An-NisaJuz 5 · Page 101

An-Nisa 4:143

The Women · Juz 5 · Page 101

مُّذَبۡذَبِينَ بَيۡنَ ذَٰلِكَ لَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ وَلَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلٗا ١٤٣

Wavering between them, [belonging] neither to these [i.e., the believers] nor to those [i.e., the disbelievers]. And whoever Allāh sends astray - never will you find for him a way.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 4:142–143

بلاشبہ منافق فریب دیتے ہیں اللہ کو اور وہ (بھی) فریب دینے والا ہے ان کواور جب کھڑے ہوتے ہیں طرف نماز کی تو کھڑے ہوتے ہیں کاہلی سے، دکھلاتے ہیں لوگوں کو اور نہیں یاد کرتے اللہ کو مگر بہت تھوڑا(142) متردد ہیں درمیان اس (کفرو ایمان) کے، نہ ان کی طرف اور نہ ان کی طرف اور جس کو گمراہ کرے اللہ، پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(143)

[142] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی قبیح صفات اور مکروہ علامات کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ ان کا طریق اللہ کو فریب دینا ہے یعنی بظاہر وہ مومن ہیں مگر باطن میں کافر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے دیں گے اور اللہ تعالیٰ کو ان کے کرتوتوں کا علم نہیں اور وہ ان کا دھوکا اپنے بندوں پر ظاہر نہیں کرے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ خود ان کو دھوکے میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا مجرد یہ حال ہونا اور اس راستے پر گامزن رہنا ان کا اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کرنا ہے بھلا اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص پوری دوڑ دھوپ کرے مگر اس کا ماحصل رسوائی، ذلت اور محرومی کے سوا کچھ نہ ہو۔ یہ چیز اس شخص کی کم عقلی پر دلالت کرتی ہے کہ وہ معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے نیکی خیال کرتا ہے اور اسے بڑی عقل مندی اور چال بازی سمجھتا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جہالت اور خذلان اسے کس انجام پر پہنچائیں گے۔قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دھوکہ یہ ہو گا۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے ﴿ يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ١ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا١ؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ۰۰ يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ …﴾(الحدید : 57؍13) ’’اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے ٹھہرو ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں، ان سے کہا جائے گا پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو، پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب۔ منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟‘‘ان منافقین کی صفات یہ ہیں ﴿ وَاِذَا قَامُوۡۤا اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾ ’’جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ نماز جو کہ سب سے بڑی عملی نیکی ہے۔ اگر وہ نماز کے لیے کھڑے ہو ہی جاتے ہیں ﴿ قَامُوۡا كُسَالٰى ﴾ ’’تو سست ہوکر۔‘‘ یعنی بوجھل پن کے ساتھ تنگ دل اور زچ ہو کر اٹھتے ہیں۔’’کاہلی‘‘ کا اطلاق ان پر تب ہوتا ہے جب ان کے دلوں میں رغبت کا فقدان ہو، اگر انکے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب کی طرف رغبت سے خالی نہ ہوتے اور ان میں ایمان معدوم نہ ہوتا تو ان سے سستی اور کسل مندی کبھی صادر نہ ہوتی۔ ﴿ يُرَؔآءُوۡنَ النَّاسَ ﴾ ’’لوگوں کے دکھانے کو۔‘‘ یعنی یہ ان کی فطرت ہے اور یہی ان کے اعمال کا مصدر ہے۔ ان کے اعمال لوگوں کے دکھاوے کے لیے ہیں انکا مقصد محض ریاکاری اور لوگوں سے تعظیم اور احترام حاصل کرنا ہے۔ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص نہیں کرتے۔ لہٰذا فرمایا: ﴿ وَلَا يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت کم۔‘‘ کیونکہ ان کے دل ریا سے لبریز ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کا التزام صرف مومن ہی کر سکتا ہے، کیونکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت سے لبریز ہے۔

[143]﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں۔ نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف۔‘‘ یعنی وہ اہل ایمان اور کفار کے گروہوں کے درمیان متذبذب اور متردد ہیں۔ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہیں نہ کفار کے ساتھ۔ انھوں نے اپنا باطن کفار کو عطا کر رکھا ہے اور ظاہر مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اور یہ سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور جس کو اللہ بھٹکائے تو آپ اس کے لیے کبھی بھی راستہ نہیں پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ اس کی ہدایت کا کوئی راستہ اور اس کو گمراہی سے بچانے کے لیے کوئی وسیلہ نہیں پائیں گے کیونکہ اس پر رحمت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اس کی رحمت کی بجائے اللہ تعالیٰ کا غضب و انتقام اس کا نصیب بن چکا ہے۔یہ تمام مذموم اوصاف اشارتاً دلالت کرتے ہیں کہ اہل ایمان ان کی متضاد صفات سے متصف ہیں اور وہ ہیں ظاہر و باطن میں صدق اور اخلاص۔ انھیں اپنی نمازوں، عبادات اور کثرت ذکر الٰہی میں جو نشاط حاصل ہوتا ہے وہ سب معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت عطا کی اور صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ پس ایک عقل مند شخص کو چاہیے کہ وہ ان دو امور پر غور کرے اور جو اس کے لیے بہتر ہے اسے اختیار کر لے۔ واللہ المستعان۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 101

An-NisaJuz 5 · Page 101

4:141

ٱلَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمۡ فَإِن كَانَ لَكُمۡ فَتۡحٞ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓاْ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡ وَإِن كَانَ لِلۡكَٰفِرِينَ نَصِيبٞ قَالُوٓاْ أَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ وَنَمۡنَعۡكُم مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ فَٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَلَن يَجۡعَلَ ٱللَّهُ لِلۡكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ سَبِيلًا ١٤١

Those who wait [and watch] you. Then if you gain a victory from Allāh, they say, "Were we not with you?" But if the disbelievers have a success, they say [to them], "Did we not gain the advantage over you, but we protected you from the believers?" Allāh will judge between [all of] you on the Day of Resurrection, and never will Allāh give the disbelievers over the believers a way [to overcome them].1

1 translator’s note
  1. In the Hereafter, but possibly in this world as well. ↩

4:142

إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمۡ وَإِذَا قَامُوٓاْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُواْ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ وَلَا يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلٗا ١٤٢

Indeed, the hypocrites [think to] deceive Allāh, but He is deceiving them. And when they stand for prayer, they stand lazily, showing [themselves to] the people and not remembering Allāh except a little,

4:143

مُّذَبۡذَبِينَ بَيۡنَ ذَٰلِكَ لَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ وَلَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلٗا ١٤٣

Wavering between them, [belonging] neither to these [i.e., the believers] nor to those [i.e., the disbelievers]. And whoever Allāh sends astray - never will you find for him a way.

4:144

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنٗا مُّبِينًا ١٤٤

O you who have believed, do not take the disbelievers as allies instead of the believers. Do you wish to give Allāh against yourselves a clear case?

4:145

إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ فِي ٱلدَّرۡكِ ٱلۡأَسۡفَلِ مِنَ ٱلنَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيرًا ١٤٥

Indeed, the hypocrites will be in the lowest depths of the Fire - and never will you find for them a helper -

4:146

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ وَأَصۡلَحُواْ وَٱعۡتَصَمُواْ بِٱللَّهِ وَأَخۡلَصُواْ دِينَهُمۡ لِلَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَعَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَجۡرًا عَظِيمٗا ١٤٦

Except for those who repent, correct themselves, hold fast to Allāh, and are sincere in their religion for Allāh, for those will be with the believers. And Allāh is going to give the believers a great reward.

4:147

مَّا يَفۡعَلُ ٱللَّهُ بِعَذَابِكُمۡ إِن شَكَرۡتُمۡ وَءَامَنتُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمٗا ١٤٧

What would Allāh do with [i.e., gain from] your punishment if you are grateful and believe? And ever is Allāh Appreciative1 and Knowing.

1 translator’s note
  1. Of repentance, self-discipline and good deeds, rewarding for them abundantly. ↩
As-Sa'diTafsir · 4:143

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском