Al-AnbyaJuz 17 · Page 330

Al-Anbya 21:98

The Prophets · Juz 17 · Page 330

إِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمۡ لَهَا وَٰرِدُونَ ٩٨

Indeed, you [disbelievers] and what you worship other than Allāh are the firewood of Hell. You will be coming to [enter] it.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 21:98–103

بلاشبہ تم اور و ہ جن کی تم عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے، ایندھن ہو گئے جہنم کا تم اس میں وارد ہونے والے ہو (98) اگر ہوتے یہ (واقعی) معبود تو نہ وارد ہوتے اس جہنم میں اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے (99) ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا ہو گا اور وہ اس میں (کچھ) نہ سنیں گے (100) بے شک وہ لوگ کہ پہلے سے ٹھہر چکی ہے ان کے لیے ہماری طرف سے نیکی، وہ لوگ اس سے دور رکھے جائیں گے(101) نہیں سنیں گے وہ آہٹ تک اس کی اور وہ ان (نعمتوں ) میں کہ جنھیں چاہیں گے نفس ان کے، ہمیشہ رہیں گے(102) نہیں غمگین کرے گی انھیں گبھراہٹ بڑی اور ملیں گے ان کو فرشتے (یہ کہتے ہوئے کہ) یہ ہے تمھارا دن وہ جو تھے تم (اس کا) وعدہ دیے جاتے (103)

[98] یعنی اے وہ لوگو! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو ﴿ حَصَبُ جَهَنَّمَ ﴾ تم سب جہنم کا ایندھن ہو ﴿ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾ تمھیں اور تمھارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔

[99] بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے… حالانکہ یہ پتھر ہیں ، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں … کہ ان کا کذب و افترا واضح ہو جائے جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ لَوۡ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوۡهَا ﴾ ’’اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ ﴿لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ ﴾(النحل:16؍39) ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو اضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ اور عابدومعبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔

[100]﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ ﴾ ’’وہ جہنم میں پھنکاریں گے شدت عذاب کی وجہ سے ‘‘ ﴿ وَّهُمۡ فِيۡهَا لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔

[102,101] اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت كيے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیرi، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى ﴾ ’’اور وہ لوگ کہ سبقت کر گئی ان کے لیے ہماری طرف سے بھلائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا ﴾ ’’یہ لوگ اس سے۔‘‘ یعنی جہنم سے ﴿ مُبۡعَدُوۡنَ﴾’’دور رکھے جائیں گے۔‘‘ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کر سکیں گے۔﴿ وَهُمۡ فِيۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ رہیں گی، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔

[103]﴿ لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ ﴾ ’’نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔‘‘ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ ﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ ’’اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔‘‘ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 330

Al-AnbyaJuz 17 · Page 330

21:91

وَٱلَّتِيٓ أَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلۡنَٰهَا وَٱبۡنَهَآ ءَايَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ٩١

And [mention] the one who guarded her chastity [i.e., Mary], so We blew into her [garment] through Our angel [i.e., Gabriel], and We made her and her son a sign for the worlds.

21:92

إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَأَنَا۠ رَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُونِ ٩٢

Indeed this, your religion, is one religion,1 and I am your Lord, so worship Me.

1 translator’s note
  1. i.e., a collective way of life or course of conduct followed by a community. ↩

21:93

وَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡۖ كُلٌّ إِلَيۡنَا رَٰجِعُونَ ٩٣

And [yet] they divided their affair [i.e., that of their religion] among themselves,1 [but] all to Us will return.

1 translator’s note
  1. Becoming sects and denominations. ↩

21:94

فَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَلَا كُفۡرَانَ لِسَعۡيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ ٩٤

So whoever does righteous deeds while he is a believer - no denial will there be for his effort,1 and indeed We [i.e., Our angels], of it, are recorders.

1 translator’s note
  1. Such a person will not be deprived of his due reward. ↩

21:95

وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ أَهۡلَكۡنَٰهَآ أَنَّهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ ٩٥

And it is prohibited to [the people of] a city which We have destroyed that they will [ever] return1

1 translator’s note
  1. They cannot return to this world, nor can they repent to Allāh. ↩

21:96

حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتۡ يَأۡجُوجُ وَمَأۡجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٖ يَنسِلُونَ ٩٦

Until when [the dam of] Gog and Magog has been opened and they, from every elevation, descend

21:97

وَٱقۡتَرَبَ ٱلۡوَعۡدُ ٱلۡحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَٰخِصَةٌ أَبۡصَٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَٰوَيۡلَنَا قَدۡ كُنَّا فِي غَفۡلَةٖ مِّنۡ هَٰذَا بَلۡ كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٩٧

And [when] the true promise [i.e., the resurrection] has approached; then suddenly the eyes of those who disbelieved will be staring [in horror, while they say], "O woe to us; we had been unmindful of this; rather, we were wrongdoers."

21:98

إِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمۡ لَهَا وَٰرِدُونَ ٩٨

Indeed, you [disbelievers] and what you worship other than Allāh are the firewood of Hell. You will be coming to [enter] it.

21:99

لَوۡ كَانَ هَٰٓؤُلَآءِ ءَالِهَةٗ مَّا وَرَدُوهَاۖ وَكُلّٞ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٩٩

Had these [false deities] been [actual] gods, they would not have come to it, but all are eternal therein.

21:100

لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَهُمۡ فِيهَا لَا يَسۡمَعُونَ ١٠٠

For them therein is heavy sighing, and they therein will not hear.

21:101

إِنَّ ٱلَّذِينَ سَبَقَتۡ لَهُم مِّنَّا ٱلۡحُسۡنَىٰٓ أُوْلَٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُونَ ١٠١

Indeed, those for whom the best [reward] has preceded from Us - they are from it far removed.

Translation: Saheeh International · Text and layout: Quran Foundation · Mushaf fonts: King Fahd Complex, provided by Quran Foundation · Privacy

As-Sa'diTafsir · 21:98

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском