Al-Ma'idahJuz 6 · Page 106

Al-Ma'idah 5:1

The Table Spread · Juz 6 · Page 106

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ أُحِلَّتۡ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلۡأَنۡعَٰمِ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ غَيۡرَ مُحِلِّي ٱلصَّيۡدِ وَأَنتُمۡ حُرُمٌۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيدُ ١

O you who have believed, fulfill [all] contracts.1 Lawful for you are the animals of grazing livestock except for that which is recited to you [in this Qur’ān] - hunting not being permitted while you are in the state of iḥrām.2 Indeed, Allāh ordains what He intends.

2 translator’s notes
  1. Which includes promises, covenants, oaths, etc.

    [240] The state of ritual consecration for ḥajj or ʿumrah.

    ↩
  2. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 5:1

اے ایمان والو! پورا کرو تم عہدوں کو، حلال کر دیے گئے ہیں تمھارے لیے چارپائے مویشی، سوائے ان کے جن کی تلاوت کی جائے گی (ابھی) تم پر، اس حال میں کہ نہ حلال جاننے والے ہو تم شکار کو جبکہ تم حالت احرام میں ہو، بے شک اللہ فیصلہ کرتا ہے جو چاہتا ہے(1)

[1] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کو اس بات کا حکم ہے جس کا ایمان تقاضا کرتا ہے اور وہ یہ کہ معاہدوں کو پورا کیا جائے۔ ان میں کمی کی جائے نہ ان کو توڑا جائے۔ یہ آیت کریمہ ان تمام معاہدوں کو شامل ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہیں جیسے اس کی عبودیت کا التزام، اسے پوری طرح قائم رکھنا اور اس کے حقوق میں سے کچھ کمی نہ کرنا۔ اور یہ ان معاہدوں کو بھی شامل ہے جو بندے اور رسول اللہﷺ کے مابین آپ کی اتباع اور اطاعت کے بارے میں ہیں ۔ اور اسی طرح اس میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو بندے اور اس کے والدین اور اس کے عزیز و اقارب کے درمیان ان کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی اور عدم قطع رحمی کے بارے میں ہیں ۔ نیز اس آیت کریمہ کے حکم میں وہ معاہدے بھی شامل ہیں جو فراخی اور تنگ دستی، آسانی اور تنگی میں صحبت اور دوستی کے حقوق کے بارے میں ہیں ۔ اس کے تحت وہ معاہدے بھی آتے ہیں جو معاملات، مثلاً: خرید و فروخت اور اجارہ وغیرہ کے ضمن میں بندے اور لوگوں کے درمیان ہیں ۔ اس میں صدقات اور ہبہ وغیرہ کے معاہدے کی پابندی، مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ بھی شامل ہے جن کی پابندی کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں عائد کیا ہے۔ ﴿اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ ﴾(الحجرات: 49؍10) ’’تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔‘‘بلکہ حق کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کرنا، مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ پیار اور محبت سے مل جل کر رہنا اور قطع تعلقات سے اجتناب وغیرہ تک شامل ہے۔پس اس حکم میں دین کے تمام اصول و فروع شامل ہیں اور دین کے تمام اصول و فروع ان معاہدوں میں داخل ہیں جن کی پابندی کا اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:﴿اُحِلَّتۡ لَكُمۡ ﴾ ’’تمھارے لیے حلال کردیے گئے۔‘‘ یعنی تمھاری خاطر اور تم پر رحمت کی بنا پر حلال کر دیے گئے ہیں ﴿بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ ﴾ ’’چوپائے مویشی‘‘ یعنی اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ بلکہ بسا اوقات اس میں جنگلی جانور ، مثلاً: ہرن اور گورخر اور اس قسم کے دیگر شکار کیے جانے والے جانور بھی شامل ہیں ۔ بعض صحابہ کرامy اس آیت کریمہ سے اس بچے کی حلت پر بھی استدلال کرتے ہیں جو ذبح کرتے وقت مذبوحہ کے پیٹ میں ہوتا ہے اور ذبح کرنے کے بعد وہ مذبوحہ کے پیٹ میں مر جاتا ہے۔( حدیث میں بھی ایسے بچے کو یہ کہہ کر حلال قرار دیا گیا ہے ذَکوٰۃُ الْجَنِیْنِ ذَکَاۃُ اُمِّہِ (سنن أبي داود، و جامع الترمذي، بحوالہ صحیح الجامع) ’’بچے کا ذبح کرنا یہی ہے کہ اس کی ماں کو ذبح کر لیا جائے۔‘‘ یعنی ماں کا ذبح کر لینا‘ بچے کی حلت کیلیے کافی ہے۔ (ص ۔ ی)﴿اِلَّا مَا يُتۡلٰى ﴾ ’’سوائے ان چیزوں (کی تحریم) کے جو تمھیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں ۔‘‘ جیسے فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ وَمَاۤ اُهِلَّ لِغَيۡرِ اللّٰهِ بِهٖ وَالۡمُنۡخَنِقَةُ وَالۡمَوۡقُوۡذَةُ وَالۡمُتَرَدِّيَةُ۠ وَالنَّطِيۡحَةُ وَمَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّـيۡتُمۡ ﴾ الآیۃ (المائدۃ: 5؍3) ’’تم پر حرام کر دیا گیا مردار، خون، سور کا گوشت، جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر جائے، جو چوٹ لگ کر مر جائے، جو گر کر مر جائے، جو سینگ لگ کر مر جائے اور وہ جانور جسے درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم ذبح کر لو اور وہ جانور جو آستانوں پر ذبح کیے جائیں …‘‘ مذکورہ بالا تمام جانور اگرچہ ﴿بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ ﴾ مویشیوں میں شامل ہیں تاہم یہ مردار ہونے کی وجہ سے حرام ہیں ۔یہ چوپائے مویشی عام طور پر تمام احوال و اوقات میں مباح ہیں البتہ احرام کی حالت میں ان کے شکار کو مستثنی قرار دیا گیا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ غَيۡرَ مُحِلِّي الصَّيۡدِ وَاَنۡتُمۡ حُرُمٌ﴾ ’’مگر حلال نہ جانو شکار کو احرام کی حالت میں ‘‘ یعنی یہ جانور تمھارے لیے تمام احوال میں حلال ہیں سوائے اس حالت میں جبکہ تم احرام حج کی حالت میں ہو تب اس حالت میں شکار نہ کرو، یعنی احرام میں ان کو مارنے کی جرأت نہ کرو۔ کیونکہ حالت احرام میں ان کا شکار کرنا ، مثلاً:ہرن وغیرہ کو مارنا تمھارے لیے جائز نہیں ۔ شکار سے مراد وہ جنگلی جانور ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيۡدُ﴾ ’’بے شک اللہ جو چاہے، فیصلہ کرتا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جو بھی ارادہ کرتا ہے اس امر کے مطابق فیصلہ کرتا ہے جو اس کی حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جس طرح اس نے تمھارے مصالح کے حصول اور مضرت کو دور کرنے کے لیے تمھیں معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا اور تم پر رحمت کی بنا پر اس نے تمھارے لیے مویشیوں کو حلال قرار دیا اور بعض موانع کی وجہ سے جو جانور ان میں سے مستثنی ہیں ان کو حرام قرار دیا ، مثلاً: مردار وغیرہ اس کا مقصد تمھاری حفاظت اور احترام ہے۔ احرام کی حالت میں شکار کو حرام قرار دیا اور اس کا مقصد احرام کا احترام اور تعظیم ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 106

An-NisaJuz 6 · Page 106

4:176

يَسۡتَفۡتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِي ٱلۡكَلَٰلَةِۚ إِنِ ٱمۡرُؤٌاْ هَلَكَ لَيۡسَ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَهُۥٓ أُخۡتٞ فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهَا وَلَدٞۚ فَإِن كَانَتَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُمَا ٱلثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَۚ وَإِن كَانُوٓاْ إِخۡوَةٗ رِّجَالٗا وَنِسَآءٗ فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ أَن تَضِلُّواْۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمُۢ ١٧٦

They request from you a [legal] ruling. Say, "Allāh gives you a ruling concerning one having neither descendants nor ascendants [as heirs]." If a man dies, leaving no child but [only] a sister, she will have half of what he left. And he inherits from her if she [dies and] has no child. But if there are two sisters [or more], they will have two thirds of what he left. If there are both brothers and sisters, the male will have the share of two females.1 Allāh makes clear to you [His law], lest you go astray. And Allāh is Knowing of all things.

1 translator’s note
  1. This verse relates to siblings from the father's side or from both parents, whereas in Āyah 12 it concerned those from the mother's side alone. ↩

سورة المائدة

Al-Ma'idah

The Table Spread · Medinan · 120 ayahs

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

5:1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ أُحِلَّتۡ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلۡأَنۡعَٰمِ إِلَّا مَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ غَيۡرَ مُحِلِّي ٱلصَّيۡدِ وَأَنتُمۡ حُرُمٌۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحۡكُمُ مَا يُرِيدُ ١

O you who have believed, fulfill [all] contracts.1 Lawful for you are the animals of grazing livestock except for that which is recited to you [in this Qur’ān] - hunting not being permitted while you are in the state of iḥrām.2 Indeed, Allāh ordains what He intends.

2 translator’s notes
  1. Which includes promises, covenants, oaths, etc.

    [240] The state of ritual consecration for ḥajj or ʿumrah.

    ↩
  2. ↩

5:2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُحِلُّواْ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهۡرَ ٱلۡحَرَامَ وَلَا ٱلۡهَدۡيَ وَلَا ٱلۡقَلَٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلۡبَيۡتَ ٱلۡحَرَامَ يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّهِمۡ وَرِضۡوَٰنٗاۚ وَإِذَا حَلَلۡتُمۡ فَٱصۡطَادُواْۚ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ أَن صَدُّوكُمۡ عَنِ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ أَن تَعۡتَدُواْۘ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٢

O you who have believed, do not violate the rites of Allāh or [the sanctity of] the sacred month or [neglect the marking of] the sacrificial animals and garlanding [them] or [violate the safety of] those coming to the Sacred House seeking bounty from their Lord and [His] approval. But when you come out of iḥrām, then [you may] hunt. And do not let the hatred of a people for having obstructed you from al-Masjid al-Ḥarām lead you to transgress. And cooperate in righteousness and piety, but do not cooperate in sin and aggression. And fear Allāh; indeed, Allāh is severe in penalty.

As-Sa'diTafsir · 5:1

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском