Ash-Shu'araJuz 19 · Page 376

Ash-Shu'ara 26:215

The Poets · Juz 19 · Page 376

وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٢١٥

And lower your wing [i.e., show kindness] to those who follow you of the believers.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 26:213–216

پس نہ پکاریں آپ ساتھ اللہ کے معبود کو اور، پس ہو جائیں گے آپ (بھی) ان لوگوں میں سے جو عذاب دیے گئے (213) اور ڈرائیں آپ اپنے قبیلے سے قریبی لوگوں کو (214) اور جھکا دیجیے اپنا بازو واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے پیروی کی آپ کی مومنوں میں سے (215) پس اگر وہ نافرمانی کریں آپ کی تو کہہ دیجیے، بلاشبہ میں بری ہوں اس سے جو تم عمل کرتے ہو (216)

[213] اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کو اصلاً اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے، اس لیے کہ غیر اللہ کو پکارنا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا:﴿ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ ﴾(المائدۃ:5؍72) ’’جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔‘‘ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لیے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اسی کے لیے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید صرف، اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔

[214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے:(أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔

[215]﴿ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اہل ایمان جو آپ کے متبعین ہیں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کیجیے‘‘ ان کے ساتھ نہایت نرمی سے بات کیجیے ان کے ساتھ محبت و مودت، حسن اخلاق اور احسان کامل سے پیش آئیے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا:﴿ فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِي الۡاَمۡرِ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ ان لوگوں کے لیے بڑے نرم واقع ہوئے ہیں اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ آپ کے آس پاس سے چھٹ جاتے پس آپ ان کو معاف کر دیجیے، ان کے لیے مغفرت مانگیے اور اجتماعی امور میں ان سے مشاورت کر لیا کیجیے۔‘‘ رسول مصطفی ﷺ کے یہ اخلاق، کامل ترین اخلاق تھے جن کے ذریعے سے عظیم مصالح حاصل ہوتے ہیں اور بہت سے مضر امور دور ہوتے ہیں ۔ جن کا ہر روز مشاہدہ ہوتا ہے … تب کیا اس شخص کے لائق ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی اتباع اور اقتدا کا دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں پر بوجھ بنے ، بداخلاق، سخت طبیعت، سخت دل، بدخو اور بدکلام ہو؟ اور اگر وہ ان میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور سوء ادب دیکھے تو ان سے ناراض ہو جائے اور ان کو چھوڑ دے تب وہ ان سے نرم برتاؤ کرے نہ اس کے ہاں ان کے لیے کوئی ادب اور کوئی توفیق ہو۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں بہت سے مفاسد حاصل اور بہت سے مصالح معطل ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اسے پائیں گے کہ وہ اس شخص کی تحقیر کرتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی صفات کو اختیار کرتا ہے، وہ اس کے حسن اخلاق کو نفاق اور مداہنت کا نام دیتا ہے، اپنے آپ کو بہت اونچا سمجھتا ہے اور اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔ یہ طرز عمل اس کی جہالت، شیطان کی تزیین اور اس کا فریب شمار ہو گا۔

[216] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ فَاِنۡ عَصَوۡكَ ﴾ اگر یہ کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے بیزار ہوں نہ ان سے معاملات کو ترک کریں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں اور نرمی سے پیش آئیں ، البتہ آپ ان کے برے عمل سے براء ت کا اظہار کریں ، ان کو نصیحت کریں اور ان کے ساتھ خیرخواہی سے پیش آئیں ۔ ان کو اس برے عمل سے روکنے اور اس سے توبہ کروانے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں ۔ یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے وہم کو رد کرتی ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ﴾ اہل ایمان سے صادر ہونے والے ہر فعل پر، جب تک وہ مومن ہیں ، رضا کا تقاضا کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 376

Ash-Shu'araJuz 19 · Page 376

26:207

مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ ٢٠٧

They would not be availed by the enjoyment with which they were provided.

26:208

وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ ٢٠٨

And We did not destroy any city except that it had warners

26:209

ذِكۡرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٢٠٩

As a reminder; and never have We been unjust.

26:210

وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ ٱلشَّيَٰطِينُ ٢١٠

And the devils have not brought it [i.e., the revelation] down.1

1 translator’s note
  1. As was asserted by the disbelievers. Rather, it was brought by Gabriel, the Trustworthy Spirit. ↩

26:211

وَمَا يَنۢبَغِي لَهُمۡ وَمَا يَسۡتَطِيعُونَ ٢١١

It is not allowable for them, nor would they be able.

26:212

إِنَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّمۡعِ لَمَعۡزُولُونَ ٢١٢

Indeed they, from [its] hearing, are removed.1

1 translator’s note
  1. As mentioned in 72:9. ↩

26:213

فَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُعَذَّبِينَ ٢١٣

So do not invoke1 with Allāh another deity and [thus] be among the punished.

1 translator’s note
  1. Or "worship." ↩

26:214

وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ ٢١٤

And warn, [O Muḥammad], your closest kindred.

26:215

وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٢١٥

And lower your wing [i.e., show kindness] to those who follow you of the believers.

26:216

فَإِنۡ عَصَوۡكَ فَقُلۡ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ ٢١٦

And if they disobey you, then say, "Indeed, I am disassociated from what you are doing."

26:217

وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ ٢١٧

And rely upon the Exalted in Might, the Merciful,

26:218

ٱلَّذِي يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ ٢١٨

Who sees you when you arise1

1 translator’s note
  1. From your bed at night for prayer while you are alone. ↩

26:219

وَتَقَلُّبَكَ فِي ٱلسَّٰجِدِينَ ٢١٩

And your movement among those who prostrate.1

1 translator’s note
  1. i.e., among those who pray with you in congregation. ↩

26:220

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٢٢٠

Indeed, He is the Hearing, the Knowing.

26:221

هَلۡ أُنَبِّئُكُمۡ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُ ٢٢١

Shall I inform you upon whom the devils descend?

26:222

تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ ٢٢٢

They descend upon every sinful liar.

26:223

يُلۡقُونَ ٱلسَّمۡعَ وَأَكۡثَرُهُمۡ كَٰذِبُونَ ٢٢٣

They pass on what is heard,1 and most of them are liars.

1 translator’s note
  1. This was before they were prevented, as described in 72:8-9. ↩

26:224

وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ ٢٢٤

And the poets - [only] the deviators follow them.

26:225

أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ ٢٢٥

Do you not see that in every valley they roam1

1 translator’s note
  1. Speaking lies indiscriminately and praising and disparaging others according to whim. ↩

26:226

وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ ٢٢٦

And that they say what they do not do? -

26:227

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَذَكَرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱنتَصَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَيَّ مُنقَلَبٖ يَنقَلِبُونَ ٢٢٧

Except those [poets] who believe and do righteous deeds and remember Allāh often and defend [the Muslims]1 after they were wronged. And those who have wronged are going to know to what [kind of] return they will be returned.

1 translator’s note
  1. By replying through poetry to the attacks of hostile poets. ↩
As-Sa'diTafsir · 26:215

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском