An-Nur 24:31
The Light · Juz 18 · Page 353
وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآئِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوۡ نِسَآئِهِنَّ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّٰبِعِينَ غَيۡرِ أُوْلِي ٱلۡإِرۡبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفۡلِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يَظۡهَرُواْ عَلَىٰ عَوۡرَٰتِ ٱلنِّسَآءِۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِينَ مِن زِينَتِهِنَّۚ وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٣١
And tell the believing women to reduce [some] of their vision1 and guard their private parts and not expose their adornment2 except that which [necessarily] appears thereof3 and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment [i.e., beauty] except to their husbands, their fathers, their husbands' fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their women, that which their right hands possess [i.e., slaves], or those male attendants having no physical desire,4 or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allāh in repentance, all of you, O believers, that you might succeed.
4 translator’s notes
Looking only at what is lawful and averting their eyes from what is unlawful.
[991] Both natural beauty, such as hair or body shape, and that with which a woman beautifies herself of clothing, jewelry, etc.
[992] i.e., the outer garments or whatever might appear out of necessity, such as a part of the face or the hands.
[993] Referring to an abnormal condition in which a man is devoid of sexual feeling.
↩- ↩
- ↩
- ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 24:31
او رآپ کہہ دیجیے مومن عورتوں سے، پست رکھیں وہ اپنی نظریں اور حفاظت کریں وہ اپنی شرم گاہوں کی اور نہ ظاہر کریں وہ اپنا بناؤ سنگھار مگر جو ظاہر ہو اس میں سے اورچاہیے کہ ڈالے رہیں وہ اپنی اوڑھنیاں اوپر اپنے گریبانوں کے اور نہ ظاہر کریں وہ اپنا بناؤ سنگھار مگر اپنے خاوندوں کے لیے یااپنے باپ دادا کے لیے یا باپ داداکے لیے اپنے خاوندوں کے یا اپنے بیٹوں کے لیے یا بیٹوں کے لیے اپنے شوہروں کے یا اپنے بھائیوں کے لیے یا بیٹوں کے لیے اپنے بھائیوں کے یا بیٹوں کے لیے اپنی بہنوں کے یا اپنی (مسلمان) عورتوں کے لیے یا ان کے جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ یا ان نوکروں چاکروں کے لیے جو نہیں حاجت مند عورتوں کے ، مردوں میں سے یا ان لڑکوں کے لیے جو نہیں واقف اوپر چھپی باتوں کے عورتوں کی اور نہ ماریں وہ (عورتیں ) پاؤں اپنے (زمین پر) تاکہ جانا جائے وہ جو چھپاتی ہیں وہ اپنے بناؤ سنگھار سے اور توبہ کرو تم طرف اللہ کی سارے ہی، اے مومنو! تاکہ تم فلاح پاؤ (31)
[31] اللہ تعالیٰ نے مومنین کو نظریں جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا تو مومنات کو بھی نظر جھکانے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا۔ فرمایا: ﴿ وَقُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِهِنَّ ﴾ ’’اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجیے! کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔‘‘ یعنی وہ ستر کی جگہوں اور مردوں پر شہوت کی نظر ڈالنے سے اپنی آنکھوں کو بچائے رکھیں ﴿ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَهُنَّ ﴾اور جماع حرام سے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ، نیز شرم گاہوں کو چھونے اور ان کی طرف حرام نظر سے ان کی حفاظت کریں ۔﴿ وَلَا يُبۡدِيۡنَ زِيۡنَتَهُنَّ ﴾ ’’اور اپنی زیب وزینت کی نمائش نہ کریں ‘‘مثلاً: خوبصورت لباس، زیورات اور تمام بدن زینت میں شمار ہوتے ہیں ۔ چونکہ ظاہری لباس جس کو عادت کے مطابق پہنا جاتا ہے، کی نمائش کو نہیں روکا جا سکتا اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَا ﴾ ’’مگر جو اس (زینت)سے ظاہر ہو۔‘‘ یعنی وہ ظاہری لباس، جو عام طور پر پہنا جاتا ہے، اس لباس میں ایسی کوئی چیز نہ ہو جو فتنہ کو دعوت دیتی ہو۔﴿ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوۡبِهِنَّ﴾ ’’اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں ۔‘‘ اور یہ حکم کامل سترپوشی کے لیے ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہ زینت جس کی نمائش حرام ہے اس میں تمام بدن داخل ہے جیسا کہ ہم اس کا ذکر کر چکے ہیں ، پھر زیب و زینت کی نمائش سے مکرر منع کرتے ہوئے اس میں سے ان لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا:﴿ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِهِنَّ ﴾ یعنی اپنے شوہروں کے سامنے زینت کا اظہار جائز ہے۔ ﴿ اَوۡ اٰبَآىِٕهِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ ﴾ ’’یا ان کے اپنے باپ دادا یا ان کے شوہروں کے باپ دادا کے سوا‘‘ یعنی اس استثناء میں باپ دادا اوپر تک شامل ہیں ۔ ﴿ اَوۡ اَبۡنَآىِٕهِنَّ۠ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِهِنَّ ﴾ اور اس میں اپنے بیٹے، اپنے خاوندوں کے بیٹے اور پوتے اور پرپوتے بھی، نیچے تک شامل ہیں ۔ ﴿ اَوۡ اِخۡوَانِهِنَّ اَوۡ بَنِيۡۤ اِخۡوَانِهِنَّ ﴾ ’’یا بھائی یا بھتیجے‘‘ خواہ وہ حقیقی (عینی)، علاتی (با پ شریک) یا اخیافی (ماں شریک) بھائی ہوں ۔ ﴿ اَوۡ بَنِيۡۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوۡ نِسَآىِٕهِنَّ ﴾’’یا بھانجے یا ان کی عورتیں ۔‘‘ یعنی مسلمان عورتوں کے لیے ایک دوسری پر نظر ڈالنا مطلقاً جائز ہے۔ اس میں اس امر کا احتمال بھی ہے کہ اضافت جنسیت کی مقتضی ہو، یعنی اپنی ’’عورتوں ‘‘ سے مراد مسلمان عورتیں ہیں جو تمھاری جنس سے تعلق رکھتی ہیں تب اس میں ان لوگوں کے لیے دلیل ہے جن کا موقف ہے کہ مسلمان عورت کی طرف ذمی عورت کا دیکھنا جائز نہیں ۔﴿ اَوۡ مَا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ ﴾ ’’یا جن کے تمھارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے۔‘‘ یعنی اس غلام کے لیے جو گھر میں صرف خواتین کی خدمت کے لیے مامور ہے، اپنی مالکن کو اس وقت تک دیکھنا جائزہے جب تک کہ مکمل طور پر اس کی ملکیت میں ہے جب ملکیت مکمل طور پر یا جزوی طور پر زائل ہو جائے تو مالکن پر نظر ڈالنا جائز نہیں ۔ ﴿ اَوِ التّٰبِعِيۡنَ غَيۡرِ اُولِي الۡاِرۡبَةِ مِنَ الرِّجَالِ ﴾ یعنی وہ مرد جو تمھارے زیردست ہیں اور تمھارے ساتھ ان کا تعلق ہے جو کسی قسم کی شہوانی اغراض نہ رکھتے ہوں ، مثلاً:ناقص العقل لوگ، جو شہوانی شعور نہیں رکھتے اور وہ لوگ جن میں عورتوں کے پاس جانے کی خواہش باقی نہ رہے، ان کی شرمگاہ میں شہوت ہو نہ ان کے دل میں خواہش۔ ایسے شخص کے لیے نظر ڈالنا جائز ہے۔﴿ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يَظۡهَرُوۡا عَلٰى عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ﴾ یعنی وہ بچے جو اس قسم کی تمیز نہیں رکھتے ان کے لیے غیر عورتوں کو دیکھنا جائز ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ علت بیان کی ہے کہ وہ عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہیں نہ اس کا علم رکھتے ہیں اور نہ ان میں شہوت پائی جاتی ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایسے بچوں سے پردہ کرنا فرض ہے جو سن تمیز کو پہنچ چکے ہوں کیونکہ اب وہ عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف ہیں ۔ ﴿ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِيۡنَ مِنۡ زِيۡنَتِهِنَّ﴾ یعنی وہ زمین پر پاؤں مار کر نہ چلیں تاکہ ان کے پہنے ہوئے زیورات ، مثلاً: پازیب وغیرہ کی آواز نہ آئے اور اس سبب سے اس کی زینت ظاہر نہ ہو جو فتنے کا وسیلہ بن سکے۔اس آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات سے ’’سدذرائع‘‘ کے فقہی قاعدے کا استنباط کیا جاتا ہے، یعنی کوئی امر، اگرچہ وہ فی نفسہٖ مباح ہے مگر اس پر عمل کرنے سے کسی حرام امر کا ارتکاب ہوتا ہے یا اس کا خدشہ ہے تو سدذریعہ کے طور پر یہ مباح امر ممنوع ہو جائے گا… زمین پر پاؤں مارنا فی نفسہ مباح ہے لیکن چونکہ یہ اظہار زینت کا ذریعہ ہے، اس لیے پاؤں مار کر چلنے سے روک دیا گیا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین احکام کا حکم دیا ہے اور بہترین وصیتیں عنایت فرمائی ہیں ۔ ان پر عمل کرنے میں بندۂ مومن سے کوتاہی واقع ہونا ایک لابدی امر ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے توبہ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿ وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيۡعًا اَيُّهَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور تمام مومنو! اللہ کے ہاں توبہ کرو‘‘ یہ حکم دینے کے بعد فلاح کو اس پر معلق رکھا، چنانچہ فرمایا:﴿ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم کامیابی حاصل کرو‘‘ اور توبہ کیا ہے؟ ان کاموں کو ظاہری اور باطنی طور پر ترک کر کے، جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں ، ان امور کی طرف لوٹنا جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ہر مومن توبہ کا محتاج ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اہل ایمان کو خطاب فرمایا ہے، نیز اس آیت میں خالص توبہ کی ترغیب دی گئی ہے۔﴿وَتُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو۔ آفات دنیا، ریا اور شہرت وغیرہ جیسے فاسد مقاصد سے محفوظ ہو۔
Page 353
24:28
فَإِن لَّمۡ تَجِدُواْ فِيهَآ أَحَدٗا فَلَا تَدۡخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤۡذَنَ لَكُمۡۖ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ٱرۡجِعُواْ فَٱرۡجِعُواْۖ هُوَ أَزۡكَىٰ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ عَلِيمٞ ٢٨
And if you do not find anyone therein, do not enter them until permission has been given you. And if it is said to you, "Go back,"1 then go back; it is purer for you. And Allāh is Knowing of what you do.
1 translator’s note
- Or a similar expression showing that the occupants are not prepared to receive visitors (which should be respected). ↩
24:29
لَّيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَدۡخُلُواْ بُيُوتًا غَيۡرَ مَسۡكُونَةٖ فِيهَا مَتَٰعٞ لَّكُمۡۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُونَ وَمَا تَكۡتُمُونَ ٢٩
There is no blame upon you for entering houses not inhabited in which there is convenience1 for you. And Allāh knows what you reveal and what you conceal.
1 translator’s note
- Some benefit such as rest, shelter, commodities, one's personal belongings, etc. ↩
24:30
قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُواْ فُرُوجَهُمۡۚ ذَٰلِكَ أَزۡكَىٰ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا يَصۡنَعُونَ ٣٠
Tell the believing men to reduce [some] of their vision1 and guard their private parts.2 That is purer for them. Indeed, Allāh is [fully] Aware of what they do.
24:31
وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآئِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوۡ نِسَآئِهِنَّ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّٰبِعِينَ غَيۡرِ أُوْلِي ٱلۡإِرۡبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفۡلِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يَظۡهَرُواْ عَلَىٰ عَوۡرَٰتِ ٱلنِّسَآءِۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِينَ مِن زِينَتِهِنَّۚ وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ٣١
And tell the believing women to reduce [some] of their vision1 and guard their private parts and not expose their adornment2 except that which [necessarily] appears thereof3 and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment [i.e., beauty] except to their husbands, their fathers, their husbands' fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their women, that which their right hands possess [i.e., slaves], or those male attendants having no physical desire,4 or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allāh in repentance, all of you, O believers, that you might succeed.
4 translator’s notes
Looking only at what is lawful and averting their eyes from what is unlawful.
[991] Both natural beauty, such as hair or body shape, and that with which a woman beautifies herself of clothing, jewelry, etc.
[992] i.e., the outer garments or whatever might appear out of necessity, such as a part of the face or the hands.
[993] Referring to an abnormal condition in which a man is devoid of sexual feeling.
↩- ↩
- ↩
- ↩