An-NisaJuz 6 · Page 106

An-Nisa 4:176

The Women · Juz 6 · Page 106

يَسۡتَفۡتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِي ٱلۡكَلَٰلَةِۚ إِنِ ٱمۡرُؤٌاْ هَلَكَ لَيۡسَ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَهُۥٓ أُخۡتٞ فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهَا وَلَدٞۚ فَإِن كَانَتَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُمَا ٱلثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَۚ وَإِن كَانُوٓاْ إِخۡوَةٗ رِّجَالٗا وَنِسَآءٗ فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ أَن تَضِلُّواْۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ ١٧٦

They request from you a [legal] ruling. Say, "Allāh gives you a ruling concerning one having neither descendants nor ascendants [as heirs]." If a man dies, leaving no child but [only] a sister, she will have half of what he left. And he inherits from her if she [dies and] has no child. But if there are two sisters [or more], they will have two thirds of what he left. If there are both brothers and sisters, the male will have the share of two females.1 Allāh makes clear to you [His law], lest you go astray. And Allāh is Knowing of all things.

1 translator’s note
  1. This verse relates to siblings from the father's side or from both parents, whereas in Āyah 12 it concerned those from the mother's side alone. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 4:176

فتویٰ پوچھتے ہیں وہ آپ سے، کہہ دیجیے! اللہ فتویٰ دیتا ہے تمھیں کلالہ کے بارے میں کہ اگر کوئی مرد مر جائے، نہ ہو اس کی کوئی اولاد اوراس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے آدھا ہے اس (مال) کا جو وہ چھوڑ گیا اور وہ وارث ہوگا اس بہن کااگر نہ ہو اس بہن کی اولاد ، پھر اگر ہوں وہ دو بہنیں تو ان کے لیے ہے دو تہائی اس میں سے جو وہ چھوڑ گیا اور اگر (وارث) ہوں کئی بھائی (بہن)، مرد اور عورتیں تو واسطے مرد کے ہے مثل حصے دو عورتوں کے۔ وضاحت کرتا ہے اللہ تمھارے لیے تاکہ نہ گمراہ ہو تم اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے(176)

[176] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے کلالہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تھا اور اس کی دلیل یہ ہے ﴿قُلِ اللّٰهُ يُفۡتِيۡكُمۡ فِي الۡكَلٰلَةِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ تعالیٰ تمھیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے‘‘ (کَلَالَہ) سے مراد وہ میت ہے جس کی صلب سے کوئی اولاد ہو، نہ کوئی پوتا پوتی، نہ باپ ہو نہ دادا۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنِ امۡرُؤٌا هَلَكَ لَيۡسَ لَهٗ وَلَدٌ ﴾ ’’اگر کوئی ایسا مرد مر جائے جس کے اولاد نہ ہو۔‘‘ یعنی اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہو، نہ صلبی بیٹا ہو اور نہ بیٹے کا بیٹا ہو… اور اسی طرح نہ اس کا باپ ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بھائی اور بہنیں اس کے وارث بنیں گے کیونکہ اس پر علماء کا اجماع ہے کہ بہن بھائی باپ کی معیت میں وارث نہیں بنیں گے۔ پس جب ایسا شخص فوت ہو جائے گا جس کی اولاد ہے نہ باپ ﴿وَّلَهٗۤ اُخۡتٌ ﴾ البتہ اس کی حقیقی یا باپ شریک بہن ہے، نہ کہ ماں شریک کیونکہ اس کا حکم پہلے گزر چکا ہے۔ ﴿فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَ﴾ ’’اس (بہن)کے کے لیے ترکے میں سے آدھا حصہ ہے۔‘‘ یعنی بہن کو کلالہ بھائی کے ترکہ، یعنی نقدی، جائداد اور دیگر اثاثوں میں سے نصف ملے گا۔ یہ حصہ میت کی وصیت پوری کرنے اور قرض کی ادائیگی کے بعد دیا جائے گا۔ جیسا کہ اس کے بارے میں احکام گزشتہ اوراق میں گزر چکے ہیں ۔﴿وَهُوَ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی میت کا حقیقی بھائی یا باپ کی طرف سے بھائی ﴿يَرِثُهَاۤ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهَا وَلَدٌ﴾ ’’اس بہن کا وارث ہو گا، اگر اس کی اولاد نہیں ہو گی‘‘ اور اس کے لیے حصۂ میراث مقرر نہ ہو کیونکہ وہ تو عصبہ ہے اگر اصحاب فروض یا عصبہ میں شریک کوئی فرد نہ ہو تو وہ تمام ترکہ لے گا یا اصحاب فروض کو ان کے حصے دینے کے بعد جو کچھ باقی بچے گا وہ اس کو ملے گا۔ ﴿فَاِنۡ كَانَتَا اثۡنَتَيۡنِ ﴾ ’’اور اگر دو بہنیں ہوں ۔‘‘ یعنی دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں ﴿فَلَهُمَا الثُّلُـثٰنِ مِمَّؔا تَرَكَ﴾ ’’تو ان کو ترکے میں سے دو تہائی ملے گا‘‘ ﴿وَاِنۡ كَانُوۡۤا اِخۡوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً ﴾ ’’اور اگر بھائی اور بہن، یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں ۔‘‘ یعنی اگر باپ کی طرف سے بھائی اور بہنیں وارث ہوں ﴿فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ ﴾ ’’تو مرد کے لیے، دو عورتوں کے برابر حصہ ہے‘‘ پس عورتوں کا مقررہ حصہ (دو تہائی) ساقط ہو جائے گا اور ان عورتوں کو ان کے بھائی عصبہ بنا دیں گے۔ (گویا اس میں عصبات کا حکم بیان کیا گیا ہے)عورتوں کا حصہ ساقط ہو جائے گا اور ان کے بھائی ان کے عصبہ بنیں گے۔﴿يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اَنۡ تَضِلُّوۡا ﴾ ’’اللہ تم سے اس لیے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے ان احکام کو واضح کرتا ہے اور ان کی تشریح کرتا ہے جن کے تم محتاج ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل و احسان ہے تاکہ تم راہ ہدایت پا لو۔ اور تم اس کے احکام پر عمل کرو اور تاکہ تم اپنی جہالت اور عدم علم کی وجہ سے راہ راست سے بھٹک نہ جاؤ۔ ﴿وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ غائب اور موجود، ماضی اور مستقبل کے تمام امور کو جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم اس کی وضاحت اور تعلیم کے محتاج ہو، وہ اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھاتاہے جو تمھیں ہر زمان و مکان میں ہمیشہ فائدہ دے گا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 106

An-NisaJuz 6 · Page 106

4:176

يَسۡتَفۡتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِي ٱلۡكَلَٰلَةِۚ إِنِ ٱمۡرُؤٌاْ هَلَكَ لَيۡسَ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَهُۥٓ أُخۡتٞ فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهَا وَلَدٞۚ فَإِن كَانَتَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُمَا ٱلثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَۚ وَإِن كَانُوٓاْ إِخۡوَةٗ رِّجَالٗا وَنِسَآءٗ فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ أَن تَضِلُّواْۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ ١٧٦

They request from you a [legal] ruling. Say, "Allāh gives you a ruling concerning one having neither descendants nor ascendants [as heirs]." If a man dies, leaving no child but [only] a sister, she will have half of what he left. And he inherits from her if she [dies and] has no child. But if there are two sisters [or more], they will have two thirds of what he left. If there are both brothers and sisters, the male will have the share of two females.1 Allāh makes clear to you [His law], lest you go astray. And Allāh is Knowing of all things.

1 translator’s note
  1. This verse relates to siblings from the father's side or from both parents, whereas in Āyah 12 it concerned those from the mother's side alone. ↩

سورة المائدة

Al-Ma'idah

The Table Spread · Medinan · 120 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

5:1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ أُحِلَّتۡ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلۡأَنۡعَٰمِ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ غَيۡرَ مُحِلِّي ٱلصَّيۡدِ وَأَنتُمۡ حُرُمٌۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيدُ ١

O you who have believed, fulfill [all] contracts.1 Lawful for you are the animals of grazing livestock except for that which is recited to you [in this Qur’ān] - hunting not being permitted while you are in the state of iḥrām.2 Indeed, Allāh ordains what He intends.

2 translator’s notes
  1. Which includes promises, covenants, oaths, etc.

    [240] The state of ritual consecration for ḥajj or ʿumrah.

    ↩
  2. ↩

5:2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحِلُّواْ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهۡرَ ٱلۡحَرَامَ وَلَا ٱلۡهَدۡيَ وَلَا ٱلۡقَلَٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلۡبَيۡتَ ٱلۡحَرَامَ يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَٰنٗاۚ وَإِذَا حَلَلۡتُمۡ فَٱصۡطَادُواْۚ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُواْۘ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢

O you who have believed, do not violate the rites of Allāh or [the sanctity of] the sacred month or [neglect the marking of] the sacrificial animals and garlanding [them] or [violate the safety of] those coming to the Sacred House seeking bounty from their Lord and [His] approval. But when you come out of iḥrām, then [you may] hunt. And do not let the hatred of a people for having obstructed you from al-Masjid al-Ḥarām lead you to transgress. And cooperate in righteousness and piety, but do not cooperate in sin and aggression. And fear Allāh; indeed, Allāh is severe in penalty.

As-Sa'diTafsir · 4:176

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском