As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
An-Nisa 4:136–147
4:136Page 100
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ ءَامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَٱلۡكِتَٰبِ ٱلَّذِيٓ أَنزَلَ مِن قَبۡلُۚ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا ١٣٦
O you who have believed, believe1 in Allāh and His Messenger and the Book that He sent down upon His Messenger and the Scripture which He sent down before. And whoever disbelieves in Allāh, His angels, His books, His messengers, and the Last Day has certainly gone far astray.
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے اور (ساتھ) اس کتاب کے جو نازل کی اس نے اپنے رسول پر اور (ساتھ) اس کتاب کے جو نازل کی اس نے پہلےاور جو کوئی کفر کرے ساتھ اللہ کے اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور دن آخرت کے، پس تحقیق گمراہ ہو گیا وہ گمراہ ہونا دور کا(136)
[136] معلوم ہونا چاہیے کہ امر یعنی حکم کا رخ یا تو اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس شے میں داخل نہیں اور اس سے کچھ بھی متصف نہیں، تب اس کے لیے یہ حکم اس چیز میں داخل ہونے کا ہے۔ مثلاً اس شخص کے لیے ایمان لانے کا حکم جو مومن نہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ ﴾(النساء : 4؍47) ’’اے وہ لوگو جن کو کتاب عطا کی گئی ہے اس کتاب پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کی ہے اور اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو تمھارے ساتھ ہے۔‘‘ یا اس حکم کا رخ اس شخص کی طرف ہوتا ہے جو اس چیز میں داخل ہو چکا ہے، تب یہ حکم اس لیے ہوتا ہے تاکہ اس چیز کی تصحیح کر لے جسے وہ پا چکا ہے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے جو اس نے ابھی تک نہیں پائی۔ اور اس کی مثال یہی آیت کریمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ یہ ان سے اس چیز کے حکم کا تقاضا کرتی ہے جو ان کے ایمان یعنی صدق و اخلاص کی تصحیح کرتی ہے اور مفسدات سے اجتناب اور نقص میں ڈالنے والی ہر چیز سے توبہ کا تقاضا کرتی ہے۔ نیز یہ اس چیز کے حکم کا بھی تقاضا کرتی ہے جو ابھی مومن میں موجود نہیں یعنی علوم ایمان و عمل وغیرہ۔ کیونکہ جب کبھی اس کے پاس کوئی نص پہنچے گی، تو وہ اس کا معنی سمجھے گا اور اسے اپنے اعتقاد کا حصہ بنائے گا اور اسی چیز کا اسے حکم دیا گیا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا یہی معاملہ ہے تمام اعمال ایمان ہی کے دائرے میں آتے ہیں جیسا کہ بہت سی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں اور امت کا اس پر اجماع ہے۔ پھر اس پر استمرار اور موت تک اس پر ثابت قدمی ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴾(آل عمران : 3؍102)’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔‘‘یہاں ہمیں اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر، قرآن کریم پر اور سابقہ کتب پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ تمام تر، ایمان واجب میں سے ہیں جس کے بغیر کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا۔ جس چیز کے بارے میں تفصیل نہیں پہنچی اس پر اجمالاً ایمان لانا فرض ہے اور جہاں تفصیل معلوم ہے وہاں تفصیلاً ایمان لانا فرض ہے۔ جو کوئی اس مامور طریقے پر ایمان لاتا ہے وہی ہدایت پا کر فوزیاب ہوتا ہے۔﴿ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَؔكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيۡدًا ﴾ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے، تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا‘‘ یعنی ان لوگوں سے بھی کوئی بڑھ کر گمراہ ہو سکتا ہے جو ہدایت کی راہ راست کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس راستے پر چل نکلتے ہیں جو دردناک عذاب میں لے جاتا ہے؟یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان تمام امور میں سے کسی ایک کے ساتھ کفر گویا ان تمام امور کے ساتھ کفر ہے کیونکہ یہ تمام امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں اور ان میں سے کسی ایک پر ایمان لانے سے بھی ایمان کا وجود ممتنع ہے۔
4:137Page 100
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ ثُمَّ ءَامَنُواْ ثُمَّ كَفَرُواْ ثُمَّ ٱزۡدَادُواْ كُفۡرٗا لَّمۡ يَكُنِ ٱللَّهُ لِيَغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَهۡدِيَهُمۡ سَبِيلَۢا ١٣٧
Indeed, those who have believed then disbelieved, then believed then disbelieved, and then increased in disbelief - never will Allāh forgive them, nor will He guide them to a way.
بے شک جو لوگ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، پھر وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، پھر زیادہ ہوگئے وہ کفر میں نہیں ہے اللہ کہ بخشے ان کو اور نہیں ہے کہ ہدایت دے ان کو راستے کی(137)
[137] یعنی جو کوئی ایمان لانے کے بعد بتکرار کفر کرتا رہا، ہدایت کا راستہ اختیار کیا، پھر گمراہ ہو گیا پھر ایمان لایا۔ پھر اندھا ہو گیا پھر ایمان لے آیا پھر کفر کیا اور اپنے کفر پر قائم رہا بلکہ اپنے کفر میں بڑھتا رہا۔ تو وہ توفیق اور راہ راست سے بہت دور اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے بہت بعید ہے کیونکہ وہ ایسی چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا جو مغفرت کے لیے سب سے بڑا مانع ہے۔ اس لیے کہ اس کا کفر اس کے لیے سزا اور اس کی طبیعت بن جاتا ہے جو کبھی زائل نہیں ہوتی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ ﴾(الصف : 61؍5) ’’جب وہ کج رو ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔‘‘ اور فرمایا : ﴿ وَنُقَلِّبُ اَفۡــِٕدَتَهُمۡ وَاَبۡصَارَهُمۡ كَمَا لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ ﴾(الانعام : 6؍110) ’’ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے اور جس طرح وہ اس پر پہلی مرتبہ ایمان نہ لائے تھے (ویسے پھر ایمان نہ لائیں گے)۔‘‘آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر وہ اپنے کفر میں بڑھتے نہ چلے جائیں بلکہ وہ ایمان کی طرف لوٹ آئیں اور کفر کے رویے کو ترک کر دیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا خواہ بار بار ان سے ارتداد کا ارتکاب ہوا ہو اور جب کفر کے مقابلے میں یہ حکم ہے تو دیگر گناہ جو کفر سے کم تر ہیں وہ بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ اگر بندے سے ان گناہوں کا تکرار ہو اور وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ ان کے یہ گناہ بخش دے۔
4:138–139Page 100
بَشِّرِ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ بِأَنَّ لَهُمۡ عَذَابًا أَلِيمًا ١٣٨
Give tidings to the hypocrites that there is for them a painful punishment -
ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ أَيَبۡتَغُونَ عِندَهُمُ ٱلۡعِزَّةَ فَإِنَّ ٱلۡعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعٗا ١٣٩
Those who take disbelievers as allies instead of the believers. Do they seek with them honor [through power]? But indeed, honor belongs to Allāh entirely.1
بشارت دے دیجیے منافقین کو اس بات کی کہ تحقیق ان کے لیے عذاب ہے بہت دردناک(138) جو لوگ بناتے ہیں کافروں کو دوست سوائے مومنوں کے، کیا تلاش کرتے ہیں وہ ان کے پاس عزت؟ پس بے شک عزت تو اللہ ہی کے لیے ہے ساری(139)
[139,138] ’’بشارت‘‘ کا لفظ خیر کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور شر کے معنوں میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی قید سے مقید ہو۔ جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے۔ ﴿ بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِيۡنَ ﴾ ’’منافقوں کو بشارت سنادو۔‘‘ یعنی وہ لوگ جو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں کفر کو چھپائے ہوئے ہیں انھیں بدترین بشارت سنا دیجیے۔ اور وہ ہے دردناک عذاب کی بشارت۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ کفار سے محبت کرتے ہیں، ان سے موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اہل ایمان سے ترک موالات کرتے ہیں۔ کس چیز نے انھیں اس رویے پر آمادہ کیا؟ کیا یہ ان کے پاس عزت کے متلاشی ہیں؟یہ منافقین کے احوال تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی کا شکار تھے۔ ان کا یقین اس بارے میں بہت کمزور تھا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مدد فرمائے گا وہ بعض ان اسباب کو دیکھ رہے تھے جو کفار کو میسر تھے اور اس سے آگے دیکھنے سے ان کی نظر قاصر تھی۔ پس انھوں نے کفار کو اپنا دوست اور ولی و مددگار بنا لیا جن سے یہ مدد طلب کرتے ہیں اور جن کے پاس یہ عزت ڈھونڈتے ہیں۔ حالانکہ تمام تر عزت کا مالک اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ بندوں کی پیشانیاں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور ان میں اسی کی مشیت نافذ ہے۔ وہ اپنے دین اور اپنے مومن بندوں کی مدد کا ضامن ہے۔ اگرچہ وہ کبھی کبھی اہل ایمان کا امتحان لینے کے لیے یہ مدد چھوڑ دیتا ہے اور دشمن کو ان پر غلبہ دے دیتا ہے۔ مگر دشمن کی فتح اور کامیابی دائمی اور مستقل نہیں ہوتی۔ انجام کار، فتح اور کامیابی اہل ایمان ہی کی ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں کفار کے ساتھ موالات رکھنے اور اہل ایمان کے ساتھ موالات ترک کرنے پر زبردست ترہیب ہے۔ نیز بتایا گیا ہے کہ یہ منافقین کی صفات ہیں۔ ایمان تو اہل ایمان کے ساتھ محبت اور موالات اور کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔
4:140–141Page 100
وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ أَنۡ إِذَا سَمِعۡتُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَأُ بِهَا فَلَا تَقۡعُدُواْ مَعَهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦٓ إِنَّكُمۡ إِذٗا مِّثۡلُهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ جَامِعُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡكَٰفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ١٤٠
And it has already come down to you in the Book [i.e., the Qur’ān] that when you hear the verses of Allāh [recited], they are denied [by them] and ridiculed; so do not sit with them until they enter into another conversation. Indeed, you would then be like them.1 Indeed, Allāh will gather the hypocrites and disbelievers in Hell all together -
ٱلَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمۡ فَإِن كَانَ لَكُمۡ فَتۡحٞ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓاْ أَلَمۡ نَكُن مَّعَكُمۡ وَإِن كَانَ لِلۡكَٰفِرِينَ نَصِيبٞ قَالُوٓاْ أَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ وَنَمۡنَعۡكُم مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ فَٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَلَن يَجۡعَلَ ٱللَّهُ لِلۡكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ سَبِيلًا ١٤١
Those who wait [and watch] you. Then if you gain a victory from Allāh, they say, "Were we not with you?" But if the disbelievers have a success, they say [to them], "Did we not gain the advantage over you, but we protected you from the believers?" Allāh will judge between [all of] you on the Day of Resurrection, and never will Allāh give the disbelievers over the believers a way [to overcome them].1
اور تحقیق نازل کیا ہے اس نے تم پر کتاب میں یہ کہ جب سنو تم آیتیں اللہ کی، کہ کفر کیا جارہا ہو ساتھ ان کے اور استہزاء کیا جارہا ہو ساتھ ان کے تو نہ بیٹھو تم ان کے ساتھ، یہاں تک کہ مشغول ہو جائیں وہ کسی اور بات میں اس کے علاوہ۔ بلاشبہ تم اس وقت ان جیسے ہی ہو گے تحقیق اللہ جمع کرنے والا ہے منافقوں اور کافروں کو جہنم میں سب کو(140) جو (منافق) انتظار کرتے ہیں تمھاری بابت، پھر اگر ہو تمھارے لیے فتح اللہ کی طرف سے تو کہتے ہیں کیا نہ تھے ہم تمھارے ساتھ؟ اور اگر ہو واسطے کافروں کے حصہ (غلبہ) تو کہتے ہیں کیا نہ غالب آنے لگے تھے ہم تم پراور (کیا نہ) بچایا تھا ہم نے تمھیں مسلمانوں سے؟ پس اللہ فیصلہ کرے گا تمھارے درمیان دن قیامت کےاور ہرگز نہیں کرے گا اللہ کافروں کے لیے اوپر مومنوں کے کوئی راہ (غلبے کی)(141)
[140] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں کفر اور معاصی کی مجالس میں موجود ہونے کی صورت میں اپنا شرعی حکم واضح کر دیا ہے۔ ﴿ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُ بِهَا﴾ ’’کہ جب تم (کہیں) سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار ہورہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جارہی ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں ہر مکلف شخص پر فرض ہے کہ وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی تعظیم و تکریم کرے۔ ان کو نازل کرنے کا یہی مقصد ہے اور اسی کی خاطر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام کائنات تخلیق کی ہے۔ پس ان پر ایمان لانے کی ضد ان کے ساتھ کفر کرنا، اور ان کی تعظیم و تکریم کی ضد ان کے ساتھ استہزاء اور ان کی تحقیر کرنا ہے۔ نیز اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ابطال کے لیے کفار و منافقین کا مجادلہ اور ان کی اپنے کفر کی تائید کرنا بھی شامل ہے۔ اسی طرح ہر قسم کے بدعتی بھی داخل ہیں کیونکہ ان کا اپنے باطل نظریات کے لیے استدلال کرنا اللہ تعالیٰ کی آیات کی اہانت کو متضمن ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات حق کے سوا کسی چیز پر دلالت نہیں کرتیں اور صدق کے سوا کسی چیز کو مستلزم نہیں۔اسی طرح اس حکم میں ان مجالس کی حاضری بھی شامل ہے جن میں فسق و فجور اور معصیت کے کام ہوتے ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی اہانت ہوتی ہے اور اس کی حدود توڑی جاتی ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کی ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت کا منتہی ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِيۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖۤ ﴾ ’’حتی کہ وہ اور باتیں کرنے لگیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر اور استہزاء کے سوا کوئی اور بات کرنے لگیں ﴿اِنَّـكُمۡ اِذًا﴾ ’’ورنہ تم بھی (ان ہی جیسے) ہوجاؤ گے۔‘‘ یعنی اگر تم آیت کریمہ میں مذکور حالت میں ان کے ساتھ بیٹھو گے ﴿ مِّؔثۡلُهُمۡ ﴾ ’’تو ان جیسے شمار ہو گے‘‘ کیونکہ تم ان کے کفر و استہزاء پر راضی تھے۔ کسی معصیت کے فعل پر راضی ہونا اس فعل کے ارتکاب کی مانند ہے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی کسی ایسی مجلس میں موجود ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جا رہی ہو تو قدرت رکھتے ہوئے اس نافرمانی پر نکیر کرنا اور اس سے روکنا واجب ہے۔ اگر روکنے کی قدرت نہ ہو تو اس مجلس سے اٹھ کر چلا جانا ضروری ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡكٰفِرِيۡنَ فِيۡ جَهَنَّمَ جَمِيۡعًا﴾ ’’یقینا اللہ تمام کافروں اور سب منافقوں کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے‘‘ جیسے وہ اس دنیا میں کفر و موالات پر مجتمع ہیں۔منافقین کو، ان کا ظاہری طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہونا، کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ١ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا١ؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ۰۰ يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ١ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَلٰكِنَّكُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ وَتَرَبَّصۡتُمۡ وَارۡتَبۡتُمۡ وَغَرَّتۡكُمُ الۡاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ وَغَرَّؔكُمۡ بِاللّٰهِ الۡغَرُوۡرُ۰۰فَالۡيَوۡمَ لَا يُؤۡخَذُ مِنۡكُمۡ فِدۡيَةٌ وَّلَا مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا١ؕ مَاۡوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِيَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾(الحدید : 57؍13۔15) ’’اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے، ٹھہرو! ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں! ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب، منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں تم ہمارے ساتھ تو تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم حوادث زمانہ کے منتظر رہے، تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا، جھوٹی آرزوؤں نے تمھیں دھوکے میں مبتلا کیے رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ گیا اور تمھیں شیطان دھوکے باز دھوکہ دیتا رہا۔ آج تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ تمھارا ٹھکانا جہنم ہے اور وہی تمھارا دوست ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔‘‘
[141] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ منافقین کی کفار کے ساتھ موالات اور اہل ایمان کے ساتھ عداوت متحقق ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَرَبَّصُوۡنَ بِكُمۡ ﴾ ’’جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔‘‘ یعنی مستقبل میں تمھارے اچھے یا برے حالات کے منتظر ہیں انھوں نے اپنے نفاق کے مطابق ہر حالت کے بارے میں جواب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاِنۡ كَانَ لَكُمۡ فَتۡحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ ﴾’’پھر اگر اللہ تمھیں فتح دے تو یہ کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہیں تھے؟‘‘ وہ ظاہر کریں گے کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ تھے تاکہ طعن و تشنیع سے بچ سکیں نیز فے اور مال غنیمت میں سے حصہ وصول کر سکیں اور ان کے ساتھ مل کر وہ محفوظ رہیں۔﴿ وَاِنۡ كَانَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ نَصِيۡبٌ ﴾ ’’اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے‘‘ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر کافروں کی فتح ہو کیونکہ ان کو ایسی فتح حاصل نہیں ہوتی جو ان کی دائمی نصرت کی ابتدا ہو۔ اگر ان کے لیے کوئی حصہ ہوتا ہے تو اس کی انتہا یہ ہے کہ وہ عارضی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ چنانچہ جب یہ صورت حال ہوتی ہے ﴿ قَالُوۡۤا اَلَمۡ نَسۡتَحۡوِذۡ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہ تھے‘‘ ﴿ وَنَمۡنَعۡكُمۡ مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾’’اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا نہیں؟‘‘ یعنی وہ کفار کے پاس بناوٹ اور تصنع سے کام لے کر ان سے کہتے تھے کہ قدرت اور طاقت کے باوجود انھوں نے ان سے لڑائی نہیں کی اور ان کو مسلمانوں سے بچائے رکھا اور وہ ہر لحاظ سے جنگ کے لیے گھر سے نکلنے سے رکے رہے، لڑائی سے گریز کرتے رہے اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کرتے رہے۔ اور ان کے بارے میں یہ تمام امور معروف ہیں۔﴿ فَاللّٰهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ﴾ ’’پس اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ کرے گا‘‘ اور اہل ایمان کو، ظاہری اور باطنی طور پر، بدلے میں جنت عطا کرے گا اور منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ ﴿ وَلَنۡ يَّجۡعَلَ اللّٰهُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔‘‘ یعنی اللہ کفار کو اہل ایمان پر کبھی تسلط اور غلبہ عطا نہیں کرے گا، بلکہ اہل ایمان کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی۔ اللہ اس جماعت کی مدد کرے گا، جو ان سے علیحدہ ہو گا اور ان کی مخالفت کرے گا وہ ان کا کوئی نقصان نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان کی فتح و نصرت کے اسباب پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ اور کفار کا تسلط ختم ہوتا چلا جائے گا اور اس کا واضح طور پر مشاہدہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ بعض مسلمان، جن پر کفار حکومت کرتے ہیں وہ ان کے ہاں قابل احترام ہیں وہ ان کے دین سے کوئی تعرض نہیں کرتے وہ ان کے ہاں کمزور اور ماتحت بن کر نہیں رہتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو پوری عزت عطا کی گئی ہے۔ اول و آخر اور ظاہر و باطن میں ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے۔
4:142–143Page 101
إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَهُوَ خَٰدِعُهُمۡ وَإِذَا قَامُوٓاْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُواْ كُسَالَىٰ يُرَآءُونَ ٱلنَّاسَ وَلَا يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ إِلَّا قَلِيلٗا ١٤٢
Indeed, the hypocrites [think to] deceive Allāh, but He is deceiving them. And when they stand for prayer, they stand lazily, showing [themselves to] the people and not remembering Allāh except a little,
مُّذَبۡذَبِينَ بَيۡنَ ذَٰلِكَ لَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِ وَلَآ إِلَىٰ هَٰٓؤُلَآءِۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلٗا ١٤٣
Wavering between them, [belonging] neither to these [i.e., the believers] nor to those [i.e., the disbelievers]. And whoever Allāh sends astray - never will you find for him a way.
بلاشبہ منافق فریب دیتے ہیں اللہ کو اور وہ (بھی) فریب دینے والا ہے ان کواور جب کھڑے ہوتے ہیں طرف نماز کی تو کھڑے ہوتے ہیں کاہلی سے، دکھلاتے ہیں لوگوں کو اور نہیں یاد کرتے اللہ کو مگر بہت تھوڑا(142) متردد ہیں درمیان اس (کفرو ایمان) کے، نہ ان کی طرف اور نہ ان کی طرف اور جس کو گمراہ کرے اللہ، پس ہرگز نہیں پائیں گے آپ اس کے لیے کوئی راہ(143)
[142] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی قبیح صفات اور مکروہ علامات کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ ان کا طریق اللہ کو فریب دینا ہے یعنی بظاہر وہ مومن ہیں مگر باطن میں کافر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے دیں گے اور اللہ تعالیٰ کو ان کے کرتوتوں کا علم نہیں اور وہ ان کا دھوکا اپنے بندوں پر ظاہر نہیں کرے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ خود ان کو دھوکے میں مبتلا کر رہا ہے۔ ان کا مجرد یہ حال ہونا اور اس راستے پر گامزن رہنا ان کا اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کرنا ہے بھلا اس سے بڑا دھوکہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص پوری دوڑ دھوپ کرے مگر اس کا ماحصل رسوائی، ذلت اور محرومی کے سوا کچھ نہ ہو۔ یہ چیز اس شخص کی کم عقلی پر دلالت کرتی ہے کہ وہ معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے نیکی خیال کرتا ہے اور اسے بڑی عقل مندی اور چال بازی سمجھتا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ جہالت اور خذلان اسے کس انجام پر پہنچائیں گے۔قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دھوکہ یہ ہو گا۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے ﴿ يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ١ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَؔكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًؔا١ؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؔ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ۰۰ يُنَادُوۡنَهُمۡ اَلَمۡ نَؔكُنۡ مَّعَكُمۡ …﴾(الحدید : 57؍13) ’’اس روز منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے ٹھہرو ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کر لیں، ان سے کہا جائے گا پیچھے لوٹ جاؤ اور وہاں روشنی تلاش کرو، پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا جس کے اندرونی جانب رحمت ہو گی اور بیرونی جانب عذاب۔ منافق پکار پکار کر اہل ایمان سے کہیں گے کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے؟‘‘ان منافقین کی صفات یہ ہیں ﴿ وَاِذَا قَامُوۡۤا اِلَى الصَّلٰوةِ ﴾ ’’جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ نماز جو کہ سب سے بڑی عملی نیکی ہے۔ اگر وہ نماز کے لیے کھڑے ہو ہی جاتے ہیں ﴿ قَامُوۡا كُسَالٰى ﴾ ’’تو سست ہوکر۔‘‘ یعنی بوجھل پن کے ساتھ تنگ دل اور زچ ہو کر اٹھتے ہیں۔’’کاہلی‘‘ کا اطلاق ان پر تب ہوتا ہے جب ان کے دلوں میں رغبت کا فقدان ہو، اگر انکے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب کی طرف رغبت سے خالی نہ ہوتے اور ان میں ایمان معدوم نہ ہوتا تو ان سے سستی اور کسل مندی کبھی صادر نہ ہوتی۔ ﴿ يُرَؔآءُوۡنَ النَّاسَ ﴾ ’’لوگوں کے دکھانے کو۔‘‘ یعنی یہ ان کی فطرت ہے اور یہی ان کے اعمال کا مصدر ہے۔ ان کے اعمال لوگوں کے دکھاوے کے لیے ہیں انکا مقصد محض ریاکاری اور لوگوں سے تعظیم اور احترام حاصل کرنا ہے۔ اپنے اعمال کو اللہ کے لیے خالص نہیں کرتے۔ لہٰذا فرمایا: ﴿ وَلَا يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر بہت کم۔‘‘ کیونکہ ان کے دل ریا سے لبریز ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کا التزام صرف مومن ہی کر سکتا ہے، کیونکہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت سے لبریز ہے۔
[143]﴿ مُّذَبۡذَبِيۡنَ بَيۡنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَلَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں۔ نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ ان کی طرف۔‘‘ یعنی وہ اہل ایمان اور کفار کے گروہوں کے درمیان متذبذب اور متردد ہیں۔ ظاہری اور باطنی طور پر اہل ایمان کے ساتھ ہیں نہ کفار کے ساتھ۔ انھوں نے اپنا باطن کفار کو عطا کر رکھا ہے اور ظاہر مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اور یہ سب سے بڑی گمراہی ہے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ﴾ ’’اور جس کو اللہ بھٹکائے تو آپ اس کے لیے کبھی بھی راستہ نہیں پائیں گے۔‘‘ یعنی آپ اس کی ہدایت کا کوئی راستہ اور اس کو گمراہی سے بچانے کے لیے کوئی وسیلہ نہیں پائیں گے کیونکہ اس پر رحمت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اس کی رحمت کی بجائے اللہ تعالیٰ کا غضب و انتقام اس کا نصیب بن چکا ہے۔یہ تمام مذموم اوصاف اشارتاً دلالت کرتے ہیں کہ اہل ایمان ان کی متضاد صفات سے متصف ہیں اور وہ ہیں ظاہر و باطن میں صدق اور اخلاص۔ انھیں اپنی نمازوں، عبادات اور کثرت ذکر الٰہی میں جو نشاط حاصل ہوتا ہے وہ سب معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت عطا کی اور صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ پس ایک عقل مند شخص کو چاہیے کہ وہ ان دو امور پر غور کرے اور جو اس کے لیے بہتر ہے اسے اختیار کر لے۔ واللہ المستعان۔
4:144Page 101
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡكَٰفِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَجۡعَلُواْ لِلَّهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطَٰنٗا مُّبِينًا ١٤٤
O you who have believed, do not take the disbelievers as allies instead of the believers. Do you wish to give Allāh against yourselves a clear case?
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم کافروں کو دوست سوائے مومنوں کے، کیا چاہتے ہو تم یہ کہ (ثابت) کرو اللہ کے لیے اپنے خلاف حجت ظاہر؟(144)
[144] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کفار کو دوست بناتے ہیں۔ اس لیے اس نے اپنے مومن بندوں کو اس قبیح حالت سے متصف ہونے سے روکا ہے۔ نیز انھیں منافقین کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا ہے۔ کیونکہ تمھارا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو حجت فراہم کرے گا فرمایا: ﴿ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطٰنًا مُّؔبِيۡنًا ﴾ ’’یہ کہ تم اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام لو۔‘‘ یعنی تمھیں عذاب دینے کے لیے یہ واضح دلیل ہو گی۔ کیونکہ ہم تمھیں اس رویے سے ڈرا چکے ہیں اور تمھیں اس سے بچنے کی تلقین کر چکے ہیں اور اس میں جو مفاسد پنہاں ہیں ان سے آگاہ کر چکے ہیں۔ اس کے بعد بھی اسی راہ پر چلنا عذاب کا موجب ہو گا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے کامل عدل پر دلالت کرتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قانون پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حجت قائم کرنے سے پہلے کسی کو سزا نہیں دے گا اور اس میں گناہوں سے بچنے کی تلقین ہے کیونکہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اپنے خلاف اللہ تعالیٰ کو واضح دلیل فراہم کرتا ہے۔
4:145–147Page 101
إِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ فِي ٱلدَّرۡكِ ٱلۡأَسۡفَلِ مِنَ ٱلنَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمۡ نَصِيرًا ١٤٥
Indeed, the hypocrites will be in the lowest depths of the Fire - and never will you find for them a helper -
إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ وَأَصۡلَحُواْ وَٱعۡتَصَمُواْ بِٱللَّهِ وَأَخۡلَصُواْ دِينَهُمۡ لِلَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ مَعَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۖ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَجۡرًا عَظِيمٗا ١٤٦
Except for those who repent, correct themselves, hold fast to Allāh, and are sincere in their religion for Allāh, for those will be with the believers. And Allāh is going to give the believers a great reward.
مَّا يَفۡعَلُ ٱللَّهُ بِعَذَابِكُمۡ إِن شَكَرۡتُمۡ وَءَامَنتُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمٗا ١٤٧
What would Allāh do with [i.e., gain from] your punishment if you are grateful and believe? And ever is Allāh Appreciative1 and Knowing.
بلاشبہ منافقین سب سے نچلے درجے میں ہوں گے آگ کے اور ہرگز نہیں پائیں گے آپ ان کے لیے کوئی مددگار(145) سوائے ان کے جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور مضبوط پکڑا اللہ (کے دین) کو اور خالص کر لیا اپنا دین اللہ کے لیے، پس یہ لوگ ساتھ ہوں گے مومنوں کےاور عنقریب دے گا اللہ مومنوں کو اجر بہت بڑا(146) کیا کرے گا اللہ تمھیں عذاب دے کر اگر شکر کرو تم اور ایمان لے آؤ تم؟ اور ہے اللہ قدر دان خوب جاننے والا(147)
[145] اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے انجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وہ تمام کفار کے نیچے ہوں گے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے اور رسول اللہﷺکی عداوت میں کفار کے ساتھ شریک تھے مزید برآں وہ مکر و فریب اور اہل ایمان کے ساتھ مختلف اقسام کی عداوت رکھتے تھے اور یہ عداوت اس طرح رکھتے تھے کہ وہ محسوس نہیں ہوتی تھی بنابریں ان پر اسلام کے احکام جاری ہوتے تھے اور اس بنیاد پر وہ اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے حالانکہ وہ اس کے مستحق نہ تھے۔ پس اس قسم کے مکرو فریب اور ہتھکنڈوں کی بنا پر سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ کوئی ہستی ان کو اس عذاب سے بچا سکے گی نہ کوئی مددگار اس عذاب کو ان سے دور کر سکے گا۔
[146] یہ عذاب ہر منافق کے لیے عام ہے سوائے ان کے جن کو اللہ تعالیٰ گناہوں سے توبہ کی توفیق سے نواز دے ﴿ وَاَصۡلَحُوۡا ﴾ ’’اور وہ (اپنے ظاہر و باطن کی) اصلاح کر لیں۔‘‘ ﴿ وَاعۡتَصَمُوۡا بِاللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ (کی رسی) کو مضبوط پکڑلیں۔‘‘ اپنے منافع کے حصول اور ضرر کے دفعیہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیں ﴿ وَاَخۡلَصُوۡا دِيۡنَهُمۡ ﴾ ’’اور اپنے دین کو خالص کر لیں‘‘ یہاں دین سے مراد اسلام، ایمان اور احسان ہے ﴿ لِلّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے لیے‘‘ یعنی ظاہری اور باطنی اعمال میں ان کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو نیز ریا اور نفاق سے بچے ہوئے ہوں۔ جو لوگ ان صفات سے متصف ہوں گے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ وہی دنیا، برزخ اور آخرت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوں گے ﴿ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور اللہ عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ عنقریب اہل ایمان کو ایسے اجر سے نوازے گا جس کی حقیقت و ماہیت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں اس کے تصور کا گزر ہوا ہے۔غور کیجیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ’’اعتصام باللہ‘‘ اور ’’اخلاص‘‘ کا خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (وَاَصْلَحُوْا) میں داخل ہیں کیونکہ ’’اِعْتِصَام بِاللہِ‘‘ اور ’’اِخْلَاص‘‘ اصلاح کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلاح میں ان دو امور کی سخت ضرورت ہے۔ خاص طورپر یہ مقام حرج جہاں دلوں میں نفاق جڑ پکڑ لیتا ہے.... اور نفاق کو صرف اعتصام باللہ، اللہ کے پاس پناہ لینے، اور اس کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی حاجت پیش کر کے ہی زائل کیا جا سکتا ہے اخلاص ہر لحاظ سے پوری طرح نفاق کے منافی ہے۔ اخلاص اور اعتصام کی فضیلت کی بنا پر ان کا تذکرہ کیا ہے، تمام ظاہری اور باطنی اعمال کا دار و مدار انھی دو امور پر ہے کیونکہ اس مقام پر ان دونوں امور کی سخت حاجت ہوتی ہے۔ اس امر پر بھی غور کیجیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ان کا ذکر کیا تو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اس نے یہ نہیں فرمایا (وَسَوْفَ یُؤْتِیْھِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا) بلکہ فرمایا ﴿ وَسَوۡفَ يُؤۡتِ اللّٰهُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدۂ شریف ہے جس کا وہ ہمیشہ اعادہ کرتا رہا ہے کہ جب کلام کا سیاق بعض جزئیات کے بارے میں ہو اور اللہ تعالیٰ ان جزئیات پر ثواب یا عقاب مرتب کرنا چاہتا ہو اور جس جنس میں یہ جزئیات داخل ہیں عذاب یا عقاب ان میں مشترک ہو۔ تو وہ عام حکم کے مقابلہ میں، جس کے تحت یہ قضیہ مندرج ہے ثواب مرتب کرتا ہے تاکہ اس جزوی امر کے ساتھ حکم کا اختصاص متوہم نہ ہو یہ قرآن کریم کے اسرار و بدائع ہیں۔ پس منافقین میں سے اپنے نفاق سے توبہ کرنے والا شخص اہل ایمان کے ساتھ ہو گا اور اسے بھی اہل ایمان والا ثواب ملے گا۔
[147] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال غنا، وسعت حلم و رحمت اور احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ مَا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تم (اللہ کے) شکر گزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔‘‘ اور حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قدر شناس اور علم رکھنے والا ہے۔ وہ اپنے راستے میں بوجھ اٹھانے والوں اور اعمال میں مشقت برداشت کرنے والوں کو بہت زیادہ ثواب اور بے پایاں احسان سے نوازے گا۔جو کوئی اللہ تعالیٰ کی خاطر کوئی چیز ترک کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ وہ ظاہر و باطن اور تمھارے اعمال کو جانتا ہے۔ وہ ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو صدق و اخلاص سے صادر ہوتے ہیں اور ان اعمال کا بھی علم رکھتا ہے جو ان کی ضد ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تم توبہ اور انابت کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرو۔ اور جب تم اس کی طرف رجوع کرو گے تو وہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا؟ وہ تشفی حاصل کرنے کے لیے تمھیں عذاب اور کسی فائدے کے حصول کی خاطر تمھیں عقاب میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ معاصی کا ارتکاب کرنے والا اپنے آپ ہی کو نقصان دیتا ہے جیسے اطاعت کرنے والے کا عمل صرف اس کی ذات کے لیے ہے۔شکر دل کے خضوع، اس کے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرنے اور زبان سے مشکور کی مدح و ثنا بیان کرنے کا نام ہے۔ نیز شکر یہ ہے کہ جوارح مشکور کی اطاعت کے اعمال میں مصروف ہوں اور وہ منعم و مشکور کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کرے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences