As-Saffat 37:70
Those who set the Ranks · Juz 23 · Page 448
فَهُمۡ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمۡ يُهۡرَعُونَ ٧٠
So they hastened [to follow] in their footsteps.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 37:62–74
کیا یہ بہتر ہے مہمانی یا درخت تھوہر کا؟ (62) بلاشبہ بنایا ہم نے اسے فتنہ واسطے ظالموں کے (63) بے شک وہ ایک درخت ہے، جو نکلتا (اگتا) ہے گہرائی میں دوزخ کی (64) اس کا پھل گویا کہ وہ سر ہیں شیطانوں کے (65) پس بلاشبہ وہ البتہ کھائیں گے اس میں سے، پھر بھر لیں گے اس سے (اپنے) پیٹ (66) پھر بے شک ان کے لیے اوپر اس کے البتہ ملونی ہوگی گرم (کھولتے ہوئے) پانی کی (67) پھربے شک لوٹنا ان کا ہوگا البتہ طرف جہنم کی (68) بلاشبہ انھوں نے پایا اپنے باپ دادوں کو گمراہ(69) پس وہ ان کے قدموں کے نشانات پردوڑتے جاتے ہیں (70) اور البتہ تحقیق گمراہ ہوئے ان سے پہلے بہت سے اگلے لوگ (71) اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے ان میں ڈرانے والے (72) پس دیکھو! کیسا ہوا انجام ان کا جن کو ڈرایا گیا (73) سوائے (ان کے جو) بندے ہیں اللہ کے خالص کیے (چنے) ہوئے (74)
[62]﴿اَذٰلِكَ خَيۡرٌ ﴾ اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف؟ کون سا کھانا اچھا ہے؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے ﴿اَمۡ ﴾ ’’یا‘‘ جہنمیوں کا کھانا؟ اور وہ ﴿شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ ۰۰
[66-63] اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ ﴾ ’’زقوم کا درخت ہم نے اس کو ’’فتنہ‘‘ بنارکھا ہے۔‘‘ یعنی عذاب اور سزا ﴿لِّلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’واسطے ظالموں کے۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخۡرُجُ فِيۡۤ اَصۡلِ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’بے شک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔‘‘ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے، پودا اگنے کی بدترین جگہ پودے کی خساست اور اس کے بدترین اوصاف پر دلالت کرتی ہے، بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس جگہ کا ذکر کر کے جہاں یہ پودا اگتا ہے اور اس کے پھل کا وصف بیان کر کے ہمیں اس کی برائی سے آگاہ فرمایا ہے۔ بے شک اس کا پھل ﴿رُءُوۡسُ الشَّيٰطِيۡنِ ﴾ ’’شیطانوں کے سر‘‘ کی مانند ہے۔ پس اس کے ذائقے کے بارے میں مت پوچھ کہ یہ جہنمیوں کے پیٹ میں جا کر کیا ک[ے گا۔ وہ اس سے بچ سکیں گے نہ جان چھڑا سکیں گے، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡهَا فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’پس وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔‘‘ یہ اہل جہنم کا کھانا ہے اور کتنا بدترین کھانا ہے۔
[67] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مشروب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ثُمَّ اِنَّ لَهُمۡ عَلَيۡهَا ﴾ ’’ پھر بلاشبہ ان کے لیے ہوگا اس کے بعد‘‘ یعنی اس بدترین کھانے کے بعد ﴿لَشَوۡبًا مِّنۡ حَمِيۡمٍ﴾ گرم پانی، جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف: 18؍29) ’’اگر وہ پانی طلب کریں گے تو ان کو ایسا پانی پلایا جائے گا جو تلچھٹ جیسا ہو گا جو ان کے منہ کو بھون کر رکھ دے گا یہ بدترین مشروب اور نہایت بری آرام گاہ ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿وَسُقُوۡا مَآءً حَمِيۡمًا فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَهُمۡ﴾(محمد: 47؍15) ’’اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔‘‘
[68]﴿ثُمَّ اِنَّ مَرۡجِعَهُمۡ ﴾ ’’، پھر ان کا لوٹنا‘‘ یعنی ان کی منزل اور ٹھکانا ﴿لَاۡاِلَى الۡجَحِيۡمِ ﴾ ’’جہنم کی طرف ہوگا‘‘ تاکہ وہ اس کے شدید عذاب اور سخت ترین حرارت کا مزا چکھیں جس سے بڑھ کر کوئی بدبختی نہیں۔
[73-69] گویا یہ کہا گیا کہ کس چیز نے ان لوگوں کو جہنم میں پہنچایا؟ تو فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ اَلۡفَوۡا ﴾ یعنی انھوں نے پایا ﴿اٰبَآءَهُمۡ ضَآلِّيۡنَ۰۰ فَهُمۡ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ يُهۡرَعُوۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا، پس وہ ان ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں۔‘‘ یعنی گمراہی میں تیزی سے دوڑے چلے جا رہے تھے۔ انھوں نے اس طرف التفات نہ کیا جس کی طرف انبیاء و مرسلین نے ان کو بلایا، نہ انھوں نے اس چیز کی طرف توجہ کی جس سے کتب الٰہیہ نے ان کو ڈرایا اور نہ انھوں نے خیر خواہی کرنے والوں کی خیرخواہی کو درخوراعتنا سمجھا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے یہ کہتے ہوئے ان کی مخالفت کی:﴿اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍23) ’’بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔‘‘ ﴿وَلَقَدۡ ضَلَّ قَبۡلَهُمۡ ﴾ ’’اوران سے پیشتر بھی گمراہ ہوگئے۔‘‘ یعنی ان مخاطبین سے پہلے ﴿اَكۡثَرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’بہت سے پہلے‘‘ یعنی ان میں سے بہت کم لوگ تھے جو ایمان لائے اور انھوں نے راہ راست اختیار کی۔ ﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ مُّنۡذِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے۔‘‘ جو ان کو ان کی بے راہ روی اور گمراہی پر ڈراتے تھے۔ ﴿فَانۡظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیا ہوا؟‘‘ ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کے سوا کچھ نہ تھا۔اس لیے ان مشرکین کو اپنی گمراہی پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ورنہ انھیں بھی اس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا سامنا ان لوگوں کو کرنا پڑا۔
[74] چونکہ جن لوگوں کو ڈرایا گیا تھا، وہ سب کے سب گمراہ نہ تھے، ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو اہل ایمان تھے، جن کا دین اللہ تعالیٰ کے لیے خالص تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب اور ہلاکت سے مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اللہ کے برگزیدہ بندوں کے‘‘ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص کا حامل بنایا اور ان کو ان کے اخلاص کے سبب سے، اپنی رحمت کے لیے مختص کیا۔ تب ان کا انجام قابل ستائش ہوا،
پھر اللہ تعالیٰ نے، جھٹلانے والی قوموں کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
Page 448
37:52
يَقُولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ ٱلۡمُصَدِّقِينَ ٥٢
Who would say, 'Are you indeed of those who believe
37:53
أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَدِينُونَ ٥٣
That when we have died and become dust and bones, we will indeed be recompensed?'"
37:54
قَالَ هَلۡ أَنتُم مُّطَّلِعُونَ ٥٤
He will say,1 "Would you [care to] look?"
1 translator’s note
- To his companions in Paradise. ↩
37:55
فَٱطَّلَعَ فَرَءَاهُ فِي سَوَآءِ ٱلۡجَحِيمِ ٥٥
And he will look and see him1 in the midst of the Hellfire.
1 translator’s note
- The companion who had tried to dissuade him from belief on earth. ↩
37:56
قَالَ تَٱللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرۡدِينِ ٥٦
He will say, "By Allāh, you almost ruined me.
37:57
وَلَوۡلَا نِعۡمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ ٱلۡمُحۡضَرِينَ ٥٧
If not for the favor of my Lord, I would have been of those brought in [to Hell].
37:58
أَفَمَا نَحۡنُ بِمَيِّتِينَ ٥٨
Then, are we not to die
37:59
إِلَّا مَوۡتَتَنَا ٱلۡأُولَىٰ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ ٥٩
Except for our first death, and we will not be punished?"
37:60
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ٦٠
Indeed, this is the great attainment.
37:61
لِمِثۡلِ هَٰذَا فَلۡيَعۡمَلِ ٱلۡعَٰمِلُونَ ٦١
For the like of this let the workers [on earth] work.
37:62
أَذَٰلِكَ خَيۡرٞ نُّزُلًا أَمۡ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ ٦٢
Is that [i.e., Paradise] a better accommodation or the tree of zaqqūm?
37:63
إِنَّا جَعَلۡنَٰهَا فِتۡنَةٗ لِّلظَّٰلِمِينَ ٦٣
Indeed, We have made it a torment for the wrongdoers.
37:64
إِنَّهَا شَجَرَةٞ تَخۡرُجُ فِيٓ أَصۡلِ ٱلۡجَحِيمِ ٦٤
Indeed, it is a tree issuing from the bottom of the Hellfire,
37:65
طَلۡعُهَا كَأَنَّهُۥ رُءُوسُ ٱلشَّيَٰطِينِ ٦٥
Its emerging fruit as if it was heads of the devils.
37:66
فَإِنَّهُمۡ لَأٓكِلُونَ مِنۡهَا فَمَالِـُٔونَ مِنۡهَا ٱلۡبُطُونَ ٦٦
And indeed, they will eat from it and fill with it their bellies.
37:67
ثُمَّ إِنَّ لَهُمۡ عَلَيۡهَا لَشَوۡبٗا مِّنۡ حَمِيمٖ ٦٧
Then indeed, they will have after it a mixture of scalding water.
37:68
ثُمَّ إِنَّ مَرۡجِعَهُمۡ لَإِلَى ٱلۡجَحِيمِ ٦٨
Then indeed, their return will be to the Hellfire.
37:69
إِنَّهُمۡ أَلۡفَوۡاْ ءَابَآءَهُمۡ ضَآلِّينَ ٦٩
Indeed they found their fathers astray.
37:70
فَهُمۡ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمۡ يُهۡرَعُونَ ٧٠
So they hastened [to follow] in their footsteps.
37:71
وَلَقَدۡ ضَلَّ قَبۡلَهُمۡ أَكۡثَرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٧١
And there had already strayed before them most of the former peoples,
37:72
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا فِيهِم مُّنذِرِينَ ٧٢
And We had already sent among them warners.
37:73
فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُنذَرِينَ ٧٣
Then look how was the end of those who were warned -
37:74
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٧٤
But not the chosen servants of Allāh.
37:75
وَلَقَدۡ نَادَىٰنَا نُوحٞ فَلَنِعۡمَ ٱلۡمُجِيبُونَ ٧٥
And Noah had certainly called Us, and [We are] the best of responders.
37:76
وَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ ٧٦
And We saved him and his family from the great affliction.