As-Saffat 37:21
Those who set the Ranks · Juz 23 · Page 446
هَٰذَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِ ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ٢١
[They will be told], "This is the Day of Judgement which you used to deny."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 37:12–21
بلکہ آپ نے تعجب کیاجبکہ وہ ٹھٹھا کرتے ہیں (12) اور جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں تو نہیں نصیحت قبول کرتے (13) اور جب دیکھتے ہیں وہ کوئی نشانی تو مذاق اڑاتے ہیں (14) اور وہ کہتے ہیں: نہیں ہے یہ مگر جادو صریح (15) کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی اور ہڈیاں تو کیا ہم بے شک البتہ اٹھائے جائیں گے (16)کیا ہمارے پہلے باپ دادے بھی؟ (17) کہہ دیجیے: ہاں ! اور ہو گے تم ذلیل و خوار (18) پس وہ ہو گی ایک زور کی آواز ہی، پھر یکایک وہ (زندہ ہو کر) دیکھتے ہوں گے(19) اور وہ کہیں گے: ہائے افسوس ہمارے لیے ! یہ ہے دن جزا کا (20) یہی ہے دن فیصلے کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے (21)
[12]﴿بَلۡ عَجِبۡتَ ﴾ اے رسول! یا اے انسان! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو جھٹلاتے ہیں حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کر چکے ہیں۔ حیات بعدالموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ وہ ﴿يَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تمسخر اڑاتے ہیں‘‘ اس شخص کا جو حیات بعدالموت کی خبر لایا ہے۔ انھوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔
[13]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ ﴿اِذَا ذُكِّرُوۡا ﴾ ’’جب انھیں (اس چیز) کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے‘‘ جسے وہ اپنی عقل و فطرت میں پہچانتے ہیں اور ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی ہے ﴿لَا يَذۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تو وہ توجہ نہیں کرتے۔‘‘ اگر یہ جہالت ہے تو یہ ان کی کندذہنی کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ ان کو ایک ایسی چیز کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جو ان کی فطرت میں راسخ ہے اور عقل اسے جانتی ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر یہ تجاہل اور عناد کی بنا پر ہے تو یہ عجیب تر ہے۔
[14] نیز یہ بھی تعجب خیز ہے کہ جب ان کے سامنے ایسے دلائل بیان کیے جاتے ہیں اور ایسی نشانیوں کے ذریعے سے یاد دہانی کروائی جاتی ہے جن کے سامنے بڑے بڑے عقل مند لوگوں کی گردنیں جھک جاتی ہیں تو یہ لوگ ان دلائل اور نشانیوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور ان پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔
[15] جب ان کے پاس حق آ گیا تو حق کے بارے میں ان کا یہ قول بھی تعجب خیز ہے ﴿اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ تو محض جادو ہے‘‘ پس انھوں نے اعلیٰ ترین اور جلیل ترین چیز کو خسیس اور حقیر ترین چیز کے مرتبے پر گردانا۔
[16، 17] نیز ان کی یہ بات بھی نہایت تعجب خیز ہے کہ انھوں نے زمین اور آسمانوں کے رب کی قدرت کو ہر لحاظ سے ناقص آدمی کی قدرت پر قیاس کر لیا، چنانچہ حیات بعدالموت کو بعید سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَۙ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیوں کا پنجر بن چکے ہوں گے اس وقت ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟ کیا ہمارے پہلے آباء واجداد کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘
[18] جب ان کی غرض و غایت کی یہ انتہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کو ایسا جواب دیں جو ان کی ترہیب پر مشتمل ہو ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ نَعَمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے ہاں!‘‘ تمھیں اور تمھارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ﴿وَاَنۡتُمۡ دَاخِرُوۡنَ﴾ اور تم اس وقت نہایت ذلیل اور بے بس ہو گے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لیے دشوار ہو گے نہ اس کی نافرمانی کر سکو گے۔
[19]﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ایک زور کی آواز ہوگی۔‘‘ یعنی اسرافیل صور پھونکے گا ﴿فَاِذَا هُمۡ ﴾ ’’تو یکایک وہ‘‘ اپنی قبروں سے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے ﴿يَنۡظُرُوۡنَ ﴾ ’’اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے‘‘ جس طرح ابتدا میں تخلیق کیا گیا تھا، اسی طرح ان کو ان کے تمام اجزاء سمیت، ننگے پاؤ ں، عریاں اور غیر مختون کھڑا کیا جائے گا۔
[20] اس حالت میں وہ سخت ندامت کا اظہار کریں گے، انھیں سخت رسوائی اور خسارے کا سامنا ہو گا۔اس وقت وہ اپنی ہلاکت اور موت کو پکاریں گے۔ ﴿وَقَالُوۡا يٰوَيۡلَنَا هٰؔذَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور کہیں گے، ہائے افسوس یہی جزا کا دن ہے۔‘‘ یعنی یہ اعمال کی جزا کے لیے یوم حساب ہے۔ وہ ان تمام چیزوں کا اقرار کریں گے جن کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔
[21] ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ ﴾ یعنی یہ رب اور بندے کے درمیان ان کے حقوق کے بارے میں اور بندوں کے درمیان ان کے آپس کے حقوق کے بارے میں فیصلے کا دن ہے۔
Page 446
سورة الصافات
As-Saffat
Those who set the Ranks · Meccan · 182 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
37:1
وَٱلصَّٰٓفَّٰتِ صَفّٗا ١
By those [angels] lined up in rows
37:2
فَٱلزَّٰجِرَٰتِ زَجۡرٗا ٢
And those who drive [the clouds]
37:3
فَٱلتَّٰلِيَٰتِ ذِكۡرًا ٣
And those who recite the message,1
1 translator’s note
- To the prophets or among themselves. Allāh (subḥānahu wa taʿālā) swears by these three kinds of angels to the fact mentioned in the following verse. ↩
37:4
إِنَّ إِلَٰهَكُمۡ لَوَٰحِدٞ ٤
Indeed, your God is One,
37:5
رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَرَبُّ ٱلۡمَشَٰرِقِ ٥
Lord of the heavens and the earth and that between them and Lord of the sunrises.1
1 translator’s note
- i.e., each point or place of sunrise. ↩
37:6
إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِزِينَةٍ ٱلۡكَوَاكِبِ ٦
Indeed, We have adorned the nearest heaven with an adornment of stars
37:7
وَحِفۡظٗا مِّن كُلِّ شَيۡطَٰنٖ مَّارِدٖ ٧
And as protection against every rebellious devil
37:8
لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى ٱلۡمَلَإِ ٱلۡأَعۡلَىٰ وَيُقۡذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٖ ٨
[So] they may not listen to the exalted assembly [of angels] and are pelted from every side,1
1 translator’s note
- By flaming meteors. ↩
37:9
دُحُورٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ وَاصِبٌ ٩
Repelled; and for them is a constant punishment,
37:10
إِلَّا مَنۡ خَطِفَ ٱلۡخَطۡفَةَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ ثَاقِبٞ ١٠
Except one who snatches [some words] by theft, but they are pursued by a burning flame, piercing [in brightness].
37:11
فَٱسۡتَفۡتِهِمۡ أَهُمۡ أَشَدُّ خَلۡقًا أَم مَّنۡ خَلَقۡنَآۚ إِنَّا خَلَقۡنَٰهُم مِّن طِينٖ لَّازِبِۭ ١١
Then inquire of them, [O Muḥammad], "Are they a stronger [or more difficult] creation or those [others] We have created?" Indeed, We created them [i.e., men] from sticky clay.
37:12
بَلۡ عَجِبۡتَ وَيَسۡخَرُونَ ١٢
But you wonder, while they mock,
37:13
وَإِذَا ذُكِّرُواْ لَا يَذۡكُرُونَ ١٣
And when they are reminded, they remember not.
37:14
وَإِذَا رَأَوۡاْ ءَايَةٗ يَسۡتَسۡخِرُونَ ١٤
And when they see a sign, they ridicule.
37:15
وَقَالُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٌ ١٥
And say, "This is not but obvious magic.
37:16
أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ ١٦
When we have died and become dust and bones, are we indeed to be resurrected?
37:17
أَوَءَابَآؤُنَا ٱلۡأَوَّلُونَ ١٧
And our forefathers [as well]?"
37:18
قُلۡ نَعَمۡ وَأَنتُمۡ دَٰخِرُونَ ١٨
Say, "Yes, and you will be [rendered] contemptible."
37:19
فَإِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٞ وَٰحِدَةٞ فَإِذَا هُمۡ يَنظُرُونَ ١٩
It will be only one shout, and at once they will be observing.
37:20
وَقَالُواْ يَٰوَيۡلَنَا هَٰذَا يَوۡمُ ٱلدِّينِ ٢٠
They will say, "O woe to us! This is the Day of Recompense."
37:21
هَٰذَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِ ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ٢١
[They will be told], "This is the Day of Judgement which you used to deny."
37:22
۞ ٱحۡشُرُواْ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ وَأَزۡوَٰجَهُمۡ وَمَا كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٢٢
[The angels will be ordered], "Gather those who committed wrong, their kinds,1 and what they used to worship
1 translator’s note
- Those similar to them in evil deeds. Another possible meaning is "their wives." ↩
37:23
مِن دُونِ ٱللَّهِ فَٱهۡدُوهُمۡ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡجَحِيمِ ٢٣
Other than Allāh, and guide them to the path of Hellfire
37:24
وَقِفُوهُمۡۖ إِنَّهُم مَّسۡـُٔولُونَ ٢٤
And stop them; indeed, they are to be questioned."