As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
الصافات
As-Saffat
Those who set the Ranks · Meccan · 182 ayahs
37:1–11Page 446
وَٱلصَّٰٓفَّٰتِ صَفّٗا ١
By those [angels] lined up in rows
فَٱلزَّٰجِرَٰتِ زَجۡرٗا ٢
And those who drive [the clouds]
فَٱلتَّٰلِيَٰتِ ذِكۡرًا ٣
And those who recite the message,1
إِنَّ إِلَٰهَكُمۡ لَوَٰحِدٞ ٤
Indeed, your God is One,
رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَرَبُّ ٱلۡمَشَٰرِقِ ٥
Lord of the heavens and the earth and that between them and Lord of the sunrises.1
إِنَّا زَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِزِينَةٍ ٱلۡكَوَاكِبِ ٦
Indeed, We have adorned the nearest heaven with an adornment of stars
وَحِفۡظٗا مِّن كُلِّ شَيۡطَٰنٖ مَّارِدٖ ٧
And as protection against every rebellious devil
لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى ٱلۡمَلَإِ ٱلۡأَعۡلَىٰ وَيُقۡذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٖ ٨
[So] they may not listen to the exalted assembly [of angels] and are pelted from every side,1
دُحُورٗاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٞ وَاصِبٌ ٩
Repelled; and for them is a constant punishment,
إِلَّا مَنۡ خَطِفَ ٱلۡخَطۡفَةَ فَأَتۡبَعَهُۥ شِهَابٞ ثَاقِبٞ ١٠
Except one who snatches [some words] by theft, but they are pursued by a burning flame, piercing [in brightness].
فَٱسۡتَفۡتِهِمۡ أَهُمۡ أَشَدُّ خَلۡقًا أَم مَّنۡ خَلَقۡنَآۚ إِنَّا خَلَقۡنَٰهُم مِّن طِينٖ لَّازِبِۭ ١١
Then inquire of them, [O Muḥammad], "Are they a stronger [or more difficult] creation or those [others] We have created?" Indeed, We created them [i.e., men] from sticky clay.
قسم ہے صف بنانےوالے (فرشتوں) کی قطار باندھ کر(1) پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر(2) پھر قرآ ن پڑ ھنے والوں کی (3)بلاشبہ تمھارا معبود البتہ ایک ہے (4)(وہی ہے) رب آسمانوں ا ور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے اور رب (تمام) مشرقوں کا (5) بے شک ہم نے زینت دی آسمانِ دنیا کو ایک آرائش ( یعنی ) ستاروں سے(6) اور حفاظت کے لیے ہر شیطان سرکش سے(7)(تاکہ) نہ سن پائیں وہ (باتیں ) عالم بالا کی اور پھینکے جاتے ہیں (شہاب ان پر) ہر جانب سے (8)(ان کو) بھگانے کے لیے، اور ان کے لیے عذاب ہے ہمیشہ رہنے والا (9) مگر جو اچک لے (شیطان) جھٹ تو پیچھے لگتا ہے اس کے ستارہ چمکتا ہوا (10) پس پوچھیے ان سے، کیا وہ زیادہ سخت ہیں پیدائش میں یا وہ جن کو پیدا کیا ہم نے؟ بے شک پیدا کیا ہم نے ان (انسانوں) کو چپکتی مٹی سے (11)
[4-1] یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادات میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنات کی تدبیر میں مصروف ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿وَالصّٰؔٓفّٰتِ صَفًّا﴾ ’’قسم ہے صف باندھنے والوں کی‘‘ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں۔ ﴿فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا﴾ ’’ پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر۔‘‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈانٹتے ہیں۔ ﴿فَالتّٰلِيٰؔتِ ذِكۡرًا﴾ ’’ پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔‘‘ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے ہیں اور ایک لمحہ کے لیے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت پر ان کی قسم کھائی ہے۔ ﴿اِنَّ اِلٰهَكُمۡ لَوَاحِدٌ﴾ ’’یقینا تم سب کا معبودایک ہی ہے۔‘‘ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ،اس لیے خالص اسی سے محبت کرو، صرف اسی سے ڈرو، صرف اسی کو اپنی امیدوں کا محور بناؤ اور عبادات کی تمام اقسام صرف اسی کے لیے مختص کرو۔
[5]﴿رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَرَبُّ الۡمَشَارِقِ﴾ ’’جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا مالک ہے اور سورج کے طلوع ہونے کے مقامات کا بھی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان مخلوقات کا خالق، رازق اور ان کی تدبیر کرنے والا ہے۔ پس جس طرح کوئی ہستی اس کی ربوبیت میں شریک نہیں، اسی طرح اس کی الوہیت میں بھی شریک نہیں۔ اکثر اوقات اللہ تعالیٰ نے توحید الوہیت کو توحید ربوبیت کے ساتھ مقرون بیان فرمایا ہے کیونکہ توحید ربوبیت توحید الوہیت پر دلالت کرتی ہے۔ مشرکین بھی توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں ،اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ اسی چیز ہی کو دلیل بناتا ہے جس کا وہ خود اقرار کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مشرق کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ مغرب پر دلالت کرتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام ستارے مشرق سے طلوع ہوتے ہیں جیسا کہ اس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔اس لیے فرمایا:
[9-6]﴿اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِزِيۡنَةِنِ الۡكَوَاكِبِۙ۰۰ وَحِفۡظًا مِّنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ مَّارِدٍۚ ۰۰ لَا يَسَّمَّعُوۡنَ اِلَى الۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰى ﴾’’ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنا دیا ۔وہ عالم بالا کے فرشتوں کی باتیں سن ہی نہیں سکتے۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دو عظیم فائدوں کے لیے ستاروں کا ذکر فرمایا ہے۔(۱)آسمان کی زینت کے لیے۔ اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان میں کوئی روشنی نہ ہوتی اور آسمان میں تاریکی چھائی رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ستاروں سے مزین کیا تاکہ وہ اپنے کناروں تک منور رہے اور وہ خوبصورت دکھائی دے اور بحروبر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے سے راستہ تلاش کیا جائے، نیز اس سے دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔(۲) تمام سرکش شیاطین سے حفاظت کے لیے۔ جو اپنی سرکشی کی بنا پر مَلَأِاَعْلٰی کی سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ (مَلَأِاَعْلٰی) سے مراد اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔جب وہ مقرب فرشتوں سے سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو شہاب ثاقب مارے جاتے ہیں۔ ﴿مِنۡ كُلِّ جَانِبٍ﴾ یعنی ہر جانب سے انھیں دھتکارا جاتا ہے اور مقرب فرشتوں کی باتیں سننے سے ان کو دور رکھا جاتا ہے۔ ﴿وَّلَهُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ﴾ اور اپنے رب کی اطاعت سے سرکشی کی بنا پر ان کے لیے دائمی عذاب تیار کیا گیا ہے۔
[10] اگر اللہ تعالیٰ نے استثنا نہ کیا ہوتا تو یہ آیت اس بات کی دلیل تھی کہ وہ کچھ بھی سن گن لینے پر قادر نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَةَ ﴾ یعنی سوائے ان سرکش شیاطین کے، جو کوئی ایک آدھ بات سن لینے اور چوری کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ﴿فَاَتۡبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ﴾ تو اپنے اولیاء تک پہنچنے سے پہلے پہلے شہاب ثاقب انھیں جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر منقطع ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی شہاب ثاقب کے پہنچنے سے قبل اپنے اولیاء کو خبر جا پہنچاتا ہے وہ اس میں سو جھوٹ اپنی طرف سے شامل کرتے ہیں اور اس ایک بات کے سبب جو انھوں نے آسمان سے سنی تھی، اس جھوٹ کو رائج کرتے ہیں۔
[11] اللہ تعالیٰ نے ان عظیم مخلوقات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿فَاسۡتَفۡتِهِمۡ ﴾ اپنے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرنے والوں سے پوچھیے۔ ﴿اَهُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا ﴾ ’’کیا ان کا پیدا کرنا مشکل ہے۔‘‘ یعنی ان کی موت کے بعد دوبارہ انھیں زندہ کرنا مشکل اور مشقت والا ہے ﴿اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَا ﴾ یا ان مخلوقات کو وجود میں لانا مشکل ہے جن کو ہم نے تخلیق کیا۔انھیں اقرار کرنا پڑے گا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، لوگوں کی تخلیق سے زیادہ مشکل ہے۔ تب ان پر حیات بعدالموت کا اقرار لازم آئے گا بلکہ اگر وہ اپنے آپ پر غور کریں تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ چکنی مٹی سے ان کی تخلیق کی ابتدا، موت کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّا خَلَقۡنٰهُمۡ مِّنۡ طِيۡنٍ لَّازِبٍ ﴾ ’’ہم نے انھیں چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا۔‘‘ یعنی طاقتور اور سخت مٹی سے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ﴾(الحجر: 15؍26) ’’ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گاڑے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔‘‘
37:12–21Page 446
بَلۡ عَجِبۡتَ وَيَسۡخَرُونَ ١٢
But you wonder, while they mock,
وَإِذَا ذُكِّرُواْ لَا يَذۡكُرُونَ ١٣
And when they are reminded, they remember not.
وَإِذَا رَأَوۡاْ ءَايَةٗ يَسۡتَسۡخِرُونَ ١٤
And when they see a sign, they ridicule.
وَقَالُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٌ ١٥
And say, "This is not but obvious magic.
أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ ١٦
When we have died and become dust and bones, are we indeed to be resurrected?
أَوَءَابَآؤُنَا ٱلۡأَوَّلُونَ ١٧
And our forefathers [as well]?"
قُلۡ نَعَمۡ وَأَنتُمۡ دَٰخِرُونَ ١٨
Say, "Yes, and you will be [rendered] contemptible."
فَإِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٞ وَٰحِدَةٞ فَإِذَا هُمۡ يَنظُرُونَ ١٩
It will be only one shout, and at once they will be observing.
وَقَالُواْ يَٰوَيۡلَنَا هَٰذَا يَوۡمُ ٱلدِّينِ ٢٠
They will say, "O woe to us! This is the Day of Recompense."
هَٰذَا يَوۡمُ ٱلۡفَصۡلِ ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ٢١
[They will be told], "This is the Day of Judgement which you used to deny."
بلکہ آپ نے تعجب کیاجبکہ وہ ٹھٹھا کرتے ہیں (12) اور جب وہ نصیحت کیے جاتے ہیں تو نہیں نصیحت قبول کرتے (13) اور جب دیکھتے ہیں وہ کوئی نشانی تو مذاق اڑاتے ہیں (14) اور وہ کہتے ہیں: نہیں ہے یہ مگر جادو صریح (15) کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے مٹی اور ہڈیاں تو کیا ہم بے شک البتہ اٹھائے جائیں گے (16)کیا ہمارے پہلے باپ دادے بھی؟ (17) کہہ دیجیے: ہاں ! اور ہو گے تم ذلیل و خوار (18) پس وہ ہو گی ایک زور کی آواز ہی، پھر یکایک وہ (زندہ ہو کر) دیکھتے ہوں گے(19) اور وہ کہیں گے: ہائے افسوس ہمارے لیے ! یہ ہے دن جزا کا (20) یہی ہے دن فیصلے کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے (21)
[12]﴿بَلۡ عَجِبۡتَ ﴾ اے رسول! یا اے انسان! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو جھٹلاتے ہیں حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کر چکے ہیں۔ حیات بعدالموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ وہ ﴿يَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تمسخر اڑاتے ہیں‘‘ اس شخص کا جو حیات بعدالموت کی خبر لایا ہے۔ انھوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔
[13]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ ﴿اِذَا ذُكِّرُوۡا ﴾ ’’جب انھیں (اس چیز) کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے‘‘ جسے وہ اپنی عقل و فطرت میں پہچانتے ہیں اور ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی ہے ﴿لَا يَذۡكُرُوۡنَ﴾ ’’تو وہ توجہ نہیں کرتے۔‘‘ اگر یہ جہالت ہے تو یہ ان کی کندذہنی کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ ان کو ایک ایسی چیز کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جو ان کی فطرت میں راسخ ہے اور عقل اسے جانتی ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر یہ تجاہل اور عناد کی بنا پر ہے تو یہ عجیب تر ہے۔
[14] نیز یہ بھی تعجب خیز ہے کہ جب ان کے سامنے ایسے دلائل بیان کیے جاتے ہیں اور ایسی نشانیوں کے ذریعے سے یاد دہانی کروائی جاتی ہے جن کے سامنے بڑے بڑے عقل مند لوگوں کی گردنیں جھک جاتی ہیں تو یہ لوگ ان دلائل اور نشانیوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور ان پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔
[15] جب ان کے پاس حق آ گیا تو حق کے بارے میں ان کا یہ قول بھی تعجب خیز ہے ﴿اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’یہ تو محض جادو ہے‘‘ پس انھوں نے اعلیٰ ترین اور جلیل ترین چیز کو خسیس اور حقیر ترین چیز کے مرتبے پر گردانا۔
[16، 17] نیز ان کی یہ بات بھی نہایت تعجب خیز ہے کہ انھوں نے زمین اور آسمانوں کے رب کی قدرت کو ہر لحاظ سے ناقص آدمی کی قدرت پر قیاس کر لیا، چنانچہ حیات بعدالموت کو بعید سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَۙ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ﴾ ’’کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیوں کا پنجر بن چکے ہوں گے اس وقت ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟ کیا ہمارے پہلے آباء واجداد کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟‘‘
[18] جب ان کی غرض و غایت کی یہ انتہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کو ایسا جواب دیں جو ان کی ترہیب پر مشتمل ہو ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ نَعَمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے ہاں!‘‘ تمھیں اور تمھارے آباء و اجداد کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ﴿وَاَنۡتُمۡ دَاخِرُوۡنَ﴾ اور تم اس وقت نہایت ذلیل اور بے بس ہو گے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لیے دشوار ہو گے نہ اس کی نافرمانی کر سکو گے۔
[19]﴿فَاِنَّمَا هِيَ زَجۡرَةٌ وَّاحِدَةٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ایک زور کی آواز ہوگی۔‘‘ یعنی اسرافیل صور پھونکے گا ﴿فَاِذَا هُمۡ ﴾ ’’تو یکایک وہ‘‘ اپنی قبروں سے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے ﴿يَنۡظُرُوۡنَ ﴾ ’’اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے‘‘ جس طرح ابتدا میں تخلیق کیا گیا تھا، اسی طرح ان کو ان کے تمام اجزاء سمیت، ننگے پاؤ ں، عریاں اور غیر مختون کھڑا کیا جائے گا۔
[20] اس حالت میں وہ سخت ندامت کا اظہار کریں گے، انھیں سخت رسوائی اور خسارے کا سامنا ہو گا۔اس وقت وہ اپنی ہلاکت اور موت کو پکاریں گے۔ ﴿وَقَالُوۡا يٰوَيۡلَنَا هٰؔذَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ ﴾ ’’اور کہیں گے، ہائے افسوس یہی جزا کا دن ہے۔‘‘ یعنی یہ اعمال کی جزا کے لیے یوم حساب ہے۔ وہ ان تمام چیزوں کا اقرار کریں گے جن کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔
[21] ان سے کہا جائے گا: ﴿هٰؔذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ ﴾ یعنی یہ رب اور بندے کے درمیان ان کے حقوق کے بارے میں اور بندوں کے درمیان ان کے آپس کے حقوق کے بارے میں فیصلے کا دن ہے۔
37:22–26Page 446
۞ ٱحۡشُرُواْ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ وَأَزۡوَٰجَهُمۡ وَمَا كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٢٢
[The angels will be ordered], "Gather those who committed wrong, their kinds,1 and what they used to worship
مِن دُونِ ٱللَّهِ فَٱهۡدُوهُمۡ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡجَحِيمِ ٢٣
Other than Allāh, and guide them to the path of Hellfire
وَقِفُوهُمۡۖ إِنَّهُم مَّسۡـُٔولُونَ ٢٤
And stop them; indeed, they are to be questioned."
مَا لَكُمۡ لَا تَنَاصَرُونَ ٢٥
[They will be asked], "What is [wrong] with you? Why do you not help each other?"
بَلۡ هُمُ ٱلۡيَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُونَ ٢٦
But they, that Day, are in surrender.
(اے فرشتو!) اکٹھا کر دو ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا اور ان کے جوڑوں کو اور (ان کو) جن کی تھے وہ عبادت کرتے (22) سوائے اللہ کے پس ہانک لے جاؤ ان کو جہنم کے راستے کی طرف (23) اور (ابھی) ٹھہراؤ ان کو ، بلاشبہ یہ باز پرس کیے جائیں گے (24) کیا ہوا تمھیں، نہیں تم ایک دوسرے کی مدد کرتے؟ (25)بلکہ وہ آج (سب) فرماں بردار ہیں (26)
[22، 23] جب قیامت کے روز وہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر کیے جائیں گے اور اس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس کی وہ تکذیب کیا کرتے اور اس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے، تو ان کو جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جائے گا:﴿اُحۡشُرُوا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’جو لوگ ظلم کرتے تھے انھیں جمع کرو۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر، شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ﴿وَاَزۡوَاجَهُمۡ ﴾ ’’اور ان کے ہم جنسوں کو۔‘‘ یعنی جن کا عمل ان کے عمل کی جنس سے ہے، ہر شخص کو اس شخص کے ساتھ شامل کر دیا جائے گا جو عمل میں اس کا ہم جنس تھا۔ ﴿وَمَا كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’اور جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن بتوں اور خود ساختہ ہمسروں کی عبادت کیا کرتے تھے اور جن کو انھوں نے معبود بنا رکھا تھا، جمع کیا جائے گا۔ کہا جائے گا کہ ان سب کو اکٹھا کرو ﴿فَاهۡدُوۡهُمۡ اِلٰى صِرَاطِ الۡؔجَحِيۡمِ ﴾ اور سختی کے ساتھ ان کو ہانک کر جہنم میں لے جاؤ ۔
[24]﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ جب ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا معاملہ متعین ہو جائے گا اور انھیں بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ جہنم میں جانے والوں میں شامل ہیں تو کہا جائے گا: ﴿قِفُوۡهُمۡ ﴾ ’’ان کو ٹھہراؤ!۔‘‘ یعنی جہنم میں ڈالنے سے پہلے ﴿اِنَّهُمۡ مَّسۡـُٔوۡلُوۡنَ۠﴾ وہ دنیا میں جو افترا پردازی کیا کرتے تھے، اس کے بارے میں ان سے سوال کیا جائے گا تاکہ ان کا جھوٹ اور رسوائی سرعام ظاہر ہو جائے۔
[25] ان سے کہا جائے گا: ﴿مَا لَكُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴾ یعنی آج تمھارے ساتھ کیا ہوا؟ تم پر یہ کیا مصیبت آن پڑی کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر سکتے حالانکہ تم تو دنیا میں اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ تمھارے معبود تم سے عذاب کو دور کر دیں گے، تمھاری مدد کریں گے یا اللہ کے ہاں تمھاری سفارش کریں گے؟
[26] تو گویا وہ اس سوال کا جواب نہیں دیں گے کیونکہ ان پر ذلت اور بے چارگی چھائی ہوئی ہو گی اور وہ اپنے آپ کو جہنم کے عذاب کے حوالے کر رہے ہوں گے، وہ ڈرے ہوئے اور مایوس ہوں گے اور بول نہیں سکیں گے ، اس لیے فرمایا:﴿بَلۡ هُمُ الۡيَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’بلکہ وہ (سب کے سب) آج فرمانبردار بن گئے۔‘‘
37:27–39Page 447
وَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ ٢٧
And they will approach one another asking [i.e., blaming] each other.
قَالُوٓاْ إِنَّكُمۡ كُنتُمۡ تَأۡتُونَنَا عَنِ ٱلۡيَمِينِ ٢٨
They will say, "Indeed, you used to come at us from the right."1
قَالُواْ بَل لَّمۡ تَكُونُواْ مُؤۡمِنِينَ ٢٩
They [i.e., the oppressors] will say, "Rather, you [yourselves] were not believers,
وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيۡكُم مِّن سُلۡطَٰنِۭۖ بَلۡ كُنتُمۡ قَوۡمٗا طَٰغِينَ ٣٠
And we had over you no authority, but you were a transgressing people.
فَحَقَّ عَلَيۡنَا قَوۡلُ رَبِّنَآۖ إِنَّا لَذَآئِقُونَ ٣١
So the word [i.e., decree] of our Lord has come into effect upon us; indeed, we will taste [punishment].
فَأَغۡوَيۡنَٰكُمۡ إِنَّا كُنَّا غَٰوِينَ ٣٢
And we led you to deviation; indeed, we were deviators."
فَإِنَّهُمۡ يَوۡمَئِذٖ فِي ٱلۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُونَ ٣٣
So indeed they, that Day, will be sharing in the punishment.
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفۡعَلُ بِٱلۡمُجۡرِمِينَ ٣٤
Indeed, that is how We deal with the criminals.
إِنَّهُمۡ كَانُوٓاْ إِذَا قِيلَ لَهُمۡ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسۡتَكۡبِرُونَ ٣٥
Indeed they, when it was said to them, "There is no deity but Allāh," were arrogant
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓاْ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٖ مَّجۡنُونِۭ ٣٦
And were saying, "Are we to leave our gods for a mad poet?"
بَلۡ جَآءَ بِٱلۡحَقِّ وَصَدَّقَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٣٧
Rather, he [i.e., the Prophet (ﷺ)] has come with the truth and confirmed the [previous] messengers.
إِنَّكُمۡ لَذَآئِقُواْ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡأَلِيمِ ٣٨
Indeed, you [disbelievers] will be tasters of the painful punishment,
وَمَا تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٣٩
And you will not be recompensed except for what you used to do -
اور متوجہ ہو گا بعض ان کا اوپر بعض کے، ایک دوسرے سے پوچھیں گے (27)کہیں گے: بے شک تم تو تھے آتے ہمارے پاس دائیں طرف سے (28) وہ کہیں گے: بلکہ نہیں تھے تم خود ہی ایمان لانے والے(29) اور نہیں تھا ہمارا تم پرکوئی زور، بلکہ تھے تم ہی لوگ سرکش(30) پس ثابت ہو گئی ہم پر بات ہمارے رب کی، بے شک ہم البتہ چکھنے والے ہیں(عذاب)(31) پس ہم نے گمراہ کیا تمھیں بلا شبہ تھے ہم گمراہ (32) پس بے شک وہ اس دن عذاب میں مشترک ہوں گے (33) بے شک ہم اسی طرح کرتے ہیں مجرموں کے ساتھ (34) بلاشبہ تھے و ہ، جب کہا جاتا ان سے کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے تو وہ تکبر کرتے (35) اور کیا بے شک ہم چھوڑ دیں گے اپنے معبودوں کو بوجہ (کہنے) ایک شاعر دیوانے کے (36)بلکہ وہ تو آیا ہے ساتھ حق کے اور اس نے تصدیق کی(سب) رسولوں کی (37) بے شک تم(اب) البتہ چکھو گے عذاب بہت درد ناک (38) اور نہیں بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر(اسی کا) جو تھے تم عمل کرتے(39)
[27، 28] جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے راستوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤ ساء سے کہیں گے:﴿اِنَّـكُمۡ كُنۡتُمۡ تَاۡتُوۡنَنَا عَنِ الۡيَمِيۡنِ ﴾ ’’تمھی ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔‘‘ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔
[32-29]﴿قَالُوۡا ﴾ سردار اُن کو جواب دیں گے: ﴿بَلۡ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ﴾ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی شرک کرتے رہے۔ تمھیں ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے جو ہمیں ملامت کرنے کی موجب ہو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ حالت یہ ہے کہ ﴿مَا كَانَ لَنَا عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ﴾ ہمیں تم سے کفر کا ارتکاب کرانے کی کوئی قوت اور اختیار حاصل نہ تھا ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ قَوۡمًا طٰغِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم سرکش لوگ تھے‘‘ اور حدود سے تجاوز کرنے والے لوگ تھے۔ ﴿فَحَقَّ عَلَيۡنَا ﴾ ’’پس ہم پر واجب ہو گیا‘‘ یعنی تم پر اور ہم پر ﴿اِنَّا لَذَآىِٕقُوۡنَ ﴾ ’’ یقینا ہم چکھیں گے‘‘ عذاب کا یعنی ہم پر ہمارے رب کی قضاوقدر حق ثابت ہوئی ہم اور تم سب عذاب کا مزا چکھیں گے اور سب مل کر سزا بھگتیں گے۔بنا بریں ﴿فَاَغۡوَيۡنٰكُمۡ۠ اِنَّا كُنَّا غٰوِيۡنَ ﴾ ’’پس ہم نے تم کو گمراہ کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے۔‘‘ یعنی ہم نے تمھیں اس راستے کی طرف بلایا جس پر ہم گامزن تھے، یعنی گمراہی کے راستے کی طرف، تم نے ہماری آواز پر لبیک کہی اس لیے تم ہمیں ملامت کا نشانہ بنانے کی بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔
[33، 34] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِنَّهُمۡ يَوۡمَىِٕذٍ ﴾ ’’پس وہ اس روز‘‘یعنی قیامت کے روز ﴿فِي الۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُوۡنَ ﴾ ’’عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے۔‘‘ اگرچہ جرم کے مطابق، عذاب کی مقدار میں فرق ہوگا۔ وہ جہنم کا عذاب بھگتنے میں اسی طرح شریک ہوں گے جس طرح وہ دنیا میں کفر کرنے میں ایک دوسرے کے شریک تھے۔ ﴿اِنَّا كَذٰلِكَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘
[35، 36] پھر اس بات کاتذکرہ کیا کہ ان کے جرائم تمام حدیں پھلانگ گئے تھے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡۤا اِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ﴾ ’’بے شک یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں‘‘ انھیں اس کلمہ کی طرف بلایا جاتا اور انھیں اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو چھوڑنے کا کہاجاتا تو ﴿يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾وہ اس دعوت اور اس کو پیش کرنے والے کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے۔﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ اور اس کلمۂ حق کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے تھے: ﴿اَىِٕنَّا لَتَارِكُوۡۤا اٰلِهَتِنَا ﴾ ’’کیا ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں‘‘ جن کی ہم اور ہمارے آباء و اجداد عبادت کرتے رہے ہیں ﴿لِشَاعِرٍ مَّجۡنُوۡنٍ﴾ ’’ایک مجنون شاعر کی وجہ سے‘‘ اس سے وہ رسول اللہ ﷺ مراد لیتے تھے... اللہ ان کا برا کرے... انھوں نے صرف آپﷺ سے روگردانی اور مجرد آپ کی تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے آپ پر بدترین حکم لگایا جو سب سے بڑے ظلم پر مبنی ہے۔ انھوں نے آپ کو مجنون شاعر قرار دیا حالانکہ انھیں خوب علم تھا کہ آپ شاعری جانتے ہیں نہ شعراء سے کوئی واسطہ رکھتے ہیں اور نہ ان کی طرح شاعری کے کبھی اوصاف بیان کیے ہیں اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ عظیم رائے کے حامل ہیں۔
[37] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿بَلۡ جَآءَ ﴾ ’’بلکہ وہ آئے‘‘ یعنی حضرت محمدﷺ ﴿بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ۔‘‘ یعنی آپ کی تشریف آوری حق ہے اور جو شریعت اور کتاب آپ لے کر آئے وہ بھی حق ہے۔ ﴿وَصَدَّقَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ اور آپﷺ کی تشریف آوری سے رسولوں کی تصدیق ہوتی ہے اگر آپ تشریف نہ لاتے تو رسولوں کی تصدیق نہ ہوتی۔ پس آپ گزشتہ تمام انبیاء و مرسلین کا معجزہ ہیں کیونکہ تمام انبیاء و مرسلین نے آپ کے آنے کی بشارت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا کہ اگر آپ ان کے زمانے میں مبعوث ہوئے تو وہ ضرور آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی مدد کریں گے اور تمام انبیاء و مرسلین نے اپنی اپنی امتوں سے بھی یہی عہد لیا۔ آپ کے ظہور کے ساتھ گزشتہ انبیاء کی صداقت ظاہر ہو گئی اور ان لوگوں کا کذب واضح ہو گیا جنھوں نے انبیاء کی مخالفت کی تھی۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ آپ تشریف نہیں لائے… درآں حا لیکہ کہ انبیاء و مرسلین آپ کی آمد کی خبر دے چکے ہیں… تو یہ چیز انبیاء کی صداقت میں قادح ہوتی۔ آپ نے اس اعتبار سے بھی انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ہے کہ آپ وہی کچھ لے کر مبعوث ہوئے جس کے ساتھ دیگر انبیاء مبعوث ہوئے، آپ نے بھی اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف دیگر انبیاء دعوت دیتے چلے آئے ہیں۔ آپ ان کی رسالت پر ایمان لائے، ان کی رسالت و نبوت اور ان کی شریعت کی صداقت کی خبر دی۔
[38، 39] چونکہ گزشتہ آیات میں ان کا قول: ﴿ اِنَّا لَذَآىِٕقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک ہم چکھیں گے۔‘‘ گزر چکا ہے اور اس قول میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال موجود ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے فیصلہ کن قول سے آگاہ فرمایا جس میں صدق اور یقین کے سوا کوئی احتمال نہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سچی خبر ہے۔ فرمایا: ﴿اِنَّـكُمۡ لَذَآىِٕقُوا الۡعَذَابِ الۡاَلِيۡمِ﴾’’بے شک تم دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو۔‘‘ یعنی سخت دردناک عذاب۔﴿وَمَا تُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’اور تمھیں جزا نہیں دی گئی۔‘‘ یعنی درد ناک عذاب کا مزا چکھانے میں ﴿اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’مگر اسی کی جو تم کرتے تھے۔‘‘ ہم نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تمھارے ساتھ انصاف کیا ہے۔
چونکہ اس خطاب کے الفاظ عام ہیں اور مراد مشرکین ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا:
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences