُسِهِمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا وَّلَا يَمۡلِكُوۡنَ مَوۡتًا وَّلَا حَيٰؔوةً وَّلَا نُشُوۡرًؔا﴾(الفرقان:25؍3) ’’انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے خدا بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو خود پیدا كيے جاتے ہیں وہ خود اپنے لیے کسی نقصان کا اختیار رکھتے ہیں نہ نفع کا اور نہ وہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمۡ يُنۡصَرُوۡنَؕ۰۰لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ نَصۡرَهُمۡ١ۙ وَهُمۡ لَهُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴾(یٰسین:36؍74،75) ’’انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہیں شائد کہ ان کی طرف سے ان کی مدد کی جائے (حالانکہ) وہ ان کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ تو خود ان کے لشکری ہیں حاضر کیے ہوئے۔‘‘
[22] پس مشرک مخلوق کی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان کی مالک نہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کو ترک کر دیتا ہے جو تمام کمالات کا مالک ہے اور تمام معاملات اور نفع و نقصان اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ یہ توفیق سے محرومی، اس کی بدقسمتی، اس کی جہالت کی فراوانی اور اس کے ظلم کی شدت ہے۔ یہ وجود کائنات صرف ایک ہی الٰہ کے لیے درست اور لائق ہے اور اس وجود کائنات میں صرف ایک ہی رب موجود ہے، اس لیے فرمایا ﴿ لَوۡ كَانَ فِيۡهِمَاۤ ﴾ اگر ہوتے زمین اور آسمان میں ﴿ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا ﴾ ’’کئی معبود اللہ کے سوا تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے۔‘‘خود زمین و آسمان فساد کا شکار ہو جاتے اور زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق میں فساد برپا ہو جاتا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی… جیسا کہ نظر آ رہا ہے بہترین اور کامل ترین انتظام کے تحت چل رہے ہیں جس میں کوئی خلل ہے نہ عیب، جس میں کوئی اختلاف ہے نہ معارضہ… پس کائنات کا یہ انتظام دلالت کرتا ہے کہ ان کی تدبیر کرنے والا، ان کا رب اور ان کا معبود ایک ہے۔ اگر اس کائنات کی تدبیر کرنے والے اور اس کے رب دو یا دو سے زیادہ ہوتے تو اس کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا اور اس کے تمام ارکان منہدم ہو جاتے کیونکہ دونوں معبود ایک دوسرے کے معارض ہوتے اور ایک دوسرے کے انتظام سے مزاحم ہوتے۔ جب ان دو خداؤں میں سے ایک خدا کسی چیز کی تدبیر کا ارادہ کرتا اور دوسرا اس کو معدوم کرنے کا ارادہ کرتا تو بیک وقت دونوں کی مراد کا وجود میں آنا محال ہوتا اور دونوں میں سے کسی ایک کی مراد کا پورا ہونا دوسرے کے عجز اور اس کے عدم اقتدار پر دلالت کرتا ہے اور تمام معاملات میں کسی ایک مراد پر دونوں کا متفق ہونا ناممکن ہے، تب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ وہ غالب و قاہر ہستی جس اکیلی ہی کی مراد بغیر کسی مانع کے وجود میں آتی ہے، وہ اللہ واحد و قہار ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمانع کی دلیل یہ بیان فرمائی۔ ﴿مَا اتَّؔخَذَ اللّٰهُ مِنۡ وَّلَدٍ وَّمَا كَانَ مَعَهٗ مِنۡ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ١ؕ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ﴾(المومنون:23؍91) ’’ا للہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ کوئی دوسرا معبود ہی اس کی خدائی میں اس کے ساتھ شریک ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق کو لے کر علیحدہ ہو جاتا اور غالب آنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے۔ جن اوصاف سے تم اسے موصوف کر رہے ہو اللہ ان سے پاک ہے۔‘‘ اور ایک تفسیر کے مطابق درج ذیل آیت بھی اسی تمانع کی دلیل ہے۔ ﴿ قُلۡ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِي الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا۰۰سُبۡحٰؔنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوۡلُوۡنَ عُلُوًّا كَبِيۡرًؔا ﴾(بنی اسرائیل:17؍42، 43) ’’کہہ دیجیے اگر اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو عرش کے مالک تک پہنچنے کے لیے کوئی راستہ ضرور تلاش کرتے، وہ پاک اور بلند و بالاہے ان باتوں سے جو یہ مشرکین کہہ رہے ہیں ۔‘‘ اسی لیے فرمایا:﴿فَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ایک اور منزہ ہے ہر نقص سے کیونکہ وہ اکیلا کمال کا مالک ہے ﴿ رَبِّ الۡعَرۡشِ ﴾ ’’رب ہے عرش کا۔‘‘ وہ عرش جو مخلوقات کی چھت، تمام مخلوقات سے زیادہ وسیع اور سب سے بڑا ہے، لہٰذا اس سے کمتر مخلوق کے لیے اس کا رب ہونا تو طریق اولیٰ کے باب سے ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی یہ منکرین حق اور کفار جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا اور بیوی ہے، کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک ہے۔ان سب باتوں سے وہ پاک ہے۔
[23]﴿ لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ ﴾ ’’نہیں پوچھا جائے گا اس سے (اس کی بابت) جو وہ کرتا ہے۔‘‘ اس کی طاقت، اس کے غلبہ اور اس کی کامل قدرت کی بنا پر کوئی اس کے افعال میں ، قول یا فعل کے ذریعے، مزاحم نہیں ہو سکتا اس نے اپنی حکمت کاملہ کی بنا پر تمام اشیاء کو ان کے لائق مقامات پر رکھا ہے، ان کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا اور ہر چیز کو احسن طریقے سے بنایا، عقل جس کا اندازہ کر سکتی ہے۔ اس پر سوال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی تخلیق میں کوئی خلل اور نقص نہیں ۔ ﴿ وَهُمۡ ﴾ یعنی تمام مخلوقات ﴿ يُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے افعال و اقوال کے بارے میں جواب دہ ہیں کیونکہ وہ عاجز، محتاج اور غلام ہیں ۔ وہ خود اپنی ذات پر یا کسی دوسرے پر ذرہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔
[24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُلۡ هَاتُوۡا بُرۡهَانَكُمۡ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ هٰؔذَا ذِكۡرُ مَنۡ مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَنۡ قَبۡلِيۡ ﴾یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔﴿بَلۡ اَ كۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ الۡحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے متقدمین کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ اس مسئلے کی توضیح و تبیین کے بارے میں ان کی طرف رجوع کیا جائے، اس لیے اس مسئلہ کو اپنے اس ارشاد مقدس میں مکمل طور پر واضح فرما دیا ہے:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ پس آپﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت اور ان کی کتابوں کا لب لباب اور مقصد ِ وحید، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم اور اس حقیقت کو کھول کر بیان کرنا ہے کہ صرف وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے۔
Page 323
21:11
وَكَمۡ قَصَمۡنَا مِن قَرۡيَةٖ كَانَتۡ ظَالِمَةٗ وَأَنشَأۡنَا بَعۡدَهَا قَوۡمًا ءَاخَرِينَ ١١
And how many a city which was unjust1 have We shattered and produced after it another people.
1 translator’s note
- i.e., its inhabitants persisting in wrongdoing. ↩
21:12
فَلَمَّآ أَحَسُّواْ بَأۡسَنَآ إِذَا هُم مِّنۡهَا يَرۡكُضُونَ ١٢
And when they [i.e., its inhabitants] perceived Our punishment, at once they fled from it.
21:13
لَا تَرۡكُضُواْ وَٱرۡجِعُوٓاْ إِلَىٰ مَآ أُتۡرِفۡتُمۡ فِيهِ وَمَسَٰكِنِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡـَٔلُونَ ١٣
[Some angels said], "Do not flee but return to where you were given luxury and to your homes - perhaps you will be questioned."1
1 translator’s note
- About what happened to you. This is said to them in sarcasm and ridicule. ↩
21:14
قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ١٤
They said, "O woe to us! Indeed, we were wrongdoers."
21:15
فَمَا زَالَت تِّلۡكَ دَعۡوَىٰهُمۡ حَتَّىٰ جَعَلۡنَٰهُمۡ حَصِيدًا خَٰمِدِينَ ١٥
And that declaration of theirs did not cease until We made them [as] a harvest [mowed down], extinguished [like a fire].
21:16
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ ١٦
And We did not create the heaven and earth and that between them in play.
21:17
لَوۡ أَرَدۡنَآ أَن نَّتَّخِذَ لَهۡوٗا لَّٱتَّخَذۡنَٰهُ مِن لَّدُنَّآ إِن كُنَّا فَٰعِلِينَ ١٧
Had We intended to take a diversion,1 We could have taken it from [what is] with Us - if [indeed] We were to do so.
1 translator’s note
- Such as a wife or a child. ↩
21:18
بَلۡ نَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَى ٱلۡبَٰطِلِ فَيَدۡمَغُهُۥ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٞۚ وَلَكُمُ ٱلۡوَيۡلُ مِمَّا تَصِفُونَ ١٨
Rather, We dash the truth upon falsehood, and it destroys it,1 and thereupon it departs. And for you is destruction from that which you describe.2
21:19
وَلَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَمَنۡ عِندَهُۥ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِهِۦ وَلَا يَسۡتَحۡسِرُونَ ١٩
To Him belongs whoever is in the heavens and the earth. And those near Him [i.e., the angels] are not prevented by arrogance from His worship, nor do they tire.
21:20
يُسَبِّحُونَ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَ لَا يَفۡتُرُونَ ٢٠
They exalt [Him] night and day [and] do not slacken.
21:21
أَمِ ٱتَّخَذُوٓاْ ءَالِهَةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ هُمۡ يُنشِرُونَ ٢١
Or have they [i.e., men] taken for themselves gods from the earth who resurrect [the dead]?
21:22
لَوۡ كَانَ فِيهِمَآ ءَالِهَةٌ إِلَّا ٱللَّهُ لَفَسَدَتَاۚ فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ ٢٢
Had there been within them [i.e., the heavens and earth] gods besides Allāh, they both would have been ruined. So exalted is Allāh, Lord of the Throne, above what they describe.
21:23
لَا يُسۡـَٔلُ عَمَّا يَفۡعَلُ وَهُمۡ يُسۡـَٔلُونَ ٢٣
He is not questioned about what He does, but they will be questioned.
21:24
أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗۖ قُلۡ هَاتُواْ بُرۡهَٰنَكُمۡۖ هَٰذَا ذِكۡرُ مَن مَّعِيَ وَذِكۡرُ مَن قَبۡلِيۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٱلۡحَقَّۖ فَهُم مُّعۡرِضُونَ ٢٤
Or have they taken gods besides Him? Say, [O Muḥammad], "Produce your proof. This [Qur’ān] is the message for those with me and the message of those before me."1 But most of them do not know the truth, so they are turning away.
1 translator’s note
- All previous prophets called for the worship of Allāh alone. ↩
Translation: Saheeh International · Text and layout: Quran Foundation · Mushaf fonts: King Fahd Complex, provided by Quran Foundation · Privacy