As-Sa'diAr‑Rum · 30:25–42

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Ar-Rum 30:25–42

30:25–27Page 407

وَمِنۡ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلۡأَرۡضُ بِأَمۡرِهِۦۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمۡ دَعۡوَةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ إِذَآ أَنتُمۡ تَخۡرُجُونَ ٢٥

And of His signs is that the heaven and earth stand [i.e., remain] by His command. Then when He calls you with a [single] call from the earth, immediately you will come forth.

وَلَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ كُلّٞ لَّهُۥ قَٰنِتُونَ ٢٦

And to Him belongs whoever is in the heavens and earth. All are to Him devoutly obedient.

وَهُوَ ٱلَّذِي يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهۡوَنُ عَلَيۡهِۚ وَلَهُ ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٧

And it is He who begins creation; then He repeats it, and that is [even] easier for Him. To Him belongs the highest description [i.e., attribute] in the heavens and earth. And He is the Exalted in Might, the Wise.

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ قائم ہیں آسمان اور زمین اس کے حکم سے، پھر جب وہ پکارے گا تمھیں ایک بار پکارنا، زمین میں سےتو ناگہاں تم (باہر) نکل آؤ گے(25) اور اسی کے لیے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں (26) اور وہی ہے (اللہ) جو پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے، اور وہ زیادہ آسان ہے اس پر، اور اسی کے لیے ہے مثال اعلیٰ آسمانوں اور زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(27)

[25] اس کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم، ثابت اور ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دونوں متزلزل ہوتے ہیں نہ آسمان زمین پر گرتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جب وہ مخلوق کو پکارے تو تمام مخلوق زمین سے نکل کھڑی ہو۔ ﴿لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ ﴾(المؤمن:40؍57) ’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے یقیناً زیادہ بڑا کام ہے۔‘‘

[26]﴿وَلَهٗ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے، وہ اپنی مخلوق میں کسی کی منازعت و معارضت اور کسی کے تعاون کے بغیر تصرف کرتا ہے، تمام مخلوق اس کے جلال کے سامنے فروتن اور اس کے کمال کے سامنے سرافگندہ ہے۔

[27]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ‘‘ یعنی تمام مخلوق کی موت کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرنا۔ ﴿اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾ ’’اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘ انھیں پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے۔ یہ ذہن اور عقل کی نسبت سے ہے کہ جب وہ تخلیق کی ابتدا کرنے پر قادر ہے، جس کا تمھیں خود بھی اقرار ہے، تو تخلیق کے اعادہ پر قدرت آسان تر اور زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد، جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں، اہل ایمان نصیحت پکڑتے ہیں اور ہدایت یافتہ لوگ اس سے بصیرت حاصل کرتے ہیں… بہت عظیم معاملے اور بہت بڑے مقصد کا تذکرہ کیا:﴿وَلَهُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے۔‘‘ اس سے مراد ہر صفت کمال ہے اور اس کمال سے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے دلوں میں محبت، انابت کامل، ذکر جلیل اور ان کی عبادت میں کمال مراد ہے۔یہاں (الْ٘مَثَلُ الْاَعْلٰى) سے مراد اس کے بلند ترین وصف اور اس پر مترتب ہونے والے آثار ہیں۔ اس لیے اہل علم اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں قیاس اولیٰ استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ مخلوقات کی ہر صفت کمال سے، ان کو پیدا کرنے والا اللہ متصف ہونے کا زیادہ مستحق ہے، مگر اس طرح کہ کوئی اس کا شریک نہیں ہوتا۔ ہر وہ نقص، جس سے مخلوق اپنے آپ کو بچاتی ہے خالق کا اس وصف سے منزہ ہونا اولیٰ و احریٰ ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ غلبۂ کامل اور بے پایاں حکمت کا مالک ہے اس نے اپنے غلبے کی بنا پر مخلوقات کو وجود بخشا اور مامورات کو ظاہر کیا اور اپنی حکمت کی بنا پر اپنی بنائی چیزوں کو مہارت سے بنایا، ان کے اندر اپنی شرع کو بہترین طریقے سے مشروع کیا۔

30:28–29Page 407

ضَرَبَ لَكُم مَّثَلٗا مِّنۡ أَنفُسِكُمۡۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِي مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ فَأَنتُمۡ فِيهِ سَوَآءٞ تَخَافُونَهُمۡ كَخِيفَتِكُمۡ أَنفُسَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٢٨

He presents to you an example from yourselves. Do you have among those whom your right hands possess [i.e., slaves] any partners in what We have provided for you so that you are equal therein [and] would fear them as your fear of one another [within a partnership]?1 Thus do We detail the verses for a people who use reason.

بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓاْ أَهۡوَآءَهُم بِغَيۡرِ عِلۡمٖۖ فَمَن يَهۡدِي مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ ٢٩

But those who wrong follow their [own] desires without knowledge. Then who can guide one whom Allāh has sent astray? And for them there are no helpers.

بیان کی اس (اللہ) نے تمھارے لیے ایک مثال تمھارے نفسوں ہی میں سے، کیا ہیں تمھارے لیے ان میں سے جن کے مالک ہیں دائیں ہاتھ تمھارے، کوئی شریک اس میں جو رزق دیا ہے ہم نے تمھیں کہ تم اس میں برابر ہو جاؤ ؟(کیا) تم ڈرتے ہو ان سے جس طرح ڈرتے ہو تم اپنے نفسوں (لوگوں) سے؟ اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں آیتیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں(28)بلکہ اتباع کیاان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، اپنی خواہشوں کا بغیر علم کے، پس کون ہدایت دے سکتا ہے اسے جس کو گمراہ کر دیا اللہ نے؟ اور نہیں ہے ان کے لیے کوئی مددگار(29)

[28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی واضح کرنے کے لیے تمھارے اپنے نفوس سے مثال دی ہے جس کو سمجھنے کے لیے سفر کرنے اور سواریاں کسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ﴿هَلۡ لَّـكُمۡ مِّنۡ مَّا مَلَكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ شُرَؔكَآءَ فِيۡ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ ﴾ ’’کیا تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے تم اپنے رزق میں شریک کر سکو‘‘ جن کے بارے میں تمھارا خیال ہو کہ وہ تمھارے برابر ہیں ﴿تَخَافُوۡنَهُمۡ كَخِيۡفَتِكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ ﴾’’تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو؟‘‘ یعنی جس طرح حقیقی آزاد شریک اور اس کی تقسیم سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ تمام مال اپنے لیے مختص نہ کر لے۔ معاملہ ایسے نہیں کیونکہ تمھارے غلاموں میں سے کوئی غلام تمھارے اس رزق میں شریک نہیں بن سکتا جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے... حالانکہ تم نے ان کو پیدا نہیں کیا ہے نہ تم ان کو رزق دیتے ہو، نیز وہ بھی تمھاری طرح مملوک ہیں… پھر کیونکر تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کا شریک بنانے پر راضی ہوتے ہو اور اس کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ہم مرتبہ اور اس کے برابر قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر قرار دینے پر راضی نہیں ہو۔ یہ سب سے زیادہ عجیب چیز ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے اس کی سفاہت و حماقت پر سب سے بڑی دلیل ہے، نیز اس نے جس چیز کو معبود بنایا ہے وہ باطل اور کمزور ہے وہ اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں ہو سکتی اور نہ وہ کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔‘‘ یعنی مثالوں کے ذریعے سے ان آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ﴿لِقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ جو حقائق میں غور کر کے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ رہا وہ شخص جو عقل سے کام نہیں لیتا اگر اس کے سامنے آیات کو کھول کھول کر بیان کر دیا جائے اور دلائل کو واضح کر دیا جائے تو اس کے پاس اتنی عقل ہی نہیں کہ اس کے ذریعے سے بات کی توضیح و تبیین کو سمجھ سکے... عقل مند لوگوں ہی کے سامنے کلام پیش کیا جاتا ہے اور انھیں خطاب کیا جاتا ہے۔

[29] جب اس مثال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے، پھر اس کی عبادت کرتا ہے اور اپنے معاملات میں اس پر بھروسہ کرتا ہے، تو وہ حق پر نہیں تو وہ کون سی چیز ہے جو انھیں ایک امر باطل پر اقدام کے لیے آمادہ کرتی ہے جس کا بطلان اس کے لیے واضح اور اس کی دلیل ظاہر ہوچکی ہے؟ یقینا ان کی خواہشات نفس ان کے اس اقدام کی موجب ہیں، اس لیے فرمایا:﴿بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَهۡوَآءَؔهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾’’مگر جو ظالم ہیں وہ بے سمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔‘‘ ان کے ناقص نفس، جس کا نقص ان امور میں ظاہر ہوچکا ہے جن کا تعلق خواہشات نفس سے ہے، ایسی بات چاہتے ہیں جس کو عقل اور فطرت نے فاسد قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسی دلیل و برہان نہیں جو اس کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہو۔﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡ مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ ﴾ ’’پس جسے اللہ گمراہ کردے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟‘‘ یعنی ان کی عدم ہدایت پر تعجب نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کی پاداش میں گمراہ کر دیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی اس کا مدمقابل ہے نہ کوئی مخالف۔ ﴿وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ جب وہ عذاب کے مستحق قرار دے دیے جائیں گے تو کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا جو ان کی مدد کر سکے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔

30:30–32Page 407

فَأَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفٗاۚ فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٠

So direct your face [i.e., self] toward the religion, inclining to truth. [Adhere to] the fiṭrah1 of Allāh upon which He has created [all] people. No change should there be in the creation of Allāh.2 That is the correct religion, but most of the people do not know.

۞ مُنِيبِينَ إِلَيۡهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٣١

[Adhere to it], turning in repentance to Him, and fear Him and establish prayer and do not be of those who associate others with Allāh

مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ ٣٢

[Or] of those who have divided their religion and become sects, every faction rejoicing in what it has.1

پس سیدھا کریں آپ چہرہ (رخ) اپنا دین کی طرف یک سو ہو کر (اختیار کرو) اللہ کی اس فطرت کو وہ جو پیدا کیا اس نے لوگوں کو اس پر،نہ تبدیل کرو اللہ کی پیدائش (فطرت) کو یہی ہے دین سیدھا، اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(30) رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف، اور ڈرو تم اسی سے، اور قائم کرو تم نماز، اور نہ ہو تم مشرکوں میں سے(31)(یعنی )ان لوگوں میں سے جنھوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیااپنے دین کواور ہو گئے وہ کئی گروہ، ہر گروہ اس چیز پرجو اس کے پاس ہے خوش ہے(32)

[30] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام احوال میں اخلاص اور اقامت دین کا حکم دیتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ ﴾ اپنے آپ کو دین کی طرف متوجہ رکھیے اور اس سے مراد ہے اسلام، ایمان اور احسان ہے، یعنی اپنے قلب و قصد اور بدن کے ساتھ ظاہری شرائع کو قائم کیجیے، مثلاً: نماز، زکاۃ، روزہ اور حج وغیرہ اور اس کے ساتھ ساتھ باطنی شرائع پر عمل کیجیے، مثلاً: اللہ تعالیٰ سے محبت، اس سے خوف، اس پر امید اور اس کی طرف انابت وغیرہ۔ ظاہری اور باطنی شرائع میں احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو اس طرح اس کی عبادت کرے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’چہرے کو قائم رکھنے‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ قلب کی توجہ، چہرے کی توجہ کی پیروی کرتی ہے اور ان دونوں امور پر بدن کی سعی مترتب ہوتی ہے اس لیے فرمایا:﴿حَنِيۡفًا ﴾ یعنی ہر طرف سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھتے ہوئے۔ یہ چیز جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے وہ ﴿فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی عقول میں فطرت کے محاسن اور غیر فطرت کے قبائح ودیعت کر دیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے تمام ظاہری اور باطنی احکام کی طرف تمام مخلوق کے دلوں میں میلان رکھ دیا ہے۔ تو درحقیقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں حق کی محبت اور حق کو ترجیح دینے کو ودیعت کر دیا اور یہی فطرت کی حقیقت ہے۔ جو کوئی اس اصول سے باہر ہے تو اس کا سبب کوئی عارضہ ہے جو اس کی فطرت کو لاحق ہے جس نے اسے فاسد کر کے رکھ دیا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُھَوَّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ‘ (صحیح البخاري، التفسیر، باب قولہ:﴿فلا تعلم نفس....﴾(السجدۃ: 32؍17، ح: 4779)’’ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے پس اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی۔‘‘﴿لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَلۡقِ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کی تخلیق میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کر سکے اور اس کو ایسی وضع پر تبدیل کر دے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ وضع سے مختلف ہے ﴿ذٰلِكَ الدِّيۡنُ ﴾ ’’یہ‘‘ جس کا ہم نے آپ کو حکم دیا ہے ﴿الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ﴾ ’’سیدھا دین ہے‘‘ یعنی سیدھا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے ۔جوکوئی ہر طرف سے توجہ ہٹا کر دین میں یکسو ہوتا ہے وہ اپنے تمام شرائع اور تمام طریقوں میں صراط مستقیم پر گامزن ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ دین کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اگر انھیں دین کی معرفت حاصل ہو ہی جائے تو اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔

[31]﴿مُنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اسی کی طرف رجوع کیے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ یہ جملہ ’’دین کی طرف توجہ رکھنے‘‘ کی تفسیر ہے کیونکہ (اِنَابَت) ’’رجوع کرنا‘‘ سے مراد، قلب کا رجوع کرنا اور اس کے تمام داعیوں کا اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف کھنچنا ہے۔ یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ بدن قلب کے تقاضوں کے مطابق کام کرتا ہے اور یہ چیز ظاہری اور باطنی عبادت کو شامل ہے اور اس کی اس وقت تک تکمیل نہیں ہوتی جب تک ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک نہ کیا جائے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَاتَّقُوۡهُ ﴾ ’’اس سے ڈرتے رہو۔‘‘ یہ تمام مامورات کی تعمیل اور تمام منہیات سے اجتناب کو شامل ہے۔ مامورات میں نماز کا خاص طور پر ذکر کیا کیونکہ نماز انابت اور تقویٰ کی طرف بلاتی ہے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ ﴾(العنکبوت:29؍45) ’’نماز قائم کر، بے شک نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘ گویا یہ تقویٰ پر اعانت ہے ، پھر فرمایا:﴿وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ ﴾(العنکبوت:29؍45) ’’اور اللہ کا ذکر اس سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اور یہ انابت کی ترغیب ہے۔اللہ تعالیٰ نے منہیات میں سے ایسی برائی کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے اور جس کے ہوتے ہوئے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور وہ ہے شرک، فرمایا:﴿وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ ’’اور مشرکوں میں نہ ہونا۔‘‘ کیونکہ شرک، انابت کی ضد ہے اور انابت کی روح ہر لحاظ سے اخلاص ہے۔

[32] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرکین کی حالت کی قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مِنَ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ ﴾ ’’جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا‘‘ حالانکہ دین ایک ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنا اور ان مشرکین نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ان میں سے کچھ پتھروں اور بتوں کی عبادت کرنے لگے کچھ سورج اور چاند کو پوجنے لگے، ان میں سے کچھ نے اولیاء و صالحین کی عبادت کو وتیرہ بنا لیا اوران میں سے کچھ یہودی اور کچھ نصرانی ہیں۔ اس لیے فرمایا:﴿وَكَانُوۡا شِيَعًا ﴾’’اور وہ فرقے فرقے ہوگئے۔‘‘ یعنی ہر فرقے نے اپنے باطل نظریات کی نصرت و تائید کے لیے تعصب پر مبنی اپنا الگ گروہ بنا لیا اور دوسروں سے دشمنی اور محاربت شروع کر دی۔﴿كُلُّ حِزۡبٍۭ بِمَا لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’سب فرقے اس سے جوان کے پاس ہے‘‘ انبیاء و مرسلین کے علوم کی مخالفت کرنے والے علوم میں سے وہ ﴿فَرِحُوۡنَ ﴾ ان پر بہت خوش ہیں اور اپنے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگ باطل پر ہیں۔یہ آیت کریمہ تشتت اور تفرقہ بازی کے ضمن میں مسلمانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ ہر فریق جو اپنے حق اور باطل نظریات کے بارے میں تعصب رکھتا ہے وہ تفرقہ بازی میں مشرکین سے مشابہت رکھتا ہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ دین ایک ہے، رسول ایک ہے اور معبود ایک ہے اور اکثر دینی امور کے بارے میں اہل علم اور ائمہ کرام کا اجماع واقع ہو چکا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت مربوط طریقے سے اخوت ایمان قائم کر دی ہے تب کیا بات ہے کہ ان تمام متفقہ اصولوں اور اخوت ایمانی کو باطل قرار دے کر انتہائی خفیف فروعی اور اختلافی مسائل کی بنا پر مسلمانوں کے درمیان افتراق اور دشمنی پیدا کی جاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتے ہوئے اپنے آپ کو دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ کیا یہ صورت حال شیطان کی طرف سے بڑا فساد اور اس کا سب سے بڑا مقصد نہیں جس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کو اپنے فریب میں مبتلا کرتا ہے؟کیا مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کرنا، ان کے درمیان ان اختلافات کا خاتمہ کرنا جو باطل اصولوں پر مبنی ہیں، اللہ کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور افضل ترین عمل نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے؟اللہ تبارک و تعالیٰ نے انابت کا حکم دیا ہے، اور انابت، انابت اختیاری ہے جو عسرت و خوش حالی، فراخی اور تنگی ہر حال میں اختیار کی جاتی ہے ، پھر انابت اضطراری کا ذکر کیا جو انسان میں صرف اس وقت ہوتی ہے جب وہ تنگی اور تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔ جب تنگی زائل ہو جاتی ہے تو وہ انابت کو بھی پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے، لہٰذا اس قسم کی انابت فائدہ مند نہیں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

30:33–35Page 408

وَإِذَا مَسَّ ٱلنَّاسَ ضُرّٞ دَعَوۡاْ رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيۡهِ ثُمَّ إِذَآ أَذَاقَهُم مِّنۡهُ رَحۡمَةً إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُم بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُونَ ٣٣

And when adversity touches the people, they call upon their Lord, turning in repentance to Him. Then when He lets them taste mercy from Him, at once a party of them associate others with their Lord,

لِيَكۡفُرُواْ بِمَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡۚ فَتَمَتَّعُواْ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ٣٤

So that they will deny what We have granted them.1 Then enjoy yourselves, for you are going to know.

أَمۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سُلۡطَٰنٗا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُواْ بِهِۦ يُشۡرِكُونَ ٣٥

Or have We sent down to them an authority [i.e., a proof or scripture], and it speaks of what they have been associating with Him?

اور جب پہنچتی ہے لوگوں کو کوئی تکلیف تو وہ پکارتے ہیں اپنے رب کو رجوع کرتے ہوئے اسی کی طرف، پھر جب وہ چکھاتا ہے انھیں اپنی طرف سے رحمت تو ناگہاں کچھ لوگ ان میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرتے ہیں(33) تاکہ وہ انکار کریں اس (نعمت) کا جو ہم نے انھیں دی، سو فائدہ اٹھا لو تم، پس عنقریب جان لو گے تم(34)کیا نازل کی ہے ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل کہ وہ بتلاتی ہے (ان کو )وہ چیز کہ ہیں وہ ساتھ اس کے شریک ٹھہراتے؟ (35)

[33، 34]﴿وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ ﴾ ’’اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔‘‘ یعنی مرض یا ہلاکت کا خوف وغیرہ ﴿دَعَوۡا رَبَّهُمۡ مُّنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ ﴾ ’’تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے پکارتے ہیں۔‘‘ اور اس حال میں وہ اپنے اس شرک کو فراموش کر دیتے ہیں جو وہ کیا کرتے تھے کیونکہ انھیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جو ان کی تکلیف کو دور کر سکے۔ ﴿ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمۡ مِّؔنۡهُ رَحۡمَةً ﴾ ’’ پھر جب وہ ان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے۔‘‘ یعنی ان کو ان کی بیماری سے شفایاب اور ہلاکت کے خوف سے نجات دیتا ہے ﴿اِذَا فَرِيۡقٌ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ تو ان میں سے ایک فریق اس انابت کو ترک کرتے ہوئے جو اس سے صادر ہوئی تھی، ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا دیتا ہے جو ان کی خوش بختی اور بدبختی، ان کے فقر اور غنا پر کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ یہ سب کچھ ان احسانات و عنایات کی ناشکری ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا، شدت اور تکلیف سے ان کو بچایا اور مشقت کو ان سے دور کیا۔ تب انھوں نے اس نعمت جلیلہ کو اپنے تمام احوال میں شکر اور دائمی اخلاص کے ساتھ کیوں قبول نہ کیا؟

[35]﴿اَمۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنًا ﴾ ’’کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے‘‘یعنی کوئی ظاہری دلیل ﴿فَهُوَ ﴾ ’’کہ وہ‘‘ دلیل ﴿يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوۡا بِهٖ يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ ان کو اللہ کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے۔‘‘ اور انھیں کہتی ہے کہ اپنے شرک پر قائم رہو، اپنے شک پر جمے رہو، تمھارا موقف حق ہے اور جس چیز کی طرف تمھیں انبیاء و مرسلین دعوت دیتے ہیں وہ باطل ہے۔ کیا کوئی ایسی دلیل تمھارے پاس موجود ہے جو شرک کو سختی کے ساتھ پکڑے رکھنے کی موجب ہے؟ یا اس کے برعکس تمام عقلی و نقلی دلائل، تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیاء ومرسلین اور بڑے بڑے لوگ شرک سے نہایت شدت سے روکتے ہیں اور ان تمام راستوں پر چلنے سے باز رکھتے ہیں جن کی منزل شرک ہے اور ایسے شخص کی عقل و دین کے فساد کا حکم لگاتے ہیں جو شرک کا ارتکاب کرتا ہے؟ پس ان مشرکین کا شرک، جس پر کوئی دلیل اور برہان نہیں، محض خواہشات نفس کی پیروی اور شیطانی وسوسے ہیں۔

30:36–37Page 408

وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ فَرِحُواْ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ ٣٦

And when We let the people taste mercy, they rejoice therein, but if evil afflicts them for what their hands have put forth, immediately they despair.

أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٣٧

Do they not see that Allāh extends provision for whom He wills and restricts [it]? Indeed in that are signs for a people who believe.

اور جب ہم چکھاتے ہیں لوگوں کو رحمت تو وہ خوش ہوتے ہیں اس سےاوراگر پہنچے انھیں کوئی مصیبت بوجہ اس کے جو آگے بھیجا ان کے ہاتھوں نے تو ناگہاں وہ ناامید ہو جاتے ہیں (36) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے، اور وہی تنگ کرتا ہے، بلاشبہ اس (فراخی اور تنگی) میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (37)

[36، 37] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ نرمی اور سختی کے حالات میں اکثر لوگوں کی فطرت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ صحت، فراخی اور نصرت وغیرہ کے ذریعے سے انھیں اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے فرحت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ تکبر کے ساتھ اتراتے ہوئے خوش ہوتے ہیں ﴿وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌۢ ﴾ ’’اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچے‘‘ یعنی اگر ان کا حال ایسا ہوتا ہے جس سے ان کو تکلیف پہنچتی ہو ﴿بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے‘‘ یعنی اپنے کرتوتوں کے باعث ﴿اِذَا هُمۡ يَقۡنَطُوۡنَ ﴾’’تو ناامید ہوجاتے ہیں۔‘‘ یعنی فقر اور بیماری وغیرہ کے دور ہونے کے بارے میں مایوس ہو جاتے ہیں یہ مایوسی ان کی جہالت اور عدم معرفت کے باعث ہے۔﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے؟‘‘ یہ جان لینے کے بعد کہ خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، رزق میں تنگی اور فراخی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے، مایوسی کا کوئی مقام نہیں۔ اے عقل مند شخص! مجرد اسباب پر نظر نہ رکھ بلکہ مسبب الاسباب کی طرف دیکھ، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں نشانیاں ہیں۔‘‘ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو رزق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مشیت کے مطابق عطا کردہ کشادگی اور تنگی سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے سے انھیں اللہ تعالیٰ کی حکمت، اس کی رحمت، اس کے جودوکرم اور رزق کی تمام ضروریات میں دل کے اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کی طرف میلان کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

30:38–39Page 408

فَـَٔاتِ ذَا ٱلۡقُرۡبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلۡمِسۡكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِۖ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٣٨

So give the relative his right, as well as the needy and the traveler. That is best for those who desire the face [i.e., approval] of Allāh, and it is they who will be the successful.

وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن رِّبٗا لِّيَرۡبُوَاْ فِيٓ أَمۡوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرۡبُواْ عِندَ ٱللَّهِۖ وَمَآ ءَاتَيۡتُم مِّن زَكَوٰةٖ تُرِيدُونَ وَجۡهَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُضۡعِفُونَ ٣٩

And whatever you give for interest [i.e., advantage] to increase within the wealth of people1 will not increase with Allāh. But what you give in zakāh,2 desiring the face [i.e., approval] of Allāh - those are the multipliers.3

پس دیں آپ قرابت داروں کو حق ان کا اور مسکین اور مسافر کو بھی ، یہ بہت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو چاہتے ہیں چہرہ اللہ کا (یعنی اس کی رضا مندی) اور یہی لوگ، ہیں فلاح پانے والے (38) اور جو کچھ دو تم سود سے تاکہ وہ بڑھتا رہے لوگوں کے مالوں سے، تو وہ نہیں بڑھتا اللہ کے ہاں اور جو کچھ تم دو زکاۃ سے کہ چاہتے ہو تم رضا مندی اللہ کی، تو یہی لوگ ہیں(کئی گنا ) بڑھانے والے (39)

[38] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے قرابت دار کو اس کی قرابت اور ضرورت کے مطابق اس کا حق ادا کرو جو شارع نے واجب قرار دیا ہے یا اس کی ترغیب دی ہے ، مثلاً: نفقات واجبہ اور صدقات کی ادائیگی کرنا، ہدیہ دینا، نیک سلوک کرنا، سلام کرنا، عزت و تکریم کرنا، دوسرے کی لغزش کو معاف کرنا اور اس کی بدکلامی پر رواداری سے کام لینا۔ اسی طرح مسکین کو، جسے فقر و فاقہ نے لاچار کر دیا ہو، اتنا عطا کرنا جس سے اس کے کھانے پینے اور لباس کی ضرورت پوری ہو جائے۔ ﴿وَابۡنَ السَّبِيۡلِ ﴾ وہ غریب الوطن مسافر جس کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہو، اپنے شہر سے دور ہو جس کے بارے میں شدید گمان ہو کہ وہ انتہائی ضرورت مند ہو گا اس کے پاس مال ہے نہ ہاتھ میں کوئی کسب جس کے ذریعے سے وہ دوران سفر اپنی ضروریات کا انتظام کر سکتا ہو۔ برعکس اس شخص کے جو اپنے شہر میں رہتا ہے اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو غالب حالات میں اس کے بارے میں یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ کسی صنعت و حرفت کا کام کرتا ہو گا جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہو گی۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے زکاۃ میں مسکین اور مسافر کا (الگ الگ)حصہ رکھا ہے۔﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی قرابت داروں، مساکین اور مسافروں کو عطا کرنا ﴿خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو چاہتے ہیں‘‘ اس عمل کے ذریعے سے ﴿وَجۡهَ اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کا چہرہ‘‘ یعنی بے شمار بھلائی اور ثواب کثیر کیونکہ یہ بہترین اعمال ہیں، ان کا فائدہ دوسروں تک پہنچتا ہے بشرطیکہ موقع و محل کے مطابق اور اخلاص سے مقرون ہوں۔ اگر اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہ ہو تو عطا کرنے والے کے لیے کوئی بھلائی نہیں خواہ اس شخص کو اس سے کتنا ہی فائدہ کیوں نہ پہنچا ہو جسے عطا کیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَا خَيۡرَ فِيۡ كَثِيۡرٍ مِّنۡ نَّجۡوٰىهُمۡ اِلَّا مَنۡ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوۡ مَعۡرُوۡفٍ اَوۡ اِصۡلَاحٍۭ بَيۡنَ النَّاسِ ﴾(النساء:4؍114) ’’ان لوگوں کے بہت سے مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں، سوائے اس کے کہ صدقہ کا حکم دیا ہو یا نیکی کا یا لوگوں کے درمیان صلح کروائی ہو۔‘‘ اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ ان کاموں میں بھلائی ہے کیونکہ اس کا فائدہ دوسروں تک پہنچتا ہے، مگر جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضاجوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ عنقریب اسے اجر عظیم عطا کرے گا۔ فرمایا:﴿وَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ اعمال بجا لاتے ہیں ﴿هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے ثواب سے فیض یاب اور اس کے عذاب سے نجات یافتہ ہیں۔

[39] اللہ تبارک و تعالیٰ نے انفاق فی سبیل اللہ وغیرہ، ان اعمال کا ذکر فرمایا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہے ، پھر ان اعمال کا ذکر کیا جو دنیاوی مقاصد کے تحت کیے جاتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّيَرۡبُوَاۡ فِيۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ ﴾ ’’اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مالوں میں افزائش ہو۔‘‘ یعنی اپنی ضروریات سے زائد مال، جو تم عطا کرتے ہو اور اس سے تمھارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تمھارے مال میں اضافہ ہو جائے۔ تم انھی لوگوں کو مال عطاکرتے ہو جن سے تمھیں عطا کردہ مال سے زیادہ معاوضے کی امید ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس عمل کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اخلاص کی شرط معدوم ہے۔ اس قسم کے اعمال کے زمرے میں وہ اعمال آتے ہیں جو لوگوں کے ہاں عزت و جاہ اور ریا کے لیے کیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان اعمال کے اجر میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ زَؔكٰوةٍ ﴾ ’’اور جو کچھ تم زکاۃ دیتے ہو۔‘‘ وہ مال تمھیں اخلاق رذیلہ سے پاک کرتا ہے اور زکاۃ کے ذریعے سے تمھارے مال کو بخل سے پاک کرتا ہے اور حاجت مند کی حاجت پوری کرنے کی بنا پر اس میں اضافہ کرتا ہے۔ ﴿تُرِيۡدُوۡنَ ﴾ ’’تم چاہتے ہو‘‘ زکاۃ کی ادائیگی سے ﴿وَجۡهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ﴾ ’’اللہ کا چہرہ، تو وہی لوگ اپنے مال کو دگنا چوگنا کررہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا خرچ کیا ہوا مال کئی گنا ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس مال کو ان کے لیے بڑھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ زَؔكٰوةٍ ﴾ دلالت کرتا ہے کو وہ صدقہ جس کا دینے والا اضطرار سے دو چار ہو، یا صدقہ دینے والے کے ذمہ قرض ہو جو اس نے ادا نہیں کیا اور اس کی بجائے صدقے کو مقدم رکھا تو اس زکاۃ پر بندے کو اجر نہیں ملے گا اور اس کا یہ تصرف شرعاً مردود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿الَّذِيۡ يُؤۡتِيۡ مَالَهٗ يَتَزَؔكّٰى ﴾(اللیل:92؍18) ’’جو پاک ہونے کے لیے اللہ کے راستے میں اپنا مال عطا کرتا ہے۔‘‘ مجرد مال عطاکرنا بھلائی نہیں جب تک کہ وہ وصف مذکور کے ساتھ نہ ہو یعنی عطا کرنے والے کا مقصد پاک ہونا ہو۔

30:40Page 408

ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ ثُمَّ رَزَقَكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يُحۡيِيكُمۡۖ هَلۡ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَفۡعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَيۡءٖۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٤٠

Allāh is the one who created you, then provided for you, then will cause you to die, and then will give you life. Are there any of your "partners" who does anything of that? Exalted is He and high above what they associate with Him.

اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا تمھیں، پھر اس نے رزق دیا تمھیں ، پھر وہ مارے گا تمھیں، پھر وہ (دوبارہ) زندہ کرے گا تمھیں، کیا ہے کوئی تمھارے شریکوں میں سے وہ جو کر سکے ان (کاموں) میں سے کچھ بھی؟ وہ ( اللہ) پاک اور برتر ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں (40)

[40] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ تمھاری تخلیق، تمھیں رزق عطا کرنے، تمھیں مارنے اور تمھیں زندہ کرنے میں اللہ تعالیٰ یکتا ہے اور یہ خود ساختہ الٰہ، جن کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک قرار دے رکھا ہے ان افعال میں کچھ بھی شریک نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ، جو ان امور میں یکتا ہے، ایسی ہستیوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، جو کسی طرح بھی ان امور میں تصرف کی قدرت نہیں رکھتیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے شرک سے بالاتر، پاک اور منزہ ہے اور ان کے شرک سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اس کا وبال انھی پر ہے۔

30:41Page 408

ظَهَرَ ٱلۡفَسَادُ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِي ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعۡضَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٤١

Corruption has appeared throughout the land and sea by [reason of] what the hands of people have earned so He [i.e., Allāh] may let them taste part of [the consequence of] what they have done that perhaps they will return [to righteousness].

ظاہر ہو گیا فساد خشکی اور سمندر (تری) میں بوجہ اس کے جو کمایا ہے لوگوں کے ہاتھوں نے، تاکہ وہ (اللہ) چکھائے انھیں (مزہ) بعض اس کا جو انھوں نے عمل کیے شاید کہ وہ رجوع کریں (41)

[41] بحروبر میں فساد برپا ہو گیا، یعنی ان کی معیشت میں فساد اور اس میں کمی، ان کی معیشت پر آفات کا نزول اور خود ان کے اندر امراض اور وباؤ ں کا پھیلنا، یہ سب کچھ ان کے کرتوتوں کی پاداش اور فطری طورپر فاسد اور فساد برپا کرنے والے اعمال کے سبب سے ہے۔ یہ مذکورہ عذاب اس لیے ہے ﴿لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا ﴾ ’’تاکہ وہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔‘‘ یعنی وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اعمال کی جزا دینے والا ہے۔ اس نے انھیں دنیا ہی میں ان کے اعمال کی جزا کا ایک نمونہ دکھا دیا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آ جائیں‘‘ جن کی وجہ سے فساد برپا ہوا ہے، اس طرح ان کے احوال درست اور ان کے معاملات سیدھے ہو جائیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی آزمائش کے ذریعے سے انعام کیا اور اپنے عذاب کے ذریعے سے احسان کیا ورنہ اگر وہ ان کے تمام کرتوتوں کی سزا کا مزہ چکھاتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار نہ چھوڑتا۔

30:42Page 409

قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلُۚ كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّشۡرِكِينَ ٤٢

Say, [O Muḥammad], "Travel through the land and observe how was the end of those before. Most of them were associators [of others with Allāh].

کہہ دیجیے: سیر کرو تم زمین میں، پھر دیکھو تم کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو (ان سے) پہلے تھے؟ تھے اکثر ان کے مشرک ہی (42)

[42] زمین میں چلنے پھرنے کے حکم میں، بدنی سیر اور قلبی سیر دونوں شامل ہیں۔ قلبی سیر کا مقصد گزرے ہوئے لوگوں کے انجام پر غور و فکر ہے۔ ﴿كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔‘‘ تم ان کے انجام کو بدترین انجام پاؤ گے۔ عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طرف سے مذمت، لعنت اور لگاتار رسوائی ان کا پیچھا کرتی رہی۔ پس تم بھی ان جیسے اعمال سے بچو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عدل اور اس کی حکمت ہر زمان و مکان میں جاری ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском