Al-'Ankabut 29:34
The Spider · Juz 20 · Page 400
إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَىٰٓ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِ رِجۡزٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ ٣٤
Indeed, we will bring down on the people of this city punishment from the sky because they have been defiantly disobedient."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 29:28–35
اور (یاد کیجیے) لوط کو، جب کہا تھا اس نے اپنی قوم سے، بلاشبہ تم ارتکاب کرتے ہو ایسی بے حیائی کا کہ نہیں پہلے کی تم سے یہ (برائی) کسی نے بھی جہان والوں میں سے (28)کیا بے شک تم البتہ آتے ہو مردوں کے پاس (جنسی تسکین کے لیے) اور قطع کرتے (کاٹتے) ہو تم راستے اور کرتے ہو تم اپنی مجلس میں برے کام، پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے لے آ تو ہم پر عذاب اللہ کا اگر ہے تو سچوں میں سے (29) لوط نے کہا اے میرے رب! تو مدد فرما میری قوم فسادی پر (30) اور جب آئے ہمارے قاصد ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے تو انھوں نے کہا، بلاشبہ ہم ہلاک کرنے والے ہیں اس بستی (سدوم) کے باشندوں کو بلاشبہ اس کے باشندے ہیں ظالم (31) ابرہیم نے کہا، بے شک اس میں تو لوط (بھی) ہے، انھوں نے کہا ، ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کوئی اس میں ہے البتہ ہم ضرور نجات دیں گے لوط اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے وہ ہو گی پیچھے رہنے والوں میں سے (32) اور جب آئے ہمارے قاصد لوط کے پاس تو وہ مغموم ہوا بوجہ ان (کے آنے) کےاور تنگ ہوا ان کی وجہ سے (اس کا) سینہ اور فرشتوں نے کہا، نہ ڈر تو اور نہ غم کھا، بلاشبہ ہم نجات دینے والے ہیں تجھے اور تیرے گھر والوں کو سوائے تیری بیوی کے وہ ہو گی پیچھے رہنے والوں میں سے(33) بے شک ہم نازل کرنے والے ہیں اوپر باشندوں کے اس بستی کے عذاب آسمان سے بہ سبب اس کے جو تھے وہ فرمانی کرتے (34) اور البتہ تحقیق چھوڑی ہم نے اس (بستی) میں سے ایک نشانی واضح ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں (35)
[29,28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوطu کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا ان میں شرک کی بیماری کے ساتھ ساتھ، مردوں کے ساتھ بدکاری، راہ زنی اور مجالس میں فواحش و منکرات کے ارتکاب جیسے برے کام بھی جمع تھے ۔ لوطu نے ان کو ان فواحش سے روکا اور ان پر ان فواحش کی قباحتیں واضح کیں اور ان کی پاداش میں نازل ہونے والے عذاب کے بارے میں آگاہ فرمایا مگر انھوں نے اس بات کی طرف کوئی توجہ دی نہ نصیحت پکڑی۔ ﴿ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچوں میں سے ہے۔‘‘
[35-30] ان کا نبی ان سے مایوس ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس کی قوم عذاب کی مستحق ہے، ان کے بہت زیادہ جھٹلانے کی وجہ سے حضرت لوط بے قرار ہو گئے آپ نے ان کے لیے بددعا کی ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’انھوں (لوطu) نے کہا، اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کر لی اور ان کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے فرشتے بھیجے۔حضرت لوط کے پاس جانے سے قبل یہ فرشتے ابراہیمu کے پاس سے گزرے انھوں نے آپ کو اسحاق کی اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔ حضرت ابراہیمu نے ان سے پوچھا کہ ان کا کہاں کا ارادہ ہے انھوں نے کہا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں ۔ ابراہیمu نے ان کے ساتھ بحث کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا ﴾ ’’اس میں تو لوط بھی ہیں ۔‘‘ فرشتوں نے جواب دیا: ﴿ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ٞۗ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز ان کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔‘‘ پھر وہ وہاں سے چلے گئے اور لوطu کے پاس آئے۔ ان کا آنا لوطu کو بہت ناگوار گزرا اور بہت تنگدل ہوئے کیونکہ آپ ان کو پہچان نہ پائے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ مہمان اور مسافر ہیں اس لیے وہ ان کے بارے میں اپنی قوم کے رویے سے خائف تھے تو فرشتوں نے آپ سے کہا۔ ﴿ لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ﴾ ’’خوف کیجیے نہ رنج کیجیے۔‘‘ اور انھوں نے لوطu کو بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ﴿ اِنَّا مُنَجُّوۡكَ وَاَهۡلَكَ اِلَّا امۡرَاَتَكَ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ اِنَّا مُنۡزِلُوۡنَ عَلٰۤى اَهۡلِ هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةِ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ﴾’’ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ بے شک ہم اس بستی کے رہنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں کیونکہ یہ بدکاری کررہے تھے۔‘‘ فرشتوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ۔ پس جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کو ان پر الٹ دیا اور اوپر والا حصہ نیچے کر دیا اور ان پر پے درپے کھنگر کے پتھر برسائے جنھوں نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا، لہٰذا وہ کہانیاں اور عبرت کا نشان بن کر رہ گئے۔﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنَا مِنۡهَاۤ اٰيَةًۢ بَيِّنَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے دیار قوم لوط کو عقل مند لوگوں کے لیے واضح آثار اور ان کے دلوں کے لیے عبرت بنا دیا پس وہ ان آثار سے منتفع ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾(الصافات: 37؍137-138) ’’اور تم دن رات ان کے اجڑے ہوئے گھروں پر گزرتے ہو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘
Page 400
29:31
وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُوٓاْ إِنَّا مُهۡلِكُوٓاْ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِۖ إِنَّ أَهۡلَهَا كَانُواْ ظَٰلِمِينَ ٣١
And when Our messengers [i.e., angels] came to Abraham with the good tidings,1 they said, "Indeed, we will destroy the people of that [i.e., Lot's] city. Indeed, its people have been wrongdoers."
1 translator’s note
- Of the birth of Isaac and his descendant, Jacob. ↩
29:32
قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطٗاۚ قَالُواْ نَحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَن فِيهَاۖ لَنُنَجِّيَنَّهُۥ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٣٢
[Abraham] said, "Indeed, within it is Lot." They said, "We are more knowing of who is within it. We will surely save him and his family, except his wife. She is to be of those who remain behind."
29:33
وَلَمَّآ أَن جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوطٗا سِيٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعٗاۖ وَقَالُواْ لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهۡلَكَ إِلَّا ٱمۡرَأَتَكَ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٣٣
And when Our messengers [i.e., angels] came to Lot, he was distressed for them and felt for them great discomfort.1 They said, "Fear not, nor grieve. Indeed, we will save you and your family, except your wife; she is to be of those who remain behind.
1 translator’s note
- See footnote to 11:77. ↩
29:34
إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَىٰٓ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِ رِجۡزٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ ٣٤
Indeed, we will bring down on the people of this city punishment from the sky because they have been defiantly disobedient."
29:35
وَلَقَد تَّرَكۡنَا مِنۡهَآ ءَايَةَۢ بَيِّنَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٣٥
And We have certainly left of it a sign as clear evidence for a people who use reason.
29:36
وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗا فَقَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱرۡجُواْ ٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ ٣٦
And to Madyan [We sent] their brother Shuʿayb, and he said, "O my people, worship Allāh and expect the Last Day and do not commit abuse on the earth, spreading corruption."
29:37
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ ٣٧
But they denied him, so the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.
29:38
وَعَادٗا وَثَمُودَاْ وَقَد تَّبَيَّنَ لَكُم مِّن مَّسَٰكِنِهِمۡۖ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَكَانُواْ مُسۡتَبۡصِرِينَ ٣٨
And [We destroyed] ʿAad and Thamūd, and it has become clear to you from their [ruined] dwellings. And Satan had made pleasing to them their deeds and averted them from the path, and they were endowed with perception.