Ar-Rum 30:29
The Romans · Juz 21 · Page 407
بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ فَمَن يَهۡدِي مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ ٢٩
But those who wrong follow their [own] desires without knowledge. Then who can guide one whom Allāh has sent astray? And for them there are no helpers.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 30:28–29
بیان کی اس (اللہ) نے تمھارے لیے ایک مثال تمھارے نفسوں ہی میں سے، کیا ہیں تمھارے لیے ان میں سے جن کے مالک ہیں دائیں ہاتھ تمھارے، کوئی شریک اس میں جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں کہ تم اس میں برابر ہو جاؤ ؟(کیا) تم ڈرتے ہو ان سے جس طرح ڈرتے ہو تم اپنے نفسوں (لوگوں) سے؟ اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں آیتیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(28)بلکہ اتباع کیاان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، اپنی خواہشوں کا بغیر علم کے، پس کون ہدایت دے سکتا ہے اسے جس کو گمراہ کر دیا اللہ نے؟ اور نہیں ہے ان کے لیے کوئی مددگار(29)
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی واضح کرنے کے لیے تمھارے اپنے نفوس سے مثال دی ہے جس کو سمجھنے کے لیے سفر کرنے اور سواریاں کسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ﴿هَلۡ لَّـكُمۡ مِّنۡ مَّا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآءَ فِيۡ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے تم اپنے رزق میں شریک کر سکو‘‘ جن کے بارے میں تمھارا خیال ہو کہ وہ تمھارے برابر ہیں ﴿تَخَافُوۡنَهُمۡ كَخِيۡفَتِكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾’’تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو؟‘‘ یعنی جس طرح حقیقی آزاد شریک اور اس کی تقسیم سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ تمام مال اپنے لیے مختص نہ کر لے۔ معاملہ ایسے نہیں کیونکہ تمھارے غلاموں میں سے کوئی غلام تمھارے اس رزق میں شریک نہیں بن سکتا جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے... حالانکہ تم نے ان کو پیدا نہیں کیا ہے نہ تم ان کو رزق دیتے ہو، نیز وہ بھی تمھاری طرح مملوک ہیں… پھر کیونکر تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کا شریک بنانے پر راضی ہوتے ہو اور اس کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ہم مرتبہ اور اس کے برابر قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر قرار دینے پر راضی نہیں ہو۔ یہ سب سے زیادہ عجیب چیز ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے اس کی سفاہت و حماقت پر سب سے بڑی دلیل ہے، نیز اس نے جس چیز کو معبود بنایا ہے وہ باطل اور کمزور ہے وہ اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں ہو سکتی اور نہ وہ کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔‘‘ یعنی مثالوں کے ذریعے سے ان آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ﴿لِقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ جو حقائق میں غور کر کے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ رہا وہ شخص جو عقل سے کام نہیں لیتا اگر اس کے سامنے آیات کو کھول کھول کر بیان کر دیا جائے اور دلائل کو واضح کر دیا جائے تو اس کے پاس اتنی عقل ہی نہیں کہ اس کے ذریعے سے بات کی توضیح و تبیین کو سمجھ سکے... عقل مند لوگوں ہی کے سامنے کلام پیش کیا جاتا ہے اور انھیں خطاب کیا جاتا ہے۔
[29] جب اس مثال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے، پھر اس کی عبادت کرتا ہے اور اپنے معاملات میں اس پر بھروسہ کرتا ہے، تو وہ حق پر نہیں تو وہ کون سی چیز ہے جو انھیں ایک امر باطل پر اقدام کے لیے آمادہ کرتی ہے جس کا بطلان اس کے لیے واضح اور اس کی دلیل ظاہر ہوچکی ہے؟ یقینا ان کی خواہشات نفس ان کے اس اقدام کی موجب ہیں، اس لیے فرمایا:﴿بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾’’مگر جو ظالم ہیں وہ بے سمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ ان کے ناقص نفس، جس کا نقص ان امور میں ظاہر ہوچکا ہے جن کا تعلق خواہشات نفس سے ہے، ایسی بات چاہتے ہیں جس کو عقل اور فطرت نے فاسد قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسی دلیل و برہان نہیں جو اس کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہو۔﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡ مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ ﴾ ’’پس جسے اللہ گمراہ کردے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟‘‘ یعنی ان کی عدم ہدایت پر تعجب نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کی پاداش میں گمراہ کر دیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی اس کا مدمقابل ہے نہ کوئی مخالف۔ ﴿وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ جب وہ عذاب کے مستحق قرار دے دیے جائیں گے تو کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا جو ان کی مدد کر سکے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
Page 407
30:25
وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ بِأَمۡرِهِۦۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمۡ دَعۡوَةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ إِذَآ أَنتُمۡ تَخۡرُجُونَ ٢٥
And of His signs is that the heaven and earth stand [i.e., remain] by His command. Then when He calls you with a [single] call from the earth, immediately you will come forth.
30:26
وَلَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ كُلّٞ لَّهُۥ قَٰنِتُونَ ٢٦
And to Him belongs whoever is in the heavens and earth. All are to Him devoutly obedient.
30:27
وَهُوَ ٱلَّذِي يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهۡوَنُ عَلَيۡهِۚ وَلَهُ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٧
And it is He who begins creation; then He repeats it, and that is [even] easier for Him. To Him belongs the highest description [i.e., attribute] in the heavens and earth. And He is the Exalted in Might, the Wise.
30:28
ضَرَبَ لَكُم مَّثَلٗا مِّنۡ أَنفُسِكُمۡۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِي مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ فَأَنتُمۡ فِيهِ سَوَآءٞ تَخَافُونَهُمۡ كَخِيفَتِكُمۡ أَنفُسَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٢٨
He presents to you an example from yourselves. Do you have among those whom your right hands possess [i.e., slaves] any partners in what We have provided for you so that you are equal therein [and] would fear them as your fear of one another [within a partnership]?1 Thus do We detail the verses for a people who use reason.
1 translator’s note
- See footnote to 16:71. ↩
30:29
بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ فَمَن يَهۡدِي مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ ٢٩
But those who wrong follow their [own] desires without knowledge. Then who can guide one whom Allāh has sent astray? And for them there are no helpers.
30:30
فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٠
So direct your face [i.e., self] toward the religion, inclining to truth. [Adhere to] the fiṭrah1 of Allāh upon which He has created [all] people. No change should there be in the creation of Allāh.2 That is the correct religion, but most of the people do not know.
2 translator’s notes
The natural inborn inclination of man to worship his Creator prior to the corruption of his nature by external influences. Thus, Islāmic monotheism is described as the religion of fiṭrah - that of the inherent nature of mankind.
[1146] i.e., let people remain true to their fiṭrah within the religion of Islām.
↩- ↩
30:31
۞ مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٣١
[Adhere to it], turning in repentance to Him, and fear Him and establish prayer and do not be of those who associate others with Allāh
30:32
مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ ٣٢
[Or] of those who have divided their religion and become sects, every faction rejoicing in what it has.1
1 translator’s note
- Of beliefs, opinions, customs, etc. ↩