As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Anbya 21:78–95
21:78–82Page 328
وَدَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ إِذۡ يَحۡكُمَانِ فِي ٱلۡحَرۡثِ إِذۡ نَفَشَتۡ فِيهِ غَنَمُ ٱلۡقَوۡمِ وَكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شَٰهِدِينَ ٧٨
And [mention] David and Solomon, when they judged concerning the field - when the sheep of a people overran it [at night],1 and We were witness to their judgement.
فَفَهَّمۡنَٰهَا سُلَيۡمَٰنَۚ وَكُلًّا ءَاتَيۡنَا حُكۡمٗا وَعِلۡمٗاۚ وَسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوُۥدَ ٱلۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَٱلطَّيۡرَۚ وَكُنَّا فَٰعِلِينَ ٧٩
And We gave understanding of it [i.e., the case] to Solomon, and to each [of them] We gave judgement and knowledge. And We subjected the mountains to exalt [Us], along with David and [also] the birds. And We were doing [that].1
وَعَلَّمۡنَٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوسٖ لَّكُمۡ لِتُحۡصِنَكُم مِّنۢ بَأۡسِكُمۡۖ فَهَلۡ أَنتُمۡ شَٰكِرُونَ ٨٠
And We taught him the fashioning of coats of armor to protect you from your [enemy in] battle. So will you then be grateful?
وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ عَاصِفَةٗ تَجۡرِي بِأَمۡرِهِۦٓ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ ٱلَّتِي بَٰرَكۡنَا فِيهَاۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عَٰلِمِينَ ٨١
And to Solomon [We subjected] the wind, blowing forcefully, proceeding by his command toward the land which We had blessed. And We are ever, of all things, Knowing.
وَمِنَ ٱلشَّيَٰطِينِ مَن يَغُوصُونَ لَهُۥ وَيَعۡمَلُونَ عَمَلٗا دُونَ ذَٰلِكَۖ وَكُنَّا لَهُمۡ حَٰفِظِينَ ٨٢
And of the devils [i.e., jinn] were those who dived for him and did work other than that. And We were of them a guardian.1
اور (یاد کیجیے) داود اور سلیمان کو جس وقت فیصلہ کر رہے تھے وہ دونوں کھیتی کی بابت جبکہ رات کو چر گئی تھیں اس میں بکریاں ایک قوم کی اور تھے ہم ان کے فیصلہ کرنے کے وقت حاضر (78) پس سمجھا دیا ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کواور اہر ایک کو دیا ہم نے حکم اور علم اور تابع کیے تھے ہم نے ساتھ داود کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی (تابع کیے) اور تھے ہم ہی کرنے والے (79) اور سکھائی ہم نے اسے کاریگری لباس (زر ہیں ) بنانے کی تمھارے لیے تاکہ وہ (لباس) حفاظت کرے تمھاری، تمھاری لڑائی سے تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟ (80) اور سلیمان کے لیے ہوا تندوتیز (تابع کر دی ہم نے)، وہ چلتی تھی اس کے حکم سے طرف اس سرزمین کی وہ جو برکت دی تھی ہم نے اس میں اور تھے ہم ہر چیز کو جاننے والے (81) اور کچھ شیطان بھی (ہم نے اس کے تابع کر دیے تھے)، وہ جو غوطہ لگاتے تھے اس کے لیے اور کرتے تھے (اور بھی) کئی کام سوائے اس کے اور تھے ہم ہی ان کی حفاظت کرنے والے (82)
[78] ہمارے دو انبیائے کرام، سلیمان اور داؤدi کا مدح و ثنا کے ساتھ ذکر کیجیے جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کو وسیع علم سے نوازا اور انھیں بندوں کے درمیان فیصلے کرنے کی صلاحیت بخشی اور اس کی دلیل یہ ہے۔ ﴿اِذۡ يَحۡكُمٰنِ فِي الۡحَرۡثِ اِذۡ نَفَشَتۡ فِيۡهِ غَنَمُ الۡقَوۡمِ ﴾ یعنی جب ایک کھیتی کا مالک ان کے پاس فیصلہ کروانے کے لیے آیا جسے دوسرے لوگوں کی بکریاں چر گئی تھیں ، یعنی رات کے وقت کھیت میں داخل ہو گئیں اور اس کے درختوں اور تمام فصل کو چر گئیں ۔ اس جھگڑے میں داؤدu نے فیصلہ کیا کہ تمام بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ بکریوں کے مالک عام طور پر کوتاہی سے کام لیتے ہیں ۔ پس اس طرح آپ نے ان کو سزا دی۔ سلیمان u نے اس قضیے میں حق و صواب کے مطابق فیصلہ سنایا کہ بکریوں کے مالک اپنی بکریاں کھیتی کے مالک کے حوالے کر دیں تاکہ وہ ان بکریوں کے دودھ اور اون سے فائدہ اٹھائے اور بکریوں کے مالک اس کے باغ اور کھیت میں اس وقت تک کام کریں گے جب تک کہ باغ اپنی پہلی حالت پر نہیں آتا۔ جب باغ اپنی پہلی حالت پر واپس آ جائے تو دونوں ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اور ہر شخص اپنا اپنا مال لے لے۔ یہ فیصلہ حضرت سلیمانu کے کمال فہم اور فطانت پر دلالت کرتا ہے۔
[79] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَفَهَّمۡنٰهَا سُلَيۡمٰنَ﴾ یعنی ہم نے سلیمان کو اس قضیے کا فہم عطا کیا۔ یہ چیز اس امر پر دلالت نہیں کرتی کہ داؤد u کو کسی دوسرے قضیے کا فہم بھی عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لیے ان دونوں کا ذکر فرمایا اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مقدس ہے ﴿ وَؔكُلًّا ﴾ ’’اور ہر ایک کو۔‘‘ یعنی داؤد اور سلیمانi کو ﴿ اٰتَيۡنَا حُكۡمًا وَّعِلۡمًا ﴾ ’’دیا ہم نے حکم اور علم۔‘‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور علم سے ہم نے دونوں کو سرفراز کیا تھا۔ یہ واقعہ دلالت کرتا ہے کہ حاکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا فیصلہ کبھی تو حق و صواب کے موافق ہوتا ہے اور کبھی اس میں اس سے خطا بھی ہو جاتی ہے۔ اگر فیصلے میں کوشش و اجتہاد کے باوجود اس سے خطا ہو جائے تو وہ ملامت کا مستحق نہیں ۔ پھر ان مخصوص امور کا ذکر فرمایا جن سے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ نوازا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿ وَّسَخَّرۡنَا مَعَ دَاوٗدَ الۡجِبَالَ يُسَبِّحۡنَ وَالطَّيۡرَ﴾ ’’اور تابع کر دیے ہم نے داؤد کے پہاڑ، وہ تسبیح کرتے تھے اور پرندے بھی۔‘‘ ذکر کیا جاتا ہے کہ داؤد u سب سے زیادہ عبادت گزار اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح و تحمید کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوبصورت اور نرم آواز اور رقت عطا کی تھی جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جب آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمدوثنا بیان کرتے تو ٹھوس پتھر، گونگے پرندے اور بے شعور جانور بھی ان کے ہم زبان ہو جاتے اور یہ داؤد u پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا، اس لیے فرمایا:﴿وَؔكُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی اس فعل کو کرنے والے ہم ہی تھے۔
[80]﴿ وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے داؤد u کو زرہ بکتر بنانے کا علم بخشا اور حضرت داؤدu پہلے شخص ہیں جنھوں نے زرہ بکتر بنائی اور پھر اس کا علم آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور ان کو زرہ بنانا سکھایا، اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ ﴿لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ﴾ یعنی سخت لڑائی اور جنگ میں تمھاری حفاظت کرنے والی ہے۔ ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہو جو اس نے اپنے بندے داؤدu کے توسط سے تمھیں عطا کی؟ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ وَّجَعَلَ لَكُمۡ سَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمُ الۡحَرَّ وَسَرَابِيۡلَ تَقِيۡكُمۡ بَاۡسَكُمۡ١ؕ كَذٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُوۡنَ ﴾(النحل:16؍81) ’’اور تمھارے لیے ایسی پوشاک بنائی جو گرمی سے تمھاری حفاظت کرتی ہے اور ایسی پوشاک بنائی جو جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم سرتسلیم خم کرو۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داؤد u کو زرہ بکتر بنانا سکھانا اور ان کے لیے لوہے کو نرم کرنا، خارق عادت امر ہو… جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ نے داؤد u کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ وہ لوہے کو آگ میں پگھلائے بغیر اسی طرح استعمال میں لاتے تھے گویا کہ وہ گندھا ہوا آٹا اور گندھی مٹی ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ عادت جاریہ کے مطابق انھیں لوہے کو استعمال میں لانا سکھایا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے لوہے کو نرم کرنے کی تعلیم ان معروف اسباب میں سے سے ہو جن کے ذریعے سے آج کل لوہا پگھلایا جاتا ہے… اور یہی راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کو اس پر شکر کرنے کا حکم دیا اور اگر صنعت آہن گری ان امور میں سے نہ ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کی قدرت عطا کی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اس احسان اور اس کے فوائد کا ذکر نہ کرتا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ داؤد u کی جن زرہوں کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد متعین زرہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو زرہ بکتر کی جنس کا ذکر کر کے اپنا احسان یاد دلایا ہے اور وہ احتمال جس کا ذکر اصحاب تفسیر کرتے ہیں تو اس کی کوئی دلیل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ﴿وَاَلَنَّا لَهُ الۡحَدِيۡدَ﴾(سبا:34؍10) ’’ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔‘‘ اور اس میں یہ واضح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بغیر کسی سبب کے نرم کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔
[81]﴿وَلِسُلَيۡمٰنَ الرِّيۡحَ ﴾ یعنی ہم نے سلیمان (u) کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ﴿عَاصِفَةً ﴾ جو بہت تیز چلتی تھی۔ ﴿تَجۡرِيۡ بِاَمۡرِهٖۤ ﴾ جہاں چلنے کا اس کو حکم دیا جاتا تھا ہَوا اس حکم کی اطاعت کرتی تھی۔ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا۔ ﴿اِلَى الۡاَرۡضِ الَّتِيۡ بٰرَؔكۡنَا فِيۡهَا﴾ ’’اس زمین کی طرف، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔‘‘ یعنی سرزمین شام، جو سلیمان u کا مستقر تھا، وہ ہوا کے دوش پر مشرق و مغرب میں سفر کرتے تھے اور ہوا کا ٹھکانا اور لوٹنا ارض مقدس کی طرف ہوتا تھا۔ ﴿وَؔكُنَّا بِكُلِّ شَيۡءٍ عٰؔلِمِيۡنَ﴾ ہمارا علم، تمام چیزوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے ہم نے داؤد اور سلیمان (i) کو ان امور کی تعلیم دی جن کے ذریعے سے ہم نے ان کو اس مقام پر پہنچایا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں ۔
[82]﴿وَمِنَ الشَّيٰطِيۡنِ مَنۡ يَّغُوۡصُوۡنَ لَهٗ وَيَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِكَ﴾ ’’اور جنات میں سے بھی ہم نے بہت سے ان کے تابع کر دیے تھے جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کئی کام کرتے تھے۔‘‘ یہ چیز بھی سلیمان u کے خصائص میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جن اور عفریت مسخر کر دیے اور آپ کو ان پر تسلط بخشا۔ وہ آپ کے لیے بڑے بڑے کام کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے کاموں کو ان کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ان میں کچھ جن وہ تھے جو سمندر میں غوطہ لگاتے اور اس کی تہہ سے موتی نکالتے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے لیے ﴿ مَّحَارِيۡبَ وَتَمَاثِيۡلَ وَجِفَانٍ كَالۡجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رّٰسِيٰتٍ ﴾(سبا:34؍13) ’’اونچی محرابیں (عمارتیں ) تصویریں ، بڑے بڑے حوض کی مانند لگن اور اپنی جگہ پر جمی ہوئی بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔‘‘ اور ان میں سے ایک گروہ کو بیت المقدس کی تعمیر کے لیے مسخر کر رکھا تھا۔ جب سلیمان u نے وفات پائی تو جن بیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے آپ کی وفات کے بعد ایک سال تک یہ کام کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو آپ کی وفات کا علم ہو گیا جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ ﴿وَؔكُنَّا لَهُمۡ حٰؔفِظِيۡنَ﴾ ’’اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔‘‘ یعنی وہ سلیمان u کی نافرمانی پر قادر نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت، غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے ان کو حضرت سلیمانu کا مطیع کر رکھا تھا۔
21:83–84Page 329
۞ وَأَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلضُّرُّ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٨٣
And [mention] Job, when he called to his Lord, "Indeed, adversity has touched me, and You are the most merciful of the merciful."
فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ فَكَشَفۡنَا مَا بِهِۦ مِن ضُرّٖۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ أَهۡلَهُۥ وَمِثۡلَهُم مَّعَهُمۡ رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَا وَذِكۡرَىٰ لِلۡعَٰبِدِينَ ٨٤
So We responded to him and removed what afflicted him of adversity. And We gave him [back] his family and the like thereof with them as mercy from Us and a reminder for the worshippers [of Allāh].
اور (یاد کیجیے) ایوب کو، جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو کہ بے شک پہنچی ہے مجھے تکلیف، او ر تو زیادہ رحم کرنے والوں سے (83) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی، پھر ہٹا دی ہم نے جو کچھ کہ تھی اسے کوئی تکلیف اور دیا ہم نے اسے اہل (کنبہ) اس کا اورمثل ان کے اور لوگ بھی ساتھ ان کے، رحمت کرتے ہوئے اپنی طرف سے اور نصیحت ہے عبادت کرنے والوں کے لیے (84)
[83] یعنی ہمارے بندے اور رسول ایوب (u) کا تعظیم و ثنا اور ان کی قدرو منزلت بڑھاتے ہوئے ذکرکیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نہایت ہی سخت آزمائش میں مبتلا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو صابر اور اللہ سے راضی پایا… اور یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا اور آزمائش کے طور پر شیطان کو آپ پر مسلط کر دیا گیا۔ شیطان نے آپ کے جسم پر پھونک ماری جس کے نتیجہ میں جسم پر بڑے بڑے پھوڑے بن گئے، وہ اس امتحان اور مصیبت میں مدت تک مبتلا رہے۔ اس دوران میں آپ کے گھر والے وفات پا گئے، آپ کا تمام مال چلا گیا تب حضرت ایوب نے اپنے رب کو پکارا:﴿ اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ ﴾ ’’مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ پس انھوں نے اپنے حال کے ذکر کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اب تکلیف اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔
[84] ان کے رب نے اپنی بے پایاں رحمت سے ان کی دعا قبول فرما لی اور فرمایا: ﴿ اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ١ۚ هٰؔذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ ﴾(ص:38؍42) ’’زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے۔‘‘ ایوب u نے زمین پر ایڑی ماری اور وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ آپ نے اس پانی کو پیا اور اس سے غسل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور کر دی۔ ﴿وَّاٰتَيۡنٰهُ اَهۡلَهٗ ﴾ یعنی ہم نے ان کو ان کا مال اور اہل و عیال واپس لوٹا دیے ﴿ وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مثل ان کے ساتھ اور۔‘‘ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عافیت، اہل و عیال اور بہت سا مال عطا کیا ﴿ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’اپنی طرف سے مہربانی کرتے ہوئے۔‘‘ کیونکہ آپ نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ پر راضی رہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخروی ثواب سے پہلے دنیاوی ثواب سے سرفراز کیا۔ ﴿ وَذِكۡرٰى لِلۡعٰبِدِيۡنَ ﴾ ہم نے اس واقعہ کو عبادت گزاروں کے لیے عبرت بنا دیا جو صبر سے کام لیتے ہیں ۔ اگر لوگ دیکھیں کہ ایوب u کس آزمائش میں مبتلا ہوئے پھر اس مصیبت کے زائل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنے بڑے ثواب سے نوازا تو صبر ہی کو اس کا سبب پائیں گے۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ایوب u کی ان الفاظ میں مدح فرمائی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾(ص:38؍44) ’’ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندہ اور اپنے رب کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا تھا۔‘‘ جب اہل ایمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو حضرت ایوبu کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صبر کرتے ہیں ۔
21:85–86Page 329
وَإِسۡمَٰعِيلَ وَإِدۡرِيسَ وَذَا ٱلۡكِفۡلِۖ كُلّٞ مِّنَ ٱلصَّٰبِرِينَ ٨٥
And [mention] Ishmael and Idrees and Dhul-Kifl; all were of the patient.
وَأَدۡخَلۡنَٰهُمۡ فِي رَحۡمَتِنَآۖ إِنَّهُم مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٨٦
And We admitted them into Our mercy. Indeed, they were of the righteous.
اور (یاد کیجیے) اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو ہر ایک (ان میں سے) تھا صبر کرنے والوں سے (85) اور داخل کیا ہم نے انھیں اپنی رحمت میں ، بے شک وہ تھے صالح لوگوں میں سے (86)
[85] یعنی ہمارے چنے ہوئے بندوں اور انبیاء و مرسلین کو بہترین اسلوب میں یاد کیجیے اور بلیغ ترین پیرائے میں ان کی مدح و ثنا کیجیے، یعنی اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور بنی اسرائیل کے انبیاء علیہ السلام کا ذکر کیجیے۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ یعنی تمام انبیاء جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے ﴿ مِّنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ صبر کرنے والے تھے۔ صبر سے مراد نفس کو اس کی طبیعت کی طرف مائل ہونے سے روکنا ہے اور یہ صبر تین انواع پر مشتمل ہے۔۱۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر (یعنی اس کے حکموں کی پابندی) کرنا۔۲۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے صبر کرنا (یعنی اس کے حکموں کی خلاف ورزی نہ کرنا)۳۔ اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاو قدر پر صبر کرنا۔ بندہ صبر کامل کے نام کا اس وقت تک مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ صبر کی مذکورہ تینوں اقسام کا حق ادا نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کو صبر کی صفت کے ساتھ موصوف کیا ہے، لہٰذا یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انھوں نے صبر کی ان تینوں اقسام کو پورا کیا اور صبر کا اسی طرح التزام کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا۔
[86] نیز ان کو ’’صلاح‘‘ کی صفت سے موصوف فرمایا جو مشتمل ہے صلاح قلب پر جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور ہر وقت اس کی طرف انابت سے حاصل ہوتی ہے اور صلاح لسان پر، جس کا مطلب ہر وقت زبان کا اللہ کے ذکر سے تر رہنا ہے اور صلاح جوارح پر، جس کا مطلب جوارح (اعضاء) کو اللہ کی اطاعت میں لگائے رکھنا اور نافرمانی سے ان کو روکے رکھنا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے صبر اور صلاح کی بناء پر اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں سمیٹ لیا، ان کو ان کے دیگر برادر انبیاء و مرسلین میں شامل کیا اور انھیں دنیاوی اور اخروی ثواب عطا کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا بڑا ثواب عطا نہ بھی کیا ہوتا تب بھی اللہ نے جو دنیا میں ان کا ذکر بلند کیا ہے اور آئندہ لوگوں میں انھیں سچی شہرت عطا کی ہے تو ان کے فضل و شرف کے لیے یہی کافی تھا۔
21:87–88Page 329
وَذَا ٱلنُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَٰضِبٗا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقۡدِرَ عَلَيۡهِ فَنَادَىٰ فِي ٱلظُّلُمَٰتِ أَن لَّآ إِلَٰهَ إِلَّآ أَنتَ سُبۡحَٰنَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٨٧
And [mention] the man of the fish [i.e., Jonah], when he went off in anger1 and thought that We would not decree [anything] upon him.2 And he called out within the darknesses,3 "There is no deity except You; exalted are You. Indeed, I have been of the wrongdoers."
فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ وَنَجَّيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡغَمِّۚ وَكَذَٰلِكَ نُـۨجِي ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٨٨
So We responded to him and saved him from the distress. And thus do We save the believers.
اور (یاد کیجیے) مچھلی والے (یونس) کو، جب چلا گیا تھا وہ (اپنی قوم سے) ناراض ہو کر، پس گمان کیا اس نے کہ ہرگز نہیں تنگی کریں گے ہم اس پر، پس پکارا اس نے اندھیروں میں یہ کہ نہیں ہے کوئی معبود (مشکل کشا) مگر تو ہی، پاک ہے تو، بلاشبہ میں ہی ہوں ظالموں میں سے (87) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اور نجات دی ہم نے اسے (اس) غم سےاور اسی طرح نجات دیتے ہیں ہم مومنوں کو (88)
[88-87] یعنی ہمارے بندے اور رسول ذوالنون کو ذکر جمیل اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کریں اور ذوالنون سے مراد حضرت یونس u ہیں ، یعنی مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ ایمان نہ لائے۔ حضرت یونس u نے ان کو نزول عذاب کی وعید سنائی اور عذاب کے نزول کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا۔پس جب ان پر عذاب آیا اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے اور توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(یونس:10؍98) ’’کوئی ایسی بستی کی مثال ہے جو عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان لانے نے اس کو کوئی فائدہ دیا ہو۔ قوم یونس کے سوا۔ وہ لوگ جب ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوا کن عذاب کو ٹال دیا اور ایک مدت تک کے لیے ہم نے اس کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَۚ۰۰فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(الصافات:37؍147، 148) ’’اور ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد لوگوں کی طرف مبعوث کیا پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک وقت تک ان کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔‘‘ یہ ایک بہت بڑی امت تھی جو یونس u پر ایمان لائی۔ یہ واقعہ آپ کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ مگر حضرت یونس u، کسی گناہ کی بنا پر، ناراضی کی حالت میں اپنے رب سے فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ وہ کونسا گناہ تھا اور اس کے تعین کی ہمیں حاجت بھی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿اِذۡ اَبَقَ اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِۙ۰۰فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَۚ۰۰فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَهُوَ مُلِيۡمٌ ﴾(الصافات:37؍140۔142) ’’جب وہ فرار ہو کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف آیا۔ پس وہ قرعہ اندازی میں شامل ہوا اور ہار گیا۔ آخر مچھلی نے اس کو نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا۔‘‘ یعنی وہ قابل ملامت فعل کا ارتکاب کرنے والے تھے۔ظاہری طورپر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا جلدی کرنا، قوم پر غصہ ہونا اور ان کے پاس سے نکل بھاگنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے تھا۔ اور ان کو گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قدرت نہیں ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس نہیں کر سکتا یا ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نکل بھاگیں گے اور مخلوق میں سے کسی کو بھی ایسا گمان پیش آنے سے کچھ مانع نہیں مگر اس طرح کہ اس کو استقرار اور استمرار حاصل نہ ہو… پس یونس u بھاگ کر کچھ لوگوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو گئے… اور انھوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کو سمندر میں پھینکا جائے کیونکہ انھیں خوف تھا کہ اگر سب کشتی میں رہے تو کشتی ڈوب جائے گی۔ قرعہ یونس u کے نام کا نکلا اور ان کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ایک بہت بڑی مچھلی ان کو نگل کر سمندر کی گہرائیوں میں لے کر چلی گئی۔ سمندر کی ان تاریکیوں میں حضرت یونسu نے اپنے رب کو پکارا:﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘پس حضرت یونس u نے اللہ کی کامل الوہیت کا اقرار کیا، اس کی ذات مقدس کو ہر نقص، ہر عیب اور ہر آفت سے منزہ اور پاک قرار دیا اور اپنے ظلم و جرم کا اعتراف کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠ۙ۰۰لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾(الصافات:37؍143، 144) ’’اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتا تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتا۔ ‘‘اسی لیے یہاں فرمایا: ﴿ فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ١ۙ وَنَجَّيۡنٰهُ مِنَ الۡغَمِّ﴾ ’’ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی۔‘‘ یعنی اس مصیبت سے نجات دی جس میں وہ مبتلا ہو گئے تھے۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نُـۨۡجِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ۔‘‘ یہ ہر اس مومن کے لیے وعدہ اور بشارت ہے جو کسی مصیبت اور غم میں مبتلا ہو جائے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اس کو اس مصیبت سے نجات دے گا، اس کے ایمان کے سبب سے اس کی مصیبت کو دور کر دے گا۔ جیسا کہ اس نے حضرت یونس u کے ساتھ کیا تھا۔
21:89–90Page 329
وَزَكَرِيَّآ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥ رَبِّ لَا تَذَرۡنِي فَرۡدٗا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡوَٰرِثِينَ ٨٩
And [mention] Zechariah, when he called to his Lord, "My Lord, do not leave me alone [with no heir], while You are the best of inheritors."
فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ وَوَهَبۡنَا لَهُۥ يَحۡيَىٰ وَأَصۡلَحۡنَا لَهُۥ زَوۡجَهُۥٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَيَدۡعُونَنَا رَغَبٗا وَرَهَبٗاۖ وَكَانُواْ لَنَا خَٰشِعِينَ ٩٠
So We responded to him, and We gave to him John, and amended for him his wife. Indeed, they used to hasten to good deeds and supplicate1 Us in hope and fear, and they were to Us humbly submissive.
اور (یاد کیجیے) زکریا کو، جب پکارا تھا اس نے اپنے رب کو، اے میرے رب! نہ چھوڑ تو مجھے تنہا اور تو ہی ہے سب سے بہترین وارث (89) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اورعطا کیا ہم نے اسے یحیی اوردرست کر دیا ہم نے اس کے لیے اس کی بیوی کو، بے شک وہ (انبیاء) تھے جلدی کرتے نیکی کے کاموں میں اور پکارتے تھے ہمیں رغبت کرتے اور خوف کھاتے ہوئےاور تھے وہ ہمارے لیے عاجزی کرنے والے (90)
[89] یعنی ہمارے بندے اور رسول زکریاu کو اس کی تعریف و تعظیم کے ساتھ اور ان مناقب و فضائل کا ذکر کرتے ہوئے یاد کیجیے۔ ان جملہ فضائل میں یہ عظیم منقبت بھی شامل ہے کہ انھوں نے مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوئی۔ زکریا u نے اپنے رب کو پکارا: ﴿ رَبِّ لَا تَذَرۡنِيۡ فَرۡدًا﴾ ’’اے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑنا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّيۡ وَهَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّيۡ وَاشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَيۡبًا وَّلَمۡ اَكُنۢۡ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِيًّا۰۰وَاِنِّيۡ خِفۡتُ الۡمَوَالِيَ مِنۡ وَّرَآءِيۡ وَؔكَانَتِ امۡرَاَتِيۡ عَاقِرًا فَهَبۡ لِيۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّاۙ۰۰يَّرِثُنِيۡ وَيَرِثُ مِنۡ اٰلِ يَعۡقُوۡبَ١ۖ ۗ وَاجۡعَلۡهُ رَبِّ رَضِيًّا ﴾(مریم:19؍4-6) ’’اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور پڑ گئیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہو گیا۔ اے میرے رب میں تجھ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے رشتہ داروں کے بارے میں خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی عنایت سے مجھے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب! تو اسے ایک پسندیدہ انسان بنا۔‘‘ ان آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ رَبِّ لَا تَذَرۡنِيۡ فَرۡدًا ﴾سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت زکریا u کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ آپ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کرنے کے لیے کوئی آپ کا قائم مقام نہ ہو گا، نیز یہ کہ حضرت زکریاu اس وقت تنہا تھے کوئی ان کا خلف رشید نہ تھا جو دعوت میں ان کی اعانت کرتا۔﴿ وَّاَنۡتَ خَيۡرُ الۡوٰرِثِيۡنَ ﴾ یعنی تو باقی رہنے والوں میں سب سے بہتر ہے اور بھلائی میں میرے کسی خلف رشید سے بہتر ہے اور تو اپنے بندوں کے ساتھ مجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرا دل مطمئن اور نفس کو سکون حاصل ہو اور میرے لیے اس کا ثواب جاری رہے۔
[90]﴿فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ١ٞ وَوَهَبۡنَا لَهٗ يَحۡيٰى﴾ ’’پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا۔‘‘ جو ایسا مکرم نبی ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس نام کا کوئی شخص نہیں کیا ﴿وَاَصۡلَحۡنَا لَهٗ زَوۡجَهٗ﴾ ’’اور ہم نے درست کر دیا اس کے لیے اس کی بیوی کو۔‘‘ یعنی حضرت زکریاu کی بیوی بانجھ تھیں اور ان کا رحم بچہ پیدا کرنے کے قابل نہ تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی زکریا u کی خاطر ان کے رحم کو درست کر کے اسے حمل کے قابل بنا دیا۔ نیک ساتھی اور ہم نشین کے فوائد میں سے ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے لیے بابرکت ہوتا ہے۔ پس حضرت یحییٰ u ماں باپ میں (برکت کے لیے) مشترک ہو گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام انبیاء و مرسلین کا فرداً فرداً ذکر کرنے کے بعد ان سب کو عمومی مدح و ثنا سے نوازا ہے چنانچہ فرمایا : ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا يُسٰرِعُوۡنَ فِي الۡخَيۡرٰتِ﴾ یعنی وہ نیکیوں میں سبقت کرتے تھے، اوقات فاضلہ میں نیکیاں کرتے تھے اور ان کی تکمیل اس طریقے سے کرتے تھے جو ان کے لائق اور ان کے لیے مناسب ہو۔ وہ مقدور بھر کسی فضیلت کو نہ چھوڑتے تھے اور فرصت کو غنیمت جانتے تھے۔ ﴿وَيَدۡعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا ﴾ یعنی ہم سے دنیا و آخرت کے مرغوب امور کا سوال کرتے تھے اور دنیا و آخرت کے ضرر رساں ، خوفناک امور سے ہماری پناہ طلب کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت رکھتے تھے، وہ غافل اور کھیل کود میں ڈوبے ہوئے تھے نہ اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی اور جرأت کرتے تھے۔ ﴿وَؔكَانُوۡا لَنَا خٰشِعِيۡنَ ﴾ یعنی ہمارے سامنے خشوع، تذلل اور انکساری کا اظہار کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنے رب کی کامل معرفت رکھتے تھے۔
21:91–94Page 330
وَٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلۡنَٰهَا وَٱبۡنَهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ٩١
And [mention] the one who guarded her chastity [i.e., Mary], so We blew into her [garment] through Our angel [i.e., Gabriel], and We made her and her son a sign for the worlds.
إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ ٩٢
Indeed this, your religion, is one religion,1 and I am your Lord, so worship Me.
وَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡۖ كُلٌّ إِلَيۡنَا رَٰجِعُونَ ٩٣
And [yet] they divided their affair [i.e., that of their religion] among themselves,1 [but] all to Us will return.
فَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ ٩٤
So whoever does righteous deeds while he is a believer - no denial will there be for his effort,1 and indeed We [i.e., Our angels], of it, are recorders.
اور (یاد کیجیے) اس عورت کو جس نے حفاظت کی تھی اپنی شرم گاہ کی، پس پھونکی ہم نے اس میں اپنی روح اور بنایا ہم نے اسے اور اس کے بیٹے (عیسیٰ) کو (عظیم) نشانی جہان والوں کے لیے (91) بلاشبہ یہ تمھارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمھارا رب ہوں ، سو تم میری ہی عبادت کرو (92) اور ٹکڑے ٹکڑے کر لیا انھوں نے اپنا کام آپس میں (وہ) سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں (93) پس جو شخص عمل کرے نیک جبکہ وہ مومن ہو تو نہیں انکار کیا جائے گا ان کی کوشش کا اور بے شک ہم ہیں اس کے لیے لکھنے والے (94)
[91] یعنی مریم[ کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجیے! فرمایا:﴿وَالَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا ﴾ یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم[ نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل u ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم[ کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں : ﴿اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِالرَّحۡمٰنِ مِنۡكَ اِنۡ كُنۡتَ تَقِيًّا ﴾(مریم:19؍18) ’’میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم[ کو ان کے عمل کی جنس ہی سے اس کا بدلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے ایک بیٹے سے نوازا۔ جبریل u نے پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم[ کو حمل ٹھہر گیا ﴿ وَجَعَلۡنٰهَا وَابۡنَهَاۤ اٰيَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کر دیا ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں کے لیے۔‘‘ کیونکہ حضرت مریم[ کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل ٹھہرا اور پھر بیٹے کو جنم دیا اور اس بیٹے نے گہوارے میں کلام کیا اور بہتان طراز آپ پر جو تہمت لگاتے تھے اس سے مریم[ کی براء ت کا اعلان کیا اور اسی حالت میں انھوں نے اپنے بارے میں آگاہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے جو کہ سب کو معلوم ہیں ۔حضرت مریم اور ان کا فرزند ارجمندi تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بن گئے لوگ نسل در نسل اس واقعے کو بیان کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں ۔
[92] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہ السلام کا ذکر فرمایا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً﴾ یہ تمام انبیاء و مرسلین جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے وہ تمھاری امت اور تمھارے امام ہیں جن کی راہنمائی میں تم ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہو۔ ان سب کا دین ایک، سب کا راستہ ایک اور سب کا رب ایک ہے۔ بناء بریں فرمایا:﴿ وَّاَنَا رَبُّكُمۡ ﴾ میں تمھارا رب ہوں جس نے تمھیں پیدا کیا اور دین و دنیا میں اپنی نعمت کے ذریعے سے تمھاری پرورش کی۔ جب تمھارا رب ایک، تمھارا نبی ایک اور تمھارا دین ایک، یعنی عبادت کی تمام انواع کے ذریعے ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا… تو تمھارا وظیفہ اور تم پر فرض ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس لیے فرمایا:﴿ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ ’’پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ پس حرف ’’فاء‘‘ کے ذریعے سے اس جملے کو گزشتہ مضمون کے ساتھ اس طرح مرتب کیا جس طرح مسبب سبب پر مترتب ہوتا ہے۔
[93] مناسب یہی تھا کہ اس امر پر سب کا اتفاق اور اجتماع ہوتا اور اس میں تفرق اور تشتت نہ ہوتا مگر ظلم اور زیادتی سے افتراق اور تشتت پیدا ہو کر ہی رہا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَتَقَطَّعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ بَيۡنَهُمۡ﴾ یعنی انبیائے کرام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے والے، فرقوں میں تقسیم اور تشتت کا شکار ہو گئے۔ ان میں ہر فرقہ دعویٰ کرتا تھا کہ حق اس کے ساتھ ہے اور دوسرا فرقہ باطل پر ہے۔ ﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ﴾(الروم:30؍32) اور یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے راہ صواب پر صرف وہی ہے جو انبیاء کرام علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے دین قویم اور صراط مستقیم پر گامزن ہے… اور یہ حقیقت اس وقت ظاہر ہو گی جب پردہ ہٹ جائے گا اور اصلیت سامنے آ جائے گی اور اللہ تعالیٰ فیصلوں کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کرے گا تب اس وقت صاف نظر آئے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، اس لیے فرمایا:﴿ كُلٌّ ﴾ تمام فرقوں میں سے ہر فرقہ ﴿ اِلَيۡنَا رٰجِعُوۡنَ ﴾ ہماری ہی طرف لوٹے گا اور ہم اسے پوری پوری جزا دیں گے۔
[94] پھر منطوق اور مفہوم کے اسلوب میں ، اس جزا کی تفصیل بیان کی، فرمایا:﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِنَ الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ یعنی ایسے عمل كيے جن کو انبیائے کرام نے مشروع کیا اور کتب الٰہیہ نے ان کی ترغیب دی۔ ﴿ وَهُوَ مُؤۡمِنٌ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں پر ایمان رکھتا ہو۔ ﴿ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهٖ﴾ یعنی ہم اس کی کوششوں کو ضائع کریں گے نہ باطل کریں گے بلکہ اس کو کئی گنا بڑھا کر اجر عطا کریں گے۔ ﴿ وَاِنَّا لَهٗ كٰتِبُوۡن ﴾ یعنی ہم اس کی کوشش کو لوح محفوظ اور ان صحیفوں میں لکھنے والے ہیں جو کرام الکاتبین کے پاس ہیں ۔دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی نیک کام کرے اور وہ مومن نہ ہو تو وہ ثواب آخرت سے محروم اور اپنے دین و دنیا میں خائب و خاسر ہو گا۔
21:95Page 330
وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآ أَنَّهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ ٩٥
And it is prohibited to [the people of] a city which We have destroyed that they will [ever] return1
اور لازم ہے اوپر اس بستی (والوں ) کے کہ ہلاک کیا ہم نے اسے،بے شک وہ نہیں واپس لوٹیں گے (95)
[95] یعنی ان بستیوں کا، جنھیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا، اپنی کوتاہیوں کی تلافی کی خاطر اس دنیا میں واپس لوٹنا ممکن نہیں ، پس ان کے لیے واپس لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں جنھیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا۔ اس لیے مخاطبین کو ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرنا چاہیے جو ہلاکت کا باعث بنتے ہیں … مباداکہ یہ اعمال انھیں ہلاکت میں ڈال دیں اور اس وقت اس ہلاکت سے بچنا ممکن نہ ہو گا، اس لیے تلافی اور استدراک کے وقت اس قسم کے کاموں سے باز آ جانا چاہیے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences