An-NamlJuz 19 · Page 377

An-Naml 27:1

The Ant · Juz 19 · Page 377

طسٓۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡقُرۡءَانِ وَكِتَابٖ مُّبِينٍ ١

Ṭā, Seen.1 These are the verses of the Qur’ān [i.e., recitation] and a clear Book

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 27:1–6

طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔

[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔

[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔

[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔

[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔

[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 377

An-NamlJuz 19 · Page 377

سورة النمل

An-Naml

The Ant · Meccan · 93 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

27:1

طسٓۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡقُرۡءَانِ وَكِتَابٖ مُّبِينٍ ١

Ṭā, Seen.1 These are the verses of the Qur’ān [i.e., recitation] and a clear Book

1 translator’s note
  1. See footnote to 2:1. ↩

27:2

هُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٢

As guidance and good tidings for the believers

27:3

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ ٣

Who establish prayer and give zakāh, and of the Hereafter they are certain [in faith].

27:4

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُونَ ٤

Indeed, for those who do not believe in the Hereafter, We have made pleasing to them their deeds, so they wander blindly.

27:5

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡعَذَابِ وَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡأَخۡسَرُونَ ٥

Those are the ones for whom there will be the worst of punishment, and in the Hereafter they are the greatest losers.

27:6

وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلۡقُرۡءَانَ مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ عَلِيمٍ ٦

And indeed, [O Muḥammad], you receive the Qur’ān from one Wise and Knowing.

27:7

إِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهۡلِهِۦٓ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا سَـَٔاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ أَوۡ ءَاتِيكُم بِشِهَابٖ قَبَسٖ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ ٧

[Mention] when Moses said to his family, "Indeed, I have perceived a fire. I will bring you from there information or will bring you a burning torch that you may warm yourselves."

27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِيَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِي ٱلنَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨

But when he came to it, he was called, "Blessed is whoever is at the fire and whoever is around it. And exalted is Allāh, Lord of the worlds.

27:9

يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٩

O Moses, indeed it is I - Allāh, the Exalted in Might, the Wise."

27:10

وَأَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰ لَا تَخَفۡ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ ٱلۡمُرۡسَلُونَ ١٠

And [he was told], "Throw down your staff." But when he saw it writhing as if it were a snake, he turned in flight and did not return.1 [Allāh said], "O Moses, fear not. Indeed, in My presence the messengers do not fear.

1 translator’s note
  1. Or "did not look back." ↩

27:11

إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنَۢا بَعۡدَ سُوٓءٖ فَإِنِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١١

Otherwise, he who wrongs, then substitutes good after evil - indeed, I am Forgiving and Merciful.

27:12

وَأَدۡخِلۡ يَدَكَ فِي جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٖۖ فِي تِسۡعِ ءَايَٰتٍ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ ١٢

And put your hand into the opening of your garment [at the breast]; it will come out white without disease. [These are] among the nine signs [you will take] to Pharaoh and his people. Indeed, they have been a people defiantly disobedient."

27:13

فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ ءَايَٰتُنَا مُبۡصِرَةٗ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ١٣

But when there came to them Our visible signs, they said, "This is obvious magic."

As-Sa'diTafsir · 27:1

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском