As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Ghafir 40:61–81
40:61–65Page 474
ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلَّيۡلَ لِتَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡكُرُونَ ٦١
It is Allāh who made for you the night that you may rest therein and the day giving sight.1 Indeed, Allāh is the possessor of bounty for the people, but most of them are not grateful.
ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ خَٰلِقُ كُلِّ شَيۡءٖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ ٦٢
That is Allāh, your Lord, Creator of all things; there is no deity except Him, so how are you deluded?
كَذَٰلِكَ يُؤۡفَكُ ٱلَّذِينَ كَانُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ ٦٣
Thus were those [before you] deluded who were rejecting the signs of Allāh.
ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَرۡضَ قَرَارٗا وَٱلسَّمَآءَ بِنَآءٗ وَصَوَّرَكُمۡ فَأَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡۖ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٦٤
It is Allāh who made for you the earth a place of settlement and the sky a structure [i.e., ceiling] and formed you and perfected your forms and provided you with good things. That is Allāh, your Lord; then blessed is Allāh, Lord of the worlds.
هُوَ ٱلۡحَيُّ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱدۡعُوهُ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۗ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٦٥
He is the Ever-Living;1 there is no deity except Him, so call upon Him, [being] sincere to Him in religion. [All] praise is [due] to Allāh, Lord of the worlds.
اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے رات کو تاکہ تم آرام کرو اس میں اور (بنایا) دن کو دکھلانے والا، بلاشبہ اللہ البتہ بڑے فضل والا ہے لوگوں پر لیکن اکثر لوگ نہیں شکر کرتے (61) یہی اللہ رب ہے تمھارا، پیدا کرنے والا ہرچیز کا، نہیں کوئی معبود مگر وہی، پس کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟ (62) اسی طرح پھیرے گئے وہ لوگ جو تھے اللہ کی آیتوں کا انکارکرتے (63) اللہ وہ ہے جس نے بنایا تمھارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت اور اس نے صورتیں بنائیں تمھاری تو اچھی بنائیں صورتیں تمھاری اور اس نے رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے، یہی اللہ رب ہے تمھارا، پس بہت بابرکت ہے اللہ رب جہانوں کا (64) وہ زندہ ہے، نہیں کوئی معبود مگروہی، پس پکارو تم اسی کو خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی کو، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب ہے جہانوں کا (65)
[61] اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الَّيۡلَ ﴾ ’’اللہ وہ ذات ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھاری خاطر رات کو سیاہ بنایا ﴿لِتَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ ﴾’’تاکہ تم اس میں آرام کرسکو‘‘ تاکہ تم اپنی حرکات سے سکون پاؤ اگر یہ حرکات دائمی ہوتیں تو تمھیں نقصان پہنچتا۔ اور سکون کے حصول کے لیے تم اپنے بستروں میں پناہ لیتے ہو، اللہ تعالیٰ تم پر نیند طاری کر دیتا ہے جس سے انسان کا قلب و بدن آرام پاتے ہیں۔ نیند انسانی ضروریات کا حصہ ہے انسان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور رات کے وقت ہر حبیب اپنے حبیب کے پاس آرام کرتا ہے، فکر مجتمع ہوتی ہے اور مشاغل کم ہو جاتے ہیں۔﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ بنایا اللہ تعالیٰ نے ﴿النَّهَارَ مُبۡصِرًا ﴾’’دن کو دکھلانے والا‘‘ یعنی روشنی والا جو اپنے مدار میں رواں دواں سورج کی روشنی سے روشن ہوتا ہے۔ اور تم اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے روز مرہ کے دینی اور دنیاوی امور میں مشغول ہوجاتے ہو، کوئی ذکر اور قراء ت قرآن میں مشغول ہے، کوئی نماز پڑھ رہا ہے، کوئی طلب علم میں مصروف ہے اور کوئی خریدوفروخت اور کاروبار کر رہا ہے۔ کوئی معمار ہے تو کوئی لوہار وغیرہ اپنے کام اور صنعت میں مصروف ہے۔ کوئی بری یا بحری سفر کر رہا ہے، کوئی کھیتی باڑی کے کاموں میں لگ گیا ہے تو کوئی اپنے جانوروں اور مویشیوں کے بندوبست میں مصروف ہے۔﴿اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ ﴾ ’’بے شک اللہ فضل والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ عظیم فضل و کرم کا مالک ہے جیسا کہ اس پر (فَضْلٍ) کی تنکیر دلالت کرتی ہے۔ ﴿عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’تمام لوگوں پر‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان مذکورہ اور دیگر نعمتوں سے نوازا اور ان سے مصائب کو دور کیا اور یہ چیز ان پر کامل شکر اور کامل ذکر کو واجب کرتی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡكُرُوۡنَ ﴾ مگر اکثر لوگ اپنے ظلم اور جہالت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا شکر نہیں کرتے جیسا کہ فرمایا: ﴿وَقَلِيۡلٌ مِّنۡ عِبَادِيَ الشَّكُوۡرُ ﴾(السبا: 34؍13) ’’میرے بندوں میں کم ہی لوگ شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘ جو اپنے رب کی نعمت کا اقرار کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوں، اس سے محبت کرتے ہوں، ان نعمتوں کو اپنے آقا کی رضا کے مطابق استعمال کرتے ہوں۔
[62]﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ جس نے یہ سب کچھ کیا ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب‘‘ جو اپنی الوہیت اور ربوبیت میں منفرد ہے اور ان نعمتوں میں اس کا منفرد ہونا اس کی ربوبیت میں سے ہے اور ان نعمتوں پر شکر کا واجب کرنا اس کی الوہیت میں سے ہے۔ ﴿خَالِـقُ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘ یہ اس کی ربوبیت کا اثبات ہے ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں۔‘‘ یہ جملہ اس بات کو متحقق کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہی عبودیت کا مستحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں، پھر نہایت صراحت کے ساتھ اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو۔‘‘ یعنی تم اس اکیلے اللہ کی عبادت سے کیونکر گریز کر رہے ہو، حالانکہ اس نے تم پر دلیل کو واضح اور تمھارے سامنے راہِ راست کو روشن کر دیا ہے؟
[63]﴿كَذٰلِكَ يُؤۡفَكُ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’اسی طرح وہ لوگ (بھی) بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات سے انکار کیا کرتے تھے۔‘‘ یہ ان کے آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر ان کے ظلم و تعدی کی سزا ہے کہ ان کو توحید و اخلاص سے پھیر دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَةٌ نَّظَرَ بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ١ؕ هَلۡ يَرٰؔىكُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ ﴾(التوبۃ: 9؍127) ’’جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ آیا تمھیں کسی نے دیکھا تو نہیں، پھر وہ لوٹ جاتے ہیں، اللہ نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔‘‘
[64]﴿اَللّٰهُ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا ﴾ ’’اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے زمین کو ساکن بنایا اور زمین ہی سے تمھیں تمھارے تمام مصالح مہیا کیے۔ تم زمین پر کھیتی باڑی کرتے ہو، باغات لگاتے ہو، اس پر عمارتیں تعمیر کرتے ہو، اس کے اندر سفر اور اقامت کرتے ہو۔ ﴿وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً ﴾ ’’اور آسمان کو چھت‘‘ یعنی آسمان کو زمین کے لیے بمنزلہ چھت بنایا جس کے نیچے تم چلتے پھرتے ہو، اس کی روشنیوں اور علامات سے فائدہ اٹھاتے ہو جن کے ذریعے سے بحروبر کی تاریکیوں میں راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ ﴿وَّصَوَّرَؔكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَؔكُمۡ ﴾ ’’اس نے تمھاری شکل بنائی اور تمھاری شکلوں کو خوبصورت بنایا۔‘‘ پس تمام جانداروں میں بنی آدم سے بڑھ کر کوئی خوبصورت نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِيۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴾(التین: 95؍4)’’ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔‘‘ اگر آپ انسان کی خوب صورتی جانچنا اور اللہ عزوجل کی حکمت کی معرفت چاہتے ہیں تو انسان کے عضو عضو پر غور کریں کیا آپ کو کوئی ایسا عضو نظر آتا ہے، جو جس کام کے لائق ہے، اس کے علاوہ کسی اور جگہ موجود ہو؟ پھر آپ اس میلان پر غور کیجیے جو دلوں میں ایک دوسرے کے لیے ہوتا ہے کیا آپ کو یہ میلان آدمیوں کے سوا دوسرے جانداروں میں ملے گا؟ آپ اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، ایمان، محبت اور معرفت سے مختص کیا ہے جو بہترین اختلاق میں اور خوبصورت ترین صورت سے مناسبت رکھتے ہیں۔﴿وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾’’اور تمھیں پاکیزہ چیزیں عطا کیں۔‘‘ یہ ہر قسم کی پاک ماکولات، مشروبات منکوحات، ملبوسات، مسموعات اور مناظر وغیرہ کو شامل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے اور ان کے حصول کے اسباب کو آسان بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ناپاک چیزوں سے روکا ہے جو ان مذکورہ طیبات کی متضاد ہیں جو قلب و بدن اور دین کو نقصان دیتی ہیں۔﴿ذٰلِكُمُ ﴾ ’’یہ ہے‘‘ وہ ہستی جس نے ان تمام امور کی تدبیر کی ہے اور تمھیں ان نعمتوں سے بہرہ ور کیا ہے۔ ﴿اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ تمھارا رب ہے‘‘ ﴿فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’پس تمام جہانوں کا پروردگار اللہ بہت ہی بابرکت ہے۔‘‘ جس کی بھلائی اور احسانات بہت زیادہ ہیں جو تمام جہانوں کی اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تربیت کرتا ہے۔
[65]﴿هُوَ الۡحَيُّ ﴾ ’’وہی زندہ ہے‘‘ جو حیات کامل کا مالک ہے۔ یہ حیات صفات ذاتیہ کو مستلزم ہے، جس کے بغیر حیات مکمل نہیں ہوتی، مثلاً: سمع، بصر، قدرت، علم، کلام اور دیگر صفاتِ کمال اور نعوتِ جلال۔ ﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس کے سواکوئی الٰہ نہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ﴿فَادۡعُوۡهُ ﴾ ’’پس تم اسی کو پکارو۔‘‘ یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ ﴿مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ ﴾ ’’اسی لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘ یعنی اپنی ہر عبادت، ہر دعا اور ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو کیونکہ اخلاص ہی وہ چیز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ١ۙ۬ حُنَفَآءَ ﴾(البینۃ: 98؍5) ’’ان کو صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ یکسو ہو کر دین کو صرف اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں۔‘‘ ﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’ہر طرح کی تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ یعنی تمام قولی محامد اور مدح و ثنا ، مثلاً: مخلوق کا اس کا ذکر کرتے ہوئے کلام کرنا، اور فعلی محامد اور مدح و ثنا جیسے اس کی عبادت کرنا یہ سب اللہ واحد کے لیے ہیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے اوصاف و افعال اور مکمل نعمتیں عطا کرنے میں کامل ہے۔
40:66–68Page 474
۞ قُلۡ إِنِّي نُهِيتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِيَ ٱلۡبَيِّنَٰتُ مِن رَّبِّي وَأُمِرۡتُ أَنۡ أُسۡلِمَ لِرَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٦٦
Say, [O Muḥammad], "Indeed, I have been forbidden to worship those you call upon besides Allāh once the clear proofs have come to me from my Lord, and I have been commanded to submit to the Lord of the worlds."
هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن تُرَابٖ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٖ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَةٖ ثُمَّ يُخۡرِجُكُمۡ طِفۡلٗا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوٓاْ أَشُدَّكُمۡ ثُمَّ لِتَكُونُواْ شُيُوخٗاۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبۡلُۖ وَلِتَبۡلُغُوٓاْ أَجَلٗا مُّسَمّٗى وَلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ ٦٧
It is He who created you from dust, then from a sperm-drop, then from a clinging clot; then He brings you out as a child; then [He develops you] that you reach your [time of] maturity, then [further] that you become elders. And among you is he who is taken in death before [that], so that you reach a specified term;1 and perhaps you will use reason.
هُوَ ٱلَّذِي يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَإِذَا قَضَىٰٓ أَمۡرٗا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٦٨
He it is who gives life and causes death; and when He decrees a matter, He but says to it, "Be," and it is.
کہہ دیجیے:بے شک میں تو روک دیا گیا ہوں اس سے کہ میں عبادت کروں ان کی جن کو تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے جبکہ آ گئیں میرے پاس واضح دلیلیں میرے رب کی طرف سے اور حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ فرمان بردار رہوں میں واسطے رب العالمین کے (66) وہی ہے جس نے پیدا کیا ہے تم کو مٹی سے ، پھر نطفے سے ، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر نکالتا ہے وہ تم کو بچہ بنا کر، پھر تاکہ پہنچو تم اپنی جوانی(کی قوتوں)کو، پھر تاکہ ہو جاؤ تم بوڑھے، اور تم میں سے کچھ وہ ہیں جو فوت کر دیے جاتے ہیں اس سے پہلے ہی اورتاکہ پہنچو تم ایک مدت معین کو اور تاکہ تم عقل پکڑو (67) وہ (اللہ) وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اورمارتا ہے، پس جب وہ فیصلہ کرلیتا ہے کسی کام تو وہ صرف (یہ)کہتا ہے اس کو، ہو جا، تو وہ ہو جاتا ہے (68)
[66] اللہ تبارک وتعالیٰ نے صرف اپنے لیے عبادت کو خالص کرنے کا حکم دیا اور اس کے دلائل و براہین بیان فرمانے کے بعد نہایت صراحت کے ساتھ غیراللہ کی عبادت سے روکا ، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! کہہ دیجیے: ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔‘‘ مجھے تمام اصنام، بتوں اور ہر اس چیز کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ مجھے اپنے موقف پر ذرہ بھر شک نہیں، بلکہ مجھے اس کی حقانیت پر بصیرت کے ساتھ پورا یقین ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿لَمَّا جَآءَؔنِيَ الۡبَيِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّيۡ١ٞ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس واضح دلائل بھی آچکے ہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار بن کر رہوں۔‘‘ مجھے اپنے دل، زبان، اور جوارح کے ساتھ خالق کائنات کے سامنے سرافگندہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، کہ یہ تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ یہ علی الاطلاق سب سے ’’بڑا حکم‘‘ ہے۔ اسی طرح غیراللہ کی عبادت سے ’’نہی‘‘ علی الاطلاق سب سے بڑی نہی ہے۔
[67] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس توحید کو اس دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ وہ تمھارا خالق ہے اور اس نے تمھیں مختلف مراحل میں تخلیق کیا۔ جس طرح اس اکیلے نے تمھیں پیدا کیا ہے اسی طرح تم اسی کے لیے عبادت کرو، چنانچہ فرمایا:﴿هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ﴾ ’’وہی تو ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا‘‘یعنی اس نے تمھارے جدامجد حضرت آدمu کو مٹی سے تخلیق فرمایا ﴿ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾’’ پھر نطفہ سے‘‘ یہ تمام نوع انسانی کی ماں کے پیٹ کے اندر تخلیق کی ابتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ابتدا کا ذکر کر کے باقی تمام مراحل کی طرف اشارہ کیا ہے، نطفہ سے خون کا لوتھڑا بننا، پھر بوٹی بننا ، پھر ہڈیوں کا تخلیق پانا اور آخر میں روح کا پھونکا جانا۔﴿ثُمَّ يُخۡرِجُؔكُمۡ طِفۡلًا ﴾ ’’ پھر تمھیں بچے کی صورت میں نکالتا ہے۔‘‘ اس طرح تم تخلیق الٰہی میں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہوتے ہو، یہاں تک کہ تم عقل و بدن کی پوری قوت کوپہنچ جاؤ اور تمھارے ظاہری و باطنی قویٰ مکمل ہوجائیں۔ ﴿ثُمَّ لِتَكُوۡنُوۡا شُيُوۡخًا١ۚ وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّتَوَفّٰى مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ پھر تم بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تم میں سے اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے۔‘‘ یعنی بالغ ہونے سے پہلے ﴿وَلِتَبۡلُغُوۡۤا ﴾’’اور تاکہ تم پہنچ جاؤ ۔‘‘ ان مقررہ مراحل کے ذریعے سے ایک مدت مقررہ تک جہاں تمھاری عمر ختم ہو جاتی ہے۔﴿وَّلَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ تم عقل سے کام لو۔‘‘ شاید کہ تم اپنے احوال کو سمجھو اور تمھیں معلوم ہو کہ تمھیں ان مراحل میں سے گزارنے والی ہستی کامل قدرت کی مالک ہے۔ وہی ہے جس کے سوا کوئی اور ہستی عبادت کے لائق نہیں اور تم ہر لحاظ سے ناقص ہو۔
[68]﴿هُوَ الَّذِيۡ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾ ’’وہی تو ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے‘‘ یعنی صرف وہی اکیلا ہے جو زندہ کرتا اور موت سے ہم کنار کرتا ہے، کوئی نفس، کسی سبب سے یا کسی سبب کے بغیر، اس کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا۔ ﴿وَمَا يُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِيۡؔ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ ﴾(فاطر: 35؍11)’’کسی عمر والے کو عمر عطا نہیں کی جاتی اور نہ اس کی عمر میں کوئی کمی کی جاتی ہے، مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہوتا ہے اور بے شک یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔‘‘﴿فَاِذَا قَضٰۤى اَمۡرًا ﴾ ’’ پھر جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے۔‘‘ خواہ یہ کام چھوٹا ہو یا بڑا: ﴿فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ﴾ ’’تو اس سے کہہ دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس حکم کو رد یا اس سے گریز یا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
40:69–76Page 475
أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِيٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ أَنَّىٰ يُصۡرَفُونَ ٦٩
Do you not consider those who dispute concerning the signs of Allāh - how are they averted?
ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِٱلۡكِتَٰبِ وَبِمَآ أَرۡسَلۡنَا بِهِۦ رُسُلَنَاۖ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ ٧٠
Those who deny the Book [i.e., the Qur’ān] and that with which We sent Our messengers - they are going to know,
إِذِ ٱلۡأَغۡلَٰلُ فِيٓ أَعۡنَٰقِهِمۡ وَٱلسَّلَٰسِلُ يُسۡحَبُونَ ٧١
When the shackles are around their necks and the chains; they will be dragged
فِي ٱلۡحَمِيمِ ثُمَّ فِي ٱلنَّارِ يُسۡجَرُونَ ٧٢
In boiling water; then in the Fire they will be filled [with flame].
ثُمَّ قِيلَ لَهُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡ تُشۡرِكُونَ ٧٣
Then it will be said to them, "Where is that which you used to associate [with Him in worship]
مِن دُونِ ٱللَّهِۖ قَالُواْ ضَلُّواْ عَنَّا بَل لَّمۡ نَكُن نَّدۡعُواْ مِن قَبۡلُ شَيۡـٔٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧٤
Other than Allāh?" They will say, "They have departed from us; rather, we did not used to invoke previously anything." Thus does Allāh put astray the disbelievers.
ذَٰلِكُم بِمَا كُنتُمۡ تَفۡرَحُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَبِمَا كُنتُمۡ تَمۡرَحُونَ ٧٥
[The angels will say], "That was because you used to exult upon the earth without right and you used to behave insolently.
ٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ ٧٦
Enter the gates of Hell to abide eternally therein, and wretched is the residence of the arrogant."
کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کی طرف جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں میں، کہاں وہ پھیرے جاتے ہیں؟(69) وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا کتاب کو اور اس (وحی ) کو کہ بھیجا ہم نے ساتھ اس کےاپنے رسولوں کو، پس عنقریب وہ جان لیں گے(70)جبکہ طوق ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، وہ گھسیٹے جائیں گے(71) کھولتے پانی میں ، پھر آگ میں وہ جلائے جائیں گے(72) پھر کہا جائے گا ان سے ، کہاں ہیں وہ جن کو تھے تم شریک ٹھہراتے (73)سوائے اللہ کے ؟ وہ کہیں گے: گم ہو گئے وہ ہم سےبلکہ نہیں تھے ہم پکارتے اس سے پہلے کسی چیز کو بھی، اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ کافروں کو(74) یہ (عذاب ) اس سبب سے ہے کہ تھےتم خوش ہوتے زمین میں ناحق اور بسبب اس کے کہ تھے تم اتراتے(75) داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں، ہمیشہ رہنے والے اس میں ، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا(76)
[69]﴿اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ ﴾ ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ کیا آپ(ﷺ) کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ﴿اَنّٰى يُصۡرَفُوۡنَ ﴾ ’’کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جارہے ہیں۔‘‘ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں۔ اس کامل توضیح و تبیین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں؟ اللہ کی قسم ہرگز نہیں! یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں؟
[72-70] بدترین ہے وہ چیز جو انھوں نے اپنے لیے اختیار کی اور کتاب اللہ اور رسولوں کی تکذیب کے بدلے حاصل کی جو مخلوق میں سب سے افضل، سب سے سچے اور سب سے زیادہ خردمند ہیں۔ بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا ان کے لیے جزا نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو جہنم کی آگ کی وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔‘‘ جس کی وجہ سے وہ حرکت نہیں کر سکیں گے ﴿وَالسَّلٰسِلُ ﴾ ’’اور زنجیریں (ہوں گی)‘‘ جن کے ساتھ ان کو اور ان کے شیاطین کو جکڑ دیا جائے گا۔ ﴿يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ ﴾ یعنی سخت کھولتے ہوئے پانی میں ان کو گھسیٹا جائے گا۔ ﴿ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾ ’’ پھر وہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔‘‘ ان کے لیے بڑے بڑے شعلے بھڑکائے جائیں گے اور ان کے اندر ان کو ڈالا جائے گا ، پھر ان کے شرک اور کذب پر ان کی زجروتوبیخ کی جائے گی۔
[73، 74] اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَۙ۰۰ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا اللہ کے شریک بناتے تھے ۔‘‘ کیا انھوں نے تمھیں کوئی فائدہ دیا یا انھوں نے تم سے عذاب کو دور کر دیا؟ ﴿قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے: وہ تو ہم سے بھول گئے ہیں‘‘ یعنی وہ ہم سے دور ہو گئے اگر وہ موجود بھی ہوتے تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتے، پھر وہ انکار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿بَلۡ لَّمۡ نَؔكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔‘‘ اس میں اس کا احتمال ہے کہ ان کی اس انکار سے مراد یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ انکار ان کے کام آئے گا اور ان کو فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے،اور یہی زیادہ قوی ہے، کہ ان کی مراد، اپنے خود ساختہ معبودوں کی الوہیت کے بطلان کا اقرار ہو، نیز اس حقیقت کا اقرار ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور انھوں نے اس ہستی کی عبادت کر کے گمراہی اور خطا کا ارتکاب کیا جس میں الوہیت معدوم ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس گمراہی کی مانند جس میں یہ دنیا میں مبتلا تھے۔ یہ گمراہی سب پر واضح تھی، حتی کہ خود ان پر بھی واضح تھی، جس کے بطلان کا اقرار یہ لوگ قیامت کے روز کریں گے، قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿وَمَا يَتَّبِـعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَؔكَآءَ١ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ﴾(یونس: 10؍66) ’’اور جو لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض و ہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘ کا معنی بھی واضح ہو جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے: ﴿وَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡؔكِكُمۡ ﴾(فاطر: 35؍14) ’’اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔‘‘ اور یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے: ﴿وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ يَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَنۡ لَّا يَسۡتَجِيۡبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ﴾(الاحقاف:46؍5) ’’اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک ان کی پکار کا جواب نہیں دے سکتیں۔‘‘
[75] اہل جہنم سے کہا جائے گا: ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ عذاب جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ﴿بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ﴾ ’’ اس وجہ سے ہے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس وجہ سے (بھی) کہ تم اکڑتے تھے۔‘‘ یعنی یہ اس باطل کے سبب سے ہے جس پر تم بہت خوش ہوتے تھے اور ان علوم کے باعث ہے جن کے ذریعے سے تم انبیاء ومرسلین کے علوم کی مخالفت کیا کرتے تھے اور تم بغاوت، ظلم، تعدی اور عصیان کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ کے آخر میں فرمایا:﴿فَلَمَّا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ﴾(المؤمن: 40؍83) ’’جب ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے یہ اپنے اسی علم پر خوش رہے جو ان کے پاس تھا۔‘‘ اور جیسا کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا تھا: ﴿لَا تَفۡرَحۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ﴾(القصص: 28؍76) ’’خوشی سے مت اترا، اللہ خوشی سے اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ مذموم خوشی ہے جو عذاب کی موجب ہے۔ اس کے برعکس اس فرحت کے بارے میں جو قابل مدح ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا﴾(یونس: 10؍58) ’’کہہ دیجیے! یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے (کہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی) اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔‘‘ یہ وہ فرحت ہے جو علم نافع اور عمل صالح سے حاصل ہوتی ہے۔
[76]﴿اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ‘‘ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جہنم کے طبقات میں سے ایک طبقے میں داخل کر دیا جائے گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ ’’اس میں تم ہمیشہ رہو گے‘‘ کبھی بھی وہاں سے نہ نکلیں گے۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ وہ ایسا ٹھکانا ہوگا جہاں ان کو محبوس کر کے ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور عذاب دیا جائے گا اور جہاں کبھی انھیں سخت گرمی میں اور کبھی سخت سردی میں داخل کیا جائے گا۔
40:77Page 475
فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيۡنَا يُرۡجَعُونَ ٧٧
So be patient, [O Muḥammad]; indeed, the promise of Allāh is truth. And whether We show you some of what We have promised them or We take you in death, it is to Us they will be returned.
پس صبر کیجیے! بلاشبہ وعدہ اللہ کا حق ہے، پس اگر ہم دکھا دیں آپ کو بعض وہ (عذاب) جس کا وعدہ کرتے ہیں ہم ان سے (تو وہ اس کے مستحق ہیں) یا ہم (پہلے) فوت کر دیں آپ کو، تو ہماری ہی طرف وہ لوٹائے جائیں گے (77)
[77]﴿فَاصۡبِرۡ ﴾ اے رسول! آپ(ﷺ) کو دعوت دینے پر اپنی قوم کی طرف سے جو تکالیف پہنچتی ہیں اس پر صبر کیجیے اور اپنے صبر پر اپنے ایمان سے مدد لیجیے: ﴿اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ﴾ ’’بے شک اللہ کا وعدہ حق ہے۔‘‘ وہ اپنے دین کی مدد اور اپنے کلمے کو غالب کرے گا اور اپنے رسولوں کو دنیا و آخرت میں اپنی نصرت سے نوازے گا۔ نیز دنیا و آخرت میں اپنے دشمنوں پر عذاب کے وقوع سے بھی صبر میں مدد لیجیے! اس لیے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ الَّذِيۡ نَعِدُهُمۡ﴾ یعنی اگر ہم نے دنیا ہی میں ان کے عذاب کا کچھ حصہ آپ کو دکھا دیا جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ ﴿اَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠﴾ یا ان کو سزا دینے سے پہلے آپ کو اپنے پاس بلا لیا۔ ﴿فَاِلَيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’پس ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘ تو پھر ہم ان کو ان کے کرتوتوں کی سزا دیں گے۔ ﴿وَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعۡمَلُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾(ابراہیم: 14؍42) ’’ظالم جو کچھ کرتے ہیں اللہ کو اس سے غافل نہ سمجھیں۔‘‘
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے برادر انبیاء و مرسلین کا ذکر کر کے آپ کو تسلی دی ہے۔
40:78Page 476
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ مِنۡهُم مَّن قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ وَمِنۡهُم مَّن لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَۗ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأۡتِيَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ فَإِذَا جَآءَ أَمۡرُ ٱللَّهِ قُضِيَ بِٱلۡحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ ٧٨
And We have already sent messengers before you. Among them are those [whose stories] We have related to you, and among them are those [whose stories] We have not related to you. And it was not for any messenger to bring a sign [or verse] except by permission of Allāh. So when the command of Allāh comes, it will be concluded [i.e., judged] in truth, and the falsifiers will thereupon lose [all].
اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے کئی رسول آپ سے پہلے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا حال بیان کر دیا ہم نے آپ پر اور کچھ ان میں سے وہ ہیں کہ نہیں حال بیان کیا ہم نے ان کا آپ پر اور نہیں ہے (اختیار) واسطے کسی رسول کے کہ لے آئے وہ کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے، پس جب آ گیا حکم اللہ کا تو فیصلہ کر دیا گیا ساتھ حق کے اور خسارہ اٹھایا وہاں اہل باطل نے (78)
[78] یعنی آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول ان کی قوموں کی طرف مبعوث فرمائے جو انھیں توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتے تھے۔ ﴿مِنۡهُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ ﴾ جن میں سے کچھ کے بارے میں ہم نے آپ کو خبر دی ہے۔ ﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَ ﴾ ’’اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے آپ پر بیان نہیں کیے۔‘‘ تمام انبیاء اور رسول اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہیں ان کے اپنے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ تمام رسولوں میں سے کسی کے اختیار میں نہیں ﴿اَنۡ يَّاۡتِيَ بِاٰيَةٍ ﴾ ’’یہ کہ وہ کوئی نشانی، معجزہ لائے۔‘‘ یعنی ان رسولوں کے اختیار میں نہیں کہ وہ سمعی یا عقلی نشانی لاسکیں۔ ﴿اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ ﴾مگر اس کی مشیت اور اس کے حکم سے۔ اس لیے رسولوں سے معجزات دکھانے کا مطالبہ کرنا، ظلم تعنت اور تکذیب ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات کے ذریعے سے ان کی تائید کی ہے جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔﴿فَاِذَا جَآءَؔ اَمۡرُ اللّٰهِ ﴾ پس جب اللہ تعالیٰ کا حکم رسولوں اور ان کے دشمنوں کے مابین فیصلہ کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح آجاتی ہے ﴿قُضِيَ بِالۡحَقِّ ﴾ تو ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے جو صحیح موقع پر واقع ہوتا ہے، انبیاء و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور مکذبین کی ہلاکت کے ذریعے سے صواب کی تائید کرتا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿وَخَسِرَ هُنَالِكَ ﴾ ’’اور وہیں نقصان میں پڑ گئے۔‘‘ یعنی مذکورہ فیصلے کے وقت ﴿الۡمُبۡطِلُوۡنَ﴾ ’’غلط کار لوگ‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف باطل ہے، وہ جو بھی علم و عمل پیش کرتے ہیں سب باطل ہے، ان کی غرض و غایت اور مقاصد، سب باطل پر مبنی ہیں۔ اس لیے ان مخاطبین کو اپنے باطل نظریات پر جمے رہنے سے ڈرنا چاہیے ورنہ یہ لوگ بھی خسارے میں پڑجائیں گے جیسے وہ لوگ خسارے میں پڑے تھے۔ نہ ان حضرات میں کوئی بھلائی ہے اور نہ ان کے لیے کتابوں میں نجات لکھی گئی ہے۔
40:79–81Page 476
ٱللَّهُ ٱلَّذِي جَعَلَ لَكُمُ ٱلۡأَنۡعَٰمَ لِتَرۡكَبُواْ مِنۡهَا وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ ٧٩
It is Allāh who made for you the grazing animals upon which you ride, and some of them you eat.
وَلَكُمۡ فِيهَا مَنَٰفِعُ وَلِتَبۡلُغُواْ عَلَيۡهَا حَاجَةٗ فِي صُدُورِكُمۡ وَعَلَيۡهَا وَعَلَى ٱلۡفُلۡكِ تُحۡمَلُونَ ٨٠
And for you therein are [other] benefits and that you may realize upon them a need which is in your breasts;1 and upon them and upon ships you are carried.
وَيُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ فَأَيَّ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ تُنكِرُونَ ٨١
And He shows you His signs. So which of the signs of Allāh do you deny?
اللہ وہ ہے جس نے بنائے تمھارے لیے چوپائے تاکہ سواری کرو تم ان میں سے بعض پر اور بعض کو ان میں سے تم کھاتے ہو(79) اور تمھارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں اور تاکہ تم پہنچو ان پر (سوار ہو کر) اپنی حاجت کو جو تمھارے سینوں میں ہے اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو (80) اور وہ (اللہ) دکھاتا ہے تمھیں اپنی نشانیاں، پس کون سی اللہ کی نشانیوں کا تم انکار کرو گے؟ (81)
[79، 80]اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسانات کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے لیے چوپائے پیدا کیے جن پر ان کے مفادات کا دارومدار ہے۔ ان میں سے کچھ مویشیوں کو وہ سواری اور نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ چوپایوں کا گوشت کھاتے اور ان کا دودھ پیتے ہیں۔ کچھ مویشیوں کی اون سے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بالوں، پشم اور اون سے آلات اور استعمال کا سامان بناتے ہیں اور ان سے دیگر فوائد حاصل کرتے ہیں۔﴿وَلِتَبۡلُغُوۡا عَلَيۡهَا حَاجَةً فِيۡ صُدُوۡرِكُمۡ ﴾ ’’اور تاکہ تم ان پر سوار ہوکر اپنی حاجت وضرورت کو پہنچو جو تمھارے سینوں میں ہے۔‘‘ یعنی تم ان دور دراز ملکوں میں پہنچ سکو جہاں پہنچنے کی اپنے دلوں میں ضرورت محسوس کرتے ہو اور تاکہ ان کے باعث ان کے مالکوں کو فرحت و سرور حاصل ہو۔ ﴿وَعَلَيۡهَا وَعَلَى الۡفُلۡكِ تُحۡمَلُوۡنَ﴾ ’’نیز ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔‘‘ یعنی تم زمینی سواریوں پر سواری کرتے ہو اور کشتیاں تمھیں سمندر میں اٹھائے پھرتی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے مسخر کر دیا اور تمھارے لیے ایسے چوپائے مہیا کر دیے جن کے بغیر تمھاری یہ سواریاں مکمل نہیں ہوتیں۔
[81]﴿وَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ﴾’’اور وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔‘‘ جو اس کی وحدانیت اور اس کے اسماء و صفات پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو آفاق و انفس میں اپنی آیات کا مشاہدہ کرایا، بڑی بڑی نعمتوں سے بہرہ مند کیا اور ان نعمتوں کو شمار کیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں، اس کا شکر ادا کریں اور اس کا ذکر کریں۔﴿فَاَيَّ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُنۡؔكِرُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی کون کون سی آیات ہیں جن کا تم اعتراف نہیں کرتے؟ تمھارے نزدیک بھی یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تمام آیات اور تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہیں، تب انکار کی کوئی گنجائش اور روگردانی کا کوئی موقع باقی نہیں۔ بلکہ یہ آیات اور نعمتیں عقل مندوں پر واجب ٹھہراتی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اس کی طرف متوجہ ہونے میں اپنی پوری کوشش صرف کریں۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences