An-Nur 24:54
The Light · Juz 18 · Page 357
قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيۡكُم مَّا حُمِّلۡتُمۡۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهۡتَدُواْۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ ٥٤
Say, "Obey Allāh and obey the Messenger; but if you turn away - then upon him is only that [duty] with which he has been charged, and upon you is that with which you have been charged. And if you obey him, you will be [rightly] guided. And there is not upon the Messenger except the [responsibility for] clear notification."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 24:53–54
اور انھوں نے قسمیں کھائیں اللہ کی پختہ قسمیں اپنی البتہ اگر حکم دیں آپ ان کو (جہاد کا) تو وہ ضرور نکلیں گے، آپ کہہ دیجیے! مت قسمیں کھاؤ تم، اطاعت (تمھاری) معروف ہے بلاشبہ اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو (53) آپ کہہ دیجیے! اطاعت کرو تم اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی، پس اگر تم روگردانی کرو گے تو یقینا اس (رسول) کے ذمے ہے جو کچھ بار رکھا گیا (اس پر) اور تمھارے ذمے ہے جو کچھ بار رکھا گیا (تم پر) اور اگر تم اطاعت کرو گے اس کی تو ہدایت پا جاؤ گےاور نہیں ہے رسول کے ذمے مگر پہنچا دینا کھلم کھلا (54)
[53] اللہ تبارک و تعالیٰ ان منافقین کا حال بیان کرتا ہے جو جہاد سے جی چرا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں نکلے اورپیچھے گھروں میں بیٹھ رہے، نیز ان کا حال بیان کرتا ہے جن کے دلوں میں مرض اور ضعف ایمان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں :﴿ لَىِٕنۡ اَمَرۡتَهُمۡ ﴾ ’’البتہ اگر آپ انھیں حکم دیں ‘‘ مستقبل میں یا جہاد کے لیے نکلتے وقت آپ ان کے نکلنے پر صراحت کے ساتھ اصرار کریں گے﴿ لَيَخۡرُجُنَّ ﴾ ’’تو وہ ضرور نکلیں گے۔‘‘ پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ قُلۡ لَّا تُقۡسِمُوۡا ﴾ ’’کہہ دیجیے! نہ قسمیں کھاؤ۔‘‘ یعنی ہمیں تم سے قسمیں اٹھوانے کی اور تمھارے عذروں کی توضیح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے بارے میں ہمیں آگاہ فرما دیا ہے اور تمھاری اطاعت گزاری سب کے سامنے ہے، ہم پر مخفی نہیں ، ہم تمھاری سستی اور کسی عذر کے بغیر تمھاری کسل مندی کو خوب جانتے ہیں ، اس لیے تمھارے عذر پیش کرنے اور قسمیں اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا محتاج تو صرف وہ ہوتا ہے جس کے معاملے میں متعدد احتمالات ہوں اور اس کا حال مشتبہ ہو، ایسے شخص کے لیے کبھی کبھی عذر اس کی براء ت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ مگر تمھیں عذر کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ تمھارے بارے میں تو اس بات کا ڈر اور انتظار ہے کہ کب تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اس کا غضب نازل ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال سے باخبر ہے‘‘ وہ تمھیں ان اعمال کی پوری پوری جزا دے گا…
[54] یہ ہے ان کی حقیقت احوال۔رہے رسول اللہﷺ تو آپ کا وظیفہ یہ ہے کہ آپ نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ﴾ ’’کہہ دیجیے! اطاعت کرو اللہ اور رسول کی۔‘‘ اگر وہ اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں تو یہ ان کی سعادت ہے۔ ﴿فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَيۡهِ مَا حُمِّلَ ﴾ ’’پس اگر تم نے روگردانی کی تو اس (پیغمبر) پر وہ (ذمے داری) ہے جو اس پر ڈالی گئی۔‘‘ یعنی رسالت کی ذمے داری، جو اس نے ادا کر دی﴿ وَعَلَيۡكُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ﴾ ’’اور تم پر وہ ہے جو تم پر ڈالی گئی۔‘‘ یعنی اطاعت کی ذمہ داری اور اس بارے میں تمھارا حال ظاہر ہو گیا ہے، تمھاری گمراہی اور تمھارا استحقاق عذاب واضح ہو گیا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ تُطِيۡعُوۡهُ تَهۡتَدُوۡا﴾’’اور اگر تم اس کی اطاعت کرو تو ہدایت پالو گے۔‘‘ اپنے قول و فعل میں راہ راست کی۔ اس کی اطاعت کے سوا تم کسی طریقے سے بھی راہ راست نہیں پا سکتے، یہ ناممکن ہی نہیں بلکہ سخت محال بھی ہے۔﴿ وَمَا عَلَى الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ یعنی رسولﷺکے ذمے تمھیں واضح طور پر پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے، جس میں کسی کے لیے کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے۔ اور رسول اللہﷺ نے ایسا ہی کیا اور پیغام الٰہی کو واضح طور پر پہنچا دیا ہے اور اب اللہ تعالیٰ ہی تمھارا حساب لے گا اور تمھیں اس کی جزا دے گا۔ رسول کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں اس نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔
Page 357
24:54
قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَإِنَّمَا عَلَيۡهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيۡكُم مَّا حُمِّلۡتُمۡۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهۡتَدُواْۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ ٥٤
Say, "Obey Allāh and obey the Messenger; but if you turn away - then upon him is only that [duty] with which he has been charged, and upon you is that with which you have been charged. And if you obey him, you will be [rightly] guided. And there is not upon the Messenger except the [responsibility for] clear notification."
24:55
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ كَمَا ٱسۡتَخۡلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِينَهُمُ ٱلَّذِي ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ أَمۡنٗاۚ يَعۡبُدُونَنِي لَا يُشۡرِكُونَ بِي شَيۡـٔٗاۚ وَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ٥٥
Allāh has promised those who have believed among you and done righteous deeds that He will surely grant them succession [to authority] upon the earth just as He granted it to those before them and that He will surely establish for them [therein] their religion which He has preferred for them and that He will surely substitute for them, after their fear, security, [for] they worship Me, not associating anything with Me. But whoever disbelieves1 after that - then those are the defiantly disobedient.
1 translator’s note
- i.e., denies the favor of Allāh or does not live by His ordinance. ↩
24:56
وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ ٥٦
And establish prayer and give zakāh and obey the Messenger - that you may receive mercy.
24:57
لَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِۚ وَمَأۡوَىٰهُمُ ٱلنَّارُۖ وَلَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ٥٧
Never think that the disbelievers are causing failure [to Allāh] upon the earth. Their refuge will be the Fire - and how wretched the destination.
24:58
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِيَسۡتَـٔۡذِنكُمُ ٱلَّذِينَ مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَبۡلُغُواْ ٱلۡحُلُمَ مِنكُمۡ ثَلَٰثَ مَرَّٰتٖۚ مِّن قَبۡلِ صَلَوٰةِ ٱلۡفَجۡرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ ٱلظَّهِيرَةِ وَمِنۢ بَعۡدِ صَلَوٰةِ ٱلۡعِشَآءِۚ ثَلَٰثُ عَوۡرَٰتٖ لَّكُمۡۚ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ وَلَا عَلَيۡهِمۡ جُنَاحُۢ بَعۡدَهُنَّۚ طَوَّٰفُونَ عَلَيۡكُم بَعۡضُكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٥٨
O you who have believed, let those whom your right hands possess and those who have not [yet] reached puberty among you ask permission of you [before entering] at three times: before the dawn prayer and when you put aside your clothing [for rest] at noon and after the night prayer. [These are] three times of privacy1 for you. There is no blame upon you nor upon them beyond these [periods], for they continually circulate among you - some of you, among others. Thus does Allāh make clear to you the verses [i.e., His ordinances]; and Allāh is Knowing and Wise.
1 translator’s note
- Literally, "exposure" or "being uncovered." ↩