An-NurJuz 18 · Page 356

An-Nur 24:53

The Light · Juz 18 · Page 356

۞ وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِنۡ أَمَرۡتَهُمۡ لَيَخۡرُجُنَّۖ قُل لَّا تُقۡسِمُواْۖ طَاعَةٞ مَّعۡرُوفَةٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ٥٣

And they swear by Allāh their strongest oaths that if you ordered them, they would go forth [in Allāh's cause]. Say, "Do not swear. [Such] obedience is known.1 Indeed, Allāh is [fully] Aware of that which you do."

1 translator’s note
  1. i.e., the hypocrites' pretense of obedience is known to be a lie. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 24:53–54

اور انھوں نے قسمیں کھائیں اللہ کی پختہ قسمیں اپنی البتہ اگر حکم دیں آپ ان کو (جہاد کا) تو وہ ضرور نکلیں گے، آپ کہہ دیجیے! مت قسمیں کھاؤ تم، اطاعت (تمھاری) معروف ہے بلاشبہ اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (53) آپ کہہ دیجیے! اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، پس اگر تم روگردانی کرو گے تو یقینا اس (رسول) کے ذمے ہے جو کچھ بار رکھا گیا (اس پر) اور تمھارے ذمے ہے جو کچھ بار رکھا گیا (تم پر) اور اگر تم اطاعت کرو گے اس کی تو ہدایت پا جاؤ گےاور نہیں ہے رسول کے ذمے مگر پہنچا دینا کھلم کھلا (54)

[53] اللہ تبارک و تعالیٰ ان منافقین کا حال بیان کرتا ہے جو جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں نکلے اورپیچھے گھروں میں بیٹھ رہے، نیز ان کا حال بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں مرض اور ضعف ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں :﴿ لَىِٕنۡ اَمَرۡتَهُمۡ ﴾ ’’البتہ اگر آپ انھیں حکم دیں ‘‘ مستقبل میں یا جہاد کے لیے نکلتے وقت آپ ان کے نکلنے پر صراحت کے ساتھ اصرار کریں گے﴿ لَيَخۡرُجُنَّ ﴾ ’’تو وہ ضرور نکلیں گے۔‘‘ پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ لَّا تُقۡسِمُوۡا ﴾ ’’کہہ دیجیے! نہ قسمیں کھاؤ۔‘‘ یعنی ہمیں تم سے قسمیں اٹھوانے کی اور تمھارے عذروں کی توضیح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے بارے میں ہمیں آگاہ فرما دیا ہے اور تمھاری اطاعت گزاری سب کے سامنے ہے، ہم پر مخفی نہیں ، ہم تمھاری سستی اور کسی عذر کے بغیر تمھاری کسل مندی کو خوب جانتے ہیں ، اس لیے تمھارے عذر پیش کرنے اور قسمیں اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا محتاج تو صرف وہ ہوتا ہے جس کے معاملے میں متعدد احتمالات ہوں اور اس کا حال مشتبہ ہو، ایسے شخص کے لیے کبھی کبھی عذر اس کی براء ت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ مگر تمھیں عذر کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ تمھارے بارے میں تو اس بات کا ڈر اور انتظار ہے کہ کب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اس کا غضب نازل ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے باخبر ہے‘‘ وہ تمھیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا…

[54] یہ ہے ان کی حقیقت احوال۔رہے رسول اللہﷺ تو آپ کا وظیفہ یہ ہے کہ آپ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’کہہ دیجیے! اطاعت کرو اللہ اور رسول کی۔‘‘ اگر وہ اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں تو یہ ان کی سعادت ہے۔ ﴿فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَيۡهِ مَا حُمِّلَ ﴾ ’’پس اگر تم نے روگردانی کی تو اس (پیغمبر) پر وہ (ذمے داری) ہے جو اس پر ڈالی گئی۔‘‘ یعنی رسالت کی ذمے داری، جو اس نے ادا کر دی﴿ وَعَلَيۡكُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ﴾ ’’اور تم پر وہ ہے جو تم پر ڈالی گئی۔‘‘ یعنی اطاعت کی ذمہ داری اور اس بارے میں تمھارا حال ظاہر ہو گیا ہے، تمھاری گمراہی اور تمھارا استحقاق عذاب واضح ہو گیا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوۡهُ تَهۡتَدُوۡا﴾’’اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پالو گے۔‘‘ اپنے قول و فعل میں راہ راست کی۔ اس کی اطاعت کے سوا تم کسی طریقے سے بھی راہ راست نہیں پا سکتے، یہ ناممکن ہی نہیں بلکہ سخت محال بھی ہے۔﴿ وَمَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یعنی رسولﷺکے ذمے تمھیں واضح طور پر پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے، جس میں کسی کے لیے کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔ اور رسول اللہﷺ نے ایسا ہی کیا اور پیغام الٰہی کو واضح طور پر پہنچا دیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ ہی تمھارا حساب لے گا اور تمھیں اس کی جزا دے گا۔ رسول کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں اس نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 356

An-NurJuz 18 · Page 356

24:44

يُقَلِّبُ ٱللَّهُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ ٤٤

Allāh alternates the night and the day. Indeed in that is a lesson for those who have vision.

24:45

وَٱللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٖ مِّن مَّآءٖۖ فَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰ بَطۡنِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰ رِجۡلَيۡنِ وَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰٓ أَرۡبَعٖۚ يَخۡلُقُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٤٥

Allāh has created every [living] creature from water. And of them are those that move on their bellies, and of them are those that walk on two legs, and of them are those that walk on four. Allāh creates what He wills. Indeed, Allāh is over all things competent.

24:46

لَّقَدۡ أَنزَلۡنَآ ءَايَٰتٖ مُّبَيِّنَٰتٖۚ وَٱللَّهُ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٤٦

We have certainly sent down distinct verses. And Allāh guides whom He wills to a straight path.

24:47

وَيَقُولُونَ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلرَّسُولِ وَأَطَعۡنَا ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٞ مِّنۡهُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَۚ وَمَآ أُوْلَٰٓئِكَ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٤٧

But they [i.e., the hypocrites] say, "We have believed in Allāh and in the Messenger, and we obey"; then a party of them turns away after that. And those are not believers.

24:48

وَإِذَا دُعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُم مُّعۡرِضُونَ ٤٨

And when they are called to [the words of] Allāh and His Messenger to judge between them, at once a party of them turns aside [in refusal].

24:49

وَإِن يَكُن لَّهُمُ ٱلۡحَقُّ يَأۡتُوٓاْ إِلَيۡهِ مُذۡعِنِينَ ٤٩

But if the right is theirs, they come to him in prompt obedience.

24:50

أَفِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَمِ ٱرۡتَابُوٓاْ أَمۡ يَخَافُونَ أَن يَحِيفَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمۡ وَرَسُولُهُۥۚ بَلۡ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٥٠

Is there disease in their hearts? Or have they doubted? Or do they fear that Allāh will be unjust to them, or His Messenger? Rather, it is they who are the wrongdoers [i.e., the unjust].

24:51

إِنَّمَا كَانَ قَوۡلَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذَا دُعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَهُمۡ أَن يَقُولُواْ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٥١

The only statement of the [true] believers when they are called to Allāh and His Messenger to judge between them is that they say, "We hear and we obey." And those are the successful.

24:52

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَخۡشَ ٱللَّهَ وَيَتَّقۡهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ ٥٢

And whoever obeys Allāh and His Messenger and fears Allāh and is conscious of Him - it is those who are the attainers.

24:53

۞ وَأَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ لَئِنۡ أَمَرۡتَهُمۡ لَيَخۡرُجُنَّۖ قُل لَّا تُقۡسِمُواْۖ طَاعَةٞ مَّعۡرُوفَةٌۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ٥٣

And they swear by Allāh their strongest oaths that if you ordered them, they would go forth [in Allāh's cause]. Say, "Do not swear. [Such] obedience is known.1 Indeed, Allāh is [fully] Aware of that which you do."

1 translator’s note
  1. i.e., the hypocrites' pretense of obedience is known to be a lie. ↩
As-Sa'diTafsir · 24:53

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском