Saba 34:52
Sheba · Juz 22 · Page 434
وَقَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ ٥٢
And they will [then] say, "We believe in it!" But how for them will be the taking1 [of faith] from a place far away?2
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 34:51–54
اور کاش کہ آپ دیکھیں! جب وہ پریشان ہوں گے، تو نہ بچ سکیں گے، اور پکڑ لیے جائیں گے وہ نزدیک جگہ ہی سے (51) اور وہ کہیں گے، ہم ایمان لے آئے ہیں اس پر، اور کہا ں ان کے لیے ہوگا حاصل کرنا (ایمان کا اتنی) دور جگہ سے(52) حالانکہ انکار کیا تھا انھوں نے ساتھ اس کےاس سے پہلے (دنیا میں) اور پھینکتے رہے بن دیکھے (نشانے پر) دور جگہ سے ہی(53) اور آڑ کر دی جائے گی ان کے درمیان اور درمیان ان چیزوں کے جو وہ چاہیں گے، جیسے کیا گیاان جیسے کام کرنے والوں کے ساتھ اس سے پہلے، بلاشبہ وہ تھے ایسے شک میں (جو) اضطراب میں ڈالنے والا تھا(54)
[51] اللہ تبارک فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡ تَرٰۤى ﴾ ’’اور اگر آپ دیکھیں‘‘ اے رسول! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال ﴿اِذۡ فَزِعُوۡا﴾ ’’جب وہ گبھرائے ہوئے ہوں گے‘‘ عذاب اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انھوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب ان کے لیے عذاب کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ تو ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ ہو گی نہ وہ بچ ہی سکیں گے ﴿وَاُخِذُوۡا مِنۡ مَّكَانٍ قَرِيۡبٍ﴾ ’’اور وہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔‘‘ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے بلکہ ان کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
[52]﴿وَّقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ پکار اٹھیں گے‘‘ اسی حالت میں، کہ ﴿اٰمَنَّا ﴾ ’’ہم ایمان لائے‘‘ اللہ تعالیٰ پر اور ان امور کی تصدیق کی جن کو ہم جھٹلایا کرتے تھے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ ﴾ ’’اب انھیں (حصول ایمان) کہاں سے میسر ہوگا‘‘ ﴿مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ﴾ ’’اتنے دور کے مقام سے‘‘ اب ان کے درمیان اور ان کے ایمان کے درمیان بڑے فاصلے حائل ہو گئے ہیں اور اس حال میں ایمان محال ہو گیا ہے۔
[53] اگر یہ لوگ بروقت ایمان لائے ہوتے تو ان کا ایمان مقبول تھا، لیکن ﴿كَفَرُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُ١ۚ وَيَقۡذِفُوۡنَ ﴾ ’’اس سے پہلے تو انھوں نے اس سے کفر کیا تھا اور وہ پھینکتے تھے (تیر تکے)‘‘ ﴿بِالۡغَيۡبِ مِنۡ مَّكَانٍۭؔ بَعِيۡدٍ ﴾ ’’دور دراز سے بن دیکھے ہی‘‘ اپنے باطل اندازوں کے ذریعے سے تاکہ اس طرح وہ حق کو سرنگوں کریں۔ مگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے جس طرح بہت دور سے تیر اندازی کرنے والے کا تیر صحیح نشانے پر نہیں پڑ سکتا اسی طرح یہ بہت محال ہے کہ باطل حق کو مغلوب کر سکے یا اس کو روک سکے۔ حق کی غفلت کے وقت باطل ایک مرتبہ حملہ آور ہوتا ہے مگر جب حق سامنے آکر باطل کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے۔
[54]﴿وَحِيۡلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُوۡنَ ﴾ یعنی ان کے درمیان اور ان کی لذات و شہوات، مال و اولاد، ان کی فوجوں اور خدم و حشم کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی جائیں گی۔ وہ اکیلے اکیلے اپنے اعمال کے ساتھ اسی طرح حاضر ہوں گے جس طرح انھیں اکیلے پیدا کیا گیا تھا اور جن چیزوں کے وہ مالک تھے انھیں اپنے پیچھے چھوڑ آئیں گے۔ ﴿كَمَا فُعِلَ بِاَشۡيَاعِهِمۡ ﴾ ’’جیسے ان جیسوں کے ساتھ کیا گیا تھا‘‘ گزشتہ قوموں میں سے۔ جب ان پر ہلاکت خیز عذاب نازل ہوا تو ان کے اور ان کی دل پسند چیزوں کے درمیان رکاوٹیں حائل کر دی گئیں۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا فِيۡ شَكٍّ مُّرِيۡبٍ ﴾ ’’بے شک وہ بھی الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ جو انھیں بدگمانی اور دلی قلق میں مبتلا کرتا تھا ، اس لیے وہ ایمان نہ لائے اور جب ان سے توبہ کے لیے کہا گیا تو انھوں نے توبہ نہ کی۔
Page 434
34:49
قُلۡ جَآءَ ٱلۡحَقُّ وَمَا يُبۡدِئُ ٱلۡبَٰطِلُ وَمَا يُعِيدُ ٤٩
Say, "The truth has come, and falsehood can neither begin [anything] nor repeat [it]."1
1 translator’s note
- This expression alludes to complete inability, meaning that falsehood was abolished. ↩
34:50
قُلۡ إِن ضَلَلۡتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَىٰ نَفۡسِيۖ وَإِنِ ٱهۡتَدَيۡتُ فَبِمَا يُوحِيٓ إِلَيَّ رَبِّيٓۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٞ قَرِيبٞ ٥٠
Say, "If I should err, I would only err against myself. But if I am guided, it is by what my Lord reveals to me. Indeed, He is Hearing and near."
34:51
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ فَزِعُواْ فَلَا فَوۡتَ وَأُخِذُواْ مِن مَّكَانٖ قَرِيبٖ ٥١
And if you could see1 when they are terrified but there is no escape, and they will be seized from a place nearby.
1 translator’s note
- i.e., have a glimpse of the Hereafter. ↩
34:52
وَقَالُوٓاْ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ ٥٢
And they will [then] say, "We believe in it!" But how for them will be the taking1 [of faith] from a place far away?2
34:53
وَقَدۡ كَفَرُواْ بِهِۦ مِن قَبۡلُۖ وَيَقۡذِفُونَ بِٱلۡغَيۡبِ مِن مَّكَانِۭ بَعِيدٖ ٥٣
And they had already disbelieved in it before and would assault1 the unseen from a place far away.2
34:54
وَحِيلَ بَيۡنَهُمۡ وَبَيۡنَ مَا يَشۡتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشۡيَاعِهِم مِّن قَبۡلُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ فِي شَكّٖ مُّرِيبِۭ ٥٤
And prevention will be placed between them and what they desire,1 as was done with their kind before. Indeed, they were in disquieting doubt [i.e., denial].
1 translator’s note
- Meaning the attainment of faith and its benefits or entrance into Paradise. ↩
سورة فاطر
Fatir
Originator · Meccan · 45 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
35:1
ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ جَاعِلِ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ رُسُلًا أُوْلِيٓ أَجۡنِحَةٖ مَّثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۚ يَزِيدُ فِي ٱلۡخَلۡقِ مَا يَشَآءُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١
[All] praise is [due] to Allāh, Creator of the heavens and the earth, [who] made the angels messengers having wings, two or three or four. He increases in creation what He wills. Indeed, Allāh is over all things competent.
35:2
مَّا يَفۡتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحۡمَةٖ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَاۖ وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢
Whatever Allāh grants to people of mercy - none can withhold it; and whatever He withholds - none can release it thereafter. And He is the Exalted in Might, the Wise.
35:3
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡۚ هَلۡ مِنۡ خَٰلِقٍ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَرۡزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ ٣
O mankind, remember the favor of Allāh upon you. Is there any creator other than Allāh who provides for you from the heaven and earth? There is no deity except Him, so how are you deluded?