Al-AnbyaJuz 17 · Page 330

Al-Anbya 21:92

The Prophets · Juz 17 · Page 330

إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ ٩٢

Indeed this, your religion, is one religion,1 and I am your Lord, so worship Me.

1 translator’s note
  1. i.e., a collective way of life or course of conduct followed by a community. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 21:91–94

اور (یاد کیجیے) اس عورت کو جس نے حفاظت کی تھی اپنی شرم گاہ کی، پس پھونکی ہم نے اس میں اپنی روح اور بنایا ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسیٰ) کو (عظیم) نشانی جہان والوں کے لیے (91) بلاشبہ یہ تمھارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمھارا رب ہوں ، سو تم میری ہی عبادت کرو (92) اور ٹکڑے ٹکڑے کر لیا انھوں نے اپنا کام آپس میں (وہ) سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں (93) پس جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں انکار کیا جائے گا ان کی کوشش کا اور بے شک ہم ہیں اس کے لیے لکھنے والے (94)

[91] یعنی مریم[ کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجیے! فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا ﴾ یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم[ نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل u ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم[ کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : ﴿اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾(مریم:19؍18) ’’میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم[ کو ان کے عمل کی جنس ہی سے اس کا بدلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے ایک بیٹے سے نوازا۔ جبریل u نے پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کر دیا ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں کے لیے۔‘‘ کیونکہ حضرت مریم[ کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل ٹھہرا اور پھر بیٹے کو جنم دیا اور اس بیٹے نے گہوارے میں کلام کیا اور بہتان طراز آپ پر جو تہمت لگاتے تھے اس سے مریم[ کی براء ت کا اعلان کیا اور اسی حالت میں انھوں نے اپنے بارے میں آگاہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے جو کہ سب کو معلوم ہیں ۔حضرت مریم اور ان کا فرزند ارجمندi تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بن گئے لوگ نسل در نسل اس واقعے کو بیان کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں ۔

[92] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً﴾ یہ تمام انبیاء و مرسلین جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے وہ تمھاری امت اور تمھارے امام ہیں جن کی راہنمائی میں تم ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہو۔ ان سب کا دین ایک، سب کا راستہ ایک اور سب کا رب ایک ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ ﴾ میں تمھارا رب ہوں جس نے تمھیں پیدا کیا اور دین و دنیا میں اپنی نعمت کے ذریعے سے تمھاری پرورش کی۔ جب تمھارا رب ایک، تمھارا نبی ایک اور تمھارا دین ایک، یعنی عبادت کی تمام انواع کے ذریعے ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا… تو تمھارا وظیفہ اور تم پر فرض ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس لیے فرمایا:﴿ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ ’’پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ پس حرف ’’فاء‘‘ کے ذریعے سے اس جملے کو گزشتہ مضمون کے ساتھ اس طرح مرتب کیا جس طرح مسبب سبب پر مترتب ہوتا ہے۔

[93] مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر ہی رہا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ﴾ یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہو گئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ ﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾(الروم:30؍32) اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے… اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہو گی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آ جائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لیے فرمایا:﴿ كُلٌّ ﴾ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ ﴿ اِلَيۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴾ ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔

[94] پھر منطوق اور مفہوم کے اسلوب میں ، اس جزا کی تفصیل بیان کی، فرمایا:﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ایسے عمل كيے جن کو انبیائے کرام نے مشروع کیا اور کتب الٰہیہ نے ان کی ترغیب دی۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ ﴿ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهٖ﴾ یعنی ہم اس کی کوششوں کو ضائع کریں گے نہ باطل کریں گے بلکہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر عطا کریں گے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوۡن ﴾ یعنی ہم اس کی کوشش کو لوح محفوظ اور ان صحیفوں میں لکھنے والے ہیں جو کرام الکاتبین کے پاس ہیں ۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن نہ ہو تو وہ ثواب آخرت سے محروم اور اپنے دین و دنیا میں خائب و خاسر ہو گا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 330

Al-AnbyaJuz 17 · Page 330

21:91

وَٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلۡنَٰهَا وَٱبۡنَهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ٩١

And [mention] the one who guarded her chastity [i.e., Mary], so We blew into her [garment] through Our angel [i.e., Gabriel], and We made her and her son a sign for the worlds.

21:92

إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ ٩٢

Indeed this, your religion, is one religion,1 and I am your Lord, so worship Me.

1 translator’s note
  1. i.e., a collective way of life or course of conduct followed by a community. ↩

21:93

وَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡۖ كُلٌّ إِلَيۡنَا رَٰجِعُونَ ٩٣

And [yet] they divided their affair [i.e., that of their religion] among themselves,1 [but] all to Us will return.

1 translator’s note
  1. Becoming sects and denominations. ↩

21:94

فَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ ٩٤

So whoever does righteous deeds while he is a believer - no denial will there be for his effort,1 and indeed We [i.e., Our angels], of it, are recorders.

1 translator’s note
  1. Such a person will not be deprived of his due reward. ↩

21:95

وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآ أَنَّهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ ٩٥

And it is prohibited to [the people of] a city which We have destroyed that they will [ever] return1

1 translator’s note
  1. They cannot return to this world, nor can they repent to Allāh. ↩

21:96

حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتۡ يَأۡجُوجُ وَمَأۡجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٖ يَنسِلُونَ ٩٦

Until when [the dam of] Gog and Magog has been opened and they, from every elevation, descend

21:97

وَٱقۡتَرَبَ ٱلۡوَعۡدُ ٱلۡحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَٰخِصَةٌ أَبۡصَٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَٰوَيۡلَنَا قَدۡ كُنَّا فِي غَفۡلَةٖ مِّنۡ هَٰذَا بَلۡ كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٩٧

And [when] the true promise [i.e., the resurrection] has approached; then suddenly the eyes of those who disbelieved will be staring [in horror, while they say], "O woe to us; we had been unmindful of this; rather, we were wrongdoers."

21:98

إِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمۡ لَهَا وَٰرِدُونَ ٩٨

Indeed, you [disbelievers] and what you worship other than Allāh are the firewood of Hell. You will be coming to [enter] it.

21:99

لَوۡ كَانَ هَٰٓؤُلَآءِ ءَالِهَةٗ مَّا وَرَدُوهَاۖ وَكُلّٞ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٩٩

Had these [false deities] been [actual] gods, they would not have come to it, but all are eternal therein.

21:100

لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَهُمۡ فِيهَا لَا يَسۡمَعُونَ ١٠٠

For them therein is heavy sighing, and they therein will not hear.

21:101

إِنَّ ٱلَّذِينَ سَبَقَتۡ لَهُم مِّنَّا ٱلۡحُسۡنَىٰٓ أُوْلَٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُونَ ١٠١

Indeed, those for whom the best [reward] has preceded from Us - they are from it far removed.

As-Sa'diTafsir · 21:92

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском