As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Anbya 21:96–112
21:96–97Page 330
حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتۡ يَأۡجُوجُ وَمَأۡجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٖ يَنسِلُونَ ٩٦
Until when [the dam of] Gog and Magog has been opened and they, from every elevation, descend
وَٱقۡتَرَبَ ٱلۡوَعۡدُ ٱلۡحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَٰخِصَةٌ أَبۡصَٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَٰوَيۡلَنَا قَدۡ كُنَّا فِي غَفۡلَةٖ مِّنۡ هَٰذَا بَلۡ كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٩٧
And [when] the true promise [i.e., the resurrection] has approached; then suddenly the eyes of those who disbelieved will be staring [in horror, while they say], "O woe to us; we had been unmindful of this; rather, we were wrongdoers."
یہاں تک کہ جب کھولے جائیں گے یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوں گے (96) اور قریب آپہنچے گا وعدہ سچا (قیامت کا)، پس ناگہاں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی آنکھیں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا (اور وہ کہیں گے) ہائے ہماری کم بختی! تحقیق تھے ہم غفلت میں اس (قیامت) سےبلکہ تھے ہم ہی ظالم (97)
[96] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے لیے تحذیر ہے کہ وہ اپنے کفر اور معاصی پر جمے نہ رہیں ۔ یاجوج و ماجوج کے کھلنے کا وقت قریب ہے اور یاجوج و ماجوج بنی آدم کے دو قبیلوں کا نام ہے۔ جب ذوالقرنین سے ان کے فساد فی الارض کا شکوہ کیا گیا تو اس نے درے کو دیوار کے ذریعے بند کر کے ان کا راستہ مسدود کر دیا۔ آخری زمانے میں یہ درہ کھل جائے گا اور وہ اس طرح لوگوں کی طرف نکلیں گے جیسے اللہ نے یہاں ذکر فرمایا ہے کہ وہ نہایت تیزی سے ہر ٹیلے سے نیچے اترتے نظر آئیں گے۔ یہ آیت کریمہ ان کی کثرت اور نہایت تیزی کے ساتھ ان کے زمین میں پھیل جانے پر دلالت کرتی ہے۔ ان کی نقل و حرکت میں سرعت یا تو اس وجہ سے ہو گی کہ وہ جسمانی اعتبار سے نہایت پھرتیلے اور سریع الحرکت ہوں گے یا اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ان اسباب کی وجہ سے، جو دور کی مسافتوں کو قریب اور آسان کر دیں گے۔ وہ لوگوں پر قہر بن کر ٹوٹیں گے اور اس دنیا میں ان پر غالب آ جائیں گے، نیز یہ کہ کسی کے اندر ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔
[97]﴿ وَاقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور قریب آ لگے گا برحق وعدہ۔‘‘ یعنی قیامت کا دن، جس کے آنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر کھا ہے اور اس کا وعدہ سچا اور برحق ہے۔ پس اس روز گھبراہٹ، خوف اور دہلا دینے والے زلزلوں سے کفار کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کیونکہ انھیں اپنے جرائم اور گناہوں کا علم ہو گا۔ وہ موت کو پکاریں گے اور اپنی کوتاہیوں پر ندامت اور حسرت کا اظہار کریں گے، کہیں گے:﴿ قَدۡ كُنَّا فِيۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰؔذَا﴾ ’’ہم اس عظیم دن سے غافل تھے‘‘ پس دنیا کے لہوولعب میں مستغرق رہے حتیٰ کہ فرشتہ اجل آ گیا اور ہم قیامت کی گھاٹی میں اتر گئے۔ اگر کوئی حسرت و ندامت کی وجہ سے مرتا ہو تو وہ ضرور مرتے۔ وہ کہیں گے ﴿ بَلۡ كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم ہی ظالم تھے۔‘‘ وہ اپنے ظلم اور اپنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اعتراف کریں گے۔ اس وقت حکم دیا جائے گا کہ انھیں اور ان کے ان معبودوں کو جہنم میں جھونک دو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا:
21:98–103Page 330
إِنَّكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمۡ لَهَا وَٰرِدُونَ ٩٨
Indeed, you [disbelievers] and what you worship other than Allāh are the firewood of Hell. You will be coming to [enter] it.
لَوۡ كَانَ هَٰٓؤُلَآءِ ءَالِهَةٗ مَّا وَرَدُوهَاۖ وَكُلّٞ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٩٩
Had these [false deities] been [actual] gods, they would not have come to it, but all are eternal therein.
لَهُمۡ فِيهَا زَفِيرٞ وَهُمۡ فِيهَا لَا يَسۡمَعُونَ ١٠٠
For them therein is heavy sighing, and they therein will not hear.
إِنَّ ٱلَّذِينَ سَبَقَتۡ لَهُم مِّنَّا ٱلۡحُسۡنَىٰٓ أُوْلَٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُونَ ١٠١
Indeed, those for whom the best [reward] has preceded from Us - they are from it far removed.
لَا يَسۡمَعُونَ حَسِيسَهَاۖ وَهُمۡ فِي مَا ٱشۡتَهَتۡ أَنفُسُهُمۡ خَٰلِدُونَ ١٠٢
They will not hear its sound, while they are, in that which their souls desire, abiding eternally.
لَا يَحۡزُنُهُمُ ٱلۡفَزَعُ ٱلۡأَكۡبَرُ وَتَتَلَقَّىٰهُمُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ هَٰذَا يَوۡمُكُمُ ٱلَّذِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ ١٠٣
They will not be grieved by the greatest terror,1 and the angels will meet them, [saying], "This is your Day which you have been promised" -
بلاشبہ تم اور و ہ جن کی تم عبادت کرتے تھے سوائے اللہ کے، ایندھن ہو گئے جہنم کا تم اس میں وارد ہونے والے ہو (98) اگر ہوتے یہ (واقعی) معبود تو نہ وارد ہوتے اس جہنم میں اور وہ سب اس میں ہمیشہ رہیں گے (99) ان کے لیے اس میں چیخنا چلانا ہو گا اور وہ اس میں (کچھ) نہ سنیں گے (100) بے شک وہ لوگ کہ پہلے سے ٹھہر چکی ہے ان کے لیے ہماری طرف سے نیکی، وہ لوگ اس سے دور رکھے جائیں گے(101) نہیں سنیں گے وہ آہٹ تک اس کی اور وہ ان (نعمتوں ) میں کہ جنھیں چاہیں گے نفس ان کے، ہمیشہ رہیں گے(102) نہیں غمگین کرے گی انھیں گبھراہٹ بڑی اور ملیں گے ان کو فرشتے (یہ کہتے ہوئے کہ) یہ ہے تمھارا دن وہ جو تھے تم (اس کا) وعدہ دیے جاتے (103)
[98] یعنی اے وہ لوگو! جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہو ﴿ حَصَبُ جَهَنَّمَ ﴾ تم سب جہنم کا ایندھن ہو ﴿ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾ تمھیں اور تمھارے بتوں کو جہنم میں جھونکا جائے گا۔
[99] بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے… حالانکہ یہ پتھر ہیں ، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں … کہ ان کا کذب و افترا واضح ہو جائے جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ لَوۡ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوۡهَا ﴾ ’’اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ ﴿لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ ﴾(النحل:16؍39) ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو اضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ اور عابدومعبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔
[100]﴿ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ ﴾ ’’وہ جہنم میں پھنکاریں گے شدت عذاب کی وجہ سے ‘‘ ﴿ وَّهُمۡ فِيۡهَا لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔
[102,101] اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت كيے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیرi، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں ۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى ﴾ ’’اور وہ لوگ کہ سبقت کر گئی ان کے لیے ہماری طرف سے بھلائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں ۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا ﴾ ’’یہ لوگ اس سے۔‘‘ یعنی جہنم سے ﴿ مُبۡعَدُوۡنَ﴾’’دور رکھے جائیں گے۔‘‘ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کر سکیں گے۔﴿ وَهُمۡ فِيۡ مَا اشۡتَهَتۡ اَنۡفُسُهُمۡ خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ رہیں گی، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔
[103]﴿ لَا يَحۡزُنُهُمُ الۡفَزَعُ الۡاَكۡبَرُ ﴾ ’’نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔‘‘ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ ﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ ’’اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔‘‘ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا يَوۡمُكُمُ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔
21:104–105Page 331
يَوۡمَ نَطۡوِي ٱلسَّمَآءَ كَطَيِّ ٱلسِّجِلِّ لِلۡكُتُبِۚ كَمَا بَدَأۡنَآ أَوَّلَ خَلۡقٖ نُّعِيدُهُۥۚ وَعۡدًا عَلَيۡنَآۚ إِنَّا كُنَّا فَٰعِلِينَ ١٠٤
The Day when We will fold the heaven like the folding of a [written] sheet for the records. As We began the first creation, We will repeat it. [That is] a promise binding upon Us. Indeed, We will do it.1
وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعۡدِ ٱلذِّكۡرِ أَنَّ ٱلۡأَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ ٱلصَّٰلِحُونَ ١٠٥
And We have already written in the book [of Psalms]1 after the [previous] mention2 that the land [of Paradise] is inherited by My righteous servants.
(یاد کیجیے) جس دن لپیٹیں گے ہر آسمان کو مانند لپیٹنے کاغذ کے جو لکھا ہوا ہو جس طرح پہلے پہل کی تھی ہم نے پہلی (مرتبہ) پیدائش (اسی طرح) ہم لوٹائیں گے اس کو، وعدہ ہے ہمارے ذمے، بلاشبہ ہم ہیں کرنے والے (104) اور البتہ تحقیق لکھی ہے ہم نے زبور میں بعد نصیحت کے (یہ بات کہ) بے شک زمین، وارث ہوں گے اس کے میرے بندے نیک (105)
[104] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز آسمانوں کو… ان کی عظمت اور وسعت کے باوجود، لپیٹ دے گا، جس طرح کاتب ورق کو لپیٹتا ہے یہاں (السجل) سے مراد ورق ہے جس کے اندر کچھ تحریر کیا گیا ہو۔ پس آسمان کے تمام ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ سورج اور چاند اپنی روشنی سے محروم ہو کر اپنی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ ﴿كَمَا بَدَاۡنَاۤ اَوَّلَ خَلۡقٍ نُّعِيۡدُهٗ﴾ہم مخلوق کو دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے جس طرح ہم نے ان کو ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ پس جس طرح ہم نے ان کو اس وقت پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھے، اسی طرح ہم ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں گے۔﴿وَعۡدًا عَلَيۡنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيۡنَ ﴾ یعنی جو ہم نے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور کوئی چیز اس کے لیے ناممکن نہیں ۔
[105] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي الزَّبُوۡرِ ﴾ ’’اور ہم نے لکھا زبور میں ۔‘‘ اور وہ ہے لکھی ہوئی کتاب اور اس سے مراد ہے کتب الٰہیہ، مثلاً:تورات وغیرہ ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ الذِّكۡرِ ﴾ ’’ذکر (میں لکھنے) کے بعد۔‘‘ یعنی ہم نے کتاب سابق لوح محفوظ یعنی ام الکتاب میں لکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا۔ تمام تقدیریں ام الکتاب کے موافق واقع ہوتی ہیں اور اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ﴿ اَنَّ الۡاَرۡضَ ﴾ ’’بلاشبہ زمین‘‘ یعنی جنت کی زمین ﴿ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰؔلِحُوۡنَ ﴾ ’’اس کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے۔‘‘ جو مامورات کو قائم اور منہیات سے اجتناب کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا قول نقل فرمایا: ﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾(الزمر:39؍74) ’’ہر قسم کی حمدوثنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں ۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ زمین سے مراد زمین کی خلافت ہو۔ اللہ تعالیٰ صالحین کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا اور ان کو زمین کا والی بنائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾(النور:24؍55) ’’اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے، جو ایمان لائیں گے اور نیک کام کریں گے کہ وہ ان کو اسی طرح زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی۔‘‘
21:106–112Page 331
إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَٰغٗا لِّقَوۡمٍ عَٰبِدِينَ ١٠٦
Indeed, in this [Qur’ān] is notification for a worshipping people.
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا رَحۡمَةٗ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٠٧
And We have not sent you, [O Muḥammad], except as a mercy to the worlds.
قُلۡ إِنَّمَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ فَهَلۡ أَنتُم مُّسۡلِمُونَ ١٠٨
Say, "It is only revealed to me that your god is but one God; so will you be Muslims [in submission to Him]?"
فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَقُلۡ ءَاذَنتُكُمۡ عَلَىٰ سَوَآءٖۖ وَإِنۡ أَدۡرِيٓ أَقَرِيبٌ أَم بَعِيدٞ مَّا تُوعَدُونَ ١٠٩
But if they turn away, then say, "I have announced to [all of] you equally.1 And I know not whether near or far is that which you are promised.
إِنَّهُۥ يَعۡلَمُ ٱلۡجَهۡرَ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡتُمُونَ ١١٠
Indeed, He knows what is declared of speech, and He knows what you conceal.
وَإِنۡ أَدۡرِي لَعَلَّهُۥ فِتۡنَةٞ لَّكُمۡ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٖ ١١١
And I know not; perhaps it1 is a trial for you and enjoyment for a time."
قَٰلَ رَبِّ ٱحۡكُم بِٱلۡحَقِّۗ وَرَبُّنَا ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلۡمُسۡتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١١٢
[The Prophet (ﷺ)] has said, "My Lord, judge [between us] in truth. And our Lord is the Most Merciful, the one whose help is sought against that which you describe."1
بلاشبہ اس (وعظ و نصیحت) میں البتہ کفایت ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں (106) اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کے لیے (107) آپ کہہ دیجیے! یقینا وحی کی جاتی ہے میری طرف (یہ بات کہ) بلاشبہ تمھارا معبود، معبود ایک ہی ہے، پس کیا تم اس کی فرماں برداری کرنے والے ہو؟ (108) پس اگر وہ منہ موڑ لیں (اس سے) تو کہہ دیجیے! خبر دار کر دیا ہے میں نے تمھیں اوپر برابری کے اور نہیں جانتا میں کہ آیا قریب ہے یا بعید وہ جو تم وعدہ دیے جاتے ہو؟ (109) بے شک اللہ جانتا ہے پکار کر کہی ہوئی بات کو او روہ جانتا ہے (اسے بھی) جو تم چھپاتے ہو (110) اور نہیں جانتا میں شاید کہ وہ آزمائش ہو تمھارے لیےاور فائدہ اٹھانا ایک وقت (معین) تک (111) اس (رسول) نے کہا، اے میرے رب! فیصلہ فرما تو ساتھ حق کےاور ہمارا رب نہایت مہربان ہے، وہ جس سے مدد طلب کی جاتی ہے اوپر ان باتوں کے جو تم بیان کرتے ہو (112)
[106] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عزیز، قرآن کریم کی ستائش کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز سے مکمل کفایت ہے اور اس سے مستغنی نہیں رہا جا سکتا، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنَّ فِيۡ هٰؔذَا لَبَلٰغًا لِّقَوۡمٍ عٰؔبِدِيۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں البتہ کفایت ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے رب اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچنے کے لیے قرآن عزیز پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ پس یہ گراں قدر کتاب ان کو جلیل ترین مقاصد اور افضل ترین مرغوبات تک پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے، جو سب سے زیادہ فضل و شرف کے حامل ہیں ، اس سے آگے اور کوئی منزل نہیں کیونکہ قرآن ان کے رب کی، اس کے اسماء و صفات اور افعال کے ذریعے سے معرفت کے لیے کفیل ہے اور غیب کی خبریں بیان کرنے اور حقائق ایمان اور شواہد ایقان کی دعوت کا بھی کفیل ہے، قرآن ہی تمام مامورات اور تمام منہیات کو بیان کرتا ہے، یہ قرآن ہی ہے جو نفس و عمل کے عیوب اور دین کے دقیق و جلیل معاملات میں ان راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن پر اہل ایمان کو گامزن رہنا چاہیے اور یہ قرآن ہی ہے جو شیطان کے راستوں پر چلنے سے بچاتا ہے اور انسان کے عقائد و اعمال میں اس کی مداخلت کے دروازوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ جسے قرآن مستغنی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی نہ کرے اور جس کے لیے قرآن کافی نہیں ، اللہ اس کو کفایت نہ کرے۔
[107] پھر اپنے رسول (ﷺ) کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ پس آپﷺ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں ۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
[108]﴿ قُلۡ ﴾ اے محمدﷺ کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں ، اس لیے فرمایا:﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔
[110,109]﴿ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلۡ اٰذَنۡتُكُمۡ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰى سَوَآءٍ ﴾ ’’برابری پر۔‘‘ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں ، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ ﴾(المائدۃ:5؍19) ’’ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔‘‘ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔
[111]﴿وَاِنۡ اَدۡرِيۡۤ اَقَرِيۡبٌ اَمۡ بَعِيۡدٌ مَّا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے)کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔﴿ وَاِنۡ اَدۡرِيۡ لَعَلَّهٗ فِتۡنَةٌ لَّـكُمۡ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔
[112]﴿ قٰلَ رَبِّ احۡكُمۡ بِالۡحَقِّ﴾ ’’کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے‘‘ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَا الرَّحۡمٰنُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں ، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِ الْحَمْد۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences