As-Sa'diAz‑Zukhruf · 43:26–45

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Az-Zukhruf 43:26–45

43:26–32Page 491

وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوۡمِهِۦٓ إِنَّنِي بَرَآءٞ مِّمَّا تَعۡبُدُونَ ٢٦

And [mention, O Muḥammad], when Abraham said to his father and his people, "Indeed, I am disassociated from that which you worship

إِلَّا ٱلَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُۥ سَيَهۡدِينِ ٢٧

Except for He who created me; and indeed, He will guide me."

وَجَعَلَهَا كَلِمَةَۢ بَاقِيَةٗ فِي عَقِبِهِۦ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ ٢٨

And he made it1 a word remaining among his descendants that they might return [to it].

بَلۡ مَتَّعۡتُ هَٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ وَرَسُولٞ مُّبِينٞ ٢٩

However, I gave enjoyment to these [people of Makkah] and their fathers1 until there came to them the truth and a clear Messenger.2

وَلَمَّا جَآءَهُمُ ٱلۡحَقُّ قَالُواْ هَٰذَا سِحۡرٞ وَإِنَّا بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٣٠

But when the truth came to them, they said, "This is magic, and indeed we are, concerning it, disbelievers."

وَقَالُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ عَلَىٰ رَجُلٖ مِّنَ ٱلۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيمٍ ٣١

And they said, "Why was this Qur’ān not sent down upon a great man from [one of] the two cities?"1

أَهُمۡ يَقۡسِمُونَ رَحۡمَتَ رَبِّكَۚ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُم مَّعِيشَتَهُمۡ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَرَفَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٖ دَرَجَٰتٖ لِّيَتَّخِذَ بَعۡضُهُم بَعۡضٗا سُخۡرِيّٗاۗ وَرَحۡمَتُ رَبِّكَ خَيۡرٞ مِّمَّا يَجۡمَعُونَ ٣٢

Do they distribute the mercy of your Lord? It is We who have apportioned among them their livelihood in the life of this world and have raised some of them above others in degrees [of rank] that they may make use of one another for service. But the mercy of your Lord is better than whatever they accumulate.

اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے، بلاشبہ میں بیزار ہوں ان (بتوں) سے جن کی تم عبادت کرتے ہو (26) سوائے اس (اللہ) کے جس نے پیدا کیا مجھے، پس بے شک وہ عنقریب رہنمائی کرے گا میری (27) اور کرد یا اس (کلمہ ٔ توحید)کو ایک کلمہ باقی رہنے والا اپنی اولاد میں، تاکہ وہ رجوع کریں (28)بلکہ فائدہ پہنچایا میں نے ان کو اور ان کے باپ دادوں کو، یہاں تک کہ آیا ان کے پاس حق اور رسول کھول کر بیان کرنے والا(29) اور جب آیا ان کے پاس حق، تو کہا انھوں نے، یہ تو جادو ہے اور بلاشبہ ہم اس کےساتھ کفر کرنے والے ہیں (30) اور انھوں نے کہا، کیوں نہیں نازل کیا گیا یہ قرآن کسی آدمی پر ان دونوں شہروں میں سے، جو بڑا ہو (31) کیا وہ تقسیم کرتے ہیں رحمت آپ کے رب کی؟ ہم ہی نے تقسیم کی ہے ان کے درمیان ان کی روزی زندگانیٔ دنیا میں اور بلند کیا ہم نے ان کے بعض کو اوپر بعض کے درجوں میں، تاکہ بنائے ان کا بعض، بعض کو خدمت گار، اور رحمت آپ کے رب کی بہت بہتر ہے اس سے جو وہ جمع کرتے ہیں (32)

[26] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیمu کی ملت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، جن سے یہ مشرکین اور اہل کتاب اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اس زعم باطل میں مبتلا ہے کہ وہ حضرت ابراہیم کے طریقے پر چل رہا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے دین کے بارے میں، جو ان کی ذریت کو وراثت میں ملا ہے، خبر دی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ وَقَوۡمِهٖۤ ﴾ ’’اور جب ابراہیم(u) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے معبود بنا لیے تھے، وہ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ﴿اِنَّنِيۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’جن چیزوں کی تم عبادت کرتے ہو، بلاشبہ میں ان سے بیزار ہوں۔‘‘ یعنی میں اس خود ساختہ معبود سے جس کی تم عبادت کرتے ہو، سخت نفرت کرتا ہوں اور اس کی عبادت کرنے والوں سے عداوت رکھتا ہوں اور ان سے دور رہتا ہوں۔

[27]﴿اِلَّا الَّذِيۡ فَطَرَنِيۡ ﴾ ’’ہاں جس نے مجھے پیدا کیا۔‘‘ پس میں اسی کو اپنا سرپرست بناتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ حق کے علم و عمل کے راستے میں میری راہ نمائی فرمائے گا اور جس طرح اس نے مجھے پیدا کیا اور ان امور کے ذریعے سے میری تدبیر کی جو میرے بدن اور میری دنیا کے لیے درست ہیں، اسی طرح ﴿فَاِنَّهٗ سَيَهۡدِيۡنِ ﴾ وہ ان امور میں بھی میری راہ نمائی فرمائے گا جو میرے دین اور میری آخرت کے لیے درست ہیں۔

[28]﴿وَجَعَلَهَا ﴾ ’’اور اس کو کیا۔‘‘ یعنی اس خصلت حمیدہ کو جو تمام خصائل کی اساس ہے اور وہ ہے، صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرنا اور غیر اللہ کی عبادت سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کرنا، ﴿كَلِمَةًۢ بَاقِيَةً فِيۡ عَقِبِهٖ﴾ ’’باقی رہنی والی بات اس کے پیچھے آنے والوں میں۔‘‘ یعنی آپ کی ذریت میں ﴿لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ شاید وہ اس بنا پر اس کلمۂ اخلاص کی طرف رجوع کریں کیونکہ اس کا آپ کی طرف منسوب ہونا شہرت رکھتا ہے، نیز اس بنا پر کہ آپ نے اپنی اولاد کو اس کلمۂ اخلاص کی وصیت کی اور آپ کی اولاد میں سے بعض جیسے: اسحاقu اور یعقوبu نے دوسرے نسبی بیٹوں کو اسی کلمۂ اخلاص کی وصیت کی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّرۡغَبُ عَنۡ مِّلَّةِ اِبۡرٰؔهٖمَ اِلَّا مَنۡ سَفِهَ نَفۡسَهٗ١ؕ وَلَقَدِ اصۡطَفَيۡنٰهُ فِي الدُّنۡيَا١ۚ وَاِنَّهٗ فِي الۡاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ۰۰اِذۡ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسۡلِمۡ١ۙ قَالَ اَسۡلَمۡتُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۰۰ وَوَصّٰى بِهَاۤ اِبۡرٰؔهٖمُ بَنِيۡهِ وَيَعۡقُوۡبُ١ؕ يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰى لَكُمُ الدِّيۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَؕ۰۰ اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَؔ اِذۡ حَضَرَ يَعۡقُوۡبَ الۡمَوۡتُ١ۙ اِذۡ قَالَ لِبَنِيۡهِ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ١ؕ قَالُوۡا نَعۡبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبـَآىِٕكَ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰؔقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَؔ۰۰ ﴾(البقرہ:2؍133-130) ’’ اور کون بے رغبتی کرسکتا ہے ملت ابراہیم سے سوائے اس کے جس نے اپنے نفس کو احمق بنالیا اور بے شک ہم نے ابراہیم کو دنیا میں چن لیا اور یقینا وہ آخرت میں ضرور نیکو کاروں میں سے ہو گا اور جب ابراہیم سے اس کے رب نے کہا: فرمانبردار ہو جا! تو اس نے کہا :میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا ابراہیم نے اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو اسی (کلمۂ حق) کی وصیت کی: اے میرے بیٹو !بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے، پس تمھیں ہرگز موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔ کیا جب یعقوب کو موت آئی اس وقت تم موجود تھے؟ جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا :میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ انھوں نے کہا: ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں۔ ‘‘

[29] یہ کلمۂ اخلاص ابراہیمuکی اولاد میں ہمیشہ موجود رہا ہے، یہاں تک کہ خوشحالی اور سرکشی ان پر غالب آ گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿بَلۡ مَتَّعۡتُ هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمۡ ﴾ میں نے ان کو اور ان کے آباء واجداد کو مختلف انواع کی شہوات سے متمتع ہونے دیا یہاں تک کہ یہی شہوات ان کا مطمح نظر اور ان کا مقصد بن گئیں، ان کے دلوں میں ان شہوات کی محبت پھلتی پھولتی رہی، حتی کہ ان کی صفات اور بنیادی عقائد بن گئیں۔ ﴿حَتّٰى جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’حتیٰ کہ ان کے پاس حق پہنچ گیا۔‘‘ جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ﴿وَرَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور صاف صاف سنانے والا رسول۔‘‘ یعنی آپ کی رسالت واضح تھی آپ کے اخلاق و معجزات سے آپ کی رسالت پر واضح اور نمایاں دلائل قائم ہوئے جو آپ لے کر مبعوث ہوئے ا ور انبیاء و مرسلین نے آپ کی تصدیق کی اور خود آپ کی دعوت سے بھی آپ کی رسالت پر دلائل قائم ہوتے ہیں۔

[30]﴿وَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور جب ان کے پاس حق پہنچ گیا۔‘‘ جو اس شخص پر جس میں ادنیٰ سا دین اور عقل ہے، واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرے۔ ﴿قَالُوۡا هٰؔذَا سِحۡرٌ وَّاِنَّا بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا: یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔‘‘ اور یہ سب سے بڑا عناد اور سب سے بڑی مخالفت ہے، پھر انھوں نے مجرد انکار اور روگردانی ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کو جھٹلایا۔ پس وہ اس وقت تک راضی نہ ہوئے جب تک کہ انھوں نے اس میں جرح و قدح نہ کی اور اسے جادو قرار نہ دے دیا، جسے بدترین لوگ اور سب سے بڑے افترا پرداز ہی پیش کرتے ہیں۔اور جس چیز نے ان کو اس رویے پر آمادہ کیا وہ ہے ان کی سرکشی اور اللہ تعالیٰ کا ان کو اور ان کے آباء کو سامان زیست سے نوازنا۔

[31]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی انھوں نے اپنی عقل فاسد کے مطابق اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: ﴿لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ﴾ ’’یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہ کیا گیا؟‘‘ جو مکہ اور طائف کے لوگوں کے ہاں معظم اور معزز ہوتا اور وہ شخص ہوتا جو ان کے ہاں سردار شمار ہوتا ہے ، مثلاً: ولیدبن مغیرہ وغیرہ۔

[32] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿اَهُمۡ يَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّكَ﴾ یعنی کیا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانچی ہیں اور ان کے ہاتھ میں اس کی رحمت کی تدبیر ہے کہ جس کو چاہیں نبوت اور رسالت عطا کردیں اور جس کو چاہیں اس سے محروم کر دیں ﴿نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَيۡنَهُمۡ مَّعِيۡشَتَهُمۡ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَرَفَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰؔتٍ ﴾ ’’ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کیا، اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کیے۔‘‘ یعنی اس دنیاوی زندگی میں ۔﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ حال یہ ہے کہ ﴿رَحۡمَتُ رَبِّكَ خَيۡرٌ مِّمَّا يَجۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’آپ کے رب کی رحمت اس (دنیا) سے بہتر ہے جو یہ اکٹھی کر رہے ہیں۔‘‘ جب بندوں کی معیشت اور ان کا دنیاوی رزق اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہی اسے اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کرتا ہے، اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق جس کو چاہتا ہے اس کے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کے رزق کو تنگ کر دیتا ہے تو اس کی رحمت دینی جس میں سب سے اعلیٰ و افضل نبوت اور رسالت ہے، اس چیز کی زیادہ مستحق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہو۔ پس اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت سے کسے سرفراز فرمائے۔ پس معلوم ہوا کہ کفار کا اعتراض لغو اور ساقط ہے۔ تمام دینی اور دنیاوی معاملات کی تدبیر اکیلے اللہ تعالیٰ ہی کے دست قدرت میں ہے۔ یہ ان کے اعتراض کی غلطی پر توجہ دلانا ہے، جو ان کے اختیار میں نہیں، یہ تو محض ان کا ظلم اور حق کو ٹھکرانا ہے۔ رہا ان کا یہ کہنا:﴿لَوۡلَا نُزِّلَ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡيَتَيۡنِ عَظِيۡمٍ﴾ اگر وہ لوگوں کے حقائق اور انسانی صفات کی معرفت رکھتے، جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے ہاں انسان کی بلند قدرومنزلت اور عظمت کا اندازہ کیا جاتا ہے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ حضرت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ، لوگوں میں عظیم ترین قدر و منزلت کے حامل، فخر میں سب سے اعلیٰ، عقل میں سب سے کامل، علم میں سب سے بڑھ کر، رائے اور عزم و حزم میں جلیل ترین، اخلاق میں بہترین، آپ کی رحمت کا دامن وسیع ترین، سب سے زیادہ شفقت رکھنے والے، سب سے زیادہ ہدایت یافتہ اور سب سے زیادہ متقی ہیں۔ آپ دائرۂ کمال کے مرکز اور انسانی اوصاف کی انتہائی بلندیوں پر فائز ہیں، آگاہ رہو کہ علی الاطلاق آپ ہی مرد کائنات ہیں۔ اس بات کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں، پس یہ مشرکین آپ پر کسی شخص کو کیوں کر فضیلت دے رہے ہیں جس میں ذرہ بھر یہ کمالات نہیں اور اس کے جرم و حمق کی انتہا یہ ہے کہ اس نے پتھر کو اپنا معبود بنا لیا، اس کی عبادت کرتا ہے، مصائب و حاجات میں اس کو پکارتا اور اس کا قرب حاصل کرتا ہے، جو اس کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، وہ کچھ عطا کر سکتا ہے نہ کسی چیز سے محروم کر سکتا ہے، وہ سراسر اپنے مالک پر بوجھ ہے اور کسی ایسے شخص کا محتاج ہے جو اس کے مصالح کی دیکھ بھال کرے۔ کیا یہ بیوقوفوں اور پاگلوں کا فعل نہیں؟ ایسے شخص کو کیوں کر عظیم قرار دیا جا سکتا ہے ؟ یا خاتم المرسلین اور بنی آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ پر کیوں کر فضیلت دی جاتی ہے؟ لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے، سمجھتے ہی نہیں۔ اس آیت کریمہ میں بندوں کی ایک دوسرے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ فضیلت میں پنہاں اس کی حکمت کی طرف اشارہ ہے ﴿لِّيَؔتَّؔخِذَ بَعۡضُهُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِيًّا ﴾ ’’تاکہ ایک، دوسرے سے خدمت لے۔‘‘ یعنی تاکہ وہ کاموں اور صنعت و حرفت میں ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اگر مال کے لحاظ سے تمام لوگ برابر ہوتے تو وہ ایک دوسرے کے محتاج نہ رہتے اور اس طرح ان کے بہت سے مصالح اور منافع معطل ہو کر رہ جاتے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ دینی نعمت دنیاوی نعمت سے بہتر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت میں فرمایا:﴿قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰهِ وَبِرَحۡمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلۡيَفۡرَحُوۡا١ؕ هُوَ خَيۡرٌ مِّؔمَّؔا يَجۡمَعُوۡنَ ﴾(یونس:10؍؍58) ’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے، اسی پر ان کو خوش ہونا چاہیے یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جن کو یہ جمع کرتے ہیں۔‘‘

43:33–35Page 491

وَلَوۡلَآ أَن يَكُونَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ لَّجَعَلۡنَا لِمَن يَكۡفُرُ بِٱلرَّحۡمَٰنِ لِبُيُوتِهِمۡ سُقُفٗا مِّن فِضَّةٖ وَمَعَارِجَ عَلَيۡهَا يَظۡهَرُونَ ٣٣

And if it were not that the people would become one community [of disbelievers],1 We would have made for those who disbelieve in the Most Merciful - for their houses - ceilings and stairways of silver upon which to mount.

وَلِبُيُوتِهِمۡ أَبۡوَٰبٗا وَسُرُرًا عَلَيۡهَا يَتَّكِـُٔونَ ٣٤

And for their houses - doors and couches [of silver] upon which to recline

وَزُخۡرُفٗاۚ وَإِن كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَٱلۡأٓخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلۡمُتَّقِينَ ٣٥

And gold ornament. But all that is not but the enjoyment of worldly life. And the Hereafter with your Lord is for the righteous.

اور اگر نہ ہوتی یہ بات کہ ہو جائیں گے لوگ ایک ہی گروہ (متفق کفر پر) تو بنا دیتے ہم ان لوگوں کے لیے جو کفر کرتے ہیں ساتھ رحمن کے، (یعنی ) ان کے گھروں کے لیے چھتیں چاندی سے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ اوپر چڑھتے (33) اور ان کے گھروں کے لیے دروازے اور تخت بھی، جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں (34) اور سونے کے بھی، اور نہیں ہے سب کچھ یہ مگر سامان زندگانیٔ دنیا کا اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے (35)

[35-33] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کے نزدیک دنیا کی کوئی حیثیت نہیں، اگر اپنے بندوں پر اس کا لطف و کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی، جس کے سامنے ہر چیز ہیچ ہے تو ان لوگوں پر جنھوں نے کفر کیا، دنیا کو بہت زیادہ کشادہ کر دیتا اور بنا دیتا ﴿لِبُيُوۡتِهِمۡ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ ﴾ ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی چاندی كى۔ ﴿عَلَيۡهَا يَظۡهَرُوۡنَ﴾ جس کے ذریعے سے وہ اپنی چھتوں پر چڑھتے۔ ﴿وَلِبُيُوۡتِهِمۡ اَبۡوَابًا وَّسُرُرًا عَلَيۡهَا يَتَّـكِــُٔوۡنَ﴾اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت، جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں سب چاندی کے ہوتے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے لیے بنا دیتا ﴿زُخۡرُفًا﴾ ’’سونا‘‘ یعنی مختلف انواع کی خوبصورتی کے ذریعے سے ان کی دنیا کو آراستہ کر دیتا اور انھیں وہ سب کچھ عطا کر دیتا جو وہ چاہتے۔ مگر بندوں پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت نے ایسا کرنے سے روک دیا کہ کہیں وہ دنیا کی محبت کے باعث کفر اور کثرت معاصی میں ایک دوسرے پر سبقت نہ کرنے لگیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے مصالح کی خاطر، ان کو عام طور پر یا خاص طور پر، بعض دنیاوی امور سے محروم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتی، مذکورہ بالا تمام چیزیں، دنیاوی زندگی کی متاع ہیں جو تکدر کی حامل اور فانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں کیونکہ آخرت کی نعمتیں ہر لحاظ سے کامل ہیں۔ جنت میں ہر وہ چیز مہیا ہو گی جسے نفس چاہتے ہیں، آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ دونوں گھروں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے!

43:36–39Page 492

وَمَن يَعۡشُ عَن ذِكۡرِ ٱلرَّحۡمَٰنِ نُقَيِّضۡ لَهُۥ شَيۡطَٰنٗا فَهُوَ لَهُۥ قَرِينٞ ٣٦

And whoever is blinded from remembrance of the Most Merciful - We appoint for him a devil, and he is to him a companion.

وَإِنَّهُمۡ لَيَصُدُّونَهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَيَحۡسَبُونَ أَنَّهُم مُّهۡتَدُونَ ٣٧

And indeed, they [i.e., the devils] avert them from the way [of guidance] while they think that they are [rightly] guided

حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَنَا قَالَ يَٰلَيۡتَ بَيۡنِي وَبَيۡنَكَ بُعۡدَ ٱلۡمَشۡرِقَيۡنِ فَبِئۡسَ ٱلۡقَرِينُ ٣٨

Until, when he comes to Us [at Judgement], he says [to his companion], "How I wish there was between me and you the distance between the east and west; and what a wretched companion."

وَلَن يَنفَعَكُمُ ٱلۡيَوۡمَ إِذ ظَّلَمۡتُمۡ أَنَّكُمۡ فِي ٱلۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُونَ ٣٩

And never will it benefit you that Day, when you have wronged, that you are [all] sharing in the punishment.

اور جو اندھا ہو جائے (تغافل کرلے) رحمٰن کے ذکر سے تو مقرر کر دیتے ہیں ہم اس کے لیے ایک شیطان کو، پس وہ اس کا ہم نشین ہو جاتا ہے (36) اور بلاشبہ وہ البتہ روکتے ہیں ان کو سیدھے راستے سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ بے شک وہ ہدایت پر چلنے والے ہیں (37) یہاں تک کہ جب آئے گا وہ ہمارے پاس تو کہے گا: اے کاش! ہوتی میرے اور تیرے درمیان دوری مشرق اور مغرب کی، پس بہت برا ہے ہم نشین (38) اور ہرگز نہ نفع د ے گی تم کو آج، جبکہ ظلم کیا تم نے، یہ بات کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو(39)

[36] جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے سخت سزا کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے:﴿وَمَنۡ يَّعۡشُ ﴾ یعنی جو منہ موڑتا ہے ﴿عَنۡ ذِكۡرِ الرَّحۡمٰنِ ﴾ ’’رحمان کے ذکر سے‘‘ جو قرآن عظیم ہے جو سب سے بڑی رحمت ہے جس کے ذریعے سے اللہ رحمان نے اپنے بندوں پر رحم کیا ہے۔ جو کوئی اس کو قبول کرے وہ بہترین عطیے کو قبول کرتا ہے اور وہ سب سے بڑے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور جو کوئی اس رحمت سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دے ، وہ خائب و خاسر ہوتا ہے، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے سعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ایک سرکش شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کے ساتھ رہتا ہے، وہ اس کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتا ہے، اسے امیدیں دلاتا ہے اور اسے گناہوں پر ابھارتا ہے۔

[37]﴿وَاِنَّهُمۡ لَيَصُدُّوۡنَهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ ﴾ یعنی وہ انھیں صراط مستقیم اور دین قویم سے روکتے ہیں ﴿وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ شیطان کے باطل کو مزین کرنے ، اسے خوبصورت بناکر پیش کرنے اور اپنےاعراض کے باعث وہ اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں۔ پس دونوں برائیاں اکٹھی ہو گئیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا اس شخص کے لیے کوئی عذر ہے جو اپنے آپ کو ہدایت یافتہ سمجھتا ہے، حالانکہ وہ ہدایت یافتہ نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ اس شخص اور اس قسم کے دیگر لوگوں کے لیے کوئی عذر نہیں، جن کی جہالت کا مصدر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی ہے، حالانکہ وہ ہدایت حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے قدرت رکھنے کے باوجود ہدایت سے منہ موڑا اور باطل کی طرف راغب ہوئے، اس لیے یہ گناہ ان کا گناہ اور یہ جرم ان کا جرم ہے۔

[38] اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روگردانی کرنے والے کا، اپنے ساتھی کی معیت میں یہ حال تو دنیا کے اندر ہے اور وہ گمراہی، بدراہی اور حقائق کو بدلنے کا جرم ہے۔ رہا ۔اس کا وہ حال جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو گا، تو وہ بدترین حال ہو گا، ندامت، حسرت اور حزن و غم کا حال ہو گا جو اس کی مصیبت کی تلافی کر سکے گا نہ اس کے ساتھی سے نجات دلا سکے گا۔ اس لیے فرمایا:﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ يٰؔلَيۡتَ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَيۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِيۡنُ ﴾ ’’حتی کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا، اے کاش! مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا، پس تو برا ساتھی ہے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا۰۰ لَقَدۡ اَضَلَّنِيۡ عَنِ الذِّكۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِيۡ١ؕ وَؔكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ﴾(الفرقان:25؍27-29) ’’اور اس روز جب ظالم اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور حسرت سے کہے گا، کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، ذکر ( یعنی قرآن) کے آجانے کے بعد، اس نے مجھے گمراہ کر ڈالااور شیطان تو انسان کو چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔‘‘

[39]﴿وَلَنۡ يَّنۡفَعَكُمُ الۡيَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّـكُمۡ فِي الۡعَذَابِ مُشۡتَرِكُوۡنَ ﴾ قیامت کے روز تمھارا اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ عذاب میں اشتراک، تمھارے کسی کام نہ آئے گا، چونکہ تم ظلم میں ایک دوسرے کے ساتھی تھے اس لیے اس عذاب میں بھی ایک دوسرے کے ساتھی ہو۔ مصیبت میں تسلی بھی تمھارے کوئی کام نہ آئے گی۔ کیونکہ جب دنیا میں مصیبت واقع ہوتی ہے اور مصیبت زدگان اس میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی مصیبت قدرے ہلکی ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہیں۔ آخرت کی مصیبت میں تو ہر قسم کی عقوبت جمع ہوگی، اس میں ادنیٰ سی راحت بھی نہ ہو گی۔ یہاں تک کہ یہ دنیاوی راحت بھی نہ ہو گی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی رحمت سے راحت عطا کر۔

43:40–45Page 492

أَفَأَنتَ تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ أَوۡ تَهۡدِي ٱلۡعُمۡيَ وَمَن كَانَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٤٠

Then will you make the deaf hear, [O Muḥammad], or guide the blind or he who is in clear error?

فَإِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنۡهُم مُّنتَقِمُونَ ٤١

And whether [or not] We take you away [in death], indeed, We will take retribution upon them.

أَوۡ نُرِيَنَّكَ ٱلَّذِي وَعَدۡنَٰهُمۡ فَإِنَّا عَلَيۡهِم مُّقۡتَدِرُونَ ٤٢

Or whether [or not] We show you that which We have promised them, indeed, We are Perfect in Ability.

فَٱسۡتَمۡسِكۡ بِٱلَّذِيٓ أُوحِيَ إِلَيۡكَۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٤٣

So adhere to that which is revealed to you. Indeed, you are on a straight path.

وَإِنَّهُۥ لَذِكۡرٞ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَۖ وَسَوۡفَ تُسۡـَٔلُونَ ٤٤

And indeed, it is a remembrance1 for you and your people, and you [all] are going to be questioned.

وَسۡـَٔلۡ مَنۡ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلۡنَا مِن دُونِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ءَالِهَةٗ يُعۡبَدُونَ ٤٥

And ask those We sent before you of Our messengers; have We made besides the Most Merciful deities to be worshipped?

کیا پس آپ سنا سکتے ہیں بہروں کو یا راہ دکھا سکتے ہیں اندھوں کو اور (ان کو) جو ہیں صریح گمراہی میں؟ (40) پس اگر ہم لے جائیں آپ کو (دنیا سے) تو بے شک ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں (41) یا دکھا دیں ہم آپ کو وہ (عذاب) جس کا وعدہ کیا ہے ہم نے ان سے، تو بلاشبہ ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں (42) پس آپ مضبوطی سے تھام لیں اس چیز کو جو وحی کی گئی آپ کی طرف، بلاشبہ آپ اوپر سیدھے راستے کے ہیں (43) اور بلاشبہ وہ البتہ ایک نصیحت ہے آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے اور عنقریب تم سوال کیے جاؤ گے (44) اور پوچھیے(ان سے) جن کو ہم نے بھیجا آپ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے، کیا بنائے ہم نے سوائے رحمن کے کوئی اور معبود کہ وہ پوجے جائیں؟ (45)

[40] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو، اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انھیں ہدایت کی طرف بلائے۔ ﴿اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ ﴾ ’’کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔‘‘ جو سنتے نہیں۔﴿اَوۡ تَهۡدِي الۡعُمۡيَ ﴾ ’’یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ جو دیکھتے نہیں یاکیا آپ اس شخص کی راہ نمائی کر سکتے ہیں ﴿مَنۡ كَانَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے، کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ہدایت نہیں پاسکتا۔ قرآن سے ان کی روگردانی کی بنا پر ان کی فطرت اور عقل فاسد ہو گئی اور انھوں نے عقائد فاسدہ گھڑ لیے اور ان میں صفات خبیثہ پیدا ہوگئیں جو انھیں ایمان لانے سے روکتی ہیں اور ان کے اور ہدایت کے درمیان حائل ہیں اور ان کی تباہی میں اضافے کی موجب ہیں۔

[41] اب ان لوگوں کے لیے عذاب اور سزا کے سوا کچھ باقی نہیں اور یہ عذاب انھیں دنیا ہی میں دے دیا جائے گا یا آخرت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَاِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنۡهُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جس عذاب کا وعدہ کیا ہے، آپ کو وہ عذاب دکھانے سے پہلے اگر آپ کو اٹھا لیں تو ہماری سچی خبر کی بنا پر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان سے انتقام لیں گے۔

[42]﴿اَوۡ نُرِيَنَّكَ الَّذِيۡ وَعَدۡنٰهُمۡ ﴾ ’’یا تمھیں دکھا دیں (وہ عذاب) جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے‘‘ ﴿فَاِنَّا عَلَيۡهِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴾ ’’ہم ان پر قابو رکھتے ہیں۔‘‘ مگر اس عذاب کی تعجیل و تاخیر اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تقاضے پر موقوف ہے۔یہ ہے آپ کا حال اور ان مکذبین کا حال۔

[43] سو آپ ﴿فَاسۡتَمۡسِكۡ بِالَّذِيۡۤ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ ﴾ اپنے افعال میں اس چیز کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور ان صفات سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے کا آپ کو یہ وحی حکم دیتی ہے، اس کی طرف دعوت دیں، اس کو اپنی ذات اور دوسروں پر نافذ کرنے کی خواہش رکھیں۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جو آپ پر اس سے تمسک کرنے اور اس سے راہ نمائی حاصل کرنے کو اور زیادہ واجب کرتی ہے۔ جب آپ جانتے ہیں کہ یہ حق، عدل اور سچائی ہے تو آپ اسی اصل اصیل پر قائم رہیں جبکہ دوسرے لوگوں نے شرک، اوہام اور ظلم وجور کو بنیاد بنا رکھا ہے۔

[44]﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكۡرٌ لَّكَ وَلِقَوۡمِكَ ﴾ ’’تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔‘‘ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴾ ’’اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔‘‘ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟

[45]﴿وَسۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ ﴾ ’’اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنھیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا، کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے۔‘‘یہاں تک کہ وہ الٰہ مشرکین کے لیے ایک قسم کی حجت بن جاتے جس میں وہ انبیاء و مرسلین میں کسی کی اتباع کرتے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں اور انبیاء و مرسلین کے احوال کی خبر دریافت کریں تو آپ ایک بھی ایسا رسول نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور ہستی کو معبود بنا لینے کی دعوت دیتا ہو، آپ دیکھیں گے اول سے لے کر آخر تک تمام رسول، اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِيۡ كُلِّ اُمَّؔةٍ رَّسُوۡلًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاجۡتَنِبُوا الطَّاغُوۡتَ ﴾(النحل:16؍36) ’’ہم نے ہر قوم میں ایک رسول مبعوث کیا، جو انھیں دعوت دیتا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘ ہر رسول نے، جس کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا، اپنی قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے شرک پر کوئی دلیل نہیں، عقل صحیح کی رو سے نہ رسولوں کی تعلیمات میں سے نقل صحیح کی رو سے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском