Saba 34:46
Sheba · Juz 22 · Page 433
۞ قُلۡ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍۖ أَن تَقُومُواْ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُواْۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ لَّكُم بَيۡنَ يَدَيۡ عَذَابٖ شَدِيدٖ ٤٦
Say, "I only advise you of one [thing] - that you stand for Allāh, [seeking truth] in pairs and individually, and then give thought." There is not in your companion any madness. He is only a warner to you before a severe punishment.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 34:46–50
کہہ دیجیے! بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تمھیں ایک بات کی، یہ کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے دو دو اور ایک ایک، پھر غوروفکرکرو تم، نہیں ہے تمھارے ساتھی (پیغمبر) میں کوئی دیوانگی، نہیں ہے وہ مگر صرف ایک ڈرانے والا تمھیں، پہلے ایک سخت عذاب کے (آنے سے)(46) کہہ دیجیے! جو مانگا ہو میں نے تم سے کوئی صلہ تو وہ تمھارے لیے ہی ہے، نہیں ہے میرا صلہ مگر ذمے اللہ ہی کے، اور وہ ہے اوپر ہرچیز کے شاہد(47)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی القا کرتا ہے (پیغمبر پر) حق بات(وہ)خوب جانتا ہے پوشیدہ باتوں کو(48)کہہ دیجیے! آ گیا حق، اور نہیں ابتدا کرتا باطل اور نہ اعادہ کرتا ہے(49) کہہ دیجیے! اگرمیں بہکا ہوا ہوں تو بلاشبہ میرے بہکنے کا (وبال) مجھی پر ہو گا اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس کے ہے جو وحی کرتا ہے میری طرف میرا رب، بے شک وہ خوب سننے والانہایت قریب ہے(50)
[46]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان مکذبین و معاندین، تکذیب حق میں بھاگ دوڑ کرنے اور حق لانے والے کے بارے میں جرح وقدح کے درپے رہنے والوں سے کہہ دیجیے:﴿اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍ ﴾ ’’میں تمھیں صرف ایک بات کی وصیت کرتا ہوں‘‘ تمھیں اس کا مشورہ دیتا ہوں اور اس بارے میں تمھارے ساتھ خیرخواہی کرتا ہوں۔ یہی انصاف پر مبنی طریقہ ہے، میں تمھیں یہ نہیں کہتا کہ تم میری بات مانو نہ یہ کہتا ہوں کہ تم بغیر کسی موجب کے اپنی بات چھوڑ دو، میں تم لوگوں سے صرف یہ کہتا ہوں:﴿اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ﴾ ’’ کہ تم اللہ کے لیے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ یعنی ہمت ، نشاط، اتباع صواب کے قصد اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ، تحقیق و جستجو کی خاطر اکٹھے ہو کر اور اکیلے اکیلے، کھڑے ہو جاؤ اور تم میں سے ہر شخص اپنے آپ کو مخاطب کرے۔ تم اکیلے اکیلے اور دو دو کھڑے ہو کر اپنی عقل و فکر کو استعمال کرو، اپنے رسول کے احوال میں غوروفکر کرو، کہ کیا وہ مجنون ہے؟ کیا اس کے کلام اور ہیئت و اوصاف میں مجانین کی صفات پائی جاتی ہیں؟ یا وہ سچا نبی ہے اور آنے والے سخت عذاب کے ضرر سے تمھیں ڈراتا ہے؟ اگر وہ اس نصیحت کو قبول کر کے اس پر عمل کریں، تو دوسروں سے زیادہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ مجنون نہیں ہیں، اس لیے کہ آپ کی ہیئت مجانین کی ہیئت کی مانند نہیں ہے۔اس کے برعکس آپ کی ہیئت بہترین، آپ کی حرکات و سکنات جلیل ترین، ادب، سکینت، تواضع اور وقار کے اعتبار سے آپ کی تخلیق کامل ترین تھی۔ یہ صفات جلیلہ کسی نہایت عقل مند اور باوقار شخص ہی میں ہو سکتی ہیں، پھر وہ آپ کے فصیح و بلیغ کلام، آپ کے خوبصورت الفاظ اور آپ کے ان کلمات پر غور کریں جو دلوں کو امن و ایمان سے لبریز کر دیتے ہیں، نفوس کا تزکیہ اور قلوب کی تطہیر کرتے ہیں، جو انسان کو مکارم اخلاق اور اچھی عادات کو اختیار کرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اس کے برعکس برے اخلاق اور رذیل عادات سے روکتے ہیں۔ آپ ﷺ جب گفتگو فرماتے ہیں تو ہیبت، اجلال اور تعظیم کی بنا پر آنکھیں دیکھتی رہ جاتی ہیں۔ کیا یہ تمام چیزیں مجانین کی بکواس اور ان کی اخلاق سے گری ہوئی حرکتوں اور ان کے اس کلام سے مشابہت رکھتی ہیں، جو ان کے احوال سے مطابقت رکھتا ہے؟ہر وہ شخص جو آپ کے احوال میں غوروفکر کرتا ہے اور یہ معلوم کرنے کا قصد رکھتا ہے کہ آیا آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں یا نہیں، خواہ وہ اکیلا غوروفکر کرے یا کسی اور کے ساتھ مل کر، وہ یقین جازم کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق اور نبی صادق ہیں، خاص طور پر یہ مخاطبین، کیونکہ آپ ان کے ساتھ رہتے ہیں اور یہ لوگ آپ کو شروع سے لے کر آخر تک اچھی طرح جانتے ہیں۔
[47] البتہ ایک اور مانع ہے جو نفوس کو داعی ٔ حق کی آواز پر لبیک کہنے سے روکتا ہے اور وہ مانع یہ ہے کہ داعی، اپنی آواز پر لبیک کہنے والوں سے، اپنی دعوت کی اجرت کے طور پر مال اینٹھ لیتا ہو، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپنے رسول کی براء ت بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿قُلۡ مَا سَاَلۡتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔‘‘ یعنی تمھارے حق کی اتباع کرنے پر ﴿فَهُوَ لَكُمۡ ﴾ یعنی میں تمھیں گواہ کر کے کہتا ہوں کہ بفرض محال، اگر دعوت حق کی کوئی اجرت ہے، تو وہ اجرت تمھارے لیے ہے۔ ﴿اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ شَهِيۡدٌ ﴾ ’’میرا اجر اللہ ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی اس کا علم اس چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔ اگر میں جھوٹا ہوتا تو وہ عذاب کے ذریعے سے میری گرفت کرتا، نیز وہ تمھارے اعمال کو بھی دیکھتا ہے، وہ ان کو محفوظ رکھے گا اور تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
[48] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دلائل و براہین کا ذکر کرنے کے بعد، جو حق کی صحت اور باطل کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں، آگاہ فرمایا کہ یہ اس کی سنت اور عادت ہے۔ ﴿يَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں‘‘ باطل پر جو اس کا سرتوڑ دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حق کو واضح اور اہل تکذیب کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے، جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے تو آپ نے دیکھا کہ اہل تکذیب کے اقوال کیسے مضمحل ہو گئے، ان کا جھوٹ اور عناد کیسے عیاں ہو گیا، حق روشن ہو کر ظاہر ہو گیا اور باطل کا قلع قمع ہو گیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کو ﴿عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’سب سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والے‘‘ نے بیان کیا ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور شبہات کو جانتا ہے، جو ان دلائل کو بھی جانتا ہے جو ان شبہات کے مقابلے میں جنم لیتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں۔پس وہ اپنے بندوں کو ان دلائل کا علم عطا کر کے ان کو ان کے سامنے خوب واضح کر دیتا ہے۔
[49] اس لیے فرمایا: ﴿قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ ﴾ ’’کہہ دیجیے: حق آگیا ہے‘‘ یعنی وہ ظاہر، واضح اور سورج کی مانند روشن ہو گیا اور اس کی دلیل غالب آ گئی ہے۔ ﴿وَ مَا يُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَمَا يُعِيۡدُ ﴾ ’’اور باطل نہ تو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے نہ دوبارہ پیدا کرے گا۔‘‘ یعنی اس کے ہتھکنڈے مضمحل ہو کر باطل اور اس کے دلائل سرنگوں ہو گئے۔ باطل ( یعنی کوئی خود ساختہ معبود) کسی کو پیدا کر سکتا ہے نہ مرنے کے بعد زندگی کا اعادہ کر سکتا ہے۔
[50] جب حق واضح ہو گیا، جس کی طرف رسول مصطفیٰ ﷺ نے دعوت دی تھی اور آپ کو جھٹلانے والے آپ پر گمراہی کا بہتان لگاتے تھے، تو آپ نے ان کو حق سے آگاہ کر کے حق کو ان کے سامنے واضح کر دیا اور ان پر ثابت کر دیا کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ نے ان کو یہ بھی بتا دیا کہ ان کا آپ کو گمراہ کہنا حق کو کوئی نقصان دے سکتا ہے نہ دعوت حق کسی کے روکے رکی ہے۔ اگر آپ ﷺ (مَعَاذَ اللہِ) گمراہ ہیں ، حالانکہ آپ اس سے پاک اور منزہ ہیں، تاہم اگر بحث میں برسبیل تنزل تمھاری بات کو صحیح مان لیں تو آپ کی گمراہی آپ کے لیے ہے یعنی آپ کی گمراہی کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے، دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ ﴿وَاِنِ اهۡتَدَيۡتُ ﴾ ’’اور اگر میں راہ راست پر ہوں‘‘ تو یہ میرے نفس اور میری قوت و اختیار کا کارنامہ نہیں۔ میری ہدایت کا سبب تو صرف یہ ہے کہ ﴿يُوۡحِيۡۤ اِلَيَّ رَبِّيۡ ﴾ ’’میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے‘‘ اور وہی میری ہدایت کا منبع ہے اور میرے سوا دیگر لوگوں کی ہدایت کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ بے شک میرا رب ﴿سَمِيۡعٌ ﴾ ’’سنتا ہے‘‘ تمام باتوں اور تمام آوازوں کو اور ﴿قَرِيۡبٌ ﴾ ’’قریب ہے‘‘ ہر اس شخص کے جو اسے پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
Page 433
34:40
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ يَقُولُ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ أَهَٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٤٠
And [mention] the Day when He will gather them all and then say to the angels, "Did these [people] used to worship you?"
34:41
قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمۖ بَلۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٱلۡجِنَّۖ أَكۡثَرُهُم بِهِم مُّؤۡمِنُونَ ٤١
They will say, "Exalted are You! You, [O Allāh], are our benefactor excluding [i.e., not] them. Rather, they used to worship the jinn; most of them were believers in them."
34:42
فَٱلۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٖ نَّفۡعٗا وَلَا ضَرّٗا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ٤٢
But today [i.e., the Day of Judgement] you do not hold for one another [the power of] benefit or harm, and We will say to those who wronged, "Taste the punishment of the Fire, which you used to deny."
34:43
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا رَجُلٞ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُكُمۡ وَقَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّآ إِفۡكٞ مُّفۡتَرٗىۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ٤٣
And when Our verses are recited to them as clear evidences, they say, "This is not but a man who wishes to avert you from that which your fathers were worshipping." And they say, "This is not except a lie invented." And those who disbelieve say of the truth when it has come to them, "This is not but obvious magic."
34:44
وَمَآ ءَاتَيۡنَٰهُم مِّن كُتُبٖ يَدۡرُسُونَهَاۖ وَمَآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِن نَّذِيرٖ ٤٤
And We had not given them any scriptures which they could study, and We had not sent to them before you, [O Muḥammad], any warner.
34:45
وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَمَا بَلَغُواْ مِعۡشَارَ مَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ فَكَذَّبُواْ رُسُلِيۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ ٤٥
And those before them denied, and they [i.e., the people of Makkah] have not attained a tenth of what We had given them. But they [i.e., the former peoples] denied My messengers, so how [terrible] was My reproach.
34:46
۞ قُلۡ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍۖ أَن تَقُومُواْ لِلَّهِ مَثۡنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُواْۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ لَّكُم بَيۡنَ يَدَيۡ عَذَابٖ شَدِيدٖ ٤٦
Say, "I only advise you of one [thing] - that you stand for Allāh, [seeking truth] in pairs and individually, and then give thought." There is not in your companion any madness. He is only a warner to you before a severe punishment.
34:47
قُلۡ مَا سَأَلۡتُكُم مِّنۡ أَجۡرٖ فَهُوَ لَكُمۡۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٞ ٤٧
Say, "Whatever payment I might have asked of you - it is yours. My payment is only from Allāh, and He is, over all things, Witness."
34:48
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَقۡذِفُ بِٱلۡحَقِّ عَلَّٰمُ ٱلۡغُيُوبِ ٤٨
Say, "Indeed, my Lord projects the truth, Knower of the unseen."