As-Sa'diAl-'Ankabut · 29:23–44

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-'Ankabut 29:23–44

29:23Page 398

وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَلِقَآئِهِۦٓ أُوْلَٰٓئِكَ يَئِسُواْ مِن رَّحۡمَتِي وَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٢٣

And the ones who disbelieve in the signs of Allāh and the meeting with Him - those have despaired of My mercy, and they will have a painful punishment.

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا، یہی لوگ ناامید ہیں میری رحمت سے اور یہ لوگ، انھی کے لیے ہے عذاب نہایت دردناک (23)

[23] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جن سے بھلائی زائل ہو گئی اور ان کو شر حاصل ہوا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو جھٹلایا، ان کے پاس دنیا کے سوا کچھ نہیں اسی لیے انھوں نے شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کے دلوں میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انھیں ان گناہوں کے انجام سے ڈرائے، اس لیے فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَلِقَآىِٕهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ يَىِٕسُوۡا مِنۡ رَّحۡمَتِيۡ ﴾’’ یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوگئے۔‘‘ یعنی ان کے پاس کوئی ایسا سبب نہ ہو گا جس کے ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہرہ ور ہوں ورنہ اگر انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید ہوتی تو اس رحمت کے حصول کے لیے عمل کرتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا بڑے بڑے ممنوعات میں سے ہے اور اس کی دو اقسام ہیں :1 کفار کا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو کر ان تمام اسباب کو ترک کر دینا جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں ۔2 گناہ گاروں کا اپنے گناہوں اور جرائم کی کثرت کے سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا جو انھیں وحشت میں مبتلا کر کے ان کے قلوب پر حاوی ہو جاتے ہیں اور یوں ان کے قلوب میں مایوسی جنم لیتی ہے۔﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘ یعنی تکلیف دہ اور دل دوز گویا کہ یہ آیات حضرت ابراہیمu کے اپنی قوم کے ساتھ کلام اور ان کی قوم کا آپ کی بات رد کرنے کے درمیان بطور جملۂ معترضہ آئی ہے۔ واللہ اعلم۔

29:24–25Page 399

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱقۡتُلُوهُ أَوۡ حَرِّقُوهُ فَأَنجَىٰهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٢٤

And the answer of his [i.e., Abraham's] people was not but that they said, "Kill him or burn him," but Allāh saved him from the fire. Indeed in that are signs for a people who believe.

وَقَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذۡتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡثَٰنٗا مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ ثُمَّ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُم بِبَعۡضٖ وَيَلۡعَنُ بَعۡضُكُم بَعۡضٗا وَمَأۡوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّٰصِرِينَ ٢٥

And [Abraham] said, "You have only taken, other than Allāh, idols as [a bond of] affection among you in worldly life. Then on the Day of Resurrection you will deny one another and curse one another, and your refuge will be the Fire, and you will not have any helpers."

پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے، تم قتل کر دو اسے یا جلا دو اسے پس نجات دی اس کو اللہ نے (اس) آگ سے بلاشبہ اس (نجات) میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (24) اور کہا ابراہیم نے، یقینا ٹھہرایا ہے تم نے سوائے اللہ کے بتوں کو (معبود) آپس میں دوستی کی وجہ سے، زندگانیٔ دنیا میں ، پھر دن قیامت کے کفر (انکار) کرے گا بعض تمھارا بعض کااور لعنت کرے گا بعض تمھارا بعض کو اور ٹھکانا تمھارا آگ ہےاور نہیں ہو گا تمھارے لیے کوئی مدد گار (25)

[24] یعنی جب ابراہیمu نے اپنی قوم کو اپنے رب کی طرف بلایا تو آپ کی قوم نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی نہ آپ کی خیرخواہی کی اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی بعثت کی نعمت کی رؤیت کو اپنا راہنما ہی بنایا۔ ان کا جواب تو بدترین جواب تھا۔ ﴿ قَالُوا اقۡتُلُوۡهُ اَوۡ حَرِّقُوۡهُ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اسے مار ڈالو یا جلادو۔‘‘ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو۔ وہ قدرت رکھنے والے اصحاب اقتدار لوگ تھے، چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو آگ میں ڈال دیا ﴿ فَاَنۡؔجٰؔىهُ اللّٰهُ ﴾ ’’پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا آگ سے‘‘ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’بے شک اس میں ایمان دار لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ پس وہ اہل ایمان اور انبیاء و رسل کی تعلیمات کی صحت، ان کی نیکی اور ان کی خیرخواہی اور انبیاء و رسل کے مخالفین و معارضین کے موقف کے بطلان کو خوب جانتے تھے۔ گویا رسولوں کے مخالفین ان کی تکذیب کی ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے اور ایک دوسرے کو ترغیب دیا کرتے تھے۔

[25]﴿وَقَالَ ﴾ ابرہیمu نے، ان کے ساتھ خیرخواہی کی وجہ سے فرمایا:﴿ اِنَّمَا اتَّؔخَذۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَيۡنِكُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا﴾ ’’تم جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو، صرف دنیا میں باہم دوستی کے لیے۔‘‘ اس کی غایت و انتہا بس دنیا میں دوستی اور محبت ہے جو عنقریب ختم ہو جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُمۡ بِبَعۡضٍ وَّيَلۡعَنُ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا﴾ ’’پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کی دوستی کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‘‘ تمام عابد اور معبود ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کریں گے۔ ﴿وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوۡا لَهُمۡ اَعۡدَآءًؔ وَّكَانُوۡا بِعِبَادَتِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ﴾(الاحقاف:46؍6) ’’اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کرجائیں گے۔‘‘ تب تم ایسی ہستیوں سے کیونکر تعلق رکھتے ہو جو عنقریب اپنے عبادت گزاروں سے بیزاری کا اظہار کریں گی۔ ﴿ وَّ ﴾ ’’اور‘‘ بے شک یعنی عابدوں اور معبودوں ، سب کا ٹھکانا ﴿النَّارُ ﴾ ’’جہنم ہو گا‘‘ اور کوئی انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا نہ ان سے اس کے عقاب کو دور کر سکے گا۔

29:26–27Page 399

۞ فَـَٔامَنَ لَهُۥ لُوطٞۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٦

And Lot believed him. [Abraham] said, "Indeed, I will emigrate to [the service of] my Lord. Indeed, He is the Exalted in Might, the Wise."

وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَجَعَلۡنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَٰبَ وَءَاتَيۡنَٰهُ أَجۡرَهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٢٧

And We gave to him Isaac and Jacob and placed in his descendants prophethood and scripture. And We gave him his reward in this world, and indeed, he is in the Hereafter among the righteous.

پس ایمان لایا ابراہیم پر لوط اور کہا ابراہیم نے، بے شک میں ہجرت کرنے والا ہوں اپنے رب کی طرف، بلاشبہ وہ ہے نہایت غالب، خوب حکمت والا (26) اور عطا کیے ہم نے اس کو اسحاق او ر یعقوب اور رکھ دی ہم نے اس کی اولاد میں نبوت اورکتاب اور دیا ہم نے اس کو اس کا اجر (صلہ) دنیا میں اور بلاشبہ وہ آخرت میں البتہ نیک لوگوں میں سے ہوگا (27)

[26] ابراہیمu اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور ان کی قوم اپنے عناد پر جمی رہی۔ سوائے لوطu کے جو ابراہیمu کی دعوت پر ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے لوطu کو نبوت سے سرفراز فرما کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ جس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ ﴿ وَقَالَ ﴾ جب ابراہیمu نے دیکھا کہ ان کی دعوت کچھ فائدہ نہیں دے رہی تو کہنے لگے ﴿ اِنِّيۡ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّيۡ ﴾ ’’میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ۔‘‘ یعنی وہ برے خطۂ ارض کو چھوڑ کر بابرکت سرزمین کی طرف نکل گئے … اس سے مراد ملک شام ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’بے شک وہ بڑا ہی غالب ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو قوت کا مالک ہے تمھیں ہدایت دینے پر قادر ہے لیکن وہ حکمت والا ہے‘‘ اور اس کی حکمت ایسا کرنے کی مقتضی نہیں ۔جب ابراہیمu اپنی قوم کو اسی حال میں چھوڑ کر چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے ان کو ہلاک کر دیا تھا بلکہ صرف یہ ذکر فرمایا کہ آپ وہاں سے ہجرت کر گئے ور اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ رہا وہ قصہ جو اسرائیلیات میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیمu کی قوم پر مچھروں کا دروازہ کھول دیا۔ وہ ان کا خون پی گئے، گوشت کھا گئے اور ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے دلیل پر توقف کرنا چاہیے جو کہ موجود نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو تہس نہس کیا ہوتا تو ضرور اس کا ذکر فرماتا جیسے دیگر جھٹلانے والی امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا ہے۔مگر کیا اس قصہ کا یہ راز تو نہیں کہ حضرت خلیلu مخلوق میں سب سے زیادہ رحیم و شفیق، سب سے زیادہ افضل، سب سے زیادہ حلیم اور سب سے زیادہ جلیل القدر لوگوں میں سے تھے۔ آپ نے کبھی اپنی قوم کے لیے بددعا نہیں کی جیسے دیگر بعض انبیائے کرام نے بددعا کی اور نہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب آپ کی قوم پر عذاب نازل فرمایا… اس موقف پر یہ واقعہ بھی دلالت کرتا ہے کہ جب فرشتے قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے تو آپ نے قوم لوط کی مدافعت کے لیے ان فرشتوں سے جھگڑا کیا حالانکہ وہ آپ کی قوم نہ تھی۔ اصل صورت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

[27]﴿ وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰؔقَ وَيَعۡقُوۡبَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب (i) دیے۔‘‘ یعنی آپ کے ملک شام کی طرف ہجرت کر جانے کے بعد ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ ﴾’’اور کردی ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب۔‘‘ آپ کے بعد جو بھی نبی مبعوث ہوا وہ آپ کی اولاد سے تھا اور جو بھی کتاب نازل ہوئی وہ آپ کی اولاد پر نازل ہوئی حتیٰ کہ انبیاء کا سلسلہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیﷺ کے ذریعے سے ختم کر دیا گیا۔ یہ اعلیٰ ترین مناقب و مفاخر ہیں کہ ہدایت و رحمت، سعادت و فلاح اور کامیابی کا مواد آپ کی ذریت میں ہو، نیز اہل ایمان اور صالحین آپ کی اولاد کے ہاتھوں پر ایمان لائے اور انھوں نے آپ کی ذریت کے ذریعے سے ہدایت پائی۔﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ اَجۡرَهٗ فِي الدُّنۡيَا ﴾ ’’اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا۔‘‘ یعنی ہم نے آپ کو نہایت خوبصورت بیوی عطا کی جو حسن و جمال میں تمام عورتوں پر فوقیت رکھتی تھی، ہم نے آپ کو وسیع رزق اور اولاد سے سرفراز کیا جن سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی معرفت، محبت اور انابت سے نوازا۔ ﴿ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور بے شک وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔‘‘ بلکہ آپ اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ علی الاطلاق تمام مخلوق میں سب زیادہ صالح اور سب سے زیادہ بلند منزلت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دنیا و آخرت کی سعادت کو جمع کر دیا تھا۔

گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu پر ایمان لا کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوئے۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کی ذریت میں سے نہیں بلکہ وہ حضرت ابراہیمu کے بھتیجے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: ﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالۡكِتٰبَ ﴾ اگرچہ عام ہے مگر حضرت لوطu کا نبی ہونا حالانکہ وہ آپ کی اولاد میں سے نہ تھے اس آیت کے خلاف نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ حضرت خلیلu کی مدح و ثنا کے سیاق میں آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ لوطu ابراہیم u کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے اور جس شخص نے آپ کے ہاتھ پر ہدایت پائی وہ ہادی کی فضیلت کی طرف نسبت کی بنا پر آپ کی اولاد میں سے ہدایت پانے والے سے زیادہ کامل ہے۔ واللہ اعلم۔

29:28–35Page 399

وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٢٨

And [mention] Lot, when he said to his people, "Indeed, you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds.

أَئِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ وَتَقۡطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ وَتَأۡتُونَ فِي نَادِيكُمُ ٱلۡمُنكَرَۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٢٩

Indeed, you approach men and obstruct the road1 and commit in your meetings [every] evil." And the answer of his people was not but that they said, "Bring us the punishment of Allāh, if you should be of the truthful."

قَالَ رَبِّ ٱنصُرۡنِي عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُفۡسِدِينَ ٣٠

He said, "My Lord, support me against the corrupting people."

وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُوٓاْ إِنَّا مُهۡلِكُوٓاْ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِۖ إِنَّ أَهۡلَهَا كَانُواْ ظَٰلِمِينَ ٣١

And when Our messengers [i.e., angels] came to Abraham with the good tidings,1 they said, "Indeed, we will destroy the people of that [i.e., Lot's] city. Indeed, its people have been wrongdoers."

قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطٗاۚ قَالُواْ نَحۡنُ أَعۡلَمُ بِمَن فِيهَاۖ لَنُنَجِّيَنَّهُۥ وَأَهۡلَهُۥٓ إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٣٢

[Abraham] said, "Indeed, within it is Lot." They said, "We are more knowing of who is within it. We will surely save him and his family, except his wife. She is to be of those who remain behind."

وَلَمَّآ أَن جَآءَتۡ رُسُلُنَا لُوطٗا سِيٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعٗاۖ وَقَالُواْ لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهۡلَكَ إِلَّا ٱمۡرَأَتَكَ كَانَتۡ مِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٣٣

And when Our messengers [i.e., angels] came to Lot, he was distressed for them and felt for them great discomfort.1 They said, "Fear not, nor grieve. Indeed, we will save you and your family, except your wife; she is to be of those who remain behind.

إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَىٰٓ أَهۡلِ هَٰذِهِ ٱلۡقَرۡيَةِ رِجۡزٗا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ ٣٤

Indeed, we will bring down on the people of this city punishment from the sky because they have been defiantly disobedient."

وَلَقَد تَّرَكۡنَا مِنۡهَآ ءَايَةَۢ بَيِّنَةٗ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٣٥

And We have certainly left of it a sign as clear evidence for a people who use reason.

اور (یاد کیجیے) لوط کو، جب کہا تھا اس نے اپنی قوم سے، بلاشبہ تم ارتکاب کرتے ہو ایسی بے حیائی کا کہ نہیں پہلے کی تم سے یہ (برائی) کسی نے بھی جہان والوں میں سے (28)کیا بے شک تم البتہ آتے ہو مردوں کے پاس (جنسی تسکین کے لیے) اور قطع کرتے (کاٹتے) ہو تم راستے اور کرتے ہو تم اپنی مجلس میں برے کام، پس نہ تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے لے آ تو ہم پر عذاب اللہ کا اگر ہے تو سچوں میں سے (29) لوط نے کہا اے میرے رب! تو مدد فرما میری قوم فسادی پر (30) اور جب آئے ہمارے قاصد ابراہیم کے پاس ساتھ خوشخبری کے تو انھوں نے کہا، بلاشبہ ہم ہلاک کرنے والے ہیں اس بستی (سدوم) کے باشندوں کو بلاشبہ اس کے باشندے ہیں ظالم (31) ابرہیم نے کہا، بے شک اس میں تو لوط (بھی) ہے، انھوں نے کہا ، ہم خوب جانتے ہیں اس کو جو کوئی اس میں ہے البتہ ہم ضرور نجات دیں گے لوط اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے وہ ہو گی پیچھے رہنے والوں میں سے (32) اور جب آئے ہمارے قاصد لوط کے پاس تو وہ مغموم ہوا بوجہ ان (کے آنے) کےاور تنگ ہوا ان کی وجہ سے (اس کا) سینہ اور فرشتوں نے کہا، نہ ڈر تو اور نہ غم کھا، بلاشبہ ہم نجات دینے والے ہیں تجھے اور تیرے گھر والوں کو سوائے تیری بیوی کے وہ ہو گی پیچھے رہنے والوں میں سے(33) بے شک ہم نازل کرنے والے ہیں اوپر باشندوں کے اس بستی کے عذاب آسمان سے بہ سبب اس کے جو تھے وہ فرمانی کرتے (34) اور البتہ تحقیق چھوڑی ہم نے اس (بستی) میں سے ایک نشانی واضح ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں (35)

[29,28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوطu کو ان کی قوم میں مبعوث فرمایا ان میں شرک کی بیماری کے ساتھ ساتھ، مردوں کے ساتھ بدکاری، راہ زنی اور مجالس میں فواحش و منکرات کے ارتکاب جیسے برے کام بھی جمع تھے ۔ لوطu نے ان کو ان فواحش سے روکا اور ان پر ان فواحش کی قباحتیں واضح کیں اور ان کی پاداش میں نازل ہونے والے عذاب کے بارے میں آگاہ فرمایا مگر انھوں نے اس بات کی طرف کوئی توجہ دی نہ نصیحت پکڑی۔ ﴿ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’پس ان کی قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچوں میں سے ہے۔‘‘

[35-30] ان کا نبی ان سے مایوس ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس کی قوم عذاب کی مستحق ہے، ان کے بہت زیادہ جھٹلانے کی وجہ سے حضرت لوط بے قرار ہو گئے آپ نے ان کے لیے بددعا کی ﴿ قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ عَلَى الۡقَوۡمِ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ﴾ ’’انھوں (لوطu) نے کہا، اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کر لی اور ان کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے فرشتے بھیجے۔حضرت لوط کے پاس جانے سے قبل یہ فرشتے ابراہیمu کے پاس سے گزرے انھوں نے آپ کو اسحاق کی اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔ حضرت ابراہیمu نے ان سے پوچھا کہ ان کا کہاں کا ارادہ ہے انھوں نے کہا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں ۔ ابراہیمu نے ان کے ساتھ بحث کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ فِيۡهَا لُوۡطًا ﴾ ’’اس میں تو لوط بھی ہیں ۔‘‘ فرشتوں نے جواب دیا: ﴿ لَنُنَجِّيَنَّهٗ۠ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ٞۗ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز ان کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔‘‘ پھر وہ وہاں سے چلے گئے اور لوطu کے پاس آئے۔ ان کا آنا لوطu کو بہت ناگوار گزرا اور بہت تنگدل ہوئے کیونکہ آپ ان کو پہچان نہ پائے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ مہمان اور مسافر ہیں اس لیے وہ ان کے بارے میں اپنی قوم کے رویے سے خائف تھے تو فرشتوں نے آپ سے کہا۔ ﴿ لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ﴾ ’’خوف کیجیے نہ رنج کیجیے۔‘‘ اور انھوں نے لوطu کو بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ﴿ اِنَّا مُنَجُّوۡكَ وَاَهۡلَكَ اِلَّا امۡرَاَتَكَ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ اِنَّا مُنۡزِلُوۡنَ عَلٰۤى اَهۡلِ هٰؔذِهِ الۡقَرۡيَةِ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ﴾’’ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ بے شک ہم اس بستی کے رہنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں کیونکہ یہ بدکاری کررہے تھے۔‘‘ فرشتوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ۔ پس جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کو ان پر الٹ دیا اور اوپر والا حصہ نیچے کر دیا اور ان پر پے درپے کھنگر کے پتھر برسائے جنھوں نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا، لہٰذا وہ کہانیاں اور عبرت کا نشان بن کر رہ گئے۔﴿ وَلَقَدۡ تَّرَؔكۡنَا مِنۡهَاۤ اٰيَةًۢ بَيِّنَةً لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے دیار قوم لوط کو عقل مند لوگوں کے لیے واضح آثار اور ان کے دلوں کے لیے عبرت بنا دیا پس وہ ان آثار سے منتفع ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِنَّـكُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مُّصۡبِحِيۡنَ۰۰ وَبِالَّيۡلِ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ﴾(الصافات: 37؍137-138) ’’اور تم دن رات ان کے اجڑے ہوئے گھروں پر گزرتے ہو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘

29:36–37Page 400

وَإِلَىٰ مَدۡيَنَ أَخَاهُمۡ شُعَيۡبٗا فَقَالَ يَٰقَوۡمِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱرۡجُواْ ٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَلَا تَعۡثَوۡاْ فِي ٱلۡأَرۡضِ مُفۡسِدِينَ ٣٦

And to Madyan [We sent] their brother Shuʿayb, and he said, "O my people, worship Allāh and expect the Last Day and do not commit abuse on the earth, spreading corruption."

فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ ٣٧

But they denied him, so the earthquake seized them, and they became within their home [corpses] fallen prone.

اور (بھیجا ہم نے) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو تو اس نے کہا، اے میری قوم! عبادت کرو تم اللہ کی اور امید رکھو تم یوم آخرت کی اورنہ پھرو تم زمین میں فساد کرتے ہوئے (36) پس انھوں نے جھٹلایا اسے تو پکڑ لیا انھیں زلزلے نے، پس ہو گئے وہ اپنے گھروں میں (مردہ) گھٹنوں کے بل گرے ہوئے (37)

[37-36]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ یعنی ہم نے مبعوث کیا: ﴿ اِلٰى مَدۡيَنَ ﴾ ’’اہل مدین کی طرف‘‘ جو ایک مشہور و معروف قبیلہ تھا ﴿ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا ﴾ ’’ان کے نسبی بھائی شعیب کو‘‘ جنھوں نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے، آخرت پر ایمان رکھنے، اللہ تعالیٰ پر امیدیں رکھنے اور صرف اسی کے لیے عمل کرنے کا حکم دیا اور ان کو زمین میں فساد پھیلانے، ناپ تول میں کمی کرنے اور ڈاکہ زنی سے روکا مگر انھوں نے ان کو جھوٹا سمجھا تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آ لیا ﴿ فَاَصۡبَحُوۡا فِيۡ دَارِهِمۡ جٰؔثِمِيۡنَ﴾ ’’پس وہ اپنے گھر میں پڑے کے پڑے رہ گئے۔‘‘

29:38–40Page 400

وَعَادٗا وَثَمُودَاْ وَقَد تَّبَيَّنَ لَكُم مِّن مَّسَٰكِنِهِمۡۖ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَكَانُواْ مُسۡتَبۡصِرِينَ ٣٨

And [We destroyed] ʿAad and Thamūd, and it has become clear to you from their [ruined] dwellings. And Satan had made pleasing to them their deeds and averted them from the path, and they were endowed with perception.

وَقَٰرُونَ وَفِرۡعَوۡنَ وَهَٰمَٰنَۖ وَلَقَدۡ جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كَانُواْ سَٰبِقِينَ ٣٩

And [We destroyed] Qārūn and Pharaoh and Hāmān. And Moses had already come to them with clear evidences, and they were arrogant in the land, but they were not outrunners [of Our punishment].

فَكُلًّا أَخَذۡنَا بِذَنۢبِهِۦۖ فَمِنۡهُم مَّنۡ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبٗا وَمِنۡهُم مَّنۡ أَخَذَتۡهُ ٱلصَّيۡحَةُ وَمِنۡهُم مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ وَمِنۡهُم مَّنۡ أَغۡرَقۡنَاۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ ٤٠

So each We seized for his sin; and among them were those upon whom We sent a storm of stones, and among them were those who were seized by the blast [from the sky], and among them were those whom We caused the earth to swallow, and among them were those whom We drowned. And Allāh would not have wronged them, but it was they who were wronging themselves.

اور (ہلاک کیا ہم نے) عاد اور ثمود کو اور تحقیق واضح ہو چکا ہے تم پر (ان کا ہلاک ہونا) ان کے گھروں سے اور مزین کر دیے تھے ان کے لیے شیطان نے ان کے عمل، پس اس نے روک دیا انھیں (سیدھی) راہ سے، حالانکہ تھے وہ سمجھنے والے (38) اور (ہلاک کیا) قارون اورفرعون اور ہامان کو (بھی)اور البتہ تحقیق آئے تھے ان کے پاس موسیٰ ساتھ واضح دلیلوں کے، پس تکبر کیا انھوں نے زمین میں اور نہ ہوئے وہ بچ کر نکل جانے والے (عذاب سے)(39) پس ہر ایک کو پکڑا ہم نے بوجہ اس کے گناہوں کے، پس کوئی تو ان میں سے وہ ہے کہ بھیجی ہم نے اس پر پتھراؤ کرنے والی آندھی اور کوئی ان میں سے وہ ہے کہ پکڑا اسے چیخ نے اور کوئی ان میں سے وہ ہے کہ دھنسا دیا ہم نے اسے زمین میں اور کوئی ان میں سے وہ ہے کہ غرق کر دیا ہم نے (اسے) اور نہیں تھا اللہ کہ ظلم کرتا وہ ان پر لیکن تھے وہ (خود ہی) اپنے نفسوں پر ظلم کرتے (40)

[38] اور ہم نے عاد و ثمود کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا آپ کو ان کا قصہ معلوم ہے۔ اگر تم ان کے گھروں اور ان کے آثار کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرو جن کو وہ چھوڑ گئے ہیں تو تم پر کچھ حقیقت واضح ہو جائے گی۔ ان کے رسول ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے جو بصیرت کے لیے مفید تھے مگر انھوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ ﴾ ’’اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے سامنے آراستہ کر دیا‘‘ حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ یہ اعمال ان اعمال سے افضل ہیں جنھیں انبیاء لے کر آئے ہیں ۔

[39] قارون، فرعون اور ہامان کا یہی رویہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمرانu کو واضح دلائل اور روشن براہین کے ساتھ مبعوث کیا تو انھوں نے ان دلائل کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا بلکہ وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور انھیں ذلیل کیا اور حق کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا مگر جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس سے بچنے پر قادر نہ تھے۔﴿وَمَا كَانُوۡا سٰؔبِقِيۡنَ﴾ وہ اللہ سے بھاگ کر کہیں جا نہ سکے اور انھیں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا پڑا۔

[40]﴿ فَكُلًّا ﴾ ’’پس سب کو۔‘‘ یعنی انبیاء کی تکذیب کرنے والی ان تمام قوموں کو ﴿ اَخَذۡنَا بِذَنۢۡبِهٖ﴾ ہم نے ان کے گناہ کی مقدار اور اس گناہ سے مناسبت والی سزاکے ذریعے سے پکڑ لیا۔ ﴿ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبًا﴾ ’’پس ان میں کچھ تو ایسے تھے جن پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے ان پر ایسا عذاب نازل کیا جس میں ان کو پتھر مار کر ہلاک کیا جیسے قوم عاد، اللہ تعالیٰ نے اس پر تباہ کن آندھی بھیجی اور ﴿سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ:69؍7)اس ہوا کو سات رات اور آٹھ دن تک لگاتار چلائے رکھا تو تو ان نافرمان لوگوں کو اس میں اس طرح مرے پڑے ہوئے دیکھتا ہے جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں ۔‘‘﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡهُ الصَّيۡحَةُ﴾ ’’اور کچھ ایسے تھے جن کو چنگھاڑ نے آپکڑا‘‘ جیسے صالحu کی قوم ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ الۡاَرۡضَ﴾ ’’اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔‘‘ جیسے قارون ﴿ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا﴾ ’’اور کچھ ایسے تھے جن کو ہم غرق کردیا۔‘‘ جیسے فرعون، ہامان اور ان کے لشکر ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب اور اس کے لائق نہیں کہ وہ اپنے کمال عدل اور مخلوق سے کامل بے نیازی کی بنا پر بندوں پر ظلم کرتا ﴿وَلٰكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن وہ اپنے ہی نفوس پر ظلم کرتے تھے۔‘‘ انھوں نے اپنے نفوس کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا۔ کیونکہ نفوس اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پیدا كيے گئے ہیں ۔ ان مشرکین نے ان کو ایسے کاموں میں استعمال کیا جن کے لیے وہ پیدا نہیں كيے گئے۔ انھوں نے ان کو شہوات میں مشغول کر کے سخت نقصان پہنچایا جبکہ وہ اس گمان باطل میں مبتلا رہے کہ وہ ان کو فائدہ پہنچا رہے ہیں ۔

29:41–43Page 401

مَثَلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ أَوۡلِيَآءَ كَمَثَلِ ٱلۡعَنكَبُوتِ ٱتَّخَذَتۡ بَيۡتٗاۖ وَإِنَّ أَوۡهَنَ ٱلۡبُيُوتِ لَبَيۡتُ ٱلۡعَنكَبُوتِۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٤١

The example of those who take allies other than Allāh is like that of the spider who takes [i.e., constructs] a home. And indeed, the weakest of homes is the home of the spider, if they only knew.

إِنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ مِن شَيۡءٖۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٤٢

Indeed, Allāh knows whatever thing they call upon1 other than Him. And He is the Exalted in Might, the Wise.

وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِۖ وَمَا يَعۡقِلُهَآ إِلَّا ٱلۡعَٰلِمُونَ ٤٣

And these examples We present to the people, but none will understand them except those of knowledge.

مثال ان لوگوں کی جنھوں نے بنائے سوائے اللہ کے (اور) کارساز (وہ) مانند مثال مکڑی کی ہیں کہ بنایا اس نے ایک گھراور بلاشبہ زیادہ کمزور سب گھروں سے البتہ گھر (جالا) ہے مکڑی کا، کاش! کہ ہوتے وہ جانتے (41) بلاشبہ اللہ جانتا ہے جس کو وہ (مشرک) پکارتے ہیں سوائے اللہ کے جو بھی ہواور وہ نہایت غالب، خوب حکمت والا ہے (42) اور یہ مثالیں ہیں ، بیان کرتے ہیں ہم ان کو لوگوں کے لیے اور نہیں سمجھتے انھیں مگر علم والے ہی (43)

[41] یہ مثال، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس شخص کے لیے بیان کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کی عبادت بھی کرتا ہے اور اس کا مقصد ان سے عزت، قوت اور منفعت کا حصول ہے، حالانکہ حقیقت اس کے مقصود کے بالکل برعکس ہے۔اس شخص کی مثال اس مکڑی کی سی ہے جس نے جالے کا گھر بنایا ہو تاکہ گرمی، سردی اور دیگر آفات سے محفوظ رہے۔ ﴿وَاِنَّ اَوۡهَنَ الۡبُيُوۡتِ ﴾ ’’مگر سب سے کمزور گھر‘‘ ﴿ لَبَيۡتُ الۡعَنۡكَبُوۡتِ﴾ ’’مکڑی کا گھر ہوتا ہے۔‘‘ مکڑی سب سے کمزور حیوان اور اس کا گھر سب سے کمزور گھر ہے اور وہ گھر بنا کر اس میں کمزوری کے سوا کچھ اضافہ نہیں کرتی۔ اسی طرح یہ مشرکین جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے سرپرست بنا رہے ہیں ۔ ہر لحاظ سے محتاج اور عاجز ہیں ۔ یہ لوگ غیر اللہ کی اس لیے عبادت کرتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے سے عزت اور فتح و نصرت حاصل کریں مگر وہ اپنی کمزوری اور بے بسی میں اضافہ ہی کرتے ہیں ۔ انھوں نے اپنے بہت سے مصالح کو ان پر بھروسہ کرتے ہوئے، ان پر چھوڑ دیا اوران سے الگ ہوگئے کہ عنقریب ان کے معبود ذمہ داری اٹھالیں گے تو ان کے معبودوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ پس انھیں ان سے کوئی فائدہ اور کوئی ادنیٰ سی مدد بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ اگر انھیں اپنے حال کے بارے میں حقیقی علم ہوتا اور انھیں ان ہستیوں کی بے بسی کا حال بھی معلوم ہوتا تو وہ انھیں کبھی معبود نہ بناتے، ان سے بیزاری کااظہار کرتے اور رب قادر و رحیم کو اپنا والی و مددگار بناتے۔ بندہ جب اس قادر و رحیم کو اپنا سرپرست بنا کر اس پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اس کے دین و دنیا کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس کے قلب و بدن اور حال و اعمال میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کے معبودان باطل کی کمزوری بیان کرنے کے بعد اس سے زیادہ بلیغ اسلوب کی طرف ارتقا کیا، فرمایا کہ ان معبودان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں بلکہ یہ تو مجرد نام ہیں جو انھوں نے گھڑ لیے ہیں اور محض وہم و گمان ہے جس کو انھوں نے عقیدہ بنا لیا ہے۔ تحقیق کے وقت ایک عقل مند شخص پر اس کا بطلان واضح ہو جائے گا بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے … اور وہ غائب و موجود کا علم رکھنے والا ہے … کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا جس چیز کو پکارتے ہیں ان کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ، ان کا کوئی وجود ہے نہ وہ حقیقت میں الٰہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾(النجم:53؍23) ’’یہ صرف نام ہیں جن کو تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے گھڑ لیا ہے جس پر اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ﴾(یونس:10؍66)’’اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا کچھ خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ صرف وہم و گمان کے پیرو ہیں اور وہ محض قیاس آرائیاں کررہے ہیں ۔‘‘﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ جو تمام قوت کا مالک اور جو تمام مخلوق پر غالب ہے ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾ جو تمام چیزوں کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے، جس نے ہر چیز کو بہترین تخلیق سے نوازا اور اس نے جو حکم دیا بہترین حکم دیا۔

[43]﴿ وَتِلۡكَ الۡاَمۡثَالُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ﴾ ’’اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں ۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ مثالیں لوگوں کے فائدے اور ان کی تعلیم کی خاطر بیان کی ہیں کیونکہ ضرب الامثال علوم کو توضیح کے ساتھ بیان کرنے کا طریقہ ہے۔ ضرب الامثال کے ذریعے سے امور عقلیہ کو امور حسیہ کے قریب لایا جاتا ہے اور مثالوں کے ذریعے سے معانئ مطلوبہ واضح ہو جاتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا يَعۡقِلُهَاۤ ﴾ مگر اس میں غوروفکر کے بعد اس میں وہی لوگ فہم حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے قلب میں عقل کے ساتھ وہی لوگ اس کی تطبیق کرتے ہیں ۔ ﴿ اِلَّا الۡعٰلِمُوۡنَ ﴾ جو حقیقی اہل علم ہیں اور علم ان کے قلب کی گہرائیوں میں جاگزیں ہے۔ یہ ضرب الامثال کی مدح و توصیف ہے نیزان میں تدبر کرنے اور ان کو سمجھنے کی ترغیب اورجو کوئی ان میں سمجھ پیدا کرتا ہے اس کی مدح و ثنا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرب الامثال استعمال کرنے والا شخص اہل علم میں سے ہے اور نیز جو ان کو نہیں سمجھتا وہ اہل علم میں شمار نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو امثال بیان کی ہیں وہ بڑے بڑے امور، مطالب عالیہ اور مسائل جلیلہ میں بیان کی ہیں ، اہل علم جانتے ہیں کہ ضرب الامثال دیگر اسالیبِ بیان سے زیادہ اہم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کو درخوراعتنا قرار دیا ہے اور اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ ان میں غوروفکر کریں اور ان کی معرفت حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں ۔رہا وہ شخص جو ضرب الامثال کی اہمیت کے باوجود، ان کو نہیں سمجھتا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اہل علم میں سے نہیں ہے کیونکہ جب وہ نہایت اہم مسائل کی معرفت نہیں رکھتا تو غیر اہم مسائل میں اس کی عدم معرفت زیادہ اولیٰ ہے، بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے زیادہ تر اصول دین وغیرہ میں ضرب الامثال استعمال کی ہیں ۔

29:44Page 401

خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ ٤٤

Allāh created the heavens and the earth in truth. Indeed in that is a sign for the believers.

پیدا کیا اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، بلاشبہ اس میں البتہ (عظیم) نشانی ہے مومنوں کے لیے (44)

[44] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے کہ جس نے آسمانوں کو ان کی بلندیوں ، ان کی کشادگی، ان کی خوبصورتی اور ان کے اندر سورج، چاند، دیگر سیارگان اور فرشتوں کی موجودگی کے باوجود، اکیلے تخلیق کیا ہے اور وہی ہے جو زمین اور اس کے پہاڑوں ، سمندروں ، صحراؤں ، بیابانوں اور درختوں کی تخلیق میں متفرد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو عبث، بے کار اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو صرف اس لیے تخلیق فرمایا ہے کہ اس کا حکم اور شریعت نافذ ہو اور اس کے بندوں پر اس کی نعمت کا اتمام ہو تاکہ بندے اس کی حکمت، اس کے غلبہ اور اس کی تدبیر کائنات کا مشاہدہ کریں جو اس حقیقت کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے کہ وہ اکیلا ان کا معبود، محبوب اور الٰہ ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ بے شک اس میں اہل ایمان کے لیے بہت سے مطالب ایمانیہ کی طرف راہنمائی کے لیے نشانیاں ہیں جب بندۂ مومن ان میں تدبر کرتا ہے تو ان نشانیوں کو عیاں دیکھتا ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском