Az-ZukhrufJuz 25 · Page 493

Az-Zukhruf 43:56

The Ornaments of Gold · Juz 25 · Page 493

فَجَعَلۡنَٰهُمۡ سَلَفٗا وَمَثَلٗا لِّلۡأٓخِرِينَ ٥٦

And We made them a precedent and an example for the later peoples.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 43:46–56

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)

[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔

[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔

[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔

[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘

[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔

[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔

[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔

[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔

[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 493

Az-ZukhrufJuz 25 · Page 493

43:48

وَمَا نُرِيهِم مِّنۡ ءَايَةٍ إِلَّا هِيَ أَكۡبَرُ مِنۡ أُخۡتِهَاۖ وَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡعَذَابِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٤٨

And We showed them not a sign except that it was greater than its sister, and We seized them with affliction that perhaps they might return [to faith].

43:49

وَقَالُواْ يَٰٓأَيُّهَ ٱلسَّاحِرُ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهۡتَدُونَ ٤٩

And they said [to Moses], "O magician, invoke for us your Lord by what He has promised you. Indeed, we will be guided."

43:50

فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابَ إِذَا هُمۡ يَنكُثُونَ ٥٠

But when We removed from them the affliction, at once they broke their word.

43:51

وَنَادَىٰ فِرۡعَوۡنُ فِي قَوۡمِهِۦ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَلَيۡسَ لِي مُلۡكُ مِصۡرَ وَهَٰذِهِ ٱلۡأَنۡهَٰرُ تَجۡرِي مِن تَحۡتِيٓۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ ٥١

And Pharaoh called out among his people; he said, "O my people, does not the kingdom of Egypt belong to me, and these rivers flowing beneath me; then do you not see?

43:52

أَمۡ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡ هَٰذَا ٱلَّذِي هُوَ مَهِينٞ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ ٥٢

Or am I [not] better than this one [i.e., Moses] who is insignificant and hardly makes himself clear?1

1 translator’s note
  1. That was true previous to his appointment as a prophet, at which time Allāh corrected his speech impediment. ↩

43:53

فَلَوۡلَآ أُلۡقِيَ عَلَيۡهِ أَسۡوِرَةٞ مِّن ذَهَبٍ أَوۡ جَآءَ مَعَهُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ مُقۡتَرِنِينَ ٥٣

Then why have there not been placed upon him bracelets of gold or come with him the angels in conjunction?"

43:54

فَٱسۡتَخَفَّ قَوۡمَهُۥ فَأَطَاعُوهُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ ٥٤

So he bluffed his people, and they obeyed him. Indeed, they were [themselves] a people defiantly disobedient [of Allāh].

43:55

فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا ٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَأَغۡرَقۡنَٰهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٥٥

And when they angered Us, We took retribution from them and drowned them all.

43:56

فَجَعَلۡنَٰهُمۡ سَلَفٗا وَمَثَلٗا لِّلۡأٓخِرِينَ ٥٦

And We made them a precedent and an example for the later peoples.

43:57

۞ وَلَمَّا ضُرِبَ ٱبۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوۡمُكَ مِنۡهُ يَصِدُّونَ ٥٧

And when the son of Mary was presented as an example,1 immediately your people laughed aloud.

1 translator’s note
  1. Of a creation of Allāh which is being worshipped along with Him. ↩

43:58

وَقَالُوٓاْ ءَأَٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ أَمۡ هُوَۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلَۢاۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُونَ ٥٨

And they said, "Are our gods better, or is he?"1 They did not present it [i.e., the comparison] except for [mere] argument. But, [in fact], they are a people prone to dispute.

1 translator’s note
  1. Implying that they must all be the same. ↩

43:59

إِنۡ هُوَ إِلَّا عَبۡدٌ أَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ وَجَعَلۡنَٰهُ مَثَلٗا لِّبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٥٩

He [i.e., Jesus] was not but a servant upon whom We bestowed favor, and We made him an example for the Children of Israel.

43:60

وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنكُم مَّلَٰٓئِكَةٗ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَخۡلُفُونَ ٦٠

And if We willed, We could have made [instead] of you angels succeeding [one another]1 on the earth.

1 translator’s note
  1. Or "succeeding [you]." ↩
As-Sa'diTafsir · 43:56

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском