As-Sa'diAn‑Naml · 27:1–14

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

النمل

An-Naml

The Ant · Meccan · 93 ayahs

27:1–6Page 377

طسٓۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡقُرۡءَانِ وَكِتَابٖ مُّبِينٍ ١

Ṭā, Seen.1 These are the verses of the Qur’ān [i.e., recitation] and a clear Book

هُدٗى وَبُشۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ ٢

As guidance and good tidings for the believers

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ يُوقِنُونَ ٣

Who establish prayer and give zakāh, and of the Hereafter they are certain [in faith].

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡأٓخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُونَ ٤

Indeed, for those who do not believe in the Hereafter, We have made pleasing to them their deeds, so they wander blindly.

أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡعَذَابِ وَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡأَخۡسَرُونَ ٥

Those are the ones for whom there will be the worst of punishment, and in the Hereafter they are the greatest losers.

وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلۡقُرۡءَانَ مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ عَلِيمٍ ٦

And indeed, [O Muḥammad], you receive the Qur’ān from one Wise and Knowing.

طٰسٓ، یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب واضح کی (1) ہدایت اور خوش خبری ہے مومنوں کے لیے(2)(یعنی ) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور ادا کرتے ہیں زکاۃاور ساتھ آخرت کے، وہ یقین رکھتے ہیں (3) بلاشبہ وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے ساتھ آخرت کے، مزین کر دیے ہیں ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں (4) یہ لوگ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں ، وہی خسارہ پانے والے ہیں (5) اور بلاشبہ آپ سکھلائے جاتے ہیں (یہ) قرآن جو طرف سے ہے نہایت حکمت والے، خوب جاننے والے کی (6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَؔكِتَابٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہے۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں ، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لیے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لیے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ماضی اور مستقبل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جو رب عظیم کے اسمائے حسنیٰ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں ۔ یہ ایسی آیات ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائی اور ان کے اوصاف بیان كيے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔

[2] مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں ۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ هُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔‘‘ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں ۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔

[3] بسااوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کر لیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے یا اس پر دلیل ضروری ہے؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ﴾ ’’جو نماز قائم کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں ، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحبات کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ، سے مراد خشوع ہے جو کہ نماز کی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراء ت و تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور (مستحق لوگوں کو) زکاۃ ادا کرتے ہیں ۔‘‘ ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجۂ یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کامل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کریں ، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔

[4]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں ۔ ﴿زَيَّنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَ﴾ ’’ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لیے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ۔‘‘ وہ حیران ومتردد ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں ، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں ۔

[5]﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴾ یعنی ان کے لیے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ ﴿ وَهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ﴾ ’’اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔‘‘ خسارہ انھی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہے۔

[6]﴿ وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الۡقُرۡاٰنَ مِنۡ لَّدُنۡ حَكِيۡمٍ عَلِيۡمٍ ﴾ ’’اور بلاشبہ آپ کو قرآن، حکیم و علیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں ، ﴿ حَكِيۡمٍ ﴾ دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے مقام پر رکھتی اور ان کی جگہ پر نازل کرتی ہے ﴿ عَلِيۡمٍ ﴾ باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام احوال کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا وباخبر ہستی کی طرف سے ہے اس لیے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو؟

27:7–14Page 377

إِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهۡلِهِۦٓ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا سَـَٔاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ أَوۡ ءَاتِيكُم بِشِهَابٖ قَبَسٖ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ ٧

[Mention] when Moses said to his family, "Indeed, I have perceived a fire. I will bring you from there information or will bring you a burning torch that you may warm yourselves."

فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِيَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِي ٱلنَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٨

But when he came to it, he was called, "Blessed is whoever is at the fire and whoever is around it. And exalted is Allāh, Lord of the worlds.

يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٩

O Moses, indeed it is I - Allāh, the Exalted in Might, the Wise."

وَأَلۡقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهۡتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنّٞ وَلَّىٰ مُدۡبِرٗا وَلَمۡ يُعَقِّبۡۚ يَٰمُوسَىٰ لَا تَخَفۡ إِنِّي لَا يَخَافُ لَدَيَّ ٱلۡمُرۡسَلُونَ ١٠

And [he was told], "Throw down your staff." But when he saw it writhing as if it were a snake, he turned in flight and did not return.1 [Allāh said], "O Moses, fear not. Indeed, in My presence the messengers do not fear.

إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنَۢا بَعۡدَ سُوٓءٖ فَإِنِّي غَفُورٞ رَّحِيمٞ ١١

Otherwise, he who wrongs, then substitutes good after evil - indeed, I am Forgiving and Merciful.

وَأَدۡخِلۡ يَدَكَ فِي جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٖۖ فِي تِسۡعِ ءَايَٰتٍ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ ١٢

And put your hand into the opening of your garment [at the breast]; it will come out white without disease. [These are] among the nine signs [you will take] to Pharaoh and his people. Indeed, they have been a people defiantly disobedient."

فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ ءَايَٰتُنَا مُبۡصِرَةٗ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ١٣

But when there came to them Our visible signs, they said, "This is obvious magic."

وَجَحَدُواْ بِهَا وَٱسۡتَيۡقَنَتۡهَآ أَنفُسُهُمۡ ظُلۡمٗا وَعُلُوّٗاۚ فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ١٤

And they rejected them, while their [inner] selves were convinced thereof, out of injustice and haughtiness. So see how was the end of the corrupters.

جب کہا موسیٰ نے اپنے اہل (بیوی) سے، کہ میں نے دیکھی ہے آگ، عنقریب لاؤں گا میں تمھارے پاس اس سے کوئی خبر یا لاؤں گا میں تمھارے پاس شعلہ (لکڑی میں ) سلگتا ہوا تاکہ تم تاپو (7) پس جب آئے موسیٰ اس کے پاس تو آواز دیے گئے کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ (نور) میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اورپاک ہے اللہ رب العالمین (8) اے موسیٰ! بلاشبہ میں ہی ہوں اللہ، نہایت غالب، خوب حکمت والا (9)اور ڈال تو اپنا عَصَا، پس جب دیکھا موسیٰ نے اسے کہ وہ حرکت کر رہا ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو لوٹا وہ پیٹھ پھیر کر اور نہ مڑ کر دیکھا اس نے ، (اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ! مت ڈر بلاشبہ، نہیں ڈرتے میرے حضور میں رسول (10) مگر جس نے ظلم کیا ، پھر بدل کر اس نے نیکی کی، بعد برائی کے تو بلاشبہ میں بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہوں (11) اور داخل کر تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ، وہ نکلے گا سفید (چمکتا ہوا) بغیر کسی عیب کے (یہ ان) نو نشانیوں میں سے ہیں (جن کے ساتھ بھیجا گیا ہے تمھیں ) فرعون اوراس کی قوم کی طرف بے شک وہ ہیں لوگ نافرمان(12) پس جب آئے ان کے پاس ہمارے معجزات واضح روشن تو انھوں نے کہا، یہ جادو ہے صریح (13)اور انکار کیا انھوں نے ان کا، جبکہ یقین کر لیا تھا ان کا ان کے دلوں نے، ظلم اور تکبر سے پس دیکھیے کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا؟(14)

[7] یعنی موسیٰ بن عمرانu نے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتدا، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریفہ و فاضلہ کو یاد کیجیے … یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰu مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انھوں نے اپنے گھر والوں سے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ﴾ یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے: ﴿سَاٰتِيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا بِخَبَرٍ ﴾ میں وہاں سے تمھارے لیے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں ﴿ اَوۡ اٰتِيۡكُمۡ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴾ ’’یا سلگتا ہوا انگارا تمھارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سرد رات تھی۔

[8]﴿ فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِيَ اَنۢۡ بُوۡرِكَ مَنۡ فِي النَّارِ وَمَنۡ حَوۡلَهَا﴾ ’’پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰu کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لیے منتخب فرمایا:﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ، رب کائنات اس چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔

[9]﴿ يٰمُوۡسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’اے موسیٰ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا:﴿ اِنَّنِيۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِيۡ١ۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِـذِكۡرِيۡ ﴾(طٰہٰ:20؍14) ’’میں اللہ ہوں ، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کر۔‘‘ ﴿ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ اپنے امروخلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران(u) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہونے، دشمنوں کی کثرت اوران کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں ۔

[10]﴿ وَاَلۡقِ عَصَاكَ﴾ ’’اور اپنی لاٹھی ڈال دو۔‘‘ پس انھوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهۡتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ ’’پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔‘‘ وہ ایک سریع الحرکت نرسانپ تھا۔﴿ وَّلّٰى مُدۡبِرًا وَّلَمۡ يُعَقِّبۡ ﴾ ’’تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔‘‘ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu سے فرمایا: ﴿يٰمُوۡسٰؔى لَا تَخَفۡ ﴾ ’’اے موسیٰ! ڈرئیے مت۔‘‘ ایک مقام پر فرمایا: ﴿ اَقۡبِلۡ وَلَا تَخَفۡ اِنَّكَ مِنَ الۡاٰمِنِيۡنَ ﴾(القصص:28؍31) ’’اے موسیٰ! ’’آگے آ، ڈر مت، یقینا تو ہر طرح امن والا ہے۔‘‘ ﴿ اِنِّيۡ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔‘‘ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں ۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے مختص اور اپنی وحی کے لیے چن لیا ہے ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔

[11]﴿ اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔‘‘ یعنی، یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء و مرسلین علیہ السلام تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ظلم کا ارتکاب کیا پھراس نے توبہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔

[12]﴿وَاَدۡخِلۡ يَدَكَ فِيۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ ﴾ ’’اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ کسی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔‘‘ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت كيے دے رہی تھیں :﴿فِيۡ تِسۡعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَقَوۡمِهٖ ﴾ ’’نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔‘‘ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں ۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک وہ فاسق لوگ ہیں ۔‘‘ انھوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔

[13] پس حضرت موسیٰu فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ اٰيٰتُنَا مُبۡصِرَةً ﴾ ’’پس جب ان کے پاس روشن نشانیاں آئیں ‘‘ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جا سکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں ۔ ﴿ قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’تو انھوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔‘‘ انھوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ بلکہ انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا: ﴿ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ کھلا جادو ہے‘‘ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیوں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں ۔ یہ سب سے بڑا انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔

[14]﴿ وَجَحَدُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور انھوں نے اس کا انکار کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ ﴿ وَاسۡتَيۡقَنَتۡهَاۤ اَنۡفُسُهُمۡ ﴾ ’’حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔‘‘ یعنی ان کا انکار کسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ ﴿ ظُلۡمًا ﴾ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہوئے ﴿ وَّعُلُوًّا ﴾ حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء و مرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھیے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کر دیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انھیں رسوا کیا اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском