As-Sa'diAs‑Saffat · 37:40–82

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

As-Saffat 37:40–82

37:40–49Page 447

إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٤٠

But not the chosen servants of Allāh.

أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ رِزۡقٞ مَّعۡلُومٞ ٤١

Those will have a provision determined -

فَوَٰكِهُ وَهُم مُّكۡرَمُونَ ٤٢

Fruits;1 and they will be honored

فِي جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٤٣

In gardens of pleasure

عَلَىٰ سُرُرٖ مُّتَقَٰبِلِينَ ٤٤

On thrones facing one another.

يُطَافُ عَلَيۡهِم بِكَأۡسٖ مِّن مَّعِينِۭ ٤٥

There will be circulated among them a cup [of wine] from a flowing spring,

بَيۡضَآءَ لَذَّةٖ لِّلشَّٰرِبِينَ ٤٦

White and delicious to the drinkers;

لَا فِيهَا غَوۡلٞ وَلَا هُمۡ عَنۡهَا يُنزَفُونَ ٤٧

No bad effect is there in it, nor from it will they be intoxicated.

وَعِندَهُمۡ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرۡفِ عِينٞ ٤٨

And with them will be women limiting [their] glances,1 with large, [beautiful] eyes,

كَأَنَّهُنَّ بَيۡضٞ مَّكۡنُونٞ ٤٩

As if they were [delicate] eggs, well-protected.

سوائے اللہ کے بندوں کے جو چنے ہوئے ہیں(40) یہی لوگ ہیں ان کے لیے ہے رزق معلوم (41) میوے (جنت کے) اور وہ معزز ہوں گے (42) باغوں میں نعمت کے (43) اوپر تختوں کے ایک دوسرے کے سامنے (44) پھرایا جائے گا ان پر (شراب کا) بھرا جام جاری چشمے سے (45) سفید لذت(والی) پینے والوں کے لیے (46) نہ ہوگا اس میں(اس سے) سر کا چکرانا اور نہ وہ اس سے مدہوش ہوں گے (47) اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہ رکھنے والیاں بڑی آنکھوں والیاں (48) گویا کہ وہ (شتر مرغ کے) انڈے ہیں پردے میں چھپا کر رکھے ہوئے(49)

[40]﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’مگر اللہ تعالیٰ کے خالص برگزیدہ بندے‘‘ بے شک وہ دردناک عذاب کا مزا نہیں چکھیں گے کیونکہ انھوں نے اپنے اعمال کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو اپنے لیے خالص کر لیا، ان کو اپنی رحمت کے لیے مختص کیا اور انھیں اپنے لطف و کرم سے نوازا۔

[41، 42]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن کے لیے رزقِ معلوم ہے۔‘‘ یعنی یہ غیر مجہول رزق ہو گا یہ رزق بہت عظیم اور جلیل القدر ہو گا، جس کے معاملے سے جاہل رہا جا سکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچا جا سکتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿فَوَاكِهُ ﴾ یعنی تمام اقسام کے پھل ہوں گے، جن سے نفس لذت حاصل کریں گے، جو اپنے رنگ اور ذائقے میں نہایت مزے دار ہوں گے۔ ﴿وَهُمۡ مُّكۡرَمُوۡنَ﴾ یعنی ان کی اہانت کی جائے گی نہ ان سے حقارت سے پیش آیا جائے گا بلکہ ان کی عزت، تعظیم اور توقیر کی جائے گی۔ وہ ایک دوسرے کی تکریم کریں گے، مکرم فرشتے ان کی تکریم کریں گے، وہ جنت کے ہر دروازے سے داخل ہوں گے اور بہترین ثواب کے ذریعے سے ان کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ سب سے معزز اور باوقار ہستی انھیں اکرام بخشے گی اور انھیں انواع و اقسام کی تکریم سے نوازے گی جس میں قلب و روح اور بدن کے لیے نعمت ہوگی۔

[43]﴿فِيۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’نعمت کے باغوں میں‘‘ یعنی وہ جنتیں جو نعمت اور سرور سے متصف ہیں کیونکہ ان جنتوں میں ایسی ایسی نعمتیں جمع ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں ان کا گزر ہوا ہے۔ وہ خلل انداز ہونے والے ہر قسم کے تکدر سے سلامت ہوں گے۔

[44] ان کے رب کے ہاں ان کی سب سے بڑی تکریم یہ ہو گی کہ وہ ایک دوسرے کا اکرام کریں گے۔ بے شک وہ ﴿سُرُرٍ ﴾ ’’تختوں‘‘ پر ہونگے۔ یہ بلند بیٹھنے کی جگہیں ہوں گی جو خوبصورت اور منقش کپڑوں سے آراستہ کی گئی ہوں گی، اہل ایمان راحت، اطمینان اور فرحت کے ساتھ وہاں تکیے لگا کر بیٹھیں گے ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ ﴾ ’’ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔‘‘ ان کے دل ہر قسم کی کدورت سے پاک ہوں گے، ان کی آپس کی محبت پاک ہو گی اور وہ اس اجتماع پر آپس میں خوش ہوں گے کیونکہ چہروں کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا، دلوں کے ایک دوسرے کے سامنے ہونے اور ایک دوسرے کا ادب کرنے پر دلالت کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیریں گے نہ پہلوتہی کریں گے بلکہ وہاں کامل ادب اور سرور ہو گا جس پر چہروں کا ایک دوسرے کے سامنے ہونا دلالت کرتا ہے۔

[47-45]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِكَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِيۡنٍ﴾ چاق چوبند اور مستعد لڑکے ان کی خدمت میں خوبصورت جاموں میں مشک کے ساتھ مہرشدہ لذیذ مشروبات لیے آ جا رہے ہوں گے، یہ جام، شراب کے جام ہوں گے۔ یہ شراب ہر لحاظ سے دنیا کی شراب سے مختلف ہوگی۔ اس کا رنگ ﴿بَيۡضَآءَ ﴾ ’’سفید‘‘ اور بہترین رنگ ہوگا اس کے ذائقے میں ﴿لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ﴾ ’’پینے والوں کے لیے لذت ہو گی۔‘‘ اہل جنت پیتے وقت اور پینے کے بعد لذت محسوس کریں گے۔ یہ شراب ہر قسم کے برے اثرات سے پاک ہوگی۔ اس سے ان کی عقل خراب ہو گی نہ مال خراب ہو گا اور اس سے سر چکرائے گا نہ طبیعت مکدر ہو گی۔

[49,48] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل جنت کے مطعومات و مشروبات، ان کی مجالس، دیگر عام نعمتوں اور ان کی تفاصیل کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ کے عموم کے تحت آتی ہیں۔ ان کی تفصیل اس لیے بیان فرمائی تاکہ نفوس کو ان کا علم حاصل ہو اور ان کے اندر ان نعمتوں کا اشتیاق پیدا ہو۔ اس کے بعد ان کی بیویوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِيۡنٌ﴾’’اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نیچی نگاہوں والی اور موٹی آنکھوں والی ہوں گی۔‘‘ یعنی اہل جنت کے پاس ان کے قریبی محلات میں خوبصورت حوریں ہوں گی، جو کامل اوصاف کی حامل اور نظریں جھکائے ہوئے ہوں گی۔ بیویاں یا تو اپنی عفت اور اپنے شوہر کے حسن و جمال اور اس کے کمال کی وجہ سے کسی اور طرف نہ دیکھیں گی... اس لیے کہ جنت میں ان کے شوہر کے سوا ان کا کوئی اور مطلوب نہ ہو گا اور نہ کسی اور میں رغبت رکھیں گی... یا ان کے شوہروں کی نگاہیں صرف انھی پر مرتکز ہوں گی یہ چیز ان کے کامل اور بے انتہا حسن وجمال پر دلالت کرتی ہے جو اس بات کی موجب ہیں کہ ان کے شوہروں کی نگاہیں انھی پر مرتکز رہیں، نیز نگاہوں کا ان پر مرکوز ہونا، نفس کے صرف انھی پر اقتصار کرنے اور ان کے ساتھ محبت پر دلالت کرتا ہے۔ آیت کریمہ میں ان دو معنوں کا احتمال ہے اور دونوں معنی صحیح ہیں۔ دونوں معنی جنت میں مردوں اور عورتوں کے حسن و جمال اور ان کی ایسی باہمی محبت پر دلالت کرتے ہیں جس میں غیر کی محبت کا شائبہ نہیں ہوتا۔ یہ اہل جنت کی عفت کی دلیل ہے، نیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اہل جنت میں باہمی بغض اور حسد نہیں ہو گا کیونکہ اس کے تمام اسباب ختم کر دیے جائیں گے۔﴿عِيۡنٌ ﴾ یعنی وہ خوبصورت آنکھوں اور خوبصورت نگاہوں والی ہوں گی۔ ﴿كَاَنَّهُنَّ ﴾ ’’گویا کہ وہ‘‘یعنی حوریں ﴿بَيۡضٌ مَّكۡنُوۡنٌ ﴾ ’’چھپایا ہوا انڈہ ہیں‘‘ یہ تشبیہ ان کے حسن، ان کے رنگ کی بے انتہا خوبصورتی اور اس کی تازگی کی بنا پر دی گئی ہے، اس میں کسی قسم کی کدورت اور میلاپن نہ ہو گا۔

37:50–61Page 447

فَأَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖ يَتَسَآءَلُونَ ٥٠

And they will approach one another, inquiring of each other.

قَالَ قَآئِلٞ مِّنۡهُمۡ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٞ ٥١

A speaker among them will say, "Indeed, I had a companion [on earth].

يَقُولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ ٱلۡمُصَدِّقِينَ ٥٢

Who would say, 'Are you indeed of those who believe

أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَدِينُونَ ٥٣

That when we have died and become dust and bones, we will indeed be recompensed?'"

قَالَ هَلۡ أَنتُم مُّطَّلِعُونَ ٥٤

He will say,1 "Would you [care to] look?"

فَٱطَّلَعَ فَرَءَاهُ فِي سَوَآءِ ٱلۡجَحِيمِ ٥٥

And he will look and see him1 in the midst of the Hellfire.

قَالَ تَٱللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرۡدِينِ ٥٦

He will say, "By Allāh, you almost ruined me.

وَلَوۡلَا نِعۡمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ ٱلۡمُحۡضَرِينَ ٥٧

If not for the favor of my Lord, I would have been of those brought in [to Hell].

أَفَمَا نَحۡنُ بِمَيِّتِينَ ٥٨

Then, are we not to die

إِلَّا مَوۡتَتَنَا ٱلۡأُولَىٰ وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ ٥٩

Except for our first death, and we will not be punished?"

إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ٦٠

Indeed, this is the great attainment.

لِمِثۡلِ هَٰذَا فَلۡيَعۡمَلِ ٱلۡعَٰمِلُونَ ٦١

For the like of this let the workers [on earth] work.

پس متوجہ ہوگا بعض ان کا اوپر بعض کے، ایک دوسرے سے پوچھیں گے (50) کہے گا ایک کہنے والا ان میں سے، بے شک تھا میرا ایک ہم نشین (51) وہ کہتا تھا: کیا بے شک ہے تو البتہ تصدیق کرنے والوں میں سے (اس بات کی کہ)(52)کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے ہم مٹی اور ہڈیاں، کیا بے شک ہم البتہ بدلہ دیے جائیں گے؟ (53) وہ کہے گا، کیا تم (جہنم میں) جھانک کر دیکھو گے؟ (54) پس وہ جھانکے گا اور دیکھے گا اسے درمیان میں جہنم کے (55) وہ کہے گا: اللہ کی قسم! بلاشبہ قریب تھا توکہ ہلاک کر ڈالتا مجھے (56) اوراگر نہ ہوتا فضل میرے رب کا تو البتہ ہوتا میں حاضر کیے ہوئے (مجرموں) میں (57) کیا پس نہیں ہم (اب) مرنے والے؟ (58) سوائے مرنے کے ہمارے پہلی بار اور نہ ہم عذاب دیے جائیں گے؟(59)بلاشبہ یہی ہے کامیابی بہت بڑی(60)ایسی ہی (کامیابی) کے لیے ، پس چاہیے کہ عمل کریں عمل کرنے والے (61)

[59-50] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو عطا کی جانے والی نعمتوں، کامل مسرتوں، ماکولات ومشروبات، خوبصورت بیویوں اور خوشنما مجالس کا ذکر کرنے کے بعد ان میں آپس کی بات چیت اور ایک دوسرے کو ماضی کے واقعات و احوال سنانے کا ذکر کیا، نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہیں گے حتیٰ کہ ان میں سے ایک شخص کہے گا:﴿اِنِّيۡ كَانَ لِيۡ قَرِيۡنٌ﴾ ’’دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا‘‘ جو قیامت کا منکر تھا اور مجھے اس بات پر ملامت کیا کرتا تھا کہ میں قیامت پر ایمان رکھتا ہوں۔اور ﴿يَّقُوۡلُ ﴾ ’’وہ کہا کرتا تھا‘‘ مجھ سے ﴿ ءَاِنَّكَ لَمِنَ الۡمُصَدِّقِيۡنَ۠۰۰ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِيۡنُوۡنَ ﴾یعنی کیا ہمیں ہمارے اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی؟ یعنی تم اس امر محال کی کیسے تصدیق کرتے ہو جو انتہائی تعجب خیز معاملہ ہے؟ جب ہم مرنے کے بعد بکھر جائیں گے، مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن جائیں گے، کیا اس وقت بھی ہمارا حساب کتاب ہو گا اور ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا؟ صاحب جنت اپنے برادران جنت سے کہے گا ’’یہ ہے میرا قصہ اور یہ ہے میرا اور میرے ساتھی کا معاملہ، میں ایمان پر قائم رہا اور روز قیامت کی تصدیق کرتا رہا اور وہ کفر وانکار پر جما رہا اور قیامت کو جھٹلاتا رہا، یہاں تک کہ موت نے ہمیں آ لیا، پھر اس کے بعد ہمیں زندہ کیا گیا، پھر ان نعمتوں تک پہنچا جو تم دیکھ رہے ہو جن کے بارے میں رسولوں نے خبر دی تھی اور مجھے اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ میرا ساتھی عذاب میں مبتلا ہے۔﴿هَلۡ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم اسے دیکھنا چاہتے ہو‘‘ تاکہ ہم اسے دیکھ لیں اور ہم جس نعمت و سرور میں ہیں اس میں اضافہ ہو اور یہ آنکھوں دیکھی حقیقت بن جائے۔ اہل جنت کے احوال، ان کے ایک دوسرے سے خوش ہونے اور ایک دوسرے کی موافقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کی دعوت کو قبول کر لیں گے اور وہ اس کے ساتھ اس کے کافر ہم نشین کا حال دیکھنے جا ئیں گے۔ ﴿فَاطَّلَعَ ﴾ یعنی وہ اپنے ساتھی اور ہم نشین کو دیکھے گا ﴿فِيۡ سَوَآءِ الۡجَحِيۡمِ ﴾ جہنم کے عین وسط میں اور عذاب نے اس کو گھیر رکھا ہو گا۔ ﴿قَالَ ﴾ یعنی یہ صاحب جنت اس کافر ہم نشین کو ملامت اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہ اس نے اسے اس کافر کے فریب سے بچایا… کہے گا: ﴿تَاللّٰهِ اِنۡ كِدۡتَّ لَـتُرۡدِيۡنِ﴾ اللہ کی قسم! تو نے تو مجھے اپنے مزعومہ شبہات کا شکار کر کے ہلاک ہی کر ڈالا تھا۔ ﴿وَلَوۡلَا نِعۡمَةُ رَبِّيۡ ﴾ ’’اور اگر میرے رب نے اسلام پر ثابت قدمی کی نعمت سے نہ نوازا ہوتا ﴿لَكُنۡتُ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ ﴾ ’’تو میں بھی (تمھارے ساتھ عذاب میں)حاضر کیے گئے لوگوں میں سے ہوتا۔‘‘﴿اَفَمَا نَحۡنُ بِمَيِّتِيۡنَۙ۰۰ اِلَّا مَوۡتَتَنَا الۡاُوۡلٰى وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم (آئندہ بھی) نہیں مریں گے؟ ہاں (جو) پہلی بار مرنا تھا (سو ہم مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہوگا۔‘‘ یعنی مومن اس کافر سے نعمت کے بارے میں جو خلود جنت اور جہنم کے عذاب سے نجات کی صورت میں حاصل ہوئی ہے، پوچھے گا۔ یہ استفہام اثبات اور تقریر کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿فَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴾ میں معمول کا حذف ہونا اور مقام کا مقام لذت و سرور ہونا دلالت کرتا ہے کہ وہ ہر اس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھیں گے جس کے ذکر سے انھیں لذت حاصل ہوتی ہے اور ان مسائل کے بارے میں سوال کریں گے جس میں نزاع اور اشکال واقع ہوا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اہل علم کو علمی مسائل میں ایک دوسرے سے سوال کر کے تحقیق و بحث کے ذریعے سے جو لذت حاصل ہوتی ہے، وہ اس لذت پر فوقیت رکھتی ہے جو دنیاوی باتوں سے حاصل ہوتی ہے، اس لیے ان کو بحث و تحقیق کے ان مسائل سے بہرۂ و افر نصیب ہو گا اور جنت میں ان پر ایسے ایسے حقائق کا انکشاف ہو گا جن کی تعبیر ممکن نہیں۔

[60] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے اور ان کو متذکرہ بالا اوصاف سے موصوف کرنے کے بعد، ان کی مدح فرمائی ہے اور اہل عمل میں اس جنت کا شوق ابھارا اور اس کے حصول کے لیے ان کو عمل پر آمادہ کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ هٰؔذَا لَهُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’بے شک یہ البتہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ جس کے ذریعے سے ہر وہ بھلائی حاصل ہوتی ہے جسے نفوس چاہتے ہیں اور ہر وہ چیز دور ہوتی ہے جس کو نفوس ناپسند کرتے ہیں۔ کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور کامیابی مطلوب ہو سکتی ہے؟ یا یہ سب سے بڑا مطلوب و مقصود ہے جہاں رب ارض و سما کی رضا نازل ہوتی ہے، جہاں اہل ایمان اس کے قرب سے فرحت، اس کی معرفت سے لذت، اس کے دیدار سے مسرت اور اس سے ہم کلام ہو کر طرب و راحت حاصل کریں گے

[61]﴿لِـمِثۡلِ هٰؔذَا فَلۡيَعۡمَلِ الۡعٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔‘‘ یہی مطلوب و مقصود سب سے زیادہ مستحق ہے کہ اس کے لیے زندگی کے بہترین سانس صرف کیے جائیں اور سب سے زیادہ اس لائق ہے کہ عقل مند اصحاب معرفت اس کے لیے جدوجہد کریں۔ نہایت افسوس اور حسرت کا مقام ہے کہ دور اندیش آدمی کے اوقات میں سے کوئی ایسا وقت گزرے جس میں وہ ایسے عمل میں مشغول نہ ہو جو اسے اس منزل مقصود تک پہنچاتا ہے، تب اس کا کیا حال ہے جو اپنے گناہوں کے ذریعے سے ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے۔

37:62–74Page 448

أَذَٰلِكَ خَيۡرٞ نُّزُلًا أَمۡ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ ٦٢

Is that [i.e., Paradise] a better accommodation or the tree of zaqqūm?

إِنَّا جَعَلۡنَٰهَا فِتۡنَةٗ لِّلظَّٰلِمِينَ ٦٣

Indeed, We have made it a torment for the wrongdoers.

إِنَّهَا شَجَرَةٞ تَخۡرُجُ فِيٓ أَصۡلِ ٱلۡجَحِيمِ ٦٤

Indeed, it is a tree issuing from the bottom of the Hellfire,

طَلۡعُهَا كَأَنَّهُۥ رُءُوسُ ٱلشَّيَٰطِينِ ٦٥

Its emerging fruit as if it was heads of the devils.

فَإِنَّهُمۡ لَأٓكِلُونَ مِنۡهَا فَمَالِـُٔونَ مِنۡهَا ٱلۡبُطُونَ ٦٦

And indeed, they will eat from it and fill with it their bellies.

ثُمَّ إِنَّ لَهُمۡ عَلَيۡهَا لَشَوۡبٗا مِّنۡ حَمِيمٖ ٦٧

Then indeed, they will have after it a mixture of scalding water.

ثُمَّ إِنَّ مَرۡجِعَهُمۡ لَإِلَى ٱلۡجَحِيمِ ٦٨

Then indeed, their return will be to the Hellfire.

إِنَّهُمۡ أَلۡفَوۡاْ ءَابَآءَهُمۡ ضَآلِّينَ ٦٩

Indeed they found their fathers astray.

فَهُمۡ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمۡ يُهۡرَعُونَ ٧٠

So they hastened [to follow] in their footsteps.

وَلَقَدۡ ضَلَّ قَبۡلَهُمۡ أَكۡثَرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٧١

And there had already strayed before them most of the former peoples,

وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا فِيهِم مُّنذِرِينَ ٧٢

And We had already sent among them warners.

فَٱنظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُنذَرِينَ ٧٣

Then look how was the end of those who were warned -

إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٧٤

But not the chosen servants of Allāh.

کیا یہ بہتر ہے مہمانی یا درخت تھوہر کا؟ (62) بلاشبہ بنایا ہم نے اسے فتنہ واسطے ظالموں کے (63) بے شک وہ ایک درخت ہے، جو نکلتا (اگتا) ہے گہرائی میں دوزخ کی (64) اس کا پھل گویا کہ وہ سر ہیں شیطانوں کے (65) پس بلاشبہ وہ البتہ کھائیں گے اس میں سے، پھر بھر لیں گے اس سے (اپنے) پیٹ (66) پھر بے شک ان کے لیے اوپر اس کے البتہ ملونی ہوگی گرم (کھولتے ہوئے) پانی کی (67) پھربے شک لوٹنا ان کا ہوگا البتہ طرف جہنم کی (68) بلاشبہ انھوں نے پایا اپنے باپ دادوں کو گمراہ(69) پس وہ ان کے قدموں کے نشانات پردوڑتے جاتے ہیں (70) اور البتہ تحقیق گمراہ ہوئے ان سے پہلے بہت سے اگلے لوگ (71) اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے ان میں ڈرانے والے (72) پس دیکھو! کیسا ہوا انجام ان کا جن کو ڈرایا گیا (73) سوائے (ان کے جو) بندے ہیں اللہ کے خالص کیے (چنے) ہوئے (74)

[62]﴿اَذٰلِكَ خَيۡرٌ ﴾ اہل جنت کو عطا کی جانے والی نعمتیں جن کا ہم نے وصف بیان کیا ہے، یا جہنم میں دیے جانے والے عذاب کی وہ تمام اصناف؟ کون سا کھانا اچھا ہے؟ جنت میں جس کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہتر ہے ﴿اَمۡ ﴾ ’’یا‘‘ جہنمیوں کا کھانا؟ اور وہ ﴿شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ ۰۰

[66-63] اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ ﴾ ’’زقوم کا درخت ہم نے اس کو ’’فتنہ‘‘ بنارکھا ہے۔‘‘ یعنی عذاب اور سزا ﴿لِّلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’واسطے ظالموں کے۔‘‘ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ ﴿اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخۡرُجُ فِيۡۤ اَصۡلِ الۡجَحِيۡمِ﴾ ’’بے شک وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔‘‘ جہنم کا عین وسط اس کا مخرج ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ بدترین جگہ ہے، پودا اگنے کی بدترین جگہ پودے کی خساست اور اس کے بدترین اوصاف پر دلالت کرتی ہے، بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس جگہ کا ذکر کر کے جہاں یہ پودا اگتا ہے اور اس کے پھل کا وصف بیان کر کے ہمیں اس کی برائی سے آگاہ فرمایا ہے۔ بے شک اس کا پھل ﴿رُءُوۡسُ الشَّيٰطِيۡنِ ﴾ ’’شیطانوں کے سر‘‘ کی مانند ہے۔ پس اس کے ذائقے کے بارے میں مت پوچھ کہ یہ جہنمیوں کے پیٹ میں جا کر کیا ک[ے گا۔ وہ اس سے بچ سکیں گے نہ جان چھڑا سکیں گے، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:﴿فَاِنَّهُمۡ لَاٰكِلُوۡنَ مِنۡهَا فَمَالِــُٔـوۡنَ مِنۡهَا الۡبُطُوۡنَ﴾ ’’پس وہ اسی میں سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔‘‘ یہ اہل جہنم کا کھانا ہے اور کتنا بدترین کھانا ہے۔

[67] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مشروب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ثُمَّ اِنَّ لَهُمۡ عَلَيۡهَا ﴾ ’’ پھر بلاشبہ ان کے لیے ہوگا اس کے بعد‘‘ یعنی اس بدترین کھانے کے بعد ﴿لَشَوۡبًا مِّنۡ حَمِيۡمٍ﴾ گرم پانی، جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَاِنۡ يَّسۡتَغِيۡثُوۡا۠ يُغَاثُوۡا بِمَآءٍ كَالۡمُهۡلِ يَشۡوِي الۡوُجُوۡهَ١ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ١ؕ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا﴾(الکہف: 18؍29) ’’اگر وہ پانی طلب کریں گے تو ان کو ایسا پانی پلایا جائے گا جو تلچھٹ جیسا ہو گا جو ان کے منہ کو بھون کر رکھ دے گا یہ بدترین مشروب اور نہایت بری آرام گاہ ہے۔‘‘ اور جیسا کہ فرمایا: ﴿وَسُقُوۡا مَآءً حَمِيۡمًا فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَهُمۡ﴾(محمد: 47؍15) ’’اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔‘‘

[68]﴿ثُمَّ اِنَّ مَرۡجِعَهُمۡ ﴾ ’’، پھر ان کا لوٹنا‘‘ یعنی ان کی منزل اور ٹھکانا ﴿لَاۡاِلَى الۡجَحِيۡمِ ﴾ ’’جہنم کی طرف ہوگا‘‘ تاکہ وہ اس کے شدید عذاب اور سخت ترین حرارت کا مزا چکھیں جس سے بڑھ کر کوئی بدبختی نہیں۔

[73-69] گویا یہ کہا گیا کہ کس چیز نے ان لوگوں کو جہنم میں پہنچایا؟ تو فرمایا:﴿اِنَّهُمۡ اَلۡفَوۡا ﴾ یعنی انھوں نے پایا ﴿اٰبَآءَهُمۡ ضَآلِّيۡنَ۰۰ فَهُمۡ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ يُهۡرَعُوۡنَ﴾ ’’اپنے باپ دادا کو بہکا ہوا، پس وہ ان ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں۔‘‘ یعنی گمراہی میں تیزی سے دوڑے چلے جا رہے تھے۔ انھوں نے اس طرف التفات نہ کیا جس کی طرف انبیاء و مرسلین نے ان کو بلایا، نہ انھوں نے اس چیز کی طرف توجہ کی جس سے کتب الٰہیہ نے ان کو ڈرایا اور نہ انھوں نے خیر خواہی کرنے والوں کی خیرخواہی کو درخوراعتنا سمجھا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے یہ کہتے ہوئے ان کی مخالفت کی:﴿اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴾(الزخرف: 43؍23) ’’بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔‘‘ ﴿وَلَقَدۡ ضَلَّ قَبۡلَهُمۡ ﴾ ’’اوران سے پیشتر بھی گمراہ ہوگئے۔‘‘ یعنی ان مخاطبین سے پہلے ﴿اَكۡثَرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’بہت سے پہلے‘‘ یعنی ان میں سے بہت کم لوگ تھے جو ایمان لائے اور انھوں نے راہ راست اختیار کی۔ ﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا فِيۡهِمۡ مُّنۡذِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے۔‘‘ جو ان کو ان کی بے راہ روی اور گمراہی پر ڈراتے تھے۔ ﴿فَانۡظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ﴾ ’’پس دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیا ہوا؟‘‘ ان کا انجام ہلاکت، رسوائی اور فضیحت کے سوا کچھ نہ تھا۔اس لیے ان مشرکین کو اپنی گمراہی پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ورنہ انھیں بھی اس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا سامنا ان لوگوں کو کرنا پڑا۔

[74] چونکہ جن لوگوں کو ڈرایا گیا تھا، وہ سب کے سب گمراہ نہ تھے، ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو اہل ایمان تھے، جن کا دین اللہ تعالیٰ کے لیے خالص تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عذاب اور ہلاکت سے مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الۡمُخۡلَصِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اللہ کے برگزیدہ بندوں کے‘‘ یعنی جن کو اللہ تعالیٰ نے اخلاص کا حامل بنایا اور ان کو ان کے اخلاص کے سبب سے، اپنی رحمت کے لیے مختص کیا۔ تب ان کا انجام قابل ستائش ہوا،

پھر اللہ تعالیٰ نے، جھٹلانے والی قوموں کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

37:75–82Page 448

وَلَقَدۡ نَادَىٰنَا نُوحٞ فَلَنِعۡمَ ٱلۡمُجِيبُونَ ٧٥

And Noah had certainly called Us, and [We are] the best of responders.

وَنَجَّيۡنَٰهُ وَأَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلۡكَرۡبِ ٱلۡعَظِيمِ ٧٦

And We saved him and his family from the great affliction.

وَجَعَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُۥ هُمُ ٱلۡبَاقِينَ ٧٧

And We made his descendants those remaining [on the earth]

وَتَرَكۡنَا عَلَيۡهِ فِي ٱلۡأٓخِرِينَ ٧٨

And left for him [favorable mention] among later generations:

سَلَٰمٌ عَلَىٰ نُوحٖ فِي ٱلۡعَٰلَمِينَ ٧٩

"Peace upon Noah among the worlds."

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٨٠

Indeed, We thus reward the doers of good.

إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٨١

Indeed, he was of Our believing servants.

ثُمَّ أَغۡرَقۡنَا ٱلۡأٓخَرِينَ ٨٢

Then We drowned the others [i.e., disbelievers].

اور البتہ تحقیق پکارا ہمیں نوح نے، پس البتہ خوب قبول کرنے والے ہیں(ہم فریاد کو)(75) اور نجات دی ہم نے اس کو اور اس کےاہل کو بہت بڑی پریشانی سے (76) اورکر دیا ہم نے اس کی اولاد کو، انھی کو باقی رہنے والا (77) اور چھوڑا ہم نے اس پر پیچھے آنے والوں میں (78) کہ سلام ہو نوح پر، جہانوں میں(79) بلاشبہ ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو (80) بے شک وہ تھا ہمارے مومن بندوں میں سے (81) پھر غرق کر دیا ہم نے دوسروں کو (82)

[82-75] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور اولین رسول، حضرت نوحu کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصہ تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے رہے، مگر ان کی دعوت نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا کہ وہ اس دعوت سے دور بھاگتے رہے تب حضرت نوحu نے اپنے رب کو پکارتے ہوئے دعا کی:﴿رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًؔا ﴾(نوح: 71؍26) ’’اے میرے رب! زمین پر کوئی کافر بستا نہ چھوڑ‘‘ اور فرمایا: ﴿ رَبِّ انۡصُرۡنِيۡ بِمَا كَذَّبُوۡنِ﴾(المؤمنون: 23/26) ’’اے میرے رب! ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحu کی دعا قبول فرمائی اور اپنی مدح و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَلَنِعۡمَ الۡمُجِيۡبُوۡنَ ﴾ ہم پکارنے والے کی پکار اور اس کی آہ و زاری کو سنتے ہیں اور خوب جواب دیتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوحu کی دعا قبول فرمائی۔ یہ قبولیت نوحu کی درخواست سے مطابقت رکھتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نوحu اور آپ کے گھر والوں کو اس کرب عظیم سے نجات دی اور تمام کفار کو سیلاب میں غرق کر دیا۔ آپ کی نسل اور اولاد کو تسلسل سے باقی رکھا، چنانچہ تمام انسان حضرت نوحu کی نسل سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے آپ کو دائمی ثنائے حسن سے سرفراز فرمایا کیونکہ آپ نے نہایت احسن طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور مخلوق کے ساتھ احسان کیا اور محسنین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے احسان کے مطابق دنیا میں ان کی ثنائے حسن کو پھیلاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:﴿اِنَّهٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔‘‘ دلالت کرتا ہے کہ ایمان بندوں کے لیے بلند ترین منزل ہے، جو تمام شرائع اور اس کے اصول و فروع پر مشتمل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی، ان کے ایمان کی بنا پر مدح و ثنا کی ہے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском