SabaJuz 22 · Page 433

Saba 34:45

Sheba · Juz 22 · Page 433

وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَمَا بَلَغُواْ مِعۡشَارَ مَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ فَكَذَّبُواْ رُسُلِيۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ ٤٥

And those before them denied, and they [i.e., the people of Makkah] have not attained a tenth of what We had given them. But they [i.e., the former peoples] denied My messengers, so how [terrible] was My reproach.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 34:43–45

اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پرہماری آیتیں واضح تو وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ مگر ایک ایسا آدمی جو چاہتا ہے کہ روک دے تمھیں ان (معبودوں) سے کہ تھے (جن کی) عبادت کرتے تمھارے باپ دادااور وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر ایک جھوٹ گھڑا ہوا، اور کہا انھوں نے جنھوں نے کفر کیا: حق کی بابت، جب وہ آیا ان کے پاس، نہیں ہے یہ مگرجادو بالکل واضح(43) اور نہیں دیں ہم نے ان (عربوں) کو کچھ کتابیں کہ وہ پڑھتے ہوں انھیں اور نہیں بھیجا ہم نے ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا(44) اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے، جبکہ نہیں پہنچتے یہ دسویں حصے کو اس کےجو دیا تھا ہم نے ان (پہلوں) کو، پس جھٹلایا انھوں نے میرے رسولوں کو توکیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب؟(45)

[43] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیش کیے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے، یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیاکرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے اور کہا کرتے تھے:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمھارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے ان سے تم کو رو ک دے۔‘‘ یعنی جب وہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیا کرتا تھا تو اس وقت اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ تم اپنے باپ دادا کی عادات کو ترک کر دو، جن کی تم تعظیم اور ان کی پیروی کرتے ہو۔ پس انھوں نے گمراہوں کے کہنے پر حق کو ٹھکرا دیا اور اس کو ٹھکراتے وقت انھوں نے کوئی دلیل اور برہان پیش کی نہ کوئی شبہ وارد کیا اور یہ کون سا شبہ ہے کہ جب رسول بعض گمراہ لوگوں کو اتباع حق کی دعوت دیں تو یہ لوگ دعویٰ کریں کہ گزشتہ زمانے میں ان کے بھائی بند بھی، جن کے یہ پیروکار ہیں، اسی طریقہ پر کاربند تھے۔اگر آپ ان کی اس سفاہت، حماقت اور گمراہ لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ان کے حق کو ٹھکرانے پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی حماقت کے ڈانڈے مشرکوں، دہریوں، فلسفیوں، صابیوں، ملحدوں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے نکل بھاگنے والوں کے گمراہ نظریات سے جا ملتے ہیں۔ قیامت تک ہر شخص کے لیے یہی اسوہ رہے گا جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کے افعال کو دلیل بنا کر انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرایا اور اس کے بعد حق کو مطعون کیا ﴿وَقَالُوۡا مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡكٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن صرف اور صرف گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔‘‘ یعنی یہ اس شخص کا گھڑا ہوا جھوٹ ہے جو اسے لے کر آیا ہے ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور ان کافروں کے پاس جب حق آگیا تو انھوں نے کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔‘‘ یعنی یہ کھلا جادو ہے جو ہر ایک پر ظاہر ہے۔ وہ یہ بات حق کی تکذیب اور بے عقل لوگوں کو فریب میں مبتلا کرنے کے لیے کہتے تھے۔

[44] جب وہ تمام اعتراضات واضح ہو گئے جن کی بنیاد پر وہ حق کو ٹھکراتے تھے کہ ان کا دلیل ہونا تو کجا ان کی بنیاد پر تو شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا، تو ذکر فرمایا کہ کوئی شخص ان کی تائید میں دلیل لانے کی کوشش کرے تو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ كُتُبٍ يَّدۡرُسُوۡنَهَا۠﴾ ’’اور ہم نے نہ تو انھیں کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں۔‘‘ کہ وہ کتاب ان کے لیے کوئی دلیل ہوتی ﴿وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِنۡ نَّذِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا بھیجا ہے۔‘‘ کہ ان کے پاس اس کے اقوال و احوال ہوں جن کی بنیاد پر یہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہوں۔ ان کے پاس علم ہے نہ علم کا کوئی نشان۔

[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں، ان سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَؔكَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۙ وَمَا بَلَغُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے تھے انھوں نے (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ لوگ نہیں پہنچے‘‘ یعنی یہ مخاطبین نہیں پہنچتے ﴿مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ فَكَذَّبُوۡا ﴾ ’’اس سازو سامان کے عشر عشیر کو بھی جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو عطا کیا تھا تو انھوں نے جھٹلایا‘‘ یعنی ان سے پہلے امتوں نے ﴿رُسُلِيۡ١۫ فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ ’’میرے رسولوں کو تو پھر میرا عذاب کیسا ہوا۔‘‘ یعنی میری ان پر گرفت اور میرا ان پر عذاب کیسا تھا؟ہم اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ گزشتہ قوموں کو کیا کیا سزائیں دی گئیں ان میں سے کچھ قوموں کو سمندر میں غرق کر دیا، کچھ لوگوں کو سخت طوفانی ہوا کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا، کچھ قوموں کو ایک سخت چنگھاڑ کے ذریعے سے، کچھ کو زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کیا اور کچھ قوموں کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض قوموں پر ہم نے ہوا کے ذریعے سے آسمان سے پتھر برسائے۔ انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے لوگو! تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، ورنہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے تھے اور تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جیسے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوا تھا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 433

SabaJuz 22 · Page 433

34:40

وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ يَقُولُ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ أَهَٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٤٠

And [mention] the Day when He will gather them all and then say to the angels, "Did these [people] used to worship you?"

34:41

قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمۖ بَلۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٱلۡجِنَّۖ أَكۡثَرُهُم بِهِم مُّؤۡمِنُونَ ٤١

They will say, "Exalted are You! You, [O Allāh], are our benefactor excluding [i.e., not] them. Rather, they used to worship the jinn; most of them were believers in them."

34:42

فَٱلۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٖ نَّفۡعٗا وَلَا ضَرّٗا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ٤٢

But today [i.e., the Day of Judgement] you do not hold for one another [the power of] benefit or harm, and We will say to those who wronged, "Taste the punishment of the Fire, which you used to deny."

34:43

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا رَجُلٞ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُكُمۡ وَقَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّآ إِفۡكٞ مُّفۡتَرٗىۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ٤٣

And when Our verses are recited to them as clear evidences, they say, "This is not but a man who wishes to avert you from that which your fathers were worshipping." And they say, "This is not except a lie invented." And those who disbelieve say of the truth when it has come to them, "This is not but obvious magic."

34:44

وَمَآ ءَاتَيۡنَٰهُم مِّن كُتُبٖ يَدۡرُسُونَهَاۖ وَمَآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِن نَّذِيرٖ ٤٤

And We had not given them any scriptures which they could study, and We had not sent to them before you, [O Muḥammad], any warner.

34:45

وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَمَا بَلَغُواْ مِعۡشَارَ مَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ فَكَذَّبُواْ رُسُلِيۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ ٤٥

And those before them denied, and they [i.e., the people of Makkah] have not attained a tenth of what We had given them. But they [i.e., the former peoples] denied My messengers, so how [terrible] was My reproach.

34:46

۞ قُلۡ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍۖ أَن تَقُومُواْ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُواْۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ لَّكُم بَيۡنَ يَدَيۡ عَذَابٖ شَدِيدٖ ٤٦

Say, "I only advise you of one [thing] - that you stand for Allāh, [seeking truth] in pairs and individually, and then give thought." There is not in your companion any madness. He is only a warner to you before a severe punishment.

34:47

قُلۡ مَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٖ فَهُوَ لَكُمۡۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٞ ٤٧

Say, "Whatever payment I might have asked of you - it is yours. My payment is only from Allāh, and He is, over all things, Witness."

34:48

قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَّٰمُ ٱلۡغُيُوبِ ٤٨

Say, "Indeed, my Lord projects the truth, Knower of the unseen."

As-Sa'diTafsir · 34:45

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском