As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Az-Zukhruf 43:46–73
43:46–56Page 492
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٤٦
And certainly did We send Moses with Our signs to Pharaoh and his establishment, and he said, "Indeed, I am the messenger of the Lord of the worlds."
فَلَمَّا جَآءَهُم بِـَٔايَٰتِنَآ إِذَا هُم مِّنۡهَا يَضۡحَكُونَ ٤٧
But when he brought them Our signs, at once they laughed at them.
وَمَا نُرِيهِم مِّنۡ ءَايَةٍ إِلَّا هِيَ أَكۡبَرُ مِنۡ أُخۡتِهَاۖ وَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡعَذَابِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٤٨
And We showed them not a sign except that it was greater than its sister, and We seized them with affliction that perhaps they might return [to faith].
وَقَالُواْ يَٰٓأَيُّهَ ٱلسَّاحِرُ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنَا لَمُهۡتَدُونَ ٤٩
And they said [to Moses], "O magician, invoke for us your Lord by what He has promised you. Indeed, we will be guided."
فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ ٱلۡعَذَابَ إِذَا هُمۡ يَنكُثُونَ ٥٠
But when We removed from them the affliction, at once they broke their word.
وَنَادَىٰ فِرۡعَوۡنُ فِي قَوۡمِهِۦ قَالَ يَٰقَوۡمِ أَلَيۡسَ لِي مُلۡكُ مِصۡرَ وَهَٰذِهِ ٱلۡأَنۡهَٰرُ تَجۡرِي مِن تَحۡتِيٓۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ ٥١
And Pharaoh called out among his people; he said, "O my people, does not the kingdom of Egypt belong to me, and these rivers flowing beneath me; then do you not see?
أَمۡ أَنَا۠ خَيۡرٞ مِّنۡ هَٰذَا ٱلَّذِي هُوَ مَهِينٞ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ ٥٢
Or am I [not] better than this one [i.e., Moses] who is insignificant and hardly makes himself clear?1
فَلَوۡلَآ أُلۡقِيَ عَلَيۡهِ أَسۡوِرَةٞ مِّن ذَهَبٍ أَوۡ جَآءَ مَعَهُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ مُقۡتَرِنِينَ ٥٣
Then why have there not been placed upon him bracelets of gold or come with him the angels in conjunction?"
فَٱسۡتَخَفَّ قَوۡمَهُۥ فَأَطَاعُوهُۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ ٥٤
So he bluffed his people, and they obeyed him. Indeed, they were [themselves] a people defiantly disobedient [of Allāh].
فَلَمَّآ ءَاسَفُونَا ٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَأَغۡرَقۡنَٰهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٥٥
And when they angered Us, We took retribution from them and drowned them all.
فَجَعَلۡنَٰهُمۡ سَلَفٗا وَمَثَلٗا لِّلۡأٓخِرِينَ ٥٦
And We made them a precedent and an example for the later peoples.
اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ کو ساتھ اپنی نشانیوں کے فرعون اور اس (کی قوم) کے سرداروں کی طرف، پس موسیٰ نے کہا: بے شک میں رسول ہوں رب العالمین کا (46) پس جب آیا وہ ان کے پاس ساتھ ہماری نشانیوں کے تو یکایک وہ ان کی بابت (مذاق سے) ہنستے تھے (47) اور نہیں دکھاتے تھے ہم ان کو کوئی نشانی مگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی اس جیسی (پہلی نشانی) سے، اور پکڑا ہم نے ان کو ساتھ عذاب کے تاکہ وہ رجوع کریں (48) اور کہا انھوں نے، اے جادوگر! دعا کر ہمارے لیے اپنے رب سے ساتھ اس (عہد) کے جو عہد کیا ہے اس نے تجھ سے، بے شک ہم ضرور ہدایت پانے والے ہیں(49) پس جب ہٹا لیتے ہم ان سے عذاب تو اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے (50) اور پکارا فرعون نے اپنی قوم میں، (اور) کہا: اے میری قوم! کیا نہیں ہے میرے لیے بادشاہی مصر کی اور یہ نہریں جو چلتی ہیں میرے (محل کے) نیچے سے؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (51)بلکہ میں بہتر ہوں اس (موسیٰ) سے، کہ جو ایک کم تر ہے اور نہیں قریب کہ وہ واضح بات کر سکے (52) پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے یا آتے اس کےساتھ فرشتے جمع ہو کر (53) پس ہلکا کر دیا اس نے اپنی قوم (کی عقل) کو، سو انھوں نے اطاعت کی اس کی، بلاشبہ تھے وہی لوگ نافرمانی کرنے والے (54) پس جب غصہ دلایا انھوں نے ہمیں تو بدلہ لیا ہم نے ان سے اور غرق کر دیا ہم نے ان سب کو (55) پس کر دیا ہم نے ان کو گئے گزرے اور (عبرت کی) مثال پچھلوں کے لیے (56)
[46] جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾(الزخرف 45/43)تو حضرت موسیٰp اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا، جو انبیاء و مرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان فرمایا:﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰؔى بِاٰيٰتِنَاۤ﴾ ’’ہم نے موسیٰ(u) کو نشانیاں دے کر بھیجا۔‘‘ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰu لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً: عصا، سانپ، ٹدی دل بھیجنا ، جوئیں پڑنا اور دیگر تمام آیات و معجزات وغیرہ۔ ﴿اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ فَقَالَ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف۔ پس انہوں نے کہا، میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔‘‘ سو حضرت موسیٰu نے ان کو اپنے رب کے اقرار کی دعوت دی اور انھیں غیراللہ کی عبادت سے روکا۔
[47، 48]﴿فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمۡ مِّؔنۡهَا يَضۡحَكُوۡنَ ﴾ ’’پس جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آئے تو وہ نشانیوں سے مذاق کرنے لگے۔‘‘ یعنی انھوں نے ان آیات کا انکار کر کے ان کو ٹھکرا دیا اور ظلم و تکبر سے ان کا تمسخر اڑایا۔ یہ سب کچھ آیات اور نشانیوں میں کسی کمی اور ان میں عدم وضوح کی وجہ سے نہ تھا اس لیے فرمایا ﴿وَمَا نُرِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِهَا ﴾ ’’ہم انھیں جو نشانی دکھاتے تووہ دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہوتی۔‘‘ یعنی بعد والی نشانیاں گزشتہ نشانیوں سے بڑی تھیں۔ ﴿وَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡعَذَابِ ﴾ ’’اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا۔‘‘ مثلاً: ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون جیسی مفصل نشانیوں کے ساتھ ہم نے ان کو پکڑا۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید کہ وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ان کا شرک اور شر زائل ہو۔
[49]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے ﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ﴾ ’’اے جادوگر!‘‘ اس سے ان کی مراد موسیٰu تھے، ان کا یہ طرز خطاب یا تو استہزا و تمسخر کے باب سے تھا یا یہ خطاب ان کے ہاں مدح تھا، پس انھوں نے عاجز آ کر موسیٰu کو ایسے خطاب کے ساتھ مخاطب کیا جس کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کو خطاب کرتے تھے جن کو وہ اہل علم سمجھتے تھے۔ پس وہ کہنے لگے:﴿يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ ﴾ ’’اے جادوگر! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کررکھا ہے اس سے دعا کر۔‘‘ یعنی جس چیز کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے تجھے خصوصیت بخشی اور فضائل و مناقب عطا کیے، اس کے ذریعے سے دعا کر کہ اللہ ہم سے عذاب کو دور کر دے۔ ﴿اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ ﴾ اگر اللہ نے ہم سے عذاب کو ہٹا دیا تو ہم راہ راست اختیار کر لیں گے۔
[50]﴿فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾ ’’پس جب ہم نے ان سے عذاب دور کردیا، تو انھوں نے قول وقرار توڑ دیا۔‘‘ یعنی انھوں نے جو عہد کیا تھا اسے پورا نہ کیا بلکہ عہد کو توڑ ڈالا اور اپنے کفر پر جمے رہے۔ ان کا یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے:﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا۠ وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ۰۰ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ١ۚ لَىِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَۚ۰۰ فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍133-135) ’’پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ان پر ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک بھیجے اور ان پر خون برسایا یہ سب الگ الگ نشانیاں دکھائیں، مگر انھوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔ جب کبھی ان پر عذاب نازل ہوتا تو کہتے: اے موسیٰ! تجھ سے تیرے رب نے وعدہ کیا ہے اس بنا پر ہمارے لیے دعا مانگ اگر تو ہم سے عذاب ہٹا دے تو ہم تجھ پرایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ جب ہم نے ان سے عذاب کو ایک وقت مقررہ تک کے لیے، جس کو وہ پہنچنے والے تھے، ٹال دیا تو وہ اپنے عہد سے پھر گئے۔‘‘
[51]﴿وَنَادٰى فِرۡعَوۡنُ فِيۡ قَوۡمِهٖ قَالَ ﴾ ’’اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کی بنا پر تکبر کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اس کے اقتدار نے اس کو فریب میں مبتلا کردیا تھا اور اس کے مال اور لشکروں نے اس کو سرکش بنا دیا تھا۔ ﴿يٰقَوۡمِ اَلَيۡسَ لِيۡ مُلۡكُ مِصۡرَ ﴾ یعنی کیا میں ملک مصر کا مالک اور اس میں تصرف کرنے والا نہیں۔ ﴿وَهٰؔذِهِ الۡاَنۡهٰرُ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِيۡ ﴾ ’’اور یہ نہریں میرے نیچے چلتی ہیں۔‘‘ یعنی یہ نہریں جو دریائے نیل میں سے نکل کر محلات اور باغات میں سے ہو کر بہہ رہی ہیں۔ ﴿اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ کیا تم اس وسیع و عریض سلطنت کو دیکھتے نہیں؟ یہ اس کی بے انتہا جہالت کے سبب سے تھا کیونکہ اس نے اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ کی بجائے ایسے معاملے پر فخر کا اظہار کیا جو اس کی ذات سے خارج تھا۔
[52]﴿اَمۡ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡ هٰؔذَا الَّذِيۡ هُوَ مَهِيۡنٌ ﴾ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے، حقیر سے اس کی مراد رحمان کے کلیم اور بلند مرتبہ ہستی موسیٰ بن عمرانp تھے۔ یعنی میں غالب اور قوت والا ہوں اور موسیٰ نہایت ذلیل اور حقیر، تب ہم میں سے کون بہتر ہے۔ ﴿وَّ ﴾ ’’اور۔‘‘ بایں ہمہ ﴿لَا يَكَادُ يُبِيۡنُ ﴾ موسیٰ اپنے مافی الضمیر کا گفتگو کے ذریعے سے اظہار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ فصیح اللسان نہیں ہے… مگر یہ کوئی عیب نہیں، جبکہ وہ اپنے مافی القلب کو واضح کر سکتا ہو خواہ بولنا اس کے لیے بوجھل ہی کیوں نہ ہو۔
[53] پھر فرعون نے کہا: ﴿فَلَوۡلَاۤ اُلۡقِيَ عَلَيۡهِ اَسۡوِرَةٌ مِّنۡ ذَهَبٍ ﴾ ’’پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے۔‘‘ کہ اس کی یہ حالت ہوتی کہ وہ کنگن اور زیور سے آراستہ ہوتا۔ ﴿اَوۡ جَآءَ مَعَهُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ مُقۡتَرِنِيۡنَ ﴾ یا فرشتے اس کے پکارنے پر، اس کی مدد کرتے اور اس کی بات کی تائید کرتے۔
[54]﴿فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَهٗ فَاَطَاعُوۡهُ ﴾ یعنی فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں کی عقل کو حقیر جانا اور یوں اس نے ان کے سامنے ان شبہات کا اظہار کیا جن کا کوئی فائدہ اور ان کی کوئی حقیقت نہیں، یہ شبہات حق پر دلالت کرتے تھے نہ باطل پر۔ یہ صرف کم عقل لوگوں ہی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ مصر پر فرعون کے اقتدار اور اس کے محلات میں نہروں کے بہنے میں، اس کے برحق ہونے کی کون سی دلیل ہے؟ موسیٰu کی زبان کی ثقالت، ان کے متبعین کی قلت اور ان کو ان کی والدہ کی طرف سے سونے کے کنگنوں سے آراستہ نہ کرنے میں ان کی دعوت کے بطلان کی کون سی دلیل ہے؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرعون کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا تھا جو معقولات سے بے بہرہ تھے، فرعون حق یا باطل جو کچھ بھی کہتا تھا وہ بے چون و چرا اسے مان لیتے تھے۔ ﴿اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔‘‘ پس ان کے فسق کے سبب سے، ان پر فرعون کو مسلط کر دیا گیا جو ان کے سامنے شرک اور شر کو مزین کرتا تھا۔
[55، 56]﴿فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا ﴾ یعنی جب انھوں نے اپنی بداعمالیوں کے ذریعے سے ہمیں ناراض کر دیا۔ ﴿انۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ۠ اَجۡمَعِيۡنَۙ۰۰ فَجَعَلۡنٰهُمۡ سَلَفًا وَّمَثَلًا لِّلۡاٰخِرِيۡنَ ﴾ ’’ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کردیا۔ اور ان کو گئے گزرے کردیا اور پچھلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔‘‘ تاکہ ان کے احوال سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں۔
43:57–65Page 493
۞ وَلَمَّا ضُرِبَ ٱبۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوۡمُكَ مِنۡهُ يَصِدُّونَ ٥٧
And when the son of Mary was presented as an example,1 immediately your people laughed aloud.
وَقَالُوٓاْ ءَأَٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ أَمۡ هُوَۚ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلَۢاۚ بَلۡ هُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُونَ ٥٨
And they said, "Are our gods better, or is he?"1 They did not present it [i.e., the comparison] except for [mere] argument. But, [in fact], they are a people prone to dispute.
إِنۡ هُوَ إِلَّا عَبۡدٌ أَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ وَجَعَلۡنَٰهُ مَثَلٗا لِّبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٥٩
He [i.e., Jesus] was not but a servant upon whom We bestowed favor, and We made him an example for the Children of Israel.
وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنكُم مَّلَٰٓئِكَةٗ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَخۡلُفُونَ ٦٠
And if We willed, We could have made [instead] of you angels succeeding [one another]1 on the earth.
وَإِنَّهُۥ لَعِلۡمٞ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا وَٱتَّبِعُونِۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ ٦١
And indeed, he [i.e., Jesus] will be [a sign for] knowledge of the Hour, so be not in doubt of it, and follow Me.1 This is a straight path.
وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُۖ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ ٦٢
And never let Satan avert you. Indeed, he is to you a clear enemy.
وَلَمَّا جَآءَ عِيسَىٰ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُكُم بِٱلۡحِكۡمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعۡضَ ٱلَّذِي تَخۡتَلِفُونَ فِيهِۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ٦٣
And when Jesus brought clear proofs, he said, "I have come to you with wisdom [i.e., prophethood] and to make clear to you some of that over which you differ, so fear Allāh and obey me.
إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمۡ فَٱعۡبُدُوهُۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ ٦٤
Indeed, Allāh is my Lord and your Lord, so worship Him. This is a straight path."
فَٱخۡتَلَفَ ٱلۡأَحۡزَابُ مِنۢ بَيۡنِهِمۡۖ فَوَيۡلٞ لِّلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ أَلِيمٍ ٦٥
But the denominations from among them differed [and separated], so woe to those who have wronged from the punishment of a painful Day.
اور جب بیان کی گئی ابن مریم کی مثال تو یکایک آپ کی قوم اس سے چلاتی ہے(خوشی سے)(57) اور انھوں نے کہا، کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ(عیسٰی)؟ نہیں بیان کی انھوں نے آپ کے لیے یہ مثال مگر جھگڑنے کے لیے، بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو (58) نہیں ہے وہ (عیسیٰ) مگر ایک ایسا بندہ کہ انعام کیا ہم نے اس پر اور بنا دیا ہم نے اس کو ایک نمونہ واسطے بنو اسرائیل کے (59) اور اگر چاہتے ہم تو البتہ کر دیتے ہم تم میں سے فرشتے زمین میں، وہ جانشین ہوتے (60) اور بے شک وہ البتہ ایک نشانی ہے واسطے قیامت کے، پس نہ ہرگز شک کرو تم اس (کے آنے) میں اور پیروی کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور نہ روک دے تم کو شیطان، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے صریح (62) اور جب آیا عیسٰی ساتھ واضح دلائل کے تواس نے کہا :تحقیق آیا ہوں میں تمھارے پاس ساتھ حکمت کے اور تاکہ واضح کروں میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں کہ اختلاف کرتے ہو تم اس میں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اطاعت کرو میری (63) بلاشبہ اللہ، وہ رب ہے میرا اور رب ہے تمھارا، پس تم (سب) اسی کی عبادت کرو، یہی ہے راستہ سیدھا (64) پس (ایک دوسرے سے) اختلاف کیا گروہوں نے(جو پیدا ہوئے)ان کے درمیان ہی میں سے، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، عذاب سے ایک دردناک دن کے (65)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡيَمَ مَثَلًا ﴾ ’’اور جب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی ۔‘‘ یعنی جب ابن مریم کی عبادت سے منع کیا گیا اور اس کی عبادت کو بتوں کی عبادت قرار دیا گیا۔ ﴿اِذَا قَوۡمُكَ ﴾ ’’تو آپ کی قوم‘‘ یعنی جو آپ کو جھٹلانے والے ہیں۔ ﴿مِنۡهُ ﴾ یعنی اس ضرب المثل کی وجہ سے ﴿يَصِدُّوۡنَ﴾ آپ کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں، چیختے چلاتے اور سمجھتے ہیں کہ انھوں نے دلیل کے ذریعے سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔
[58]﴿وَقَالُوۡۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيۡرٌ اَمۡ هُوَ ﴾ ’’اور کہنے لگے: کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا یہ؟‘‘ یعنی عیسیٰ(u) کیونکہ تمام خود ساختہ معبودوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے اور ان سب کو جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وعید میں شامل کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی نازل ہوا ہے: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍98) ’’تم اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، سب جہنم کا ایندھن ہو۔ اور تم سب اس میں داخل ہوکر رہو گے۔‘‘ ان کی اس بے موقع دلیل کی توجیہ یہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) !تمھارے نزدیک اور ہمارے نزدیک یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے ان مقرب بندوں میں سے ہیں جن کا انجام بہت اچھا ہے ، پھر تو نے عیسیٰu اور ہمارے معبودوں کو ان کی عبادت کی ممانعت میں برابر کیوں کر قرار دے دیا؟ اگر تیری دلیل باطل نہ ہوتی تو اس میں کوئی تناقض نہ ہوتا اور تو نے یہ کیوں کہا:﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبياء: 98/21)ان کے زعم کے مطابق یہ حکم عیسیٰu اور تمام بتوں کو شامل ہے۔ تب کیا یہ تناقض نہیں؟ اور دلیل کا تناقض دلیل کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بعید ترین دلیل ہے جس کے ذریعے سے لوگ اس شبہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس پر یہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شور مچا رہے ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دے رہے ہیں، حالانکہ یہ شبہ...الحمدللّٰہ… کمزور ترین اور باطل ترین شبہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحu کی عبادت کی ممانعت اور بتوں کی عبادت کی ممانعت کو مساوی قرار دیا ہے اور چونکہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، مخلوق میں سے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے، انبیاء و مرسلین اور دیگر کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے عیسیٰu کی عبادت کی ممانعت اور دیگر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کی ممانعت کے مساوی ہونے میں کون سا شبہ ہے؟
[59] اس مقام پر عیسیٰu کی فضیلت اور آپ کا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرب ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ کی عبادت اور بتوں کی عبادت کی حرمت میں کوئی فرق ہے۔ حضرت عیسیٰu کی حیثیت تو وہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَيۡهِ ﴾ ’’وہ تو ہمارے ایک بندے ہیں جن پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں نبوت و حکمت اور علم و عمل کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ ﴿وَجَعَلۡنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے انھیں ایک نمونہ بنادیا۔‘‘ ان کے ذریعے سے بنی اسرائیل نے اس حقیقت کی معرفت حاصل کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو باپ کے بغیر بھی وجود میں لانے کی قدرت رکھتا ہے۔رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنۡتُمۡ لَهَا وٰرِدُوۡنَ ﴾(الانبیاء: 21؍98) تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے: اول: ﴿اِنَّـكُمۡ وَمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ میں ’’ما‘‘ غیر ذی عقل کے لیے استعمال ہوا ہے، اس میں حضرت مسیحu داخل نہیں ہیں۔ ثانی: یہ خطاب مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے مشرکین سے ہے، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔ثالث: اس آیت کریمہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّؔنَّا الۡحُسۡنٰۤى١ۙ اُولٰٓىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کے لیے پہلے ہی سے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اس جہنم سے دور کھے جائیں گے۔‘‘ بلاشبہ عیسیٰ u ، انبیاء و مرسلین علیہ السلام اور اولیاء اللہ Sاس آیت کریمہ میں داخل ہیں۔
[60] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ مَّلٰٓىِٕكَةً فِي الۡاَرۡضِ يَخۡلُفُوۡنَ ﴾ یعنی اگر ہم چاہتے تو تمھاری جگہ فرشتوں کو مقرر کر دیتے جو زمین میں تمھاری جانشینی کرتے اور زمین میں رہتے حتی کہ ہم فرشتوں کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجتے۔ اے نوع بشری! تم یہ طاقت نہیں رکھتے کہ فرشتوں کو رسول بنا کر تمھاری طرف مبعوث کیا جائے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ اس نے تمھاری جنس ہی سے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا جس سے سیکھنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔
[61]﴿وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ ﴾ ’’اور وہ قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ یعنی حضرت عیسیٰu کا وجود قیامت کی دلیل ہے۔ وہ ہستی جو حضرت عیسیٰu کو بغیر باپ کے وجود میں لانے پر قادر ہے، وہ مردوں کو ان کی قبروں میں سے دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت بھی رکھتی ہے… یا اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰu آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور ان کا نزول قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے۔ ﴿فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا ﴾ یعنی قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک نہ کرو، اس کے بارے میں شک کرنا کفر ہے۔ ﴿وَاتَّبِعُوۡنِ﴾ اور جو میں نے تمھیں حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے روکا ہے اس سے اجتناب کرو۔ ﴿هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾ ’’یہی سیدھا راستہ ہے ۔‘‘جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔
[62]﴿وَلَا يَصُدَّنَّـكُمُ الشَّيۡطٰنُ ﴾ اور شیطان تمھیں اس چیز سے نہ روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔ بے شک شیطان ﴿لَكُمۡ عَدُوٌّ ﴾ ’’تمھارا دشمن ہے۔‘‘ وہ تمھیں گمراہ کرنے کا حریص ہے اور اس بارے میں وہ پوری جدوجہد کر رہا ہے۔
[63]﴿وَلَمَّا جَآءَ عِيۡسٰؔى بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ جب حضرت عیسیٰ u وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی نبوت کی صداقت اور ان کی دعوت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتے تھے، مثلاً: مردوں کو زندہ کرنا، مادرزاد اندھے اور برص زدہ کو شفایاب کرنا اور دیگر معجزات ﴿قَالَ ﴾ تو عیسیٰu نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ﴿قَدۡ جِئۡتُكُمۡ بِالۡحِكۡمَةِ ﴾ میں تمھارے پاس نبوت اور ان امور کا علم لے کر آیا ہوں جس کا علم تمھیں ہونا چاہیے اور اس طریقے سے ہونا چاہیے جو مناسب ہے۔ ﴿وَلِاُبَيِّنَ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ یعنی تاکہ میں تمھارے سامنے تمھارے اختلافات میں راہ صواب اور جواب واضح کر دوں اور اس طرح تمھارے شکوک و شبہات زائل ہو جائیں۔ پس عیسیٰu شریعت موسوی اور احکام تورات کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، آپ بعض آسانیاں لے کر آئے جو آپ کی اطاعت اور آپ کی دعوت کو قبول کرنے کی موجب تھیں۔ ﴿فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو، مجھ پر ایمان لاؤ ، میری تصدیق اور میری اطاعت کرو۔
[64]﴿اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ١ؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’یقیناً اللہ میرا رب بھی ہے اور تمھارا بھی، لہٰذا اسی کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں توحید ربوبیت کا اقرار ہے، اللہ تعالیٰ مختلف انواع کی ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی تربیت کرتا ہے۔ نیز توحید عبودیت کا اقرار ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور عیسیٰu کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ وہ بھی اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے ہیں۔ ’’وہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا‘‘ نہیں ہیں جیسا کہ نصاریٰ کا خیال ہے اور یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی جنت تک پہنچاتا ہے۔
[65] جب حضرت عیسیٰu یہ دعوت لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ ﴾ تو آپ کی تکذیب پر گروہ بندی کرنے والوں نے اختلاف کیا ﴿مِنۢۡ بَيۡنِهِمۡ﴾ ان میں سے ہر گروہ نے حضرت عیسیٰu کے بارے میں باطل بات کہی اور جو کچھ آپ لے کر آئے تھے اسے رد کر دیا، سوائے مومنین کے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا، جنھوں نے رسالت کی گواہی دی اور ہر اس چیز کی تصدیق کی جو آپ لے کر آئے تھے اور کہا کہ عیسیٰu اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ ﴿فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’پس ظالموں کے لیے ہلاکت ہے دردناک عذاب والے دن سے۔‘‘ ظالموں کو کتنا شدید حزن و غم ہو گا، اس روز انھیں کتنے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
43:66–73Page 494
هَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأۡتِيَهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ٦٦
Are they waiting except for the Hour to come upon them suddenly while they perceive not?
ٱلۡأَخِلَّآءُ يَوۡمَئِذِۭ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ إِلَّا ٱلۡمُتَّقِينَ ٦٧
Close friends, that Day, will be enemies to each other, except for the righteous
يَٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ ٱلۡيَوۡمَ وَلَآ أَنتُمۡ تَحۡزَنُونَ ٦٨
[To whom Allāh will say], "O My servants, no fear will there be concerning you this Day, nor will you grieve,
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُواْ مُسۡلِمِينَ ٦٩
[You] who believed in Our verses and were Muslims.
ٱدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ أَنتُمۡ وَأَزۡوَٰجُكُمۡ تُحۡبَرُونَ ٧٠
Enter Paradise, you and your kinds,1 delighted."
يُطَافُ عَلَيۡهِم بِصِحَافٖ مِّن ذَهَبٖ وَأَكۡوَابٖۖ وَفِيهَا مَا تَشۡتَهِيهِ ٱلۡأَنفُسُ وَتَلَذُّ ٱلۡأَعۡيُنُۖ وَأَنتُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٧١
Circulated among them will be plates and vessels of gold. And therein is whatever the souls desire and [what] delights the eyes, and you will abide therein eternally.
وَتِلۡكَ ٱلۡجَنَّةُ ٱلَّتِيٓ أُورِثۡتُمُوهَا بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٧٢
And that is Paradise which you are made to inherit for what you used to do.
لَكُمۡ فِيهَا فَٰكِهَةٞ كَثِيرَةٞ مِّنۡهَا تَأۡكُلُونَ ٧٣
For you therein is much fruit1 from which you will eat.
نہیں انتظار کرتے وہ مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک، اور انھیں شعور تک نہ ہو (66)(سب) دوست اس دن، بعض ان کے واسطے بعض کے دشمن ہوں گے، سوائے متقین کے (67) اے میرے بندو! نہیں ہے کوئی خوف تم پر آج اور نہ تم غمگین ہو گے (68) وہ لوگ جو ایمان لائے ساتھ ہماری آیتوں کے اور تھے وہ فرماں بردار(69) داخل ہو جاؤ تم جنت میں، تم (خود) اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے(انعام و اکرام سے)(70) دَور چلایا جائے گا ان پر رکابیوں کا سونے کی اور آبخوروں کا اور اس میں وہ ہو گا جو چاہیں گے ان کے نفس اور لذت اندوز ہوں (ان سے) آنکھیں اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے (71) اور یہ وہ جنت ہے کہ وارث بنائے گئے ہو تم اس کےبسبب اس کےجو تھے تم عمل کرتے (72) تمھارے لیے اس میں پھل ہوں گے بہت سے، جن میں سے تم کھاؤ گے (73)
[66] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: یہ تکذیب کرنے والے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں اور کیا وہ توقع رکھتے ہیں کہ ﴿اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’قیامت ان پر اچانک آموجود ہو اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔‘‘ یعنی جب قیامت کی گھڑی آجائے گی، تو ان لوگوں کے احوال کے بارے میں مت پوچھو جنھوں نے قیامت کی تکذیب کی، اس کا اور اس کے بارے میں آگاہ کرنے والے کا مذاق اڑایا۔
[67]﴿اَلۡاَخِلَّآءُ يَوۡمَىِٕذٍۭؔ﴾ یعنی کفر ،تکذیب اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ایک دوسرے کے ساتھ دوستی رکھنے والے قیامت کے دن ﴿بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ﴾ ’’ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔‘‘ کیونکہ دنیا میں ان کی دوستی اور محبت غیراللہ کی خاطر تھی تو قیامت کے دن یہ دوستی، دشمنی میں بدل جائے گی۔ ﴿اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ سوائے ان لوگوں کی دوستی کے جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔ پس ان کی محبت دائمی ہو گی کیونکہ جس ہستی کی خاطر انھوں نے محبت کی اس کو دوام حاصل ہے۔
[68] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ شعار لوگوں کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے روز پکارے گا جس سے ان کے دل خوش ہو جائیں گے اور ان سے ہر قسم کی آفت اور شر دور ہو جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿يٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ﴾ ’’اے میرے بندو! آج تمھیں کچھ خوف ہے نہ غم۔‘‘ جن امور کا تمھیں سامنا کرنا ہو گا، ان کے بارے میں تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہو گا اور جو امور گزر چکے ہیں ان پر تم غمزدہ نہ ہو گے اور جب ناگوار امور کی ہر پہلو سے نفی ہو گئی تو محبوب و مطلوب امر ثابت ہو گیا۔
[69]﴿اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا مُسۡلِمِيۡنَ﴾ یعنی ان کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ چیز ان آیات کی تصدیق کو بھی شامل ہے نیز یہ چیز ان آیات کے معانی کے علم اور ان پر عمل کو بھی شامل ہے، جس کے بغیر تصدیق کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ پس انھوں نے اعمالِ ظاہر اور اعمالِ باطن کو جمع کر لیا۔
[70]﴿اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ ﴾ ’’جنت میں داخل ہو جاؤ ‘‘ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنۡتُمۡ وَاَزۡوَاجُكُمۡ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے ، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحۡبَرُوۡنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
[71]﴿يُطَافُ عَلَيۡهِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَهَبٍ وَّاَكۡوَابٍ ﴾ یعنی ان کے ہمیشہ رہنے والے خدمت گار لڑکے، بہترین فاخرہ برتنوں میں، ان کا کھانا لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے، یعنی سونے کے طشتوں میں اور شفاف ترین برتنوں میں ان کو مشروبات پیش کریں گے، یعنی ایسے پیالوں میں جن کے کنڈے نہ ہوں گے، یہ چاندی کے شفاف ترین پیالے ہوں گے، جو شیشے سے بڑھ کر صاف و شفاف ہوں گے۔ ﴿وَفِيۡهَا ﴾ یعنی جنت میں ﴿مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ وَتَلَذُّ الۡاَعۡيُنُ ﴾ ’’اور جو جی چاہے گا اور جو آنکھوں کو اچھا لگے گا۔‘‘ یہ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی نعمت و فرحت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کے سرور کو شامل ہے۔ ان کو ہر وہ چیز حاصل ہو گی جس کی نفس خواہش کرتے ہیں ، مثلاً: انواع و اقسام کے کھانے، مشروبات، ملبوسات، بیویاں جن سے آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی، حسین مناظر، گھنے درخت، خوبصورت نعمتیں اور سجے سجائے محلات ان کو جنت میں ملیں گے جو بہترین طریقے سے جنت میں رہنے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾(یٰسین: 36؍57) ’’جنت میں ان کے لیے میوے اور ہر وہ چیز ہو گی جو وہ طلب کریں گے۔‘‘ ﴿وَاَنۡتُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ اور یہی اہل جنت پر اتمام نعمت ہے اور وہ ہے جنت میں ان کا دوام اور خلود، جو جنت کی نعمتوں کے دوام، ان میں اضافے اور عدم انقطاع کو متضمن ہے۔
[72]﴿وَتِلۡكَ الۡؔجَنَّةُ ﴾ وہ جنت جو کامل ترین اوصاف سے موصوف ہے ﴿الَّتِيۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس کے تم مالک بنا دیے گئے ، وہ تمھارے اعمال کا صلہ ہے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں تمھارے اعمال کے بدلے میں عطا کی ہے اور اپنے فضل و کرم سے اس کو اعمال کی جزا قرار دیا اور اس نے اپنی رحمت سے اس میں ہر چیز عطا کر دی۔
[73]﴿لَكُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ كَثِيۡرَةٌ ﴾ ’’وہاں تمھارے لیے بہت سے پھل ہیں۔‘‘ جیسا کہ ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان جنتوں میں تمام پھل دو دو اقسام کے ہوں گے۔‘‘ ﴿مِّؔنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَ ﴾ یعنی تم ان مزے دار میووں اور لذیذ پھلوں کو چن چن کر کھاؤ گے۔
جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم کے عذاب کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences