Ash-Shu'araJuz 19 · Page 376

Ash-Shu'ara 26:227

The Poets · Juz 19 · Page 376

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَذَكَرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱنتَصَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَيَّ مُنقَلَبٖ يَنقَلِبُونَ ٢٢٧

Except those [poets] who believe and do righteous deeds and remember Allāh often and defend [the Muslims]1 after they were wronged. And those who have wronged are going to know to what [kind of] return they will be returned.

1 translator’s note
  1. By replying through poetry to the attacks of hostile poets. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 26:221–227

کیا خبر دوں میں تمھیں کس پر نازل ہوتے ہیں شیطان؟ (221) نازل ہوتے ہیں وہ اوپر ہرجھوٹ گھڑنے والے، گناہ گار کے (222) وہ لگاتے ہیں کان(اپنے شیطانوں کی طرف) اوراکثر ان کے جھوٹے ہیں (223) اور شاعر، پیروی کرتے ہیں ان کی گمراہ لوگ (224)کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بلاشبہ وہ (خیال کی) ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں ؟ (225) اور بلاشبہ وہ کہتے ہیں وہ بات جو وہ نہیں کرتے (226) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور یاد کیا انھوں نے اللہ کو بہت اور بدلہ لیا انھوں نے بعد اس کے کہ وہ ظلم کیے گئے تھےاور عنقریب جان لیں گے وہ جنھوں نے ظلم کیا کہ کون سی لوٹنے کی جگہ وہ لوٹیں گے؟ (227)

[223-221] یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد (ﷺ)پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد (ﷺ)شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟‘‘ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ، یعنی میں تمھیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ﴿تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ﴾ ’’ہر کذاب، (قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیاطین نازل ہوتے ہیں ۔‘‘ ﴿ اَثِيۡمٍ ﴾یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان … اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین انھی لوگوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں ۔﴿ يُّلۡقُوۡنَ السَّمۡعَ ﴾ ’’جو سنی ہوئی بات لا ڈالتے ہیں ۔‘‘ یعنی آسمان سے سن گن لے کر چرائی ہوئی باتیں ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ﴿ وَاَكۡثَرُهُمۡ كٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اکثر جھوٹے ہیں ۔‘‘ یعنی جو باتیں ، ان کے کانوں میں ڈالتے ہیں ان میں سے اکثر باتیں جھوٹی ہیں ۔ اگر ایک بات سچی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک سو جھوٹی باتیں شامل کر دیتے ہیں ۔ تب حق باطل کے ساتھ خلط ملط ہو جاتا ہے اور حق اپنی قلت اور عدم علم کی بنا پر کمزور ہو جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے اوصاف ہیں جن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور یہ شیطانی الہام کا وصف ہے… رہے رسول مصطفی محمدﷺ تو آپ کا حال ان احوال سے بہت زیادہ مختلف ہے کیونکہ آپ صادق، امین، نیکوکار، رشدوہدایت پر کاربند ہیں ۔ آپ طہارت قلب، صدق مقال، محرمات سے پاک افعال کے جامع ہیں ۔ آپ کی طرف جو اللہ کی طرف سے وحی نازل کی جاتی ہے، نزول کے وقت اس کی حفاظت کی جاتی ہے یہ وحی صدق عظیم پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ اے عقل مند لوگو! کیا رسول اللہ ﷺ کا رشدوہدایت پر مبنی طریقہ اور شیاطین کی افترا پردازی برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہ دونوں متضاد اوصاف صرف اسی شخص پر مشتبہ ہو سکتے ہیں جو پاگل ہو اور چیزوں کے درمیان فرق اور امتیاز کرنے سے عاری ہو۔

[226-224] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان نزول شیاطین سے منزہ قرار دیا تو آپ کو شعر سے بھی مبرا قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَالشُّعَرَآءُ ﴾ یعنی کیا میں تمھیں شعراء کے احوال اور ان کے اوصاف ثابتہ کے بارے میں بھی آگاہ نہ کروں ؟ ﴿ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَ ﴾’’ان کی پیروی وہ لوگ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے‘‘ راہ ہدایت سے اور گمراہی اور ہلاکت کے راستے پر گامزن ہیں ۔ پس شعراء خود گمراہ ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ نظریاتی طورپر بھٹکا ہوا گمراہ اور مفسد شخص ان کی پیروی کرنے والوں میں شامل ہے۔﴿ اَلَمۡ تَرَ ﴾ کیا آپ نے ان کی گمراہ اور شدت ضلالت کو نہیں دیکھا ﴿ اَنَّهُمۡ فِيۡ كُلِّ وَادٍ ﴾ ’’کہ بے شک وہ (شاعری کی) ہر وادی میں ‘‘ ﴿ يَّهِيۡمُوۡنَ﴾’’آوارہ و سرگشتہ پھرتے ہیں ۔‘‘ کبھی مدح میں اشعار کہتے ہیں کبھی مذمت میں ، کبھی صدق کے بارے میں اور کبھی کذب کے بارے میں ، کبھی غزل کہتے ہیں اور کبھی تمسخر اڑاتے ہیں ، کبھی تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی حزن و غم کا۔ ان کو کہیں قرار ملتا ہے نہ کسی حال میں ثبات حاصل ہوتا ہے۔﴿ وَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ ایسی بات کہتے وہ ہیں ، جو وہ بذات خود نہیں کرتے۔‘‘ یہ شعراء کا وصف ہے کہ ان کے قول و فعل میں سخت تضاد ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی شاعر کو رقت انگیز غزل کہتے ہوئے سنیں گے تو آپ کہہ اٹھیں گے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ عشق کا مارا ہوا شخص ہے حالانکہ اس کا دل عشق سے خالی ہو گا۔ اگر آپ اس کو کسی کی مدح یا مذمت کرتے ہوئے سنیں توکہیں گے کہ یہ سچ ہے حالانکہ وہ جھوٹ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی وہ بعض افعال پر اپنی ستائش آپ کرتا ہے حالانکہ وہ ان افعال کے قریب سے نہیں گزرا ہوتا، وہ افعال کے ترک کرنے پر اپنی تعریف کرتا ہے حالانکہ اس نے اس فعل کو کبھی ترک نہیں کیا ہوتا، وہ اپنی سخاوت کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے حالانکہ اس کا اس کوچے سے کبھی گزر ہی نہیں ہوا ہوتا۔ وہ اپنی شجاعت کے تذکرے کرتا ہے جس کی بنا پر اس نے بڑے بڑے شہسواروں کو زیر کر لیا ہوتا ہے حالانکہ آپ اسے دیکھیں گے کہ وہ انتہائی بزدل ہے … یہ ہیں شعراء کے اوصاف۔اب آپ غور کیجیے کہ آیا مرقومہ بالا احوال رسول کریم محمد مصطفیﷺ جیسی ہدایت یافتہ اور پاکیزہ ہستی کے احوال سے مطابقت رکھتے ہیں ، جن کی پیروی ہر وہ شخص کرتا ہے جو صاحب رشدوہدایت ہے۔ آپ راہ راست پر نہایت استقامت سے گامزن اور ہلاکت کی وادیوں سے دور رہتے ہیں ۔ آپ کے افعال تناقض سے پاک ہوتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال میں تضاد نہیں ہوتا۔آپ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، ہمیشہ سچی خبر دیتے ہیں ۔ اگر آپ کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اس پر سب سے پہلے خود عمل کرتے ہیں اور اگر کسی کام سے روکتے ہیں تو سب سے پہلے خود اس کام کو ترک کرتے ہیں ۔ کیا آپ کا حال ان شاعروں کے احوال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے یا ان کے احوال کے کہیں قریب دکھائی دیتا ہے؟ یا ہر لحاظ سے آپ کے احوال ان شعراء حضرات کے احوال سے بالکل مختلف ہیں ؟اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کا سلام ہو ابدلآباد تک اس رسول اکمل اور سب سے افضل، عالی ہمت سردار پر جو شاعر ہے نہ ساحر و مجنون بلکہ اوصاف کمال کے سوا اورکچھ اس کے لائق نہیں ۔

[227] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شعراء کے یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد ان میں ان شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نیک کام کرتے ہیں ، نہایت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے مشرک دشمنوں سے ان کے ظلم کا بدلہ لیتے ہیں ۔ ان کی شاعری ان کے اعمال صالحہ اور آثار ایمان میں شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ اہل ایمان کی مدح، اہل کفر و شرک سے انتقام، اللہ تعالیٰ کے دین کے دفاع، علوم نافعہ کی توضیح و تبیین اور اخلاق فاضلہ کی ترغیب پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا وَّانۡتَصَرُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِ مَا ظُلِمُوۡا١ؕ وَسَيَعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَيَّ مُنۡقَلَبٍ يَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴾ ’’مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اللہ کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ وہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں ۔‘‘ یعنی حساب کتاب کے لیے، کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہ ہو گی جسے اللہ تعالیٰ نے درج نہ کر رکھا ہو، کوئی حق ایسا نہ ہو گا جسے اللہ تعالیٰ پورا نہ کرے۔ والحمدللہ رب العالمین

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 376

Ash-Shu'araJuz 19 · Page 376

26:207

مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يُمَتَّعُونَ ٢٠٧

They would not be availed by the enjoyment with which they were provided.

26:208

وَمَآ أَهۡلَكۡنَا مِن قَرۡيَةٍ إِلَّا لَهَا مُنذِرُونَ ٢٠٨

And We did not destroy any city except that it had warners

26:209

ذِكۡرَىٰ وَمَا كُنَّا ظَٰلِمِينَ ٢٠٩

As a reminder; and never have We been unjust.

26:210

وَمَا تَنَزَّلَتۡ بِهِ ٱلشَّيَٰطِينُ ٢١٠

And the devils have not brought it [i.e., the revelation] down.1

1 translator’s note
  1. As was asserted by the disbelievers. Rather, it was brought by Gabriel, the Trustworthy Spirit. ↩

26:211

وَمَا يَنۢبَغِي لَهُمۡ وَمَا يَسۡتَطِيعُونَ ٢١١

It is not allowable for them, nor would they be able.

26:212

إِنَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّمۡعِ لَمَعۡزُولُونَ ٢١٢

Indeed they, from [its] hearing, are removed.1

1 translator’s note
  1. As mentioned in 72:9. ↩

26:213

فَلَا تَدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَكُونَ مِنَ ٱلۡمُعَذَّبِينَ ٢١٣

So do not invoke1 with Allāh another deity and [thus] be among the punished.

1 translator’s note
  1. Or "worship." ↩

26:214

وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ ٢١٤

And warn, [O Muḥammad], your closest kindred.

26:215

وَٱخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِمَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٢١٥

And lower your wing [i.e., show kindness] to those who follow you of the believers.

26:216

فَإِنۡ عَصَوۡكَ فَقُلۡ إِنِّي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تَعۡمَلُونَ ٢١٦

And if they disobey you, then say, "Indeed, I am disassociated from what you are doing."

26:217

وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱلۡعَزِيزِ ٱلرَّحِيمِ ٢١٧

And rely upon the Exalted in Might, the Merciful,

26:218

ٱلَّذِي يَرَىٰكَ حِينَ تَقُومُ ٢١٨

Who sees you when you arise1

1 translator’s note
  1. From your bed at night for prayer while you are alone. ↩

26:219

وَتَقَلُّبَكَ فِي ٱلسَّٰجِدِينَ ٢١٩

And your movement among those who prostrate.1

1 translator’s note
  1. i.e., among those who pray with you in congregation. ↩

26:220

إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٢٢٠

Indeed, He is the Hearing, the Knowing.

26:221

هَلۡ أُنَبِّئُكُمۡ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ ٱلشَّيَٰطِينُ ٢٢١

Shall I inform you upon whom the devils descend?

26:222

تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٖ ٢٢٢

They descend upon every sinful liar.

26:223

يُلۡقُونَ ٱلسَّمۡعَ وَأَكۡثَرُهُمۡ كَٰذِبُونَ ٢٢٣

They pass on what is heard,1 and most of them are liars.

1 translator’s note
  1. This was before they were prevented, as described in 72:8-9. ↩

26:224

وَٱلشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ ٢٢٤

And the poets - [only] the deviators follow them.

26:225

أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِي كُلِّ وَادٖ يَهِيمُونَ ٢٢٥

Do you not see that in every valley they roam1

1 translator’s note
  1. Speaking lies indiscriminately and praising and disparaging others according to whim. ↩

26:226

وَأَنَّهُمۡ يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ ٢٢٦

And that they say what they do not do? -

26:227

إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَذَكَرُواْ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱنتَصَرُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا ظُلِمُواْۗ وَسَيَعۡلَمُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَيَّ مُنقَلَبٖ يَنقَلِبُونَ ٢٢٧

Except those [poets] who believe and do righteous deeds and remember Allāh often and defend [the Muslims]1 after they were wronged. And those who have wronged are going to know to what [kind of] return they will be returned.

1 translator’s note
  1. By replying through poetry to the attacks of hostile poets. ↩
As-Sa'diTafsir · 26:227

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском