Ghafir 40:72
The Forgiver · Juz 24 · Page 475
فِي ٱلۡحَمِيمِ ثُمَّ فِي ٱلنَّارِ يُسۡجَرُونَ ٧٢
In boiling water; then in the Fire they will be filled [with flame].
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 40:69–76
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں؟(69) وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس (وحی ) کو کہ بھیجا ہم نے ساتھ اس کےاپنے رسولوں کو، پس عنقریب وہ جان لیں گے(70)جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، وہ گھسیٹے جائیں گے(71) کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں وہ جلائے جائیں گے(72) پھر کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کو تھے تم شریک ٹھہراتے (73)سوائے اللہ کے ؟ وہ کہیں گے: گم ہو گئے وہ ہم سےبلکہ نہیں تھے ہم پکارتے اس سے پہلے کسی چیز کو بھی، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ کافروں کو(74) یہ (عذاب ) اس سبب سے ہے کہ تھےتم خوش ہوتے زمین میں ناحق اور بسبب اس کے کہ تھے تم اتراتے(75) داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے والے اس میں ، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا(76)
[69]﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ کیا آپ(ﷺ) کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔‘‘ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
[72-70] بدترین ہے وہ چیز جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خردمند ہیں۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان کے لیے جزا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔‘‘ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کر سکیں گے ﴿وَالسَّلٰسِلُ ﴾ ’’اور زنجیریں (ہوں گی)‘‘ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ ﴿يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾ ’’ پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘ ان کے لیے بڑے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا ، پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجروتوبیخ کی جائے گی۔
[73، 74] اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے ۔‘‘ کیا انھوں نے تمھیں کوئی فائدہ دیا یا انھوں نے تم سے عذاب کو دور کر دیا؟ ﴿قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے: وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں‘‘ یعنی وہ ہم سے دور ہو گئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿بَلۡ لَّمۡ نَؔكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔‘‘ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کی اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے،اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انھوں نے اس ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس گمراہی کی مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(یونس: 10؍66) ’’اور جو لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض و ہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ کا معنی بھی واضح ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔‘‘ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے: ﴿وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾(الاحقاف:46؍5) ’’اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘
[75] اہل جہنم سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ﴾ ’’ اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔‘‘ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے آخر میں فرمایا:﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾(المؤمن: 40؍83) ’’جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ اور جیسا کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا تھا: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
[76]﴿اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ‘‘ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں تم ہمیشہ رہو گے‘‘ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
Page 475
40:67
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٖ ثُمَّ يُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلٗا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوٓاْ أَشُدَّكُمۡ ثُمَّ لِتَكُونُواْ شُيُوخٗاۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبۡلُۖ وَلِتَبۡلُغُوٓاْ أَجَلٗا مُّسَمّٗى وَلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ٦٧
It is He who created you from dust, then from a sperm-drop, then from a clinging clot; then He brings you out as a child; then [He develops you] that you reach your [time of] maturity, then [further] that you become elders. And among you is he who is taken in death before [that], so that you reach a specified term;1 and perhaps you will use reason.
1 translator’s note
- The time decreed for your death. ↩
40:68
هُوَ ٱلَّذِي يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَإِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٦٨
He it is who gives life and causes death; and when He decrees a matter, He but says to it, "Be," and it is.
40:69
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ أَنَّىٰ يُصۡرَفُونَ ٦٩
Do you not consider those who dispute concerning the signs of Allāh - how are they averted?
40:70
ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِٱلۡكِتَٰبِ وَبِمَآ أَرۡسَلۡنَا بِهِۦ رُسُلَنَاۖ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ ٧٠
Those who deny the Book [i.e., the Qur’ān] and that with which We sent Our messengers - they are going to know,
40:71
إِذِ ٱلۡأَغۡلَٰلُ فِيٓ أَعۡنَٰقِهِمۡ وَٱلسَّلَٰسِلُ يُسۡحَبُونَ ٧١
When the shackles are around their necks and the chains; they will be dragged
40:72
فِي ٱلۡحَمِيمِ ثُمَّ فِي ٱلنَّارِ يُسۡجَرُونَ ٧٢
In boiling water; then in the Fire they will be filled [with flame].
40:73
ثُمَّ قِيلَ لَهُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تُشۡرِكُونَ ٧٣
Then it will be said to them, "Where is that which you used to associate [with Him in worship]
40:74
مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالُواْ ضَلُّواْ عَنَّا بَل لَّمۡ نَكُن نَّدۡعُواْ مِن قَبۡلُ شَيۡـٔٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧٤
Other than Allāh?" They will say, "They have departed from us; rather, we did not used to invoke previously anything." Thus does Allāh put astray the disbelievers.
40:75
ذَٰلِكُم بِمَا كُنتُمۡ تَفۡرَحُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَمۡرَحُونَ ٧٥
[The angels will say], "That was because you used to exult upon the earth without right and you used to behave insolently.
40:76
ٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ ٧٦
Enter the gates of Hell to abide eternally therein, and wretched is the residence of the arrogant."
40:77
فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيۡنَا يُرۡجَعُونَ ٧٧
So be patient, [O Muḥammad]; indeed, the promise of Allāh is truth. And whether We show you some of what We have promised them or We take you in death, it is to Us they will be returned.