As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Ya-Sin 36:13–40
36:13–32Page 441
وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلًا أَصۡحَٰبَ ٱلۡقَرۡيَةِ إِذۡ جَآءَهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ ١٣
And present to them an example: the people of the city, when the messengers came to it -
إِذۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهِمُ ٱثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٖ فَقَالُوٓاْ إِنَّآ إِلَيۡكُم مُّرۡسَلُونَ ١٤
When We sent to them two but they denied them, so We strengthened [them] with a third, and they said, "Indeed, we are messengers to you."
قَالُواْ مَآ أَنتُمۡ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا وَمَآ أَنزَلَ ٱلرَّحۡمَٰنُ مِن شَيۡءٍ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا تَكۡذِبُونَ ١٥
They said, "You are not but human beings like us, and the Most Merciful has not revealed a thing. You are only telling lies."
قَالُواْ رَبُّنَا يَعۡلَمُ إِنَّآ إِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُونَ ١٦
They said, "Our Lord knows that we are messengers to you,
وَمَا عَلَيۡنَآ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ ١٧
And we are not responsible except for clear notification."
قَالُوٓاْ إِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡۖ لَئِن لَّمۡ تَنتَهُواْ لَنَرۡجُمَنَّكُمۡ وَلَيَمَسَّنَّكُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٞ ١٨
They said, "Indeed, we consider you a bad omen. If you do not desist, we will surely stone you, and there will surely touch you, from us, a painful punishment."
قَالُواْ طَٰٓئِرُكُم مَّعَكُمۡ أَئِن ذُكِّرۡتُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ ١٩
They said, "Your omen [i.e., fate] is with yourselves. Is it1 because you were reminded? Rather, you are a transgressing people."
وَجَآءَ مِنۡ أَقۡصَا ٱلۡمَدِينَةِ رَجُلٞ يَسۡعَىٰ قَالَ يَٰقَوۡمِ ٱتَّبِعُواْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٢٠
And there came from the farthest end of the city a man, running. He said, "O my people, follow the messengers.
ٱتَّبِعُواْ مَن لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ أَجۡرٗا وَهُم مُّهۡتَدُونَ ٢١
Follow those who do not ask of you [any] payment, and they are [rightly] guided.
وَمَالِيَ لَآ أَعۡبُدُ ٱلَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٢٢
And why should I not worship He who created me and to whom you will be returned?
ءَأَتَّخِذُ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً إِن يُرِدۡنِ ٱلرَّحۡمَٰنُ بِضُرّٖ لَّا تُغۡنِ عَنِّي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡـٔٗا وَلَا يُنقِذُونِ ٢٣
Should I take other than Him [false] deities [while], if the Most Merciful intends for me some adversity, their intercession will not avail me at all, nor can they save me?
إِنِّيٓ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٍ ٢٤
Indeed, I would then be in manifest error.
إِنِّيٓ ءَامَنتُ بِرَبِّكُمۡ فَٱسۡمَعُونِ ٢٥
Indeed, I have believed in your Lord, so listen to me."
قِيلَ ٱدۡخُلِ ٱلۡجَنَّةَۖ قَالَ يَٰلَيۡتَ قَوۡمِي يَعۡلَمُونَ ٢٦
It was said, "Enter Paradise."1 He said, "I wish my people could know
بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُكۡرَمِينَ ٢٧
Of how my Lord has forgiven me and placed me among the honored."
۞ وَمَآ أَنزَلۡنَا عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ مِنۢ بَعۡدِهِۦ مِن جُندٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ ٢٨
And We did not send down upon his people after him any soldiers from the heaven, nor would We have done so.
إِن كَانَتۡ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَإِذَا هُمۡ خَٰمِدُونَ ٢٩
It was not but one shout,1 and immediately they were extinguished.
يَٰحَسۡرَةً عَلَى ٱلۡعِبَادِۚ مَا يَأۡتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٣٠
How regretful for the servants. There did not come to them any messenger except that they used to ridicule him.
أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُم مِّنَ ٱلۡقُرُونِ أَنَّهُمۡ إِلَيۡهِمۡ لَا يَرۡجِعُونَ ٣١
Have they not considered how many generations We destroyed before them - that they to them1 will not return?
وَإِن كُلّٞ لَّمَّا جَمِيعٞ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُونَ ٣٢
And indeed, all of them will yet be brought present before Us.
اور بیان کیجیے واسطے ان کے ایک مثال بستی والوں کی، جب آئے ان کے پاس (اللہ کے) بھیجے ہوئے (13) جب بھیجے ہم نے ان کی طرف (پیغمبر) دو تو جھٹلایا ا نہوں نے ان کو، پس تقویت دی ہم نے ان کوتیسرے کے ساتھ، پس ا نہوں نے کہا، بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں(14) ا نہوں نے کہا، نہیں ہو تم مگر بشر ہی ہم جیسے اور نہیں نازل کی رحمٰن نے کوئی چیز، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے(15) انھوں نے کہا، ہمارا رب جانتا ہے کہ بے شک ہم تمھاری طرف ہی بھیجے گئے ہیں(16) اور نہیں ہے ہم پر مگر پہنچا دینا کھول کر(17)انھوں نے کہا، ہم نے تو نامبارک خیال کیا ہے تمھیں البتہ اگر نہ باز آئے تم تو ضرور ہم سنگسار کر دیں گے تمھیں اور ضرور پہنچے گی تمھیں ہماری طرف سے سزا درد ناک(18) انھوں نے کہا، تمھاری نحوست تو تمھارے ساتھ ہے کیا اگر نصیحت کیے جاؤ تم( تو یہ نحوست ہوگی ؟ )بلکہ تمھی لوگ ہی ہو حد سے بڑھنے والے(19) اور آیا دوردراز مقام سے شہر کے، ایک آدمی دوڑتا ہوا، اس نے کہا: اے میری قوم! پیروی کرو تم رسولوں کی(20) پیروی کرو تم ان کی جو نہیں مانگتے تم سے کوئی صلہ اور وہ ہدایت یافتہ ہیں(21) اور کیا ہے مجھے کہ نہ عبادت کروں میں اس کی جس نے پیدا کیا مجھے؟ اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے(22)کیا بنا لوں میں اس کےسوا معبود (اور)اگر ارادہ کرے رحمٰن (مجھے) تکلیف پہنچانے کا تو نہیں کام آئے گی میرے ان کی شفاعت کچھ بھی اور نہ وہ چھڑا سکیں گے مجھے (23) بے شک میں اس وقت البتہ کھلی گمراہی میں ہوں گا (24) بے شک میں ایمان لایاساتھ تمھارے رب کے، پس سنو تم میری بات (25)کہا گیاتو داخل ہو جا جنت میں، اس نے کہااے کاش! میری قوم جان لے (26)(یہ بات) کہ بخش دیا ہے مجھے میرے رب نے، اور کر دیا اس نے مجھے معزز لوگوں میں سے (27) اور نہیں نازل کی ہم نے اوپر اس کی قوم کے اس کے بعد کوئی فوج آسمان سے اور نہ تھے ہم نازل کرنے والے ہی(28)نہیں تھی وہ(کچھ بھی) مگر ایک (زور کی) آواز ہی، پس(اسی سے) ناگہاں وہ بجھ کر رہ گئے(29) وائے افسوس! (ایسے) بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول، مگر ہوتے وہ اس کے ساتھ استہزا ہی کرتے (30) کیا نہیں دیکھا انھوں نے، کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے امتیں؟ بے شک وہ ان کی طرف نہیں لوٹیں گی (31) اور نہیں ہے کوئی بھی، مگر سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (32)
[13] آپ کی رسالت کی تکذیب کرنے اور آپ کی دعوت کو ٹھکرا دینے والوں کے سامنے آپ یہ مثال بیان کر دیجیے، جس سے یہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اگر یہ غور کریں تو یہ مثال ان کے لیے نصیحت ہو گی۔ یہ ان بستی والوں کی مثال ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا۔ اگر بستی کے تعین میں کوئی فائدہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کا تعین فرما دیتا، لہٰذا بستی کے نام کے تعین کے درپے ہونا تکلف اور بلاعلم کلام کے زمرے میں آتا ہے۔ جو کوئی اس قسم کے معاملے میں بلاعلم گفتگو کرتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی گفتگو بے تکی ہوتی ہے اور وہ اختلاف میں مبتلا ہے جس کو دوام نہیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ علم صحیح کا طریق حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور ان امور میں تعرض کو ترک کرنا ہے جن کا کوئی فائدہ نہیں۔اس طریق سے نفس پاک ہوتا ہے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ جاہل سمجھتا ہے کہ علم میں اضافہ ان اقوال کے بیان کرنے سے ہے جن کی کوئی دلیل نہیں اور ان اقوال کو بیان کرنے سے ذہن کو تشویش میں مبتلا کرنے اور اسے مشکوک امور کا عادی بنانے کے سوا کوئی فائدہ نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو مخاطبین کے لیے مثال قرار دیا۔ ﴿اِذۡ جَآءَهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول آئے۔‘‘ اس بستی میں اللہ تعالیٰ کے رسول مبعوث ہوئے جو انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرنے کا حکم دیتے تھے اور انھیں شرک اور معاصی سے منع کرتے تھے۔
[14]﴿اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمُ اثۡنَيۡنِ فَكَذَّبُوۡهُمَا۠ فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ ﴾ ’’جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا ، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی‘‘ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی ، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوۡۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔‘‘
[15] اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُنَا ﴾ ’’(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔‘‘ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ ﴾(ابرٰہیم:14؍11)’’ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔‘‘﴿وَمَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔‘‘ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا:﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَكۡذِبُوۡنَ ﴾ ’’تم تو جھوٹ بولتے ہو۔‘‘
[16] ان تینوں رسولوں نے جواب دیا : ﴿رَبُّنَا يَعۡلَمُ اِنَّـاۤ اِلَيۡكُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’ہمارا رب جانتا ہے کہ یقینا ہم تمھاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ اور اگر ہم جھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں سرعام رسوا کر دیتا اور ہمیں فوراً سزا دے دیتا۔
[17]﴿وَمَا عَلَيۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِيۡنُ ﴾ ’’اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے۔‘‘ یعنی ایسا پہنچا دینا جس سے ان تمام امور کی توضیح ہو جائے جن کا بیان کرنا مطلوب ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے وہ یا تو معجزات کا یا جلدی عذاب کا مطالبہ ہے، جو ہمارے اختیار میں نہیں۔ ہماری ذمہ داری تو واضح طور پر پہنچا دینا ہے جو ہم نے پوری کر دی ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو کھول کھول کر تمھارے سامنے بیان کر دیا ہے اگر تم نے راہ راست اختیار کر لی تو یہ تمھارا ہی نصیب ہے اور اگر تم گمراہ رہے تو ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔
[18] بستی والوں نے اپنے رسولوں سے کہا: ﴿اِنَّا تَطَيَّرۡنَا بِكُمۡ ﴾ ’’بے شک ہم تم کو منحوس سمجھتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم سمجھتے ہیں کہ تمھارے آنے اور ہمارے پاس پہنچنے سے ہمیں شر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا یہ عجیب ترین بات ہے کہ اس شخص کو جو ان کے پاس جلیل ترین نعمت لے کر آئے... جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نوازتا ہے، ان کو وہ بلند ترین اکرام عطا کرے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے اور وہ سب سے زیادہ اسی چیز کے ضرورت مند ہوں... یہ کہا جائے کہ وہ شر لے کر آیا ہے جس نے ان کے شر میں اضافہ کر دیا اوروہ اس کو نحوست خیال کریں۔ یہ لوگ صرف اور صرف خذلان اور عدم توفیق کی وجہ سے اپنے ساتھی کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ پھر انھوں نے اپنے رسولوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا:﴿لَىِٕنۡ لَّمۡ تَنۡتَهُوۡا لَـنَرۡجُمَنَّـكُمۡ ﴾ ’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمھیں رجم کر دیں گے۔‘‘ یعنی ہم تمھیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے جو ہلاکت کی بدترین شکل ہے ﴿وَلَيَمَسَّنَّـكُمۡ۠ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور تمھیں ہماری طرف سے سخت تکلیف پہنچے گی۔‘‘
[19] ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ﴿قَالُوۡا طَآىِٕرُؔكُمۡ مَّعُكُمۡ﴾ ’’تمھاری فال بد تو تمھارے ساتھ ہے‘‘ اور اس سے مراد ان کا شرک اور برائی ہے جو عذاب کے واقع ہونے اور نعمت کے اٹھا لیے جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿اَىِٕنۡ ذُكِّرۡتُمۡ ﴾ ’’کیا اس لیے کہ تمھیں نصیحت کی گئی؟‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس چیز کی یاد دہانی کرائی جس میں تمھاری بھلائی اور تمھارا فائدہ تھا اور اس کے مقابلے میں تم نے یہ کچھ کہا:﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴾ مگر تم اپنی بات میں حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔‘‘ان کو دعوت دینے سے ان کے تکبر اور نفرت میں اضافے کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوا۔
[20]﴿وَجَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِيۡنَةِ رَجُلٌ يَّسۡعٰى﴾ ’’اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا۔‘‘ یعنی جب اس نے رسولوں کی دعوت سنی تو وہ اپنی قوم کی خیرخواہی کے لیے دوڑتا ہوا آیا اور خود اس دعوت پر ایمان لے آیا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی قوم نے رسولوں کو کیا جواب دیا پس اس نے اپنی قوم سے کہا: ﴿يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾ اس نے اپنی قوم کو رسولوں کی اتباع کا حکم دیا، ان کی خیرخواہی کی اور رسولوں کی رسالت کی شہادت دی۔
[21] پھر اس نے اپنی شہادت اور دعوت کی تائید کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ﴿اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا يَسۡـَٔلُكُمۡ اَجۡرًا﴾ یعنی اس شخص کی اتباع کرو جو تمھاری خیرخواہی کرتا ہے، جو تمھارے لیے بھلائی لاتا ہے۔ وہ تم سے اس خیر خواہی اور راہنمائی پر تمھارے مال کا مطالبہ کرتا ہے نہ کوئی اجر چاہتا ہے اور جس کا یہ وصف ہو وہ قابل اتباع ہوتا ہے۔باقی رہا یہ اعتراض کہ جو کسی اجرت کے بغیر دعوت دیتا ہے، ہو سکتا ہے وہ حق پر نہ ہو، اس لیے اس اعتراض کو رد کرنے کے لیے فرمایا:﴿وَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ صرف اسی چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جس کے اچھا ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے اور صرف اسی چیز سے روکتے ہیں جس کے ’’قبیح‘‘ ہونے پر عقل صحیح گواہی دیتی ہے۔ شاید اس شخص کی قوم نے اس کی نصیحت قبول نہ کی بلکہ الٹا وہ اسے رسولوں کی اتباع اور اخلاص پر ملامت کرنے لگے۔
[25-22] اس شخص نے کہا: ﴿وَمَا لِيَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ یعنی میرے لیے اس ہستی کی عبادت کرنے سے جو عبادت کی مستحق ہے، کون سی چیز مانع ہے کیونکہ اس نے مجھے وجود بخشا، اس نے مجھے پیدا کیا، اس نے مجھے رزق بخشا اور تمام مخلوق کو آخر کار اسی کی طرف لوٹنا ہے ، پھر وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا، جس کے ہاتھ میں تخلیق اور رزق ہے، جو دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور ان ہستیوں کو چھوڑ کر صرف اسی کی ثنا و تمجید کی جائے جن کے اختیار میں کوئی نفع ہے نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم کر سکتی ہیں، جن کی قدرت میں زندگی ہے نہ موت اور نہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکتی ہیں۔اس لیے اس نے کہا:﴿ءَاَتَّؔخِذُ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنۡ يُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّيۡ شَفَاعَتُهُمۡ ﴾’’اور کیا میں اس کو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤ ں، اگر اللہ میرے حق میں نقصان کا ارادہ فرمائیں تو ان کی سفارش مجھے فائدہ نہ دے سکے گی۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کر سکے گا ، لہٰذا ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے اس ضرر سے بچا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ مجھے پہنچانا چاہے۔﴿اِنِّيۡۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک میں اس وقت۔‘‘ یعنی اگر میں نے ان معبودوں کی عبادت کی جن کے یہ اوصاف ہیں تو ﴿لَّفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’صریح گمراہی میں ہوں۔‘‘ ان کے اس تمام کلام میں ان کی خیرخواہی، رسولوں کی رسالت کی گواہی اور رسولوں کی خبر پر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کے تعین کے ذریعے سے ہدایت کو اختیار کرنا جمع ہے، نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے دلائل، غیر اللہ کی عبادت کا بطلان، اس کے دلائل و براہین، غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کی گمراہی کی خبر اور قتل کے خوف کے باوجود اس مرد صالح کے ایمان کے اعلان کا ذکر ہے۔ اس شخص نے کہا:﴿اِنِّيۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّكُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ﴾ ’’میں تمھارے رب پر ایمان لے آیا، لہٰذا میری بات سنو۔‘‘
[26، 27] جب اس کی قوم نے یہ اعلان اور اس کی گفتگو سنی تو اسے قتل کر دیا۔﴿قِيۡلَ ﴾ اس شخص سے اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا گیا: ﴿ادۡخُلِ الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہوجا‘‘ اس نے اپنی توحید پرستی اور اخلاص فی الدین کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاصل ہونے والے اکرام و تکریم کی خبر دیتے ہوئے اور اپنے مرنے کے بعد بھی اسی طرح اپنی قوم کی خیرخواہی کرتے ہوئے، جس طرح وہ اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا، کہا:﴿يٰلَيۡتَ قَوۡمِيۡ يَعۡلَمُوۡنَۙ بِمَا غَفَرَ لِيۡ رَبِّيۡ ﴾ کاش! میری قوم کو معلوم ہو کہ کن امور کی بنا پر میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مختلف انواع کی عقوبات کو مجھ سے دور کر دیا ﴿وَجَعَلَنِيۡ مِنَ الۡمُؔكۡرَمِيۡنَ ﴾ اور مختلف انواع کی مسرتوں اور ثواب کے ذریعے سے مجھے اکرام بخشا۔ اگر ان تمام امور کا علم میری قوم کے دلوں تک پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی اپنے شرک پر قائم نہ رہیں۔
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی قوم کے عذاب کے بارے میں فرمایا: ﴿وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰى قَوۡمِهٖ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اور ہم نے اس کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔‘‘ یعنی ہم ان کو عذاب دینے کے لیے کسی تکلف کے محتاج نہیں کہ ہمیں ان کو ہلاک اور تلف کرنے کے لیے آسمان سے فوج اتارنی پڑے ﴿وَمَا كُنَّا مُنۡزِلِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم اتارنے والے ہی تھے۔‘‘ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اقتدار کی عظمت اور بنی آدم کی شدت ضعف کی بنا پر اللہ تعالیٰ کو آسمان سے فوج اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ادنیٰ سا عذاب بھی ان کے لیے کافی ہے۔
[29]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ یعنی نہیں تھی ان کی سزا اور عذاب ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک چیخ ہی‘‘ یعنی وہ ایک آواز تھی جس کے ذریعے سے بعض فرشتوں نے کلام کیا تھا ﴿فَاِذَا هُمۡ خٰؔمِدُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ اچانک بجھ کر رہ گئے۔‘‘ ان کے دل ان کے سینوں میں پارہ پارہ ہو گئے وہ اس چنگھاڑ کی آواز سے گھبرا اٹھے اور بے جان ہو گئے۔ اس تکبر کے بعد ان کی کوئی آواز تھی نہ ان کے اندر کوئی حرکت تھی۔ اشرف المخلوق کے مقابلے میں ظلم، تکبر، جبر اور ان کے ساتھ بدکلامی کے بعد اب ان میں زندگی کے آثار تک نہ تھے۔
[30] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰحَسۡرَةً عَلَى الۡعِبَادِ١ۣۚ مَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ’’بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس جو بھی رسول آتا یہ اس کے ساتھ مذا ق کرتے تھے۔‘‘ یعنی ان کی بدبختی کتنی بڑی، ان کا عناد کتنا طویل اور ان کی جہالت کتنی شدید ہے کہ وہ ایسی قبیح صفت سے متصف ہیں جو ہر بدبختی، ہر عذاب اور ہر سزا کا سبب ہے۔
[31، 32] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا انھوں نے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قوموں کو دیکھ کر عبرت نہیں پکڑی، جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کر ڈالا ، ان پر عذاب کا کوڑا برسایا اور وہ سب ہلاک اور برباد ہو گئیں ان میں سے کوئی دنیا میں لوٹ کر آیا ہے نہ لوٹ کر آئے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام لوگوں کو نئے سرے سے تخلیق بخشے گا، ان کے مرنے کے بعد انھیں دوبارہ زندہ کرے گا اور پھر انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے جس میں وہ ذرہ بھر ظلم نہ کرے گا۔ ﴿وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا﴾(النساء:4؍40) ’’اگر نیکی ہو گی تو اللہ اس کو کئی گنا کر دے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔‘‘
36:33–36Page 442
وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلۡأَرۡضُ ٱلۡمَيۡتَةُ أَحۡيَيۡنَٰهَا وَأَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبّٗا فَمِنۡهُ يَأۡكُلُونَ ٣٣
And a sign for them is the dead earth. We have brought it to life and brought forth from it grain, and from it they eat.
وَجَعَلۡنَا فِيهَا جَنَّٰتٖ مِّن نَّخِيلٖ وَأَعۡنَٰبٖ وَفَجَّرۡنَا فِيهَا مِنَ ٱلۡعُيُونِ ٣٤
And We placed therein gardens of palm trees and grapevines and caused to burst forth therefrom some springs -
لِيَأۡكُلُواْ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتۡهُ أَيۡدِيهِمۡۚ أَفَلَا يَشۡكُرُونَ ٣٥
That they may eat of His fruit.1 And their hands have not produced it,2 so will they not be grateful?
سُبۡحَٰنَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَزۡوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلۡأَرۡضُ وَمِنۡ أَنفُسِهِمۡ وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُونَ ٣٦
Exalted is He who created all pairs1 - from what the earth grows and from themselves and from that which they do not know.
اور ایک نشانی ہے ان کے لیے زمین مردہ، زندہ کیا ہم نے اسے (بارش سے) اور نکالا ہم نے اس سے (اناج کا) دانہ، پس اسی (دانۂ اناج) سے وہ کھاتے ہیں (33) اور بنائے ہم نے (زمین) میں باغات کھجوروں اور انگوروں کے، اور جاری کیے ہم نے ان (باغوں ) میں چشمے (34) تاکہ کھائیں وہ اس کےپھلوں سے، اور نہیں بنایا اس کو ان کے ہاتھوں نے، کیا پس نہیں وہ شکر کرتے؟ (35) پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے، سب کے ان چیزوں کے (بھی) جن کو اگاتی ہے زمین اور خود ان (انسانوں) کے اپنے بھی اور ان کے (بھی) جنھیں وہ نہیں جانتے (36)
[33]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’ان کے لیے ایک نشانی ہے۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھائے جانے، حشر ونشر، حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونے اور ان اعمال کی جزاوسزا پر دلیل ہے ﴿الۡاَرۡضُ الۡمَيۡتَةُ ﴾ ’’مردہ زمین‘‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے پانی برسایا اور اس کے مردہ ہو جانے کے بعد اسے دوبارہ زندگی عطا کی۔ ﴿وَاَخۡرَجۡنَا مِنۡهَا حَبًّا فَمِنۡهُ يَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی ہم نے اس زمین میں سے ان تمام زرعی اصناف کو اگایا جن کو لوگ خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان اصناف کو بھی جن کو ان کے مویشی کھاتے ہیں۔
[34]﴿وَجَعَلۡنَا فِيۡهَا ﴾ یعنی ہم نے اس مردہ زمین میں اگائے ﴿جَنّٰتٍ ﴾ باغات جن میں بے شمار درخت ہیں، خاص طور پر کھجور اور انگور، جن کے درخت بہترین درخت ہیں۔ ﴿وَّفَجَّرۡنَا فِيۡهَا ﴾ اور ہم نے اس میں جاری کیے یعنی زمین میں ﴿مِنَ الۡعُيُوۡنِ﴾ ’’چشمے‘‘ ہم نے زمین کے اندر یہ درخت، یعنی کھجور اور انگور اگائے۔
[35]﴿لِيَاۡكُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖ﴾ تاکہ یہ انھیں بطور خوراک، پھل، سالن اور لذت استعمال کریں۔ ﴿وَ﴾ حالانکہ ان پھلوں کو ﴿مَا عَمِلَتۡهُ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’ان کے ہاتھوں نے تخلیق نہیں کیا‘‘ ان میں ان کی کوئی صنعت کاری ہے نہ ان کی کسی کاری گری کا عمل دخل یہ تو اللہ، احکم الحاکمین اور خیرالرازقین کی تخلیق کا کمال ہے، نیز ان پھلوں کو ان لوگوں یا کسی اور نے آگ پر نہیں پکایا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پھلوں کو اس طرح وجود بخشا ہے کہ ان کو آگ پر پکائے جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان پھلوں کو درختوں سے توڑ کر اسی وقت اور اسی حال میں کھایا جا سکتا ہے۔ ﴿اَفَلَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ جس ہستی نے ان تک یہ نعمتیں پہنچائی، جس نے اپنے بے پایاں فضل و کرم کی بنا پر ان کو ایسے امور سے نوازا جن میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے۔ تو یہ اس ہستی کا شکر کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ ہستی جس نے زمین کے مرنے کے بعد اسے زندہ کیا، اس میں کھیتیاں اور درخت اگائے، ان میں نہایت لذیذ اقسام کے پھل ودیعت کیے، ان پھلوں کو ان درختوں کی شاخوں پر نمایاں کیا اور خشک زمین پر پانی کے چشمے جاری کیے… مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ کیوں نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
[36]﴿سُبۡحٰؔنَ الَّذِيۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ كُلَّهَا ﴾ ’’پاک ہے وہ ذات جس نے اس (زمین) کی ہر چیز کے جوڑے بنائے۔‘‘ یعنی تمام اصناف کو تخلیق فرمایا ﴿مِمَّا تُنۢۡبِتُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’زمین کی نباتات سے‘‘ اس نے زمین میں ایسی ایسی اصناف تخلیق فرمائیں جن کو شمار کرنا بہت مشکل ہے۔ ﴿وَمِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ یعنی خود ان کو مرد اور عورت کی اصناف میں پیدا کیا، ان کی تخلیق، فطرت اور ان کے اوصاف ظاہرہ و باطنہ میں تفاوت پیدا کیا۔ ﴿وَمِمَّا لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ اور ان مخلوقات کی اصناف کو پیدا کیا جو ہمارے علم کی گرفت سے باہر ہیں اور وہ مخلوقات جو اس کے بعد پیدا ہی نہ کی گئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک، مددگار، معاون، وزیر، بیوی یا کوئی بیٹا ہو، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی صفات کمال اور نعوت جلال میں اس کا ہم سر، مثیل یا کوئی مشابہت کرنے والا ہو یا اسے کوئی اپنے ارادے سے باز رکھ سکے۔
36:37–40Page 442
وَءَايَةٞ لَّهُمُ ٱلَّيۡلُ نَسۡلَخُ مِنۡهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظۡلِمُونَ ٣٧
And a sign for them is the night. We remove1 from it the [light of] day, so they are [left] in darkness.
وَٱلشَّمۡسُ تَجۡرِي لِمُسۡتَقَرّٖ لَّهَاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ٣٨
And the sun runs [on course] toward its stopping point. That is the determination of the Exalted in Might, the Knowing.
وَٱلۡقَمَرَ قَدَّرۡنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلۡعُرۡجُونِ ٱلۡقَدِيمِ ٣٩
And the moon - We have determined for it phases, until it returns [appearing] like the old date stalk.
لَا ٱلشَّمۡسُ يَنۢبَغِي لَهَآ أَن تُدۡرِكَ ٱلۡقَمَرَ وَلَا ٱلَّيۡلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِۚ وَكُلّٞ فِي فَلَكٖ يَسۡبَحُونَ ٤٠
It is not allowable [i.e., possible] for the sun to reach the moon, nor does the night overtake the day, but each, in an orbit, is swimming.
اور ایک نشانی ان کے لیے رات ہے، کھینچ لیتے ہیں ہم اس (رات) سے دن کو، پس یکایک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں (37) اور سورج رواں دواں رہتا ہے اپنے ٹھکانے کے لیے ، یہ اندازہ ہے نہایت غالب خوب جاننے والے کا (38) اور چاند، مقرر کر دی ہیں ہم نے اس کی منزلیں، یہاں تک کہ ہو جاتا ہے وہ(ایسے) جیسے کھجور کے خوشے کی پرانی ٹیڑھی ڈنڈی (39) نہ سورج کو لائق ہے یہ کہ پکڑ لے وہ چاند کو اور نہ رات ہی پہل کرنے والی ہے دن سے، اور ہر ایک (ان میں سے اپنے اپنے) مدار میں تیرتے پھرتے ہیں (40)
[37]﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمُ ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے نفاذ، اس کی قدرت کے کمال، مردوں کو اس کے دوبارہ زندہ کرنے پر ایک دلیل ﴿الَّيۡلُ١ۖ ۚ نَسۡلَخُ مِنۡهُ النَّهَارَ ﴾ ’’رات ہے جس سے ہم دن کو کھینچ دیتے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے اس کی عظیم روشنی کو زائل کر کے، جس نے روئے زمین کو منور کر رکھا تھا، تاریکی سے بدل ڈالا جسے ہم اس کے وقت پر نازل کرتے ہیں۔ ﴿فَاِذَا هُمۡ مُّظۡلِمُوۡنَ﴾ ’’پس وہ اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘
[38] اسی طرح ہم تاریکی کو زائل کرتے ہیں، جس نے ان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ پس ہم سورج کو طلوع کرتے ہیں، جس سے تمام زمین اپنے کناروں تک روشن ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے رزق کی تلاش اور اپنے مصالح کے حصول کے لیے روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَالشَّمۡسُ تَجۡرِيۡ لِمُسۡتَقَرٍّؔ لَّهَا﴾ سورج دائمی طور پر اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر فرمایا ہے وہ اس سے تجاوز کرتا ہے نہ کوتاہی اور نہ وہ اپنے آپ پر تصرف کا اختیار رکھتا ہے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دم مار سکتا ہے۔ ﴿ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ ﴾ ’’یہ غالب ہستی کا اندازہ ہے۔‘‘ جس نے اپنے غلبہ و عزت کی بنا پر اتنی بڑی بڑی مخلوقات کی کامل ترین طریقے سے تدبیر اور بہترین طریقے سے انتظام کیا ﴿الۡعَلِيۡمِ﴾ جس نے اپنے علم کی بنا پر اپنے بندوں کے لیے ان کے دین و دنیا میں مصالح مقرر فرمائے۔
[39]﴿وَالۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰهُ مَنَازِلَ ﴾ ’’اور ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کردیں۔‘‘ وہ ہر رات ایک منزل میں نازل ہوتا اور کم ہوتا رہتا ہے ﴿حَتّٰى ﴾ یہاں تک کہ وہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے اور لوٹ کر ہوجاتا ہے ﴿كَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِيۡمِ ﴾ ’’پرانی ٹہنی کی طرح‘‘ یعنی کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند جو قدامت کی وجہ سے چٹختی ہے، اس کا حجم چھوٹا ہو جاتا ہے اور وہ ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد چاند تھوڑا تھوڑا بڑھتا رہتا ہے حتی کہ اس کی روشنی مکمل ہو جاتی ہے۔
[40]﴿وَ كُلٌّ ﴾ ’’ اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند، رات اور دن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اندازہ مقرر فرما دیا ہے کوئی اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ ہر ایک کے لیے وقت مقرر ہے جب ایک وجود میں آتا ہے تو دوسرا معدوم ہو جاتا ہے، بنا بریں فرمایا:﴿لَا الشَّمۡسُ يَنۢۡبـَغِيۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ ﴾ ’’سورج کی یہ مجال نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے‘‘ یعنی اس کی بادشاہی میں جو کہ رات ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ سورج رات کے وقت موجود ہو۔ ﴿وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ ﴾’’اور رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی‘‘ کہ وہ دن کی بادشاہت ختم ہونے سے پہلے اس میں داخل ہوجائے۔﴿وَكُلٌّ ﴾’’اور ہر ایک‘‘ یعنی سورج، چاند اور ستارے ﴿فِيۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ ﴾ ’’سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر اپنے راستے پر آ جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ خالق کائنات اور اس کے اوصاف کی عظمت کی ناقابل تردید دلیل اور برہان ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی صفت قدرت، حکمت اور اس موضوع کے متعلق علم کے اثبات کی دلیل ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences