Ya-Sin 36:38
Ya Sin · Juz 23 · Page 442
وَٱلشَّمۡسُ تَجۡرِي لِمُسۡتَقَرّٖ لَّهَاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ٣٨
And the sun runs [on course] toward its stopping point. That is the determination of the Exalted in Might, the Knowing.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 36:37–40
اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، کھینچ لیتے ہیں ہم اس (رات) سے دن کو، پس یکایک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں (37) اور سورج رواں دواں رہتا ہے اپنے ٹھکانے کے لیے ، یہ اندازہ ہے نہایت غالب خوب جاننے والے کا (38) اور چاند، مقرر کر دی ہیں ہم نے اس کی منزلیں، یہاں تک کہ ہو جاتا ہے وہ(ایسے) جیسے کھجور کے خوشے کی پرانی ٹیڑھی ڈنڈی (39) نہ سورج کو لائق ہے یہ کہ پکڑ لے وہ چاند کو اور نہ رات ہی پہل کرنے والی ہے دن سے، اور ہر ایک (ان میں سے اپنے اپنے) مدار میں تیرتے پھرتے ہیں (40)
[37]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل ﴿الَّيۡلُ١ۖ ۚ نَسۡلَخُ مِنۡهُ النَّهَارَ ﴾ ’’رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین کو منور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا هُمۡ مُّظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘
[38] اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلوع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لیے روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَالشَّمۡسُ تَجۡرِيۡ لِمُسۡتَقَرٍّؔ لَّهَا﴾ سورج دائمی طور پر اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اس سے تجاوز کرتا ہے نہ کوتاہی اور نہ وہ اپنے آپ پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دم مار سکتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’یہ غالب ہستی کا اندازہ ہے۔‘‘ جس نے اپنے غلبہ و عزت کی بنا پر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی کامل ترین طریقے سے تدبیر اور بہترین طریقے سے انتظام کیا ﴿الۡعَلِيۡمِ﴾ جس نے اپنے علم کی بنا پر اپنے بندوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں مصالح مقرر فرمائے۔
[39]﴿وَالۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰهُ مَنَازِلَ ﴾ ’’اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔‘‘ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے ﴿حَتّٰى ﴾ یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے ﴿كَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِيۡمِ ﴾ ’’پرانی ٹہنی کی طرح‘‘ یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہو جاتی ہے۔
[40]﴿وَ كُلٌّ ﴾ ’’ اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے کوئی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کے لیے وقت مقرر ہے جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہو جاتا ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَا الشَّمۡسُ يَنۢۡبـَغِيۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ ﴾ ’’سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے‘‘ یعنی اس کی بادشاہی میں جو کہ رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہو۔ ﴿وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ ﴾’’اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی‘‘ کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔﴿وَكُلٌّ ﴾’’اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند اور ستارے ﴿فِيۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ ﴾ ’’سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آ جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔
Page 442
36:28
۞ وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنۢ بَعۡدِهِۦ مِن جُندٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ ٢٨
And We did not send down upon his people after him any soldiers from the heaven, nor would We have done so.
36:29
إِن كَانَتۡ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَإِذَا هُمۡ خَٰمِدُونَ ٢٩
It was not but one shout,1 and immediately they were extinguished.
1 translator’s note
- From Gabriel or a blast from the sky. ↩
36:30
يَٰحَسۡرَةً عَلَى ٱلۡعِبَادِۚ مَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٣٠
How regretful for the servants. There did not come to them any messenger except that they used to ridicule him.
36:31
أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ أَنَّهُمۡ إِلَيۡهِمۡ لَا يَرۡجِعُونَ ٣١
Have they not considered how many generations We destroyed before them - that they to them1 will not return?
1 translator’s note
- i.e., to those living presently in the world. ↩
36:32
وَإِن كُلّٞ لَّمَّا جَمِيعٞ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُونَ ٣٢
And indeed, all of them will yet be brought present before Us.
36:33
وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبّٗا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ ٣٣
And a sign for them is the dead earth. We have brought it to life and brought forth from it grain, and from it they eat.
36:34
وَجَعَلۡنَا فِيهَا جَنَّٰتٖ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَٰبٖ وَفَجَّرۡنَا فِيهَا مِنَ ٱلۡعُيُونِ ٣٤
And We placed therein gardens of palm trees and grapevines and caused to burst forth therefrom some springs -
36:35
لِيَأۡكُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتۡهُ أَيۡدِيهِمۡۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ ٣٥
That they may eat of His fruit.1 And their hands have not produced it,2 so will they not be grateful?
36:36
سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَزۡوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلۡأَرۡضُ وَمِنۡ أَنفُسِهِمۡ وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُونَ ٣٦
Exalted is He who created all pairs1 - from what the earth grows and from themselves and from that which they do not know.
1 translator’s note
- Or "all species." ↩
36:37
وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلَّيۡلُ نَسۡلَخُ مِنۡهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظۡلِمُونَ ٣٧
And a sign for them is the night. We remove1 from it the [light of] day, so they are [left] in darkness.
1 translator’s note
- Literally, "strip" or "peel." Sunlight projected onto the earth is removed from it as the earth turns and night approaches. ↩
36:38
وَٱلشَّمۡسُ تَجۡرِي لِمُسۡتَقَرّٖ لَّهَاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ٣٨
And the sun runs [on course] toward its stopping point. That is the determination of the Exalted in Might, the Knowing.
36:39
وَٱلۡقَمَرَ قَدَّرۡنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلۡعُرۡجُونِ ٱلۡقَدِيمِ ٣٩
And the moon - We have determined for it phases, until it returns [appearing] like the old date stalk.
36:40
لَا ٱلشَّمۡسُ يَنۢبَغِي لَهَآ أَن تُدۡرِكَ ٱلۡقَمَرَ وَلَا ٱلَّيۡلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِۚ وَكُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ ٤٠
It is not allowable [i.e., possible] for the sun to reach the moon, nor does the night overtake the day, but each, in an orbit, is swimming.